کس سے منصفی چاہیں؟ - سامیہ احسن

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے بورڈ کی ہوش ربا سفارشات پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ بورڈ میں ڈاکٹرز کے علاوہ پرائیوٹ میڈیکل کالجز کے پانچ نمائندے بھی شامل تھے لیکن عوام یعنی طلباء او ر والدین کے نمائندے نداردتھے۔ گویا میڈیکل کی تعلیم کی مثلث (ڈاکٹر، سرمایہ دار، طالب علم)کے دو اضلاع موجود تھے اور آپس کے گٹھ جوڑ سے تیسرے ضلعے کی تقدیر بڑے دھڑلے سے لکھ رہے تھے۔ نتیجہ ظاہر ہے کیا ہو سکتا تھا؟ کمیٹی کی سفارشات پڑھ کر بے بس طلبا و والدین کے لبوں پر بے اختیار "آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا" آ گیا ہو گا۔

لیکن نہیں صاحب! اگر ہمارا کوئی آدمی یعنی نمائندہ وہاں ہوتا تو پی ایم ڈی سی بورڈ کی یہ میٹنگ سرمایہ دارانہ نظام کے استحصال کی بد ترین صورت بن کر سامنے نہ آتی۔یہ بات اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ سرکاری ملازمتوں سے ریٹائر ہونے کے بعد آج کل سب ڈاکٹر انہی پرائیوٹ میڈیکل کالجوں میں لاکھوں روپے کی تنخواہوں پر نوکری کے حصول کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔پی ایم ڈی سی کے ڈاکٹر صاحبان بھی شاید بعد از ریٹائرمنٹ اپنی نوکری پّکی کرنے کی خاطر پرائیوٹ کالجز کے مالکان (اور اپنے مستقبل کے متوقع مالکان)کے مفاد کے تحفظ میں تجاویز پیش کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔جس ملک میں خود کو ملک کی کریم کہنے والے افراد سرمایہ دار کے اشاروں پر کٹھ پتلی کی طرح ناچ رہے ہوں،وہاں باقی لوگوں کا کیا حال ہو گا؟اور کیا یہ معاشرہ کسی بھی صورت جمہوری کہلایا جا سکتاہے جہاں جمہورکوہاتھ پیر باندھ کر سرمایہ دار کے آگے قربانی کے بکرے کی طرح ڈال دیا جائے۔

پی ایم ڈی سی کی یہ سفارشات تعلیم کو مکمل طور پر تجارت بنانے کے مترادف ہیں۔داخلے کے وقت ایڈوانس چیکوں کی وصولی کی حیرت انگیز تجویز سے یوں لگتا ہے کہ طلبا داخلہ نہیں لے رہے بلکہ گاڑی لیز کرا رہے ہیں یا قرضہ لے رہے ہیں۔میڈیکل کالج تعلیمی ادارے کے بجائے بینک معلوم ہو رہے ہیں کیوں کہ صرف وہیں گاڑیاں لیز کرواتے ہوئے یا قرضہ فراہم کرتے ہوئے ایڈوانس چیک لیے جاتے ہیں۔ بد اعتمادی،لالچ اور ہوس کے اس ماحول میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا سے آپ کس کردار کی امید رکھ سکتے ہیں؟

جب کوئی سیاست دان لاکھوں روپے لگا کر الیکشن جیتتا ہے تو پھر وہ کروڑوں کی کرپشن کر کے اپنا نقصان بمع سود کے وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے، ایسے ہی جب کوئی طالبِ علم لاکھوں لگا کر ڈاکٹر بنے گا تو کیا وہ کروڑوں کمانے کے لیے مریضوں کی کھال نہیں اتارے گا، اور کیا سرکاری ملازمت کی صورت میں آئے دن اپنی تنخواہ بڑھوانے کے لیے ہڑتالیں نہیں کرے گا؟ جب آج آپ اس سے مہربانی کا سلوک نہیں کریں گے تو کل اس سے مریضوں کے لیے ہمدردی کا تقاضا کیسے کریں گے؟کیاپی ایم ڈی سی کی یہ سفارشات ملک میں پیسے کی ایک نئی دوڑ شروع کرنے کا سبب نہیں بنیں گی؟

کیاہر پرائیوٹ میڈیکل کالج کے اپنی مرضی کے اصولوں پر داخلے کرنے سے میرٹ کا خون نہیں ہو گا؟ میرٹ لسٹ ڈس پلے نہ کر کے جس طرح یو ایچ ایس نے انٹری ٹیسٹ کی شفاّ فیت کو مشکوک بنایا ہے، کیا اسی طرح بغیر میرٹ لسٹ لگائے،چور دروازوں سے کیے جانے والے داخلے معاشرے میں عدم اطمینان کی فضا کو مزید نہیں بڑھا دیں گے؟ ایسے چھپ کر کیے جا نے والے داخلوں کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کم میرٹ والے مال دار حضرات سے ڈونیشن کے نام پر فیس سے کہیں زیادہ رقم سرمایہ دار وصول کرے گا اور نقصان وہ طالب علم اٹھائے گا جو زیادہ باصلاحیت تو ہو گالیکن سرمایہ دار کی ہوس کا منہ بھرنے کے لیے فالتو پیسے دینے سے قاصر ہو گا۔کیا اپنے بچے کی محرومی بہت سے والدین کو کرپشن پر مجبور نہ کرے گی اور معاشرے میں کم معاشی حیثیت کے افراد کے دلوں میں بہتر

معاشی حیثیت والے افراد کے لیے نفرت کو جنم دے کر لوٹ مار،سنگ دلی اور بے حسی کے ایک نئے دور کا آغاز نہیں ہو جائے گا؟

کم میرٹ والے بچے کو داخلہ دے کر اور با صلاحیت بچے کو رد کر کے ہم اپنے لیے نالائق ڈاکٹروں کی ایک کھیپ تیّار کر لیں گے۔کیا یہ اپنے پاوئں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف نہیں کہ اپنی زندگی کو نا اہل لوگوں کے ہاتھوں میں سونپ دیا جائے۔

اس ساری صورتِ حال کا سب سے الم ناک پہلو یہ ہے کہ ہم کس سے منصفی چاہیں؟ وزیرِاعلیٰ سے، جو کہ خود ایک پرائیوٹ میڈیکل کالج کے مالکان میں سے ہیں، یا اپوزیشن سے، جس کے اہم افراد بھی اس کاروبار میں ملوث ہیں، یا پھر فوج سے مداخلت کی درخواست کریں جو خود آرمی،ایئر فورس، بحریہ،حتیٰ کہ رینجرز کے میڈیکل کالجز بنا کر اپنے سرمائے میں دن دگنا رات چو گنا اضافہ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔اب تو سنا ہے کہ سرکاری اداروں،جیسے واپڈا وغیرہ نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔تو پھر کون ہے جو اپنا مفاد نظر انداز کر کے اس نا انصافی کے خلاف عوام کا ساتھ دے گا؟

ہمارا مقصد ان پرائیوٹ کالجوں کو رفاہی ادارے بنانا یا ان کے جائز مفادات کو زک پہنچانا نہیں ہے، بلکہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے مفادات اور مالیات کا خیال ضرور رکھیں لیکن اعتدال کے ساتھ۔میرٹ کو نظر انداز نہ کریں۔ میرٹ لسٹ لگا کر شفاّفیت کو برقرار رکھیں۔ فیسوں میں اضافہ حساب کتاب سے ہواور یہ ادارے مادر پدر آزاد نہ ہوں بلکہ حکومتی قوانین کے تحت ہوں۔

برِصغیر میں علاؤ الدین خلجی نام کا ایک حکمران گزرا ہے جس نے ہر چیز کا سرکاری ریٹ مقرر کیا تھا، حتیٰ کہ پیشہ ور عورتوں کا بھی ریٹ مقرر تھا۔ہم اپنے حکمرانوں سے اتنے کنٹرول کی توقع تو نہیں رکھتے، البتہ اتنی خواہش ضرور ہے کہ عوام کو، جو ان کی ذمہ داری ہیں، مفاد پرستوں کے ہاتھوں لٹنے سے بچائیں اور داخلہ پالیسیوں اور فیسوں کے اضافے کی شرح کو عوام کی عمومی حیثیت کے حساب سے مقرر کرکے اس کی پابندی بھی کروائیں۔