لبرل جمہوریت اور اسلامی حکمرانی کا مستقبل؟ - عمر ابراہیم

امام احمد رحمة اللہ علیہ سے مروی ہے، نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 'اسلام ایک ایک کڑی کرکے ٹوٹ جائے گا۔ جب بھی ایک کڑی ٹوٹے گی تولوگ دوسری کڑی سے چمٹ جائیں گے۔ سب سے پہلے ٹوٹنے والی کڑی اسلامی حکمرانی ہوگی اور آخری کڑی نماز ہوگی۔'

دور حاضر تک، اسلامی حکمرانی کا تصور سیاست و ریاست میں کسی نہ کسی درجے میں موجود رہا ہے۔ خلافت سے ملوکیت اور آمریت سے جمہوریت تک اسلام ریاستی معاملات سے یکسر بے دخل نہ کیا جاسکا۔ مگر سیکولرازم نے لبرل جمہوریت کا جز لاینفک بن کرمسلمان ریاستوں کی سیاست اور قانون پرتسلط جمالیا ہے۔ یوں مسلمان ریاستوں کی سیاست اور قوانین میں اسلام بیزار جماعتوں اور افراد کی خرابیاں عام ہیں۔ شریعت الٰہیہ نافرمانوں کا اختیاری معاملہ بن کر رہ گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں سے قانون سازوں کے ایوانوں تک اسلامی حکمرانی فطری مسائل اور رکاوٹوں کا سامنا کررہی ہے۔ جب تک جمہوریت سیکولرازم کے لزوم سے آزاد نہ ہوجائے، اسلامی حکمرانی کا خیال غیر فطری ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ سیکولرازم اورجمہوریت کا تعلق بھی صرف لادین معاشرے سے متعلق ہے، یہ کسی بھی مذہبی معاشرے میں بہرصورت غیر فطری ہے، یہ الگ مفصل موضوع ہے۔ سیکولرازم اورجمہوریت دونوں اصطلاحات ناقص اور محدود ہیں۔

جمہوریت کا پُرفریب نعرہ مسلمان ریاستوں پر ہی نہیں، بلکہ ہرطرزحکومت پر جواز کا کام دے رہا ہے۔ علامہ سفر الحوالی نے شاندارتصنیف 'سیکولرازم' میں وقیع حوالے دیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ''جمہوریت کی اصطلاح کے صحیح استعمال کی ہر کوشش مزید پیچیدگیوں کا سبب بنتی ہے۔ ڈیموکریٹک ممالک اور کمیونسٹ ممالک دونوں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ حقیقی جمہوریت ہیں اور ان کا فریق مخالف تناقضات اور عیوب سے بھرا ہوا ہے اور وہ جمہوریت کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہے۔ جمہوریت کی اصطلاح کو استعمال کرنا محض ایک دھوکے کا نعرہ ہے۔ کیونکہ بذات خود حریت و مساوات کے اصولوں میں کشمکش جاری رہتی ہے۔ جمہوریت قوم کی وحدت ختم کردیتی ہے۔ وہ اس کوٹکڑوں اور کینہ پرورپارٹیوں میں تقسیم کردیتی ہے۔ دو پارٹی نظام میں لوگ دونوں میں سے کسی ایک کو چننے پرمجبور ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کوئی بھی بہترین صلاحیت کی حامل نہیں ہوتی۔ کثیر پارٹی نظام میں جب قانون سازی کا مرحلہ آتا ہے، تو سیاست اتفاق و اتحاد سے عاری ہوتی ہے۔ سرمایہ دار طبقے کے تسلط کا خطرناک عیب جمہوری نظاموں کا لازمی جز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی عمل میں شہریوں کی عدم دلچسپی زیادہ ہے۔ اگر انتخابات سے علیحدہ ہونے والوں کو اُن لوگوں میں شامل کریں جنہوں نے معارض ووٹ ڈالے تو انتخابات میں کامیاب اکثریت حاصل کرنے والے، عوام کے مجموعے کے مقابلے میں ایک قلیل نسبت کے سوا کچھ نہ ہوں گے۔ یعنی اگر ہارنے والوں کے ووٹ اور ووٹ نہ ڈالنے والوں کو جمع کیا جائے، لبرل جمہوریت ہر جگہ ہارجائے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم پارلیمان کے خرچے کیوں اٹھائیں - آصف محمود

ہمارے سامنے جمہوری طریقے سے اسلامی حکمرانی کے لیے کوشش کی تین مثالیں، نمونے اور مرحلے ہیں۔ یہ نمونے ظاہر کرتے ہیں کہ لبرل جمہوریت انتخاب تک اسلامی جماعتوں کی معاون بنتی ہے۔ مگر جوں ہی اسلام قانون سازی کے لیے پیشرفت کرتا ہے، لبرل جمہوریت جست لگا کر مقابلے پر آ موجود ہوتی ہے، پردہ ہٹاتی ہے، سیکولرازم کا چہرہ نظر آتا ہے، جو جتاتا ہے کہ جس جمہوری رستے سے آپ منتخب ہوئے ہیں، اُس کی منزل اسلامی ریاست مقرر نہیں ہوئی۔

مصرکی مثال سامنے ہے۔ ملک کی سب سے منظّم جماعت اخوان المسلمون نے پہلے جمہوری انتخابات جیتے۔ جیسے ہی اخوان کی حکومت نے مسلمان اکثریت والے ملک میں اسلامی حکمرانی کے لیے پیشرفت کی، سیکولرازم ووٹرز کے یکساں اختیارات کا ڈھول پیٹتا ہوا مقابلے پر آگیا۔ شکست خوردہ حزب اختلاف کے لبرلز، بائیں بازو والے، سیکولر اورعیسائی قبطی مظاہرے کرنے لگے۔ یہ مظاہرے دیگرکئی مظاہر تک گئے، جنہوں نے فرعون جدید جنرل السیسی کے لیے غصب کی راہ آسان کردی۔ یوں رابعہ العدویہ پر جمہوریت کے فاتحین شہید کیے گئے۔ منتخب صدرمحمد مرسی اور دیگر بےشمار اخوان پھر زنداں کی نذر کردیے گئے۔ سیکولرازم نے یہ مقدمہ جیت لیا کہ جہاں لبرل جمہوریت ہوگی وہاں آزادی انتخاب اور یکساں حقوق کا مفہوم صرف مغربی ہوگا۔ اسلامی جماعت کے لیے اسلامی حکمرانی کا راستہ مغربی شاہراہ سے طے نہیں ہوسکتا۔

ترکی کا جمہوری نمونہ واضح ہے۔ یہ مصرکی اخوان سے بہت آگے کے مرحلے میں ہے۔ مگر یہاں بھی سیکولرازم کا دعوٰی جملہ حقوق محفوظ راہ میں حائل ہے۔ یہاں کئی بارمنتخب جمہوری حکومت کی بساط لپیٹی گئی۔ وزرائے اعظم عتاب کا نشانہ بنائے گئے۔ اب ایک بے مثال قیادت اور حکمت عملی اسلامی جماعت کے لیے حکمرانی کا امکان بن رہی ہے۔ مگر یہ واضح طور پر سیکولرازم کے نرغے میں ہے۔ سازشوں اور دشمنیوں نے ترکی کا محاصرہ کررکھا ہے۔ مغرب کا یہ مطالبہ اب عام ہے کہ ترک حکومت سیکولر اقدار کی پاسداری کرے، اسلامی حکمرانی کی کوشش سے باز رہے۔ غرض، ترکی ایک مسلم سیکولر تجربہ ہے۔ جبکہ یہ طے ہے کہ اسلامی حکمرانی کا مستقبل لبرل جمہوریت اور سیکولرازم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اتاترک کا بت گرانا ہوگا۔ یہ فی الحال انقرہ کے لیے مشکل ہے۔

تونس میں اسلامی جماعت کس طرح مسلمان ڈیموکریٹس کی جماعت بن گئی، یہ بھی
افسوسناک واقعہ ہے۔ النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی لیکچر Islam, Democracy and the Future of the Muslim World میں کہتے ہیں کہ ''تونس کا سیاسی تجربہ اسلام اور جمہوریت کے درمیان تعلق کی تکمیل کا نمونہ ہے۔ یہ مشرق وسطٰی میں استحکام، جمہوریت اور آزادی کا ضامن بن کر ابھرا ہے۔ یہ نمونہ ثابت کرتا ہے کہ مشرق وسطٰی میں جمہوریت ممکن ہے۔ یہ دہشتگردی کے خلاف بہترین ہتھیار ہوسکتا ہے۔ تونس کے لوگوں نے راستہ چن لیا ہے کہ انقلاب کوزندہ رکھنے کے لیے سیکولر اور اسلام پسند رہنماؤں میں تعاون قائم رکھا جائے گا۔'' تونس کا سیاسی اسلام بظاہر مغربی اقدارکے آگے سرنگوں نظر آرہا ہے۔ یہاں تک کہ النہضہ کی اسلامی شناخت پر احساس شرمندگی کا تاثر واضح ہے۔ یہ کسی طور اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ کھلا اعتراف شکست ہے۔ یہ واضح طور پر اسلامی حکمرانی سے دستبرداری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم پارلیمان کے خرچے کیوں اٹھائیں - آصف محمود

ان مذکورہ مثالوں میں اسلامی سیاست کا مستقبل جمہوریت اور سیکولرازم کی منظوری سے مشروط نظر آتا ہے۔ یہ بالکل صاف ہے کہ اسلامی حکمرانی کے بنیادی تقاضے جمہوریت اورسیکولرازم سے متصادم ہورہے ہیں۔ مسلمانوں کی مجلس شورٰی کی تشکیل اورجمہوری پارلیمان کا طریقہ انتخاب عین ضد ہیں۔ ایک جانب اللہ کی حاکمیت کُل ہے، دوسری جانب عوام کی نام نہاد حکمرانی ہے۔

جمہوریت کی عام تعریف یہ ہے کہ عوام کی حکومت عوام کے ذریعے عوام کے لیے ہے جبکہ اسلامی حکمرانی کی تعریف یہ ہے کہ اللہ کی حکمرانی اعلٰی ترین کرداروں کے ذریعے عوام کے لیے ہے۔

مذکورہ تینوں نمونوں میں واضح طور پر اسلامی حکمرانی کا امکان عوام کی حکمرانی سے متصادم ہے۔ مستزاد یہ کہ عوامی حکمرانی کا نعرہ پرفریب اور غیر فطری ہے۔ اس کے بینیفشری (فائدہ اٹھانے والے) صرف قوم پرست یا لادین گروہ ہیں۔ مظاہرسامنے ہیں۔ یورپ میں جمہوری قوم پرستی کی ایک وہشتناک تاریخ موجود ہے۔ جمہوریت کا نعرہ قوم پرستوں کو متحد و توانا کررہا ہے، جبکہ مسلمان سواد اعظم منتشر ہے۔ یہ نعرہ جمہوریت نظریہ کی وحدت پارہ پارہ کرنے کے لیے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں جہاں جو قوم نظریے پر متحد ہورہی ہے، جمہوری اور سیکولر اقدار کا فریب زائل ہورہا ہے۔ امریکہ، اسرائیل، ہندوستان اور اب یورپ میں جمہوریت اور سیکولرازم محض نعرے بن کر رہ گئے ہیں۔ بڑے منظر نامے میں دیکھا جائے تومذکورہ ممالک اسلامی حکمرانی کے خلاف بھی ایک نظریے پر متحد ہوچکے ہیں، فطری اتحادی بن چکے ہیں۔

صرف مسلمان ممالک ہیں، جو اسلامی حکمرانی کی وحدت پر یکجائی کے بجائے جمہوری و سیکولر اقدار کے ہاتھوں سیاسی و قانونی انحراف میں مبتلا ہیں۔ معذرتوں اور وضاحتوں کا سلسلہ ہے، جسے متحد مخالفین پیشگی مسترد کرچکے ہیں۔