یقیں پیدا کر اے غافل! - عبدالباسط ذوالفقار

کیا ہوا؟ کیوں منہ اترا ہوا ہے؟ میں جب ان کی مجلس میں حاضر ہوا تو انہوں نے پوچھا۔ دراصل آج میں کچھ ذہنی الجھن میں مبتلا تھا، جس کے اثرات چہرے پر نمایاں تھے۔ نہیں سر! ایسی کوئی بات نہیں۔ میں نے جواب دیا۔ وہ مسکرائے اور قریب بلاکر بیٹھنے کو کہا۔ میں پاس بیٹھا تو انہوں نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا: ہاں! اب بتاؤ، کیوں پریشان ہو؟ میں نے کہا : سر! میرے پاس تو کوئی ڈگری ہے اور نہ ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں۔ میں کیوں کر ترقی کر سکتا ہوں؟ جب کہ میرے آس پاس بڑے بڑے ڈگری ہولڈر فارغ گھوم رہے ہیں، جن کا شمار معاشرے کے ناکام پرزوں میں ہوتا ہے۔انہوں نے تحمل سے میری بات سنی اور کہا: کامیابی اور ترقی کے لیے تعلیم کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ تعلیم تو شعور دیتی ہے۔ آج ہم تعلیم حاصل ہی اسی لیے کرتے ہیں کہ اونچی نوکری ملے، پیسہ و شہرت ملے۔ جبکہ اس سب کے لیے تعلیم کی نہیں بلکہ کرتب کی ضرورت ہے یا یوں کہہ لو فن کی ضرورت ہے۔

فٹبال، کرکٹ، اسکواش کھیلنے والے ان پڑھ جاہل کھلاڑی ارب پتی بن جاتے ہیں۔فلم اور ٹی وی میں کام کرنے والے اداکار، جاہل اینکر پرسن، پانسے پھینکنے والے سٹے باز،رسک مینیجرز، مسخرے بھانڈ، یہاں تک کہ طوائفیں بھی کھربوں کما لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ جنہیں ہیئر ڈریسر کہتے ہیں اور فیشن ڈیزائنر، آرٹسٹ، فوٹوگرافر، ماڈل، رقاص بغیر اعلیٰ تعلیم کے اتنا دھن کماتے ہیں کہ انسان تصوّر بھی نہیں کر سکتا۔اور اس زمانے میں پیسے والے کی عزت ہے کہ لوگ پیسے کو پوجتے ہیں۔سب سے زیادہ عزت اسی کو ملتی ہے جس کے پاس مال و دولت سب سے زیادہ ہے۔ لہٰذا یہ سمجھنا کہ اعلیٰ تعلیم سے دولت اور ترقی ملتی ہے فقط دھوکہ ہے۔ اگر تعلیم سے ہی روپیہ کمایا جاسکتا تو آج ہر پروفیسر کروڑ پتی ہوتا۔

انہوں نے لمبا سانس لیا پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: جانتے ہو؟ دنیا میں اس وقت ساڑھے نو سو سے زائد کروڑ پتی ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی ماہر تعلیم یا پروفیسر نہیں۔ دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی ہے۔ والٹیئر کا قول ہے: ’’ میں نے ہمیشہ عظیم لوگ جھونپڑوں سے نکلتے دیکھے ہیں۔‘‘میرے بچے! تم اگر زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہو تب بھی ترقی کر سکتے ہو، نام کما سکتے ہو۔ میں متعجب سا انہیں دیکھنے لگا۔وہ مسکرائے اور کہا: ہاں! بس تمہیں چند کام کرنے ہوں گے۔ تمہیں وقت کی قدر کو پہچاننا ہوگا۔ تمہیں اپنے اندر ہمت و حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ تمہیں محنت کرنا ہوگی۔ اپنے لیے میدان متعین کرو۔ ایسا نہ ہو دوڑتے چلے جاؤ، کہ یہ بھی لے لوں، یہ بھی لے لوں اور ہاتھ کچھ نہ آئے۔ بلکہ تم میدان متعین کر کے جت جاؤ۔ پھر پیچھے مڑ کے نہ دیکھو۔ استقامت سے محنت کرو۔ تھامسن ایڈیسن کہا کرتا تھا:’’کامیابی ایک فیصد رغبت اور ننانوے فیصد محنت سے حاصل ہوتی ہے۔‘‘تم محنتی بن جاؤ کہ نکمے لوگوں کے لیے دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔محنت کرو گے تو دنیا تمہارے لیے کھلی پڑی ہے۔

میں نے سر اٹھایا اور کہا: محنت کے باوجود آگے نہ بڑھ سکوں تو؟ تو کیا؟ یاد رکھو! اگر تم ہارو گے نہیں تو تم کبھی جیت کا مزہ نہیں چکھ سکتے۔ محنت اور کوشش کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوسکتے۔’’ محنت‘‘ محنتی کو صلہ ضرور دیتی ہے۔ یہ قدرت کا قانون ہے۔ تم مستقل مزاجی سے چلتے رہو، بعید نہیں کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ اب تک جو ہوا سو ہوا۔ اب سے تم چند کام کرو۔ منصوبہ بندی کرو، کام متعین کرو، وقت کی قدر کرو، اسے منظم کرو کہ گیا وقت ہاتھ نہیں آتا۔ اپنے اندر حوصلہ پیدا کرو۔ انہوں نے کہا۔ پھر سانس لینے رکے اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر دوبارہ گویا ہوئے۔میرا ایک دوست، بالکل ان پڑھ، انگوٹھا چھاپ ہے۔ ایک بڑی کمپنی کا مالک ہے۔ اس کے ماتحت ڈیڑھ دو ہزار لوگ کام کرتے ہیں۔وہ سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ایم اے، ایم کام، ایم ایس، ایم ایس سی، ایم فل کر کے لوگ وہاں جاب کر رہے ہیں۔

وہ کہا کرتا ہے، ان سب میں حوصلہ نہیں، انہیں اپنے آپ پر اعتماد نہیں، یہ یقین کی دولت سے محروم ہیں۔انہیں ڈر ہے کہ ہم ناکام نہ ہو جائیں۔ حالانکہ وہ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ مجھ سے عقل، شعور، علم، دماغ، ویژن میں تیز ہیں۔ مگر حوصلہ جو نہیں۔ اگر یہ غفلت کی چادر کو پھینک کراپنے اندر یقین،حوصلہ اور خود اعتمادی پیدا کر لیں، وقت کی قدر جان لیں، محنت کش بن جائیں۔ تو یہ دنیا پر حکومت کریں۔ مجال ہے کہ انہیں کامیابی نہ ملے۔ پھر میری طرف امید افزا نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا: دوسری بات یہ ذہن نشین کر لو کہ عزت کا معیار رب کریم کے ہاں تقویٰ پر ہے۔ اس پاک ذات کی بارگاہ میں وہی شخص عزت دار ہے جو اس سے ڈرنے والا، اس کا مقرب ہے۔ وہی قابل عزت ہے جس کی جبیں پر زیادہ سجدے، جس کی گردن میں زیادہ عاجزی، جس کے دامن میں زیادہ نیکیاں ہیں۔ پھر کہا: تم سمجھ گئے ناں؟ میں نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا، اور مرجھائے ہوئے چہرے کی جگہ تر و تازہ اور کھلتا ہوا چہرہ لیے پر امید قدموں گھر آگیا۔ اور نئے ولولے سے کاموں کی منصوبہ بندی شروع کر دی، ٹائم ٹیبل ترتیب دے دیا۔ آپ نے کیا سوچا؟

Comments

عبدالباسط ذوالفقار

عبدالباسط ذوالفقار

عبد الباسط ذوالفقار ضلع مانسہرہ کے رہائشی ہیں۔ سماجی موضوعات پر لکھی گئی ان کی تحاریر مختلف اخبارات، رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */