تعلیم اور ملازمت کا رشتہ - ڈاکٹر عظمیٰ سلیم

تعلیم کے حصول اور ذوق و شوق سے تو سبھی واقف ہیں۔ خاص طور پر آج کل کے دور میں، جب تعلیم کی شرح پہلے ادوار کے مقابلے میں بہت بڑھ گئی ہے۔ ہر شہر میں اسکولوں اور کالجوں کی لائنیں دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ مقابلہ سخت ہے اور فی الواقعہ ایسا ہے بھی۔ پیشہ وارانہ تعلیم کی جانب نگاہ کیجیے تو انٹری ٹیسٹوں، داخلوں کے میرٹ اور سیلف فنانس کی شرحوں نے سب اعداد و شمار کی نفی کر دی ہے۔

یہ سلسلۂِ شب وروز جو ہمارے ارد گرد ہے، ہمیں احساس بھی نہیں ہونے دیتا کہ کیسے ہماری خوشیوں کو لپیٹ میں لے لیتاہے۔ جس بچے کے دنیا میں آنے کا ہم نے لمحہ لمحہ انتظار کیا اور دنیا میں آنے کے بعد جسے ہم نے زندگی کا محور اور اپنا کل وقتی سہارا جان لیا۔آئیے ذرا، اس آج کے بچے کی زندگی پر نظر ڈالیے:

بچہ پیدا ہوتا ہے، خوشیاں مناتے مناتے، اسے چلنا سکھاتے،توتلی باتوں سے محظوظ ہوتے ہوئے آپ ابھی سانس بھی نہیں لیتے تو پتہ چلتا ہے کہ دو سال گزرنے کو ہیں، اسکول میں داخلے کی نوبت آن پہنچی۔ پلے گروپ یا پری اسکول سے لے کر پہلی کلاس میں داخلے کے مرحلے تک تین چار سال مزید پلک جھپکتے میں گزر جاتے ہیں۔ اگلے پانچ سال میں بچہ ہائی اسکول کی سیڑھیوں پہ قدم رکھنے کو ہے کہ آپ اور اہلِ خانہ کی نیندیں حرام ہیں۔بادلِ نخواستہ آپ اس تمام مرحلے سے چار سال تک جی کڑا کر کے گزر جاتے ہیں، جسے میٹرک، ایف ایس سی کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔اس مرحلے تک اس طالب علم کی عمر پندرہ یا سولہ سال ہو جاتی ہے۔ اگلے چار، پانچ یا کبھی چھے سال بھی تعلیم کی اس دوڑ میں جت کر گزر جاتے ہیں اور آخر کار آپ کا بچہ آخری ڈگری لے کر تعلیمی ادارے کو خیر باد کہہ دیتا ہے۔ لیجیے ہمارے سپنوں کی منزل آپہنچی اور ہمارا جگر گوشہ ہمارے بڑھاپے کا سہارا بننے کو تیار کھڑا ہے۔ اب ایک لمحے کو گذشتہ بیس، بائیس سالوں کو نظر میں لائیے

کیا اسی اولاد کی خوشیوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا؟

کیا اپنی جمع پونجی اس کی خواہشات کو پوری کرنے میں خرچ کی؟

کیا اس کی معصوم بے فکری کی زندگی سے اس نے خود لطف اٹھایا؟

کیا خاندان کی خوشی غمی اور دیگر تقریبات میں دل کھول کر شریک ہو سکے؟

کیا کسی ایک رات بھی بچے کو سینے سے لگا کر یہ سوچے بغیر سو سکے کہ کل اس کا کیا ہو گا؟

ہم میں سے نوّے فی صد کا جواب یقیناً نہیں میں ہو گا اور ان سب سوالوں کے جواب تو صرف ایک ہی جواب میں پوشیدہ ہیں کہ یہ سب خوشیاں تو اس بچے کی تعلیم کی فکر کھا گئی۔ جن والدین کے بچے ایک سے زائد ہیں، ان کی فکروں کی جمع اور ضرب کے گوشوارے بھی اسی تناسب سے بڑھتے جاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ہم اپنی توانائیاں، دولت، وقت، خوشیاں سب کچھ داؤ پہ لگا کر اس لمحے کا انتظار کرتے ہیں جب اولاد کی تعلیم مکمل ہو اور ہمارا فرض بھی۔ لیکن افسوس یہ ہے جب بچے ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں تو ان کا انجام کیا ہوتا ہے؟

تعلیم مکمل ہوتے ہی ملازمت کے حصول کی دوڑ کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں سفارش، رشوت وغیرہ کی باتیں پرانی ہو چکیں۔ آج محض یہ بات کرنے کو جی چاہتا ہے کہ کیا ہم تعلیم یافتہ ہونے کے بعد اپنی پسند کی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں؟

اپنے ارد گرد دیکھیے تو ہر شخص صرف ملازمت حاصل کرنا چاہتا ہے۔اس لیے کہ اس کا گزارا اچھا ہو سکے۔ اتنے پیسے مل پائیں کہ گھر والوں کی امیدوں پہ پورا اترا جا سکے، ایسے میں معیارِتعلیم اور معیارِ ملازمت گیا بھاڑ میں۔ ہمارے اطراف میں ملازمت پیشہ افراد پر نظر ڈالی جائے تو بخوبی علم ہوتا ہے کہ تعلیم کے میدان میں وہ لوگ موجود ہیں، جو ہر گز اپنی خواہش سے اس پیشے میں نہیں آئے۔

انتظامیہ کے عہدوں کی بندر بانٹ ان لوگوں کے ہاتھ میں آئی، جو شاید اپنے گھر کا نظام چلانے سے بھی قاصر ہیں۔ پولیس کے محکمے میں اکنامکس پڑھنے والا، بینک میں نفسیات دان، بلدیہ میں کھلاڑی، فوج میں کمزور دل، اور کاروبار میں غبی، ہم سب کے دیکھے بھالے ہیں۔ تعلیمی میدان کی دوڑ اور ملازمت کی بھاگ دوڑہمیں اتنی فرصت نہیں دیتی کہ اپنے لیے صحیح میدان کا انتخاب ہی کر لیں۔ اس دوڑ نے ہمیں تعلیم اور ملازمت کے رشتے کو بھلانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اچھی تعلیم کا مقصد تو اس کا اچھا اور دل سے استعمال ہے جو معاشرے کو ترقی دے۔ لیکن ہمارے دل اور ملازمت کے حصول دوڑ میں کچھ کڑیاں گم ہو چکی ہیں۔ دل چاہتا ہے کبھی وہ ہاتھ آئیں۔اپنے ارد گرد ایسے روشن دماغوں کو ضائع ہوتے دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔ جی چاہتا ہے کبھی ہم بھی ان ممالک میں شمار ہوں، جہاں ذہنی رجحان کے مطابق ملازمت ملتی ہے۔ کبھی ہمارے ہاں مردم شماری کے بجائے افرادی قوت کا شمار ہو، تا کہ ہر محکمہ کی اسامیاں ایک خاص تناسب میں ہوں۔ کاش ہمارے ہاں نوجوانوں کو بوجھ سمجھنے کے بجائے ان کا بوجھ بانٹنے والے دماغ بھی موجود ہوں، کاش ہم اپنے بچوں کے بچپن، جوانی اور کامیابیوں پہ بے فکری سے خوش ہو سکیں۔ لیکن خواتین و حضرات! بس میر ہی کا سہارا لیجیے جو فرماگئے ہیں:

میر دل چاہتا ہے کیا کیا کچھ