غلط فہمی اور خوش فہمی - اسامہ الطاف

زندگی میں ہم کئی فیصلے کرتے ہیں،کئی احکامات صادر کرتے ہیں اور ان فیصلوں اور احکامات کی بنیاد ہمارا تصور ہوتا ہے۔ یعنی ہمارے سامنے جب کوئی امر آتا ہے،یا ہمیں کسی چیز کو پرکھنا ہوتا ہے تو ہم اس کے بارے میں اوّل ایک تصور قائم کرتے ہیں،پھر اس تصورکی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں،اور حکم لگاتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تصور کس طرح تشکیل پاتا ہے۔ تصور معلومات کی بنیاد پر تشکیل پاتا ہے،مثلاً ایک شخص کو کسی محکمہ کی جانب سے کام کی پیشکش(Job Offer) آتی ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص محض پیشکش کی آمد سے قبول یا ردّ کا فیصلہ نہیں کرے گا،بلکہ اولاً وہ کام، محکمہ اور متعلقہ اشیا کی معلومات حاصل کرے گا۔ اس معلومات کی بنا پر وہ کام کے متعلق تصور قائم کرے گا،اور اس تصور کی بنیاد پر وہ قبول یا ردّ کا فیصلہ کرے گا۔یہ ایک انتہائی سادہ اور طبعی عمل ہے،لیکن بعض اوقات ہم سے غلط فیصلے صادر ہوجاتے ہیں،جس کی وجہ ہم غلط فہمی قرار دیتے ہیں۔ غلط فہمی اور خوش فہمی دونوں ہی غلط فیصلوں کا مسبب ہوتی ہے،یا کم از کم غلط تصورات کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ انتہائی خطرناک امر ہے کیونکہ زندگی میں کئی امور کے متعلق ہم کوئی فیصلہ صادر نہیں کرسکتے لیکن ہمارے ذہن میں ان کا تصور موجود ہوتا ہے اور اگر تصور غلط فہمی یا خوش فہمی پر مبنی ہو تو ہمارا بھی نقصان ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کا بھی، جس کے متعلق ہم نے یہ تصور قائم کر رکھا تھا۔اس فلسفہ کا آخری نقطہ ہے کہ آخر غلط فہمی اور خوش فہمی پیدا کیوں ہوتی ہے؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ ہماری سمجھ یا معلومات میں خلل ہو تو غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ صحیح تصور قائم کرنے کے لیے صحیح اور مکمل معلومات کا حصول اور ان معلومات کی صحیح سمجھ ضروری ہے۔ ان تین شرائط میں نقص غلط فہمی، غلط تصور اور غلط فیصلوں کا موجب بنتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں کئی بیماریاں غلط فہمیوں پر جنم لیتی ہیں اور بعض اوقات یہ غلط فہمیاں نسل در نسل ایسی پختہ ہوجاتی ہیں کہ رسم و رواج کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ رواج اکثر عقل اور شرع کے مخالف ہوتا ہے،اس کے باوجود رواج کی مخالفت کو معاشرہ میں "گناہ کبیرہ"تصور کیا جاتا ہے،چاہے خود رواج ہی گناہ کیوں نہ ہو۔ بہرحال، ان غلط فہمیوں کا مظہر ہمارے خاندانی تعلقات میں واضح نظر آتا ہے،تحفہ تحائف کا لین دین،ملاقاتیں اور دعوتوں کے سلسلے محبت، تعلق اور صلہ رحمی جیسے اعلی مقاصد کے بجائے حق چکانے اور دکھاوے کی نذر ہوجاتے ہیں۔ شادی کے موقع پر رشتے کی شروعات سے رخصتی اور ولیمہ تک تمام مراسم میں غلط فہمیوں اور غلط تصورات پر مبنی رسم و رواج کے مظاہر کھل کرسامنے آتے ہیں۔ شادی دو اجنبی خاندانوں کا جوڑ ہوتا ہے،اس جوڑ کے نتیجے میں ایک نیا خاندان آباد ہوتا ہے۔ یہ ایک انتہائی سہل اور سادہ معاملہ ہے۔ دونوں خاندانوں میں کی باہمی آہنگی اور رضامندی کی بنیاد پر یہ رشتہ پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے لیکن ہمارے معاشرہ میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ ایک طرف کو دوسرے طرف پر افضلیت ہے اور ایک خاندان اس عمل میں دوسرے خاندان پر محسن ہے۔ اس غلط فہمی کے نتیجے میں خود کو محسن سمجھنے والا اپنے احسان کے بدلہ کی توقع کرتا ہے اور محسن علیہ یعنی جس پر احسان کیا گیا ہے وہ احسان مندی میں ہر حد پار کرنے کو تیار ہوتا ہے۔

اس طرح دونوں خاندانوں میں توازن کا فقدان ہوجاتا ہے،چنانچہ ایک خاندان کو ہر وقت یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ رشتہ کی "حساسیت"کی وجہ سے ان کی کسی حرکت، عدم حرکت، بات یا حتی کہ خاموشی سے اگر دوسرا خاندان ناراض ہوگیا تو گویا قیامت ٹوٹ پڑے۔ اگر اتنا خوف اللہ کی ناراضگی کا ہوجائے تو کیا ہی بات ہے،مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ عام مفہوم میں محسن اس شخص کو سمجھا جاتا ہے جو احسان کر کے بھول جائے،بلکہ جو شخص احسان کرکے طعنے دے اور اپنی برتری کا احساس دلائے تو اس کی نیکی ضائع ہوجاتی ہے اور یہاں معاملہ یہ ہے کہ احسان کا ہوتا بھی نہیں،اور احسان مندی کی توقع بھی کی جاتی ہے۔ لہٰذا اس احسان مندی کو فرض سمجھا جاتا ہے،ـ"محسن" کی غلطیوں کو فراموش کیا جاتا ہے،اس کے ظلم پر خاموشی کو حکمت کہا جاتا ہے، اس کی خدمت کو سعادت سمجھاجاتا ہے،اور اس کی اتباع میں ذلت برداشت کرنا بھی آسان ہوتا ہے،بعض اوقات تو اس حد تک ذہنی غلامی اور اخلاقی پستی ہوتی ہے کہ "محسن"کے منع کرنے اور منصب "احسان"سبکدوش ہونے کے باوجود دوسری طرف سے خدائی سلوک کیا جاتا ہے۔اس بیماری کی بنیاد ایک غلط مفہوم ہے،جو کہ ہمارے ذہنوں میں موجود غلط فہمیوں کا مرکب ہے،اگر ہم اپنے ذہن سے غلط فہمی نکال دیں تو اس بیماری کا خود ہی خاتمہ ہوجائے۔

اب رخ کرتے ہیں خوش فہمی کا،خوش فہمی مثبت سوچ والوں کے لیے زیادہ جاذب ہوتی ہیں، اس لیے بڑے دانشور اور علماء بھی خوش فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں،جس کا اندازہ آپ کو اس سیاسی مثال سے ہوجائیں گا۔ترکی کے صدر رجب طیب اردگان عالم اسلامی میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ سیاست سے بہرہ عوام الناس بھی ان کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،مذہبی طبقہ خاص طور پر ان کو پسند کرتا ہے، بلکہ بعض اوقات ان کی شخصیت سے متعلق خوش فہمیوں کا شکار ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ شاید سیاسیات سے لا علمی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اردگان ایک کامیاب سیاسی رہنما ہیں،استنبول کی نظامت سے وزارت عظمیٰ تک، اور وہاں سے صدارت تک، ان کا سیاسی کیرئیر کامیابیوں کی داستان ہے۔ ترکی نے ان کے دور میں خوب ترقی کی اور اب اس کا شمار دنیا کے مضبوط اقتصادی ممالک میں ہوتا ہے۔ آج اگر اردگان کو مسلم دنیا کا کامیاب ترین سیاسی رہنما قرار دیں تو غلط نہیں ہوگا،لیکن ان کی سیاسی کامیابیوں کی بنا پر ان کو مذہبی رہنما قرار دینا خوش خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ شاید لوگ ان کی شعلہ بیانی اور قرأت قرآن سے متاثر ہوکر ان کو مذہبی رہنما تصور کرتے ہیں، یہ تصورات حقائق سے لاعلمی کی وجہ سے کی وجہ سے تشکیل پاتے ہیں،جو ان مذہبی مظاہر سے یکسر مختلف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ترکی میں امریکی فضائیہ اور نیٹو کے زیر استعمال ایئر بیس موجود ہے،اس ائیر بیس سے امریکی طیارے اڑان بھرتے ہیں اور "دہشت گردوں"کے خلاف کاروائی کرتے ہیں،جس کے نتیجے میں عراق اور شام میں ہونے والی تباہی کسی سے مخفی نہیں۔ یہ ائیر بیس ترکی کی سرزمین پر ترکی حکومت کی اجازت اور رضامندی سے موجود ہے۔دوسری حقیقت یہ ہے کہ ترکی افغانستان میں نیٹو کا حصہ ہے، ترکی افواج اپنے مغربی اتحادیوں کے ساتھ افغانستان میں عسکری کاروائیاں کرتی ہیں،جس کے نتیجے میں عام افغان شہریوں کی ہلاکت معمول کی بات ہے،یعنی ترکی حکومت بالواسطہ اور بلا واسطہ مسلمانوں کے قتل میں شریک ہے۔تیسری حقیقت یہ ہے کہ ترکی روس کا بہترین دوست ہے،اور روس بشار الاسد کا محافظ ہے،بشار الاسد کی حفاظت کے لیے روس 2015 سے شام میں تباہی پھیلا رہا ہے، اور شامی باغیوں کا قلع قمع کر رہا ہے۔ ترکی صدر کا شام کے متعلق موقف روس سے مختلف رہا ہے،وہ بشار الاسد کے خلاف خوب بیان بازی کرتے ہیں،لیکن ان کی بیک وقت روس سے بھی دوستی ہیں۔ اگر معاملہ اس حد تک موقوف ہوتا تو بڑا مسئلہ نہیں تھا لیکن روسی صدر پوٹن کہتے ہیں کہ ہم(روس اور بشار الاسد) نے حلب پر قبضہ ترکی کے تعاون سے کیا ہے۔ یہ وہی حلب ہے جس کو اردگان خط احمر(Red Line) قرار دیتے تھے۔

ان حقائق کے بعد بھی اگر کوئی شخص اردگان کو مذہبی رہنما سمجھتا ہے اور ان کی اسرائیل مخالف قدیم تقاریر سے متاثر ہے تو اس سے عرض ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان حال ہی میں سفارتی روابط بحال ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل اور ترکی کے مابین رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں تجارتی تعاون کا حجم 4ارب ڈالر کے قریب ہے۔ مزید یہ کہ چند ماہ قبل جب اسرائیل کے مختلف شہروں میں آگ لگی تھی اور دنیا بھر کے مسلمان اس کو غیبی انتقام سمجھ رہے تھے۔ اس آگ پر قابو پانے کے لیے ترکی نے سرکاری طور پر دو طیارے اسرائیل روانہ کیے تھے،اور تو اور سابق اسرائیلی صدر اور اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے ماسٹر شمعون بیریز کے انتقال پر ترکی کا سرکاری تعزیتی وفد اس کے جنازے میں شریک ہوا تھا۔ یہ وہ حقائق ہے جو جذبات کے سمندر میں کھوجاتے ہیں، اور ہمارے سادہ لوح دوست سیکولر اردگان (وہ خود کو سیکولر کہتے ہیں) کومذہبی رہنماسمجھتے ہیں۔ اس خوش فہمی کی بنیاد ناقص معلومات پر ہیں،اردگان یقیناً ایک کامیاب حکمران ہیں، لیکن مذہبی رہنماہرگز نہیں۔

غلط فہمی اور خوش فہمی مبتلاہونا طبعی امر ہے،لیکن حقیقت جاننے کے باوجود اس پر اصرار تباہ کن ہوتا ہے،فرد کے لیے بھی اور معاشرہ کے لیے بھی،معاشرہ میں اگر ارباب قلم حقیقت بیان کرتے رہیں گے،عوام حقائق تسلیم کرتے رہیں گے،اور ارباب اختیار حقائق کی بنیاد پر فیصلے کریں گے تو معاشرہ جلد سنور جائیےگا۔ ان شاء اللہ