عامر خاکوانی کی خدمت میں - رعایت اللہ فاروقی

پاکستان تحریک انصاف کے ہمدردوں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ سیاسی میدان میں مقابلے کے بجائے سٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی مدد سے چور دروازے سے اقتدار میں آنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہی ان کی وہ سب سے بڑی غیر سیاسی بنیاد ہے، جس کی بناء پر انہیں سیاسی یا جمہوری قوت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ آپ ان کی گفتگو سن لیجیے یا جو فیس بک پر لکھ رہے ہیں ان کی تحریریں اٹھا کر دیکھ لیجیے، انھیں عمران خان کے ساتھ فوج اور عدلیہ کے دفاع کی جنگ بھی لڑنی پڑ رہی ہے۔ بریگیڈئیر تو بریگیڈئیر کل کلاں کوئی حوالدار بھی پی ٹی آئی کے لیے خدمات انجام دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو یہ طبقہ اس کے دفاع کے لیے بھی اٹھ کھڑا ہوگا۔ ہمارے دوست عامر خاکوانی نے سوال اٹھایا ہے کہ "این اے 120 سے بیگم کلثوم نواز کو الیکشن لڑانے کی کوئی تک اور منطق نہیں تھی۔ ایک گھریلو خاتون جو پچھلے اٹھارہ برسوں سے باہر نہیں آئی، ایک بھی سیاسی جلسے سے جس نے خطاب نہیں کیا، انھیں اچانک اپنی جگہ رکن قومی اسمبلی کا الیکشن کس جمہوری، سیاسی اصول کے مطابق لڑایا گیا؟اس ملک میں کوئی شخص ایسا ہے جو یہ سوچ سکے کہ بیگم کلثوم نواز نے یہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ خود کیا؟ دنیا کے کس جمہوری ملک میں ایسامذاق ہوتا ہے؟"

اس سے زیادہ غیر منظقی سوال کوئی ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ دنیا کے کس آئینی، قانونی یا سیاسی اخلاق میں یہ طے کیا گیا ہے کہ کوئی گھریلو خاتون الیکشن نہیں لڑ سکتی؟ اور یہ بھی ہمارے دوست کو واضح کرنا ہے کہ دنیا کے کس جمہوری ملک میں گھریلو خاتون کے الیکشن لڑنے کو مذاق سمجھا جاتا ہے؟ آپ کہتے ہیں نواز شریف بڑے تصادم کی طرف جا رہا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ نواز شریف کا اس ملک پر احسان ہوگا کیونکہ ستّر سال سے تصادم کوٹالنے کی کوششوں نے اس ملک کا جنازہ نکال دیا ہے۔ نہ ہم جی رہے ہیں، نہ ہی مر رہے ہیں، نہ ہم ترقی یافتہ ہیں، نہ ہی ترقی پذیر اور عالمی برادری میں نہ ہم تین میں ہیں، نہ تیرہ میں۔ میں اس بڑے تصادم کا شدید خواہشمند ہوں، اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس ذلّت والی زندگی سے اپنی سیاسی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے مرجانا میرے لیے اوّلین ترجیح بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عاطف میاں کی تقرری، چند بنیادی باتیں - آصف محمود

کوئی آزاد منش انسان ایسی زندگی سے چپکے رہنے کا شوقین ہو بھی کیسے سکتا ہے، جس میں ایک بریگیڈئیر ٹی وی کیمروں کے سامنے آئین اور قانون کی عملداری کا ریپ کر رہا ہو۔ میں تو اپنے آئینی حقوق کے لیے مرنے کو تیار ہوں، فیس بک پر اسٹیبلشمنٹ کا دفاع کرنے والے بتائیں کیا وہ بھی اسٹیبلشمنٹ کی راہ میں جان دینے کو تیار ہیں؟ اس ملک کے عوام کے ساتھ اس سے بڑی دشمنی اور ہو نہیں سکتی کہ اسٹیبلشمنٹ کا دفاع کیا جائے۔ یہ قلم اور اس کی حرمت کی توہین ہے۔ میں کیوں ان کے دفاع کی جنگ لڑوں جو امریکہ کے آگے لیٹ جاتے ہیں، لیکن میرے نہتے پن کے سامنے اکڑ کر کھڑے ہوجاتے ہیں؟ میں کیوں ان کے دفاع کی جنگ لڑوں جنھوں نے پاکستان کے فوجی اڈے، اس کی شاہراہیں اور اس کی فضائی حدود بغیر کسی تحریری معاہدے کے امریکہ کے حوالے کر دیں؟ میں کیوں ان کے دفاع کی جنگ لڑوں جو مشرقی پاکستان کو نہ بچا سکے اور جنرل اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے؟ میں کیوں ان کے دفاع کی جنگ لڑوں؟ کیا اس لیے کہ وہ ہمیشہ میرے ہی خلاف فاتح بن کر ابھرتے ہیں؟ کیا اس لیے کہ ان کا شوق اقتدار ختم ہونے کا نام نہیں لیتا؟ کیا اس لیے کہ وہ سیاست کا شوق وردی پہن کر پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ عامر خاکوانی بتائیں کہ دنیا کے کس جمہوری ملک میں ایسا مذاق ہوتا ہے؟

نوازشریف سیاسی جدوجہد کر رہا ہے۔ کیا سیاسی جدوجہد جرم ہے؟ آپ کہتے ہیں اس نے اپنی پارٹی صدارت کے لیے آئین میں ترمیم کرا لی۔ یہ ایک صریح غلط بیانی ہے۔ آئین میں یہ بکواس جنرل پرویز مشرف نے شامل کی تھی جسے کل رات پارلیمنٹ نے ختم کر دیا ہے۔ ایک ڈکٹیٹر کی متعارف کرائی گئی شق کا دفاع کوئی جمہوری سوچ والا آدمی کر بھی کیسے سکتا ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں اس آئینی شق کے باوجود جنرل پرویز مشرف اپنی پارٹی کا صدر چلا آرہا ہے؟ حالانکہ 2013ء میں اسے عدالت الیکشن کے لیے ناہل قرار دے چکی ہے۔ ملک کا آئین اجازت ہی نہیں دیتا تھا اور وہ پارٹی صدر بنا بیٹھا تھا، جبکہ وہ ترمیم ہمارے آئین میں اسی نے شامل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   ہیلی کاپٹر کے خرچے کا چرچہ - امجد طفیل بھٹی

آپ کہتے ہیں کہ گزشتہ شب منظور ہونے والے انتخابی بل کے ذریعے الیکشن کی اہلیت کے لیے ختم نبوت پر ایمان کی شق ختم کردی گئی۔ کچھ خدا کا خوف کیجیے! اتنی بڑی غلط بیانی؟ وہ شق اب بھی موجود ہے لیکن آپ نے پڑھنے کے بجائے شیخ رشید جیسے سیاسی مسخرے کے جھوٹے دعوے پر بھروسہ کیا۔ عمران خان اور شیخ رشید جیسے اخلاق باختہ لوگوں کی وکالت کریں گے تو ایسے ہی بلنڈرز کرتے رہیں گے۔ میں پی ٹی آئی کے ہر ہمدرد سے کہنا چاہتا ہوں کہ سیاست کرنی ہے تو سیاسی میدان میں کیجیے، جرنیلوں اور مولوی مشتاقوں کی آڑ لینا بند کیجیے۔ آپ عدلیہ کا ہتھوڑا ہاتھ میں لیے بکتر بند پر بیٹھ کر سیاست نہیں کر سکتے.

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • پرلطف بالخصوص وہ حصہ جہاں آمر کا تذکرہ ہے تاہم یہ نکتہ شائد محو ہو گیا کہ آئین میں آمر کی جانب سے بکواس کے دخول کے وقت سہولت کاری کے فرائض جناب زاہد حامد اور دانیال عزیز صاحبان نے انجام دیے تھے اور حال ہی میں اس بکواس کے خروج کے دعویدار بھی یہی صاحبان پائے گئے ۔یاللعجب ۔

  • سب سے بڑی نا سمجھی اور بچکانہ بات یہ ہے کہ اس بات کو گفتگو کا مرکز بنایا جائے کہ عمران خان عدلیہ اور فو ج کا سہارا لے رہا ہے۔مطلب تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت و ذمہ داری ، عوامی مقبولیت سب صفر ہے۔ پانامہ کیس ہے تو مخالفین اسے عدالت میں لیکر گئے نا ۔ JIT رپورٹ کی الف لیلیٰ داستانوں میں کوئی دس پانچ صفحات تو قابلِ غور ہونگے ۔ اگر آئینی اداروں کے ذریعے ملک کے بحران حل نہیں ہو نگے تو یعنی آپ خود چاہ رہےہیں کہ سڑکیں لال ہوں اور کوئی آئے۔ ن لیگ کا فون اور پیسہ چل جائے تو عدلیہ آزاد اور اگر نہ چلے تو مولوی مشتاق۔ بھائی صاحب عمران کی نفرت میں قلم ضرور توڑیں لیکن نواز شریف کو خدارا منڈیلا یا اردگان سے نہ ملائیں۔ کھربوں روپے کا جو تصرف اللہ نے نواز و رزداری کو عطا کیا اور اسکا کیا حشر ہوا اسپر بھی تو کچھ غم غلط کریں۔ دفاع اور خارجہ کے بارے میں اگر کہا جاتا ہے کہ کسی اور نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے باقی 45 وزارتوں کے بار ے میں آپ کیا کہتے ہیں اسپر بھی لفظوں کے نشتر چلائیں نا یا اسکی ذمہ دار بھی سٹیبلشمنٹ اور عمران خان ہے۔
    میثاقِ جمہوریت اور معاہدہ مری کے بعد قوم کے ساتھ بہت بڑا ڈرامہ اور دھوکاہوا ہے۔بہت بڑا مو قع تھا سیاستدانوں کے پاس۔ملک کو آگے کیا لے جاتے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔

  • صاحب تحریر کو چاہیے کہ زاہد مغل سے سیکھیں کہ استدلال کیساتھ اختلاف کیسے کیا جاتا ہے۔ اتنا جذباتی تو نواز شریف نااہل ہونے پہ نہیں ہوئے جتنا یہ اس تحریر میں نظر آئے۔
    گھریلو عورت کے الیکشن لڑنے والی دلیل کے علاوہ سب نوزائیدہ بچے کی قلقاریاں ہی لگ رہی تھی