نئے قانون میں 7بی اور 7 سی کی تبدیلی: مسئلہ کیا ہے؟ محمد زاہد صدیق مغل

برادر ڈاکٹر مشتاق صاحب نے الیکشن قوانین میں چند تبدیلیوں سے متعلق ایک تحریر لکھی ہے جو ہماری رائے میں غلط فہمیوں پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے تین اعتراضات اٹھائے ہیں:
(1) بیان حلفی کے الفاظ کیوں تبدیلی کیے گئے؟
(2) 7بی کی تبدیلی کے نتائج،
(3) 7 سی کی تبدیلی کے اثرات (ان دونوں ذیلی شقوں کا تعلق قادیانیوں سے ہے)
ان پر درج ذیل معروضات پیش کی جاتی ہیں۔

"الفاظ کی تبدیلی"
اس پر چونکہ الگ سے تحریر لکھی جاچکی ہے لہذا اس پر صرف یہ تبصرہ کافی ہے:
معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ آپ کی یہ پوری پوسٹ خود اپنے ہی مقدمے کی نفی میں لکھی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ پہلے خود ہی یہ فرض کرلیا گیا کہ تبدیلی جان بوجھ کر اور بدنیتی سے کی گئی اور اس کے ارد گرد کہانی بنا لی گئی۔ پھر بعد میں خود ہی ثابت کر دیا کہ اس سے کوئی تبدیلی نہیں ہوسکی اور معاملہ جوں کا توں ہے۔ جب آپ کو قبول ہے کہ معاملہ جوں کا توں ہے تو پھر اعتراض کس چیز پر ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ پہلا مفروضہ ہی بلا دلیل تھا، اسے درست کرکے ان حقائق کو دیکھیں تو بات بالکل صاف معلوم ہوجائے گی کہ پرانے اور نئے فارم میں بیان حلفی کی صورت کسی طور تبدیل ہوئی ہی نہیں ہے، صرف اتنا ہوا ہے کہ پرانے فارم کی ہر شق کا الگ الگ بیان حلفی نئے فارم میں ایک جگہ جمع کردیا گیا ہے اور بس جیسا کہ ہم نے اپنی پوسٹ میں بتایا تھا۔ ان حقائق کی روشنی میں اپنے مفروضے کا جائزہ لے کر اپنے مفروضے کی غلطی ماننے کے بجائے آپ نے الٹا معاملے کو قانون بنانے والوں کی نیت خراب ہونے پر ہی محمول کیا اور پھر اللہ کا شکر ادا کیا کہ 'باوجود پوری کوشش کہ بدنیتوں کی نیت حاصل نہ ہوسکی'۔

چنانچہ "نیت خراب تھی"، یہ ثابت کرنا آپ کے ذمے ہے کیونکہ قانون ہر شخص کی نیت کو اصلا درست ہی مانتا ہے۔ اس پوسٹ میں آپ نے اب تک ایسی کوئی چیز پیش نہیں کی جو نیت پر شک کرنے کو کہے بلکہ الٹا پورا تجزیہ اسکے مخالف سمت میں جاتا ہے۔ آپ پوچھ رہے ہیں کہ الفاظ کیوں تبدیل کئے؟ میرے نزدیک یہ مغالطہ ہے کیونکہ جب دو الفاظ قانون کی نظر میں ایک دوسرے کے مترادف ہیں تو ایسے میں سوال معترض پر ہوگا کہ وہ کس بنا پر اس سے نیت میں خرابی تلاش کررہا ہے؟

نیز میں یہ بھی جاننا چاہوں گا کہ یہ "سادہ اقراری بیان" اور "حلفیہ اقرار" کے مابین جو آپ نے باسٹھ تریسٹھ کے ضمن مین فرق بتایا ہے(کہ ایک کی خلاف ورزی سے انسان نااھل ہوگا جبکہ دوسرے سے نہیں) یہ قانون کی کس شق سے ماخوذ ہے؟ یعنی قانون ان دونوں میں ایسا فرق کرتا ہے، یہ کہاں لکھا ہے؟ غور کیجئے کہ الفاظ کی یہ تبدیلی صرف اسی شق میں نہیں ہوئی بلکہ اثاثوں سمیت دیگر بہت سی شقوں میں بھی ہوئی ہے، تو کیا یہ فرق اب باقی سب شقوں پر بھی اپلیکیبل مانا جائے گا؟

7بی کی تبدیلی
نئی قانونی ترمیم کے حوالے سے ایک اشو یہ اٹھایا جارہا ہے کہ پرانے قانون میں 7بی اور 7سی شقوں کا تعلق قادیانیوں سے متعلق ہے جنہیں نئے قانون میں ختم کردیا گیا ہے جس سے گویا جان بوجھ کر قادیانیوں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے اور یہ بعض ناقدین کے نزدیک قانون بنانے والوں کی بدنیتی کی "قطعی دلیل" ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تبدیلی (اگر کچھ ہے) سے کیا اثر رونما ہوا؟ جہاں تک 7بی کا تعلق ہے تو خود پروفیسر مشتاق صاحب کو بھی قبول ہے کہ اس کے خاتمے سے قادیانیوں کی آئینی حیثیت پر سرے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں:
"2002ء کے قانون کی دفعہ 7 (ذیلی دفعہ بی) کی منسوخی کے باوجود قادیانیوں اور لاہوری گروپ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی حیثیت بدستور غیرمسلم ہی کی رہے گی کیونکہ ان کی یہ حیثیت دستور نے متعین کی ہے اور جب تک دستور میں ترمیم کرکے اس قانونی حیثیت کو تبدیل نہ کیا جائے کسی بھی قانون میں تبدیلی یا نئے قانون کی آمد کے بعد بھی ان کی حیثیت بدستور وہی رہے گی"
یہ سب کچھ مان لینے کے باوجود بھی وہ کہتے ہیں: "البتہ اس طرح کے قانون سے قانون بنانے والوں کی نیت تو بہرحال معلوم ہوجاتی ہے!"

یہ بھی پڑھیں:   انتخابی بل اور ختم نبوت، حقیقت کیا ہے؟ - آصف محمود

ہمارے لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ سب کچھ مان لینے کے بعد بھی آخر اس آخری نتیجے تک پہنچنے کی دلیل ان کے پاس کیا ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے ایک بنیادی اصول بیان کیا ہے کہ "مقننہ کے کسی عمل کو لغو تصور نہیں کیا جاسکتا"، بالکل درست، تو اسی طرح اس بنیادی اصول کو بھی مد نظر رکھنا چاھئے کہ "مقننہ کی نیت پر بلا دلیل شک بھی نہیں کیا جاسکتا"۔ الغرض الفاظ کی تبدیلی اور 7بی کا معاملہ بالکل صاف ہے کہ ان سے کسی بھی معاملے میں کوئی فرق رونما نہیں ہوا اور یہ خود ناقدین کو بھی قبول ہے۔ انہیں بنیاد بنانا "چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے" کے ہم معنی ہے۔

7 سی کی تبدیلی
اب آئیے 7سی کی طرف۔ یہی وہ واحد شق ہے جس پر ڈاکٹر صاحب نے کسی حقیقی تبدیلی کی طرف راھنمائی کی ہے جو ان کے اپنے الفاظ میں کچھ یوں ہے:
"سب سے خطرناک ترین حقیقت یہ ہے کہ 2002ء کے قانون کی دفعہ 7 (ذیلی دفعہ سی) کی منسوخی کے بعد اب قادیانی یا لاہوی گروپ کے کسی ووٹر کو مسلمانوں کی ووٹرلسٹ سے نکالنے کا کوئی قانونی طریقہ باقی نہیں رہا۔ اسی سے یہ بات قطعی طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ یہ تبدیلیاں کس کے کہنے پر، یا کس کو خوش کرنے کے لیے، کی گئی ہیں! کیا اب بھی کسی ثبوت کی ضرورت باقی ہے(؟)"
یوں سمجھیے کہ یہ ان کے پاس سب سے مضبوط اور درحقیقت واحد بنیاد ہے بدنیتی فرض کرنے کی۔ مگر یہ معاملہ جو کچھ مجھے مختلف قانون دانوں سے ڈسکشن کے بعد سمجھ آیا ہے اس کی رو سے یہ نتیجہ غلط فہمیوں پر مبنی ہے۔

میں کوشش کرتا ہوں کہ ترتیب وار مسئلے کو بیان کروں:
1) پہلی بات یہ سمجھیے کہ آئین پاکستان کی رو سے ووٹر ہونے کی اہلیت مسلم یا غیر مسلم ہونے سے متعلق نہیں، اس کے لئے پاکستانی شہری اور 18 سال عمر ہونے کی شرط ہے۔ چنانچہ کسی کو یہ ڈر نہیں ہونا چاھئے کہ 7سی کے خاتمے کے بعد قادیانیوں (یا غیر مسلموں) کو ووٹ کا حق مل گیا جو شاید پہلے انہیں میسر نہیں تھا.

2) 2002 سے قبل الیکشن نظام کے مطابق مسلمان ووٹرز مسلم امیدوار اور غیر مسلم غیر مسلم امیدوار کو ووٹ دیا کرتا تھا۔ اسی وجہ سے الیکشن کمیشن مسلمان اور غیر مسلمان کی الگ الگ ووٹر لسٹیں تیار کیا کرتا تھا۔ مشرف دور میں 2002 میں اس نظام کو جوائنٹ الیکٹورل سسٹم میں تبدیل کردیا گیا کہ اب ملک ہر کا شہری کسی کو بھی ووٹ دے سکتا ہے۔ اسی کے تحت ایم ایم اے نے الیکشن لڑا۔

3) جوائنٹ الیکٹورل نظام بنادئیے جانے کے بعد مسلم و غیر مسلم کی الگ الگ ووٹر لسٹیں بنانے کی انتظامی ضرورت اصولا ختم ہوچکی تھی، مگر ہمارے یہاں اس معاملے کی حساسیت کی بنا پر اس موقع پر جب یہ سوال اٹھا کہ اگر کوئی احمدی اپنا اندراج مسلمانوں کی لسٹ میں کروا چکا ہو تو؟ تو اسے ایڈریس کرنے کے لئے 7سی رکھی گئی جس کے مطابق ایسے شخص کے بارے میں شکایت کی جاسکے گی اور پھر ایک پراسس کے تحت (جس کی تفصیل انہوں نے دی ہے) اسے مسلمانوں کی لسٹ سے نکال کر غیر مسلموں کی لسٹ میں ڈالا جاسکے گا۔

پروفیسر صاحب نے البتہ یہاں دو اہم اور متعلقہ باتوں سے یکسر سہو نظر کرلیا۔
الف) ایک یہ کہ 7سی کی شق میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اس کا اطلاق اس قانون کے اجراء کے دس دن تک محدود تھا۔ چنانچہ خود اس میں لکھا ہوا ہے:
If a voter has got himself enrolled as voter and objection is filed before the revisiting authority notified under election Rolls Act 1974 “within ten days from issuance of Conduct of General Elections (Second Amendment) Order 2002” that such a voter ….
انورٹد کوماز کے الفاظ پر توجہ رہے۔ چنانچہ خود اسکی رو سے اس شق کا اطلاق دس روز تک تھا۔ تو ایسے میں یہ کس بنیاد پر کہا جارہا ہے کہ اسے "اب" تبدیل کردیا گیا ہے؟ اس مفروضے کی دلیل کیا ہے کہ یہ "اب تک" نافذ العمل تھی؟

ب) دوسری اہم ترین بات یہ کہ خود مشرف کے دور میں 2006 میں ایک SRO میں یہ طے کردیا گیا تھا کہ اب چونکہ جوائنٹ الیکٹورل نظام ہے لہذا مسلمانوں اور غیر مسلم کی الگ الگ لسٹیں بنانے کی ضرورت نہیں کیونکہ نئے نظام میں اس تفریق کا کوئی مقصد نہیں رہا تھا (اگر کسی کو یہاں یہ خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ گویا اس سے مسلم و غیر مسلم کی تفریق ختم ہوگئی تو اس پر آگے گفتگو کی جاتی ہے)۔ خود نئے قانون میں جہاں ووٹر لسٹوں کا ذکر ہے وہاں 2006 کے اس SRO کا حوالہ باقاعدہ حاشیے میں لگایا گیا ہے کہ "اسکی روشنی کے مطابق" (اس متعلقہ صفحے کا امیج الگ سے فراہم کیا جاسکتا ہے)۔
تو جناب ووٹر لسٹیں تو پہلے ہی سے مخلوط تھیں، معترض کا اعتراض اس مفروضے پر مبنی ہے گویا پہلے تو یہ لسٹیں الگ الگ تھیں مگر اب اس تفریق کو کسی بدنیتی کے تحت ختم کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   الیکشن قوانین میں تبدیلی اور ختمِ نبوت کا مسئلہ : آخر ہوا کیا ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

4) اب رہ گیا یہ سوال کہ کہیں اس سے مسلم اور غیر مسلم افراد کی قانونی شہری حیثیت میں فرق تو نہیں آگیا، تو یہ خدشہ اس لئے غلط ہے کہ یہ تفریق ووٹر لسٹوں پر منحصر نہیں بلکہ نادرا کے ڈیٹا بیس پر مبنی ہے۔ یعنی جب ایک شخص شناختی کارڈ کے حصول کے لئے خود کو پاکستان کا شہری ڈیکلئیر کرتا ہے تو اس فارم میں وہ رسول اللہﷺ کی ختم نبوت والی شق پر سائن کرتا ہے۔ چنانچہ نئے قانون میں بھی ووٹر لسٹ بنانے کے لئے نادرا ہی الیکشن کمیشن کو ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ یہاں یہ دھیان بھی رہے کہ اس ترمیم میں پرانی لسٹوں کو تبدیل کرنے کا ہرگز بھی نہیں کہا گیا، لسٹیں وہی پرانی والی رہیں گی۔

تو یہ تھی 7سی سے اخذ شدہ مغالطوں پر مبنی کہانی کی حقیقت، امید ہے اس سے ذھن صاف ہوگئے ہونگے۔ نہ تو جوائنٹ الیکٹورل سسٹم کے بعد اس قسم کی علیحدہ لسٹوں کی کوئی قانونی و انتظامی ضرورت تھی کہ انہیں برقرار رکھا جاتا، نہ ہی موجودہ ووٹنگ لسٹیں پہلے والے نظام کی طرح علیحدگی کی بنیاد پر بنی ہوئی تھیں کہ انہیں اب ختم کیا جارہا ہے، نہ ہی یہ شق پہلے موثر تھی کہ اسے اب ختم کردیا گیا ہو اور نہ ہی اس سے کسی کی شہری قانونی حیثیت میں کوئی فرق پڑ گیا ہے۔ الغرض سیاسی مقاصد کی خاطر بلا وجہ کا ایک شور برپا کردیا گیا ہے۔

خلاصہ
ترمیمی بل میں ڈاکٹر مشتاق صاحب نے جن تین نکات (الفاظ کی تبدیلی، 7بی اور 7سی کی تبدیلی) کی بنیاد پر اعتراض کیا ہے ہم نے ان کا نمبر وار تجزیہ کر دیا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سب کا خلاصہ سوالا جوابا پیش کردیا جائے:
سوال 1: کیا نئے اور پرانے فارم میں بیان حلفی کی حیثیت میں کوئی تبدیلی رونما ہوئی؟
ج: نہیں اور یہ معترضین کو بھی قبول ہے
سوال 2 : نظریاتی طور پر کیا اقرار نامے کے الفاظ کو "حلفیہ" کے بجائے "غیر حلفیہ" کردینے سے کوئی قانونی تبدیلی رونما ہوتی ہے؟
ج: نہیں، جن لوگوں کا دعوی ہے کہ ہوتی ہے وہ قانون سے اس کی بنیاد فراہم کریں
سوال 3 : کیا 7بی ختم ہونے سے قادیانیوں کی شہری حیثیت میں کوئی فرق پڑا؟ کیا انہیں کوئی بے جا فائدہ ملا جس سے انکی شہری حیثیت خلط ملط ہوجائے؟
ج: نہیں اور یہ معترضین کو بھی قبول ہے
سوال 4: کیا 7سی کے خاتمے سے قادیانیوں کو مسلم لسٹ سے نکالنا ناممکن ہوگیا؟
ج: یہ سوال ہی غلط ہے کیونکہ اس ترمیم سے پہلے بھی ووٹر لسٹیں مسلم و غیر مسلم کی تفریق کی بنیاد پر نہیں تھیں۔ دوسری بات یہ کہ 7سی پہلے ہی معطل ہوچکی تھی
سوال 5: ووٹر لسٹ سے مسلم اور قادیانی کی شناخت ختم ہونے سے کیا انکی شناخت خلط ملط ہوگئی؟
ج: نہیں، کیونکہ اس تفریق کا تعلق نادرا کے ڈیٹا بیس سے ہے نہ کہ ووٹر لسٹ سے
تو یہ ہے کل کہانی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دو تہائی معاملات میں خود معترضین کو بھی قبول ہے کہ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی مگر پھر بھی ان کی بدگمانی اپنی جگہ برقرار ہے۔ اگرچہ ہم نے منطقی تجزیہ پیش کردیا گیا ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ logic cannot change perception ۔
آخری بات
ختم نبوت کے معاملے پر جس قدر حساسیت کا مظاہرہ ناقدین کررہے میرے لئے بھی یہ اتنا ہی اہم مسئلہ ہے مگر خدارا نان اشو کو اشو بنا کر لوگوں کے مذھبی جذبات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال تو نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی کے ایمان کے بارے میں بدگمانی پھیلائی جائے۔ الیکشن کمپین چلانے کے دیگر طریقے بھی ہیں۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!