بوٹ پالیشیا ہی سمجھ لو - محمود فیاض

سوشل میڈیا کی روایت کے اعتبار سے جیسے ہی آپ فوج کے کسی ادارے کی کسی حرکت پر سیاسی لوگوں کو سمجھانے کی کوشش بھی کرو تو آپ بوٹ پالیشیے ہو۔ بلکہ زیادہ ٹھیک الفاظ میں بوٹوں کے تسمے باندھنے والے، اور تلوے چاٹنے والے۔

بھائی صیب! آپ کی جمہوریت کا حسن ایسی باتوں سے دوبالا ہو سکتا ہے تو بھلے کچھ اور بھی نام دے لو، مگر حقیقت کو بدل کر دکھاؤ تو مانیں۔ اپنے حسابوں آپ ایک مضمون، دو کتابیں، چار تبرے بھیج کر سمجھ لیتے ہو کہ بس اب ملک سے بوٹوں کی حکومت ختم ہونے والی ہے، اور راج کرے گی خلق خدا۔ مگر حقیقت آپ کی گلی کی نکڑ سے شروع ہو جاتی ہے۔ جب آپ کو پہلا مکان نظر آتا ہے، جہاں لکھا ہوتا ہے، "گاڑی گیٹ کے سامنے پارک نہ کریں، بحکم کرنل فلاں، میجر ڈھمکاں" ، اور آپ کانوں کو لپیٹ کر، دم ٹانگوں میں الٹی دبا کر گاڑی آگے لے جاتے ہو۔

مگر یہ حقیقت کیسے بدلے گی؟ کبھی اس پر بھی غور کر لو۔ حقیقت تو گاڑی کی نمبر پلیٹ پر لکھے "ایڈووکیٹ ہائی کورٹ" کے پیچھے بھی چھپی ہوئی ہے۔ اور بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑی کے پیچھے بھی، اور شیر کے نشان والی بغیر نمبر گاڑی بھی۔ ججوں کی علیحدہ کالونی سے لے کر صحافیوں کے پلاٹ پرمٹوں تک یہی نمبر پلیٹ کی حقیقت تمھیں دکھائی نہ دے تو دانشوری کی دال پکا کر اپنی ہی جوتیوں میں ڈال کر بانٹ دو۔

کوئی سپاہ بنا کر تمہارے بارہ تیرہ سالوں کے بچوں کو مذہب کے نام پر ورغلاتا پھرے اور غراتے ہوئے مذہبی تقدس کو بندوق کی جگہ استعمال کرے، تب بھی جمہوریت کا حسن قائم رہے اور کسی بوٹوں والے کے ایک غلط قدم پر تمہاری جمہوریت کا فالودہ سڑکوں پر بکنے آجائے تو اپنی اداؤں پر بھی غور کرو۔

کوئی جمہوری نمائندوں کو اپنی چچوڑی ہڈیوں کے راتب پر اپنے دروازے کے رکھوالے کتے بنا چھوڑے اور ملک کا سب سے بڑا پراپرٹی اور بزنس ٹائیکون بن جائے، اور جمہوریت راتوں کو سولہ سنگھار کے ساتھ اس کی پارٹیوں میں ڈانس کرتی پھرے تو تمھارے قلم پلاٹوں کی لمبائیاں چوڑائیاں ناپ کر مکانوں کے نقشے بنانے لگیں اور پھر بھی تمھیں بوٹ والوں کے بنگلے بنانا قابل اعتراض لگے، تو خود ہی سوچو جہنم میں منافقوں کی کالونی میں تمھارا کارنر پلاٹ کس قدر خوبصورت لگے گا۔

خیر بات دور نکل جائے گی، واپس حقیقت تک محدود رہتے ہیں اور غور کرتے ہیں کہ جن ملکوں کی جمہوریت پر تم رال ٹپکاتے ہو، وہاں کے جرنیلوں کو ان کی "اوقات" میں رکھنے کے لیے وہاں کی سیاسی اشرافیہ نے ایسا کون سا کام کیا ہے جو جرنیل خود بخود ان کی گود، بلکہ پاؤں میں گرے ہوئے ہیں؟ اور وہ کون سا ملک ہے جہاں پر حکمرانوں کی بے مہار کرپشن، اپنے پورے کے پورے خاندان ملک لوٹنے پر لگا کر، اور اربوں کے ٹھیکوں پر کھربوں کما کر انھوں نے جمہوریت کے نام پر وہاں کے جرنیلوں کو نتھ ڈالی ہوئی ہے اور ان کو سرحدوں پر جوتے مار کر بٹھایا ہوا ہے کہ یہاں بیٹھو، تمھیں روٹی کے ٹکڑے اسی بات پر ڈالتے ہیں کہ تم ہماری کرپشن اور دونمبری کی حفاظت کے لیے ہمارے دشمنوں پر بھونکتے رہو؟

یہ بھی پڑھیں:   اور جمہوریت کا حسن مزید نکھر گیا - حبیب الرحمن

اچھا چلو ہم جیسے بوٹ پالیشیوں کی بات سن لو۔ ہم فوج کو کیا سمجھتے ہیں؟ ہم فوج کو ایک ایسا ہتھیار، ایک ایسی مشین سمجھتے ہیں جو دشمن سے حفاظت کے لیے بنائی جاتی ہے۔ تم جرنیلوں کی بات کرتے ہو۔ ہمارے لیے وہ بندوق میں بھرے ہوئے کارتوس ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ ہماری ساری عزت فوج کے لیے صرف ویسی ہی ہے جیسی کسی دشمن رکھنے والے بندے کے لیے اپنی بندوق کی ہوتی ہے۔ اس ہتھیار کو زنگ لگنے سے بچانا، بچوں کے ہاتھ میں نہ جانے دینا، اور بوقت ضرورت دشمن پر استعمال کے لیے تیار رکھنے کے لیے اکا دکا فائر کرتے رہنا اور اس کی نال کو تیل سے تر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

بس اس سے زیادہ فوج کا اور کوئی استعمال نہ ہے اور نہ ہونا چاہیے۔ اس پر کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔ فوج کو ایک ہتھیار کی طرح استعمال کرنے والے کے بازو میں بھی کوئی دم ہونا چاہیے یا نہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس پر کتاب میں جمہوریت کے ہجے پڑھنے والے کبھی غور نہیں کریں گے۔ بوٹوں والوں کو مینڈیٹ والوں کے تابع ہونا چاہیے۔ سچ ہے۔ مگر مینڈیٹ والوں کے بازو میں دم کتنا ہے، یہ اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ وہ یہ بندوق اٹھا سکتے ہیں یا نہیں۔ اب اگر آپ بندوق کو استعمال کرنے کا مینڈیٹ بچوں کو دے دیں، اور ان کے کمزور بازوؤں اور نابالغ زہنوں سے فیصلہ نہ ہو سکے کہ بندوق کو کیسے استعمال کرنا ہے۔ اور بجائے دشمن پر فائر کرنے کے وہ آپ کی طرف ہی فائر کر دیں تو کیا آپ بندوق اٹھا کر باہر پھینک دیں گے کہ یہ میرے خلاف ہوگئی ہے۔ کیا آپ کی عقل ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچے گی کہ میں نے اس بندوق کو استعمال کرنے میں غلطی کیا کی ہے جس کی وجہ سے مجھے یہ دن دیکھنا پڑا۔

جمہوری ملکوں میں فوج ایک مشین ہے، ایک ہتھیار ہے۔ ایک سسٹم ہے، ایک حفاظتی دیوار ہے جو دشمن کے خلاف کام آتی ہے اور آپ کے تابع ہوتی ہے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ جن ملکوں میں یہ طاقتور ہتھیار رکھا جاتا ہے، وہاں اس کے لیے مینڈیٹ کے بازوؤں میں جان بھی پیدا کی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ کی روایت کو عوامی حمائت سے مضبوط تر کیا جاتا ہے۔ اور عوامی حمائت ہمیشہ عوامی کاموں سے حاصل ہوتی ہے۔

مگر آپ کے ممدوح جمہوریت کے چیمپئن کیا کرتے ہیں؟ وہ مینڈیٹ کو ملک لوٹنے کا لائسنس سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی نسلوں کو کھربوں کے محل دلوانے کے لیے عوام کی نسلوں کی آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ کر اگلے سو سالوں کا قرض اکٹھا لیکر بیرون ملک اپنے پانامے بھرتے ہیں۔ وہ ملکی اداروں میں سیاسی بھرتیاں کر کے انکا بیڑہ غرق کرتے ہیں۔ وہ پارلیمان کو اپنی رکھیل سمجھ کر اپنی ضرورت پوری کرنے آتے ہیں اور اپنی سیاسی پارٹیوں کو اپنے گھر کا باتھ روم سمجھتے ہیں جہاں صرف ان کے رشتے دار ہی جا سکتے ہیں۔ وہ اپنے کاروباری اور کرپٹ مفادات کے لیے داخلہ اور خارجہ امور پر دشمنوں کے ساتھ جا ملتے ہیں یا کم از کم ان سے بیک ڈور ڈپلومیسی کے نام پر ملکی سلامتی کا سودا کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ وہ آئین و قانون کو اپنی باندی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں اور جہاں اپنے یا اپنے خاندان کے مفادات پر زد پڑتی ہے، وہاں آئین و قانون بدل دیتے ہیں۔ وہ جمہوریت کی کتاب میں درج ہر ایک اصول کا مذاق اڑاتے ہیں اور پوری جمہوریت ہی کو مذاق بنا چھوڑتے ہیں۔ پارلیمنٹ کس لیے ہوتی ہے، ایوان بالا کے مقاصد کیا ہوتے ہیں، ایوان زیریں کس لیے ہوتا ہے، یہ سب ان کے لیے پرانی ردی سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔ انکی جمہوریت، بندے خریدنے، الزام لگانے، نمبر پورے کرنے، اور اپنے غلیظ ایجنڈے کو پورا کرنے تک محدود ہوتی ہے۔ اور ان کا ایک نکاتی غلیظ ایجنڈا ملکی سلامتی اور عوام کی نسلوں کی فروخت کی قیمت پر اپنے بیرون ملک نسلوں کے اکاؤنٹ بھرنا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جموں و کشمیر : آرٹیکل 370 ختم

اور جب آپ کے یہ جمہوری بھگوان یہ سب کر چکتے ہیں۔ اور ملک کے ادارے تباہ، آئین و قانون مفلوج اور کنفیوزڈ ہو جاتا ہے۔ جب عوام کا جمہوریت، انصاف، اداروں، پارلیمان، اور حتیٰ کہ سیاست تک سے اعتبار ختم ہو جاتا ہے تو یہ فوجی بوٹوں کے سامنے جا کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے مفلوج ہاتھوں کے ساتھ ان کو عوام کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تب اپنے اسی جمہوری فالج کی وجہ سے فوجی بندوق ان کے پاؤں پر چل جاتی ہے اور یہ حال دہائی ڈال دیتے ہیں کہ جمہوریت کا قتل ہو گیا۔ یہ آپ کو یہ نہیں بتاتے کہ یہ ہمارے اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہے اور ہمارے اپنے فالج زدہ اعمال کی مکافات ہے۔

تو ان سے کیا گلہ جب آپ جیسے دانشوران ہر چوتھے سال جمہوریت بحال کرانے کے لیے بوٹوں کے خلاف اپنے قلم گھسانے لگتے ہیں اور باوجود کوشش کے چار سال تک کسی ایک جمہوری ادارے سے ایک کام کا فیصلہ نہیں لے پاتے۔ آپ کو پارلیمان کا تقدس مجروح ہوتا نظر نہیں آتا، آپ کو سیاسی بازگری، آئین کی دھجیاں، دھوکے بازی کی نئی بلندیاں نظر نہیں آتیں۔ آپ کو لگتا ہے یہی عوامی مینڈیٹ والے نمائندے اس بار بوٹوں کے تلووں سے نکل کر جمہوریت کا جھنڈا گاڑ دیں گے۔
حیرت ہے آپ کی سوچ پر

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.