محاذ آرائی کی سیاست اور میاں برادران کا اختلاف - یاسر محمود آرائیں

میاں نواز شریف اپنی نااہلی کے فیصلے کے بعد جس لائن پر چل رہے ہیں اور حالات کو جس طرح دانستہ محاذ آرائی کی جانب بڑھا رہے ہیں، اس صورتحال سے مسلم لیگ کے اندر بھی سنجیدہ اور سینئر رہنما بہت کبیدہ خاطر ہیں اور ان حالات کے بارے میں بہت سے اختلاف رکھنے والے رہنماؤں کو پہلے سے ہی اندازہ تھا شاید اسی لیے پانامہ فیصلے سے قبل چوہدری نثار نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اگر آپ کے خلاف فیصلہ آئے تو کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کیجیے گا اور ایسے افراد کے حصار سے باہر آکر جن کے غلط اور خوشامدانہ مشوروں سے نوبت یہاں تک آئی ہے، غور کیجیے گا۔

امید بھی یہی کی جارہی تھی کہ کارِ حکومت سے فراغت کے بعد شاید میاں صاحب اپنا محاسبہ کریں اور ان خوشامدیوں کے جھرمٹ سے باہر آکر ان بلنڈرز سے پہلو تہی کی کوشش کریں گے، جس کی بدولت وہ اداروں کے مقابل آکھڑے ہوئے ہیں۔ مگر انہوں نے جی ٹی روڈ کی ریلی اور اس کے بعد داتا دربار اور مزار اقبال پر اداروں کے خلاف اپنی جارحانہ تقریروں سے ثابت کردیا کہ ان کی سوچ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ ابھی تک انہی مشیروں کی رائے کو مقدم رکھ رہے ہیں، جن کے بارے میں ان کی جماعت کی سینئر لیڈر شپ نے بارہا اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ یہ سب باتیں پچھلے کافی عرصہ سے بند دروازوں کے پیچھے اور ڈھکے چھپے انداز سے تواتر سے کی جارہی تھی مگر میاں صاحب ان کو بالکل درخور اعتناء نہیں سمجھ رہے تھے اسی وجہ سے مجبوراً ان کے بھائی میاں شہباز شریف کو بھری بزم میں یہ سب باتیں کہنی پڑیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ بڑے میاں صاحب ان سب باتوں پر کیا عمل کرتے ہیں؟ پچھلے کچھ عرصہ سے وہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ماضی کی غلطیوں سے اور اداروں کی جانب سے حکومتی امور میں مداخلت سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اب وہ نظریاتی ہوچکے ہیں۔ مگر ان کے قول وفعل سے کہیں یہ نظر نہیں آرہا کہ انہوں نے طاقت کے مراکز کے درمیان توازن رکھنے اور اپنے قومی مفاد کو اقوام عالم کے دباؤ کے باوجود مقدم رکھنا سیکھ لیا ہے۔ ہاں مگر یہ بات تسلیم کرنے کی ہے کہ انہوں نے برسوں کے تجربات سے یہ ضرور سیکھ لیا ہے کہ "سہاگن وہی ہوگی جو پیا من بھائے" انہیں اس چیز کا ادراک ہوگیا کہ اس مملکت پر اسی کا راج ہوگا جس پر امریکا ہاتھ رکھے گا۔ اسی لیے موجودہ دور حکومت میں انہوں نے امریکا کی نظر میں اپنا امیج بہتر بنانے کے لیے من وعن امریکی پالیسی اختیار کرلی ہے اور اس وقت وہ اور ان کے منظور نظر وزراء کالعدم قرار دی گئی مذہبی جماعتوں کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی سے بالکل ہٹ کر راستہ اختیار کرتے نظر آرہے ہیں اور سول ملٹری ریلیشن شپ میں تناؤ کی اس وقت سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ حال ہی میں امریکا کے دورے کے دوران وزیر خارجہ اور وزیر اعظم کے حافظ سعید اور مسعود اظہر کو بوجھ قرار دینے اور ان سے جان چھڑانے کی کوشش کرنے کے بیانات دراصل اسی چیز کی کوشش ہے کہ امریکا کی نظر میں سول حکومت کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ قابل اعتبار اور فائدہ مند ثابت کیا جاسکے تاکہ امریکا اپنے اثرورسوخ کی بدولت مصائب کے بھنور میں پھنسی حکومتی کشتی کو کچھ نا کچھ ریلیف دلادے۔ اس بات سے قطع نظر کے حکومت اس کاوش میں کس قدر کامیاب ہوتی ہے یا نہیں، مگر یہاں پر لائق ذکر یہ بات ہے کہ دنیا بھر میں یہ پریکٹس چلی آرہی ہے کہ حکومتوں کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والے باغیوں کو بھی ہتھیار پھینک دینے کے بعد قومی دھارے میں شامل ہونے اور سیاسی میدان میں جدوجہد کی آزادی دی جاتی ہے۔

خود ہمارے ہاں بھی ماضی میں میاں صاحب نے ہی نواب خیر بخش مری کو خصوصی طیارہ بھیج کر کابل سے بلوایا تھا اور انہیں دو کروڑ روپے بھی عطا کیے تھے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں کراچی میں 260افراد کو زندہ جلانے میں ملوث ایک دہشت گرد کو تمام مقتدروں اور سیاسی جماعتوں کی رضامندی سے ناصرف سیاسی جماعت بنانے کی آزادی دی گئی بلکہ اس کی خاطر تمام تر درکار وسائل بھی فراہم کیے گئے۔ مگر اس کے برعکس کالعدم قرار دی گئی مذہبی جماعتیں اگر قومی دھارے میں شامل ہوکر شامل ہوکر اگر جمہوری عمل میں اپنا حصہ ڈالنا چاہ رہی ہیں تو ان کی راہ میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں اور ان کو ایک جائز آئینی اور قانونی حق سے محروم کرکے دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ متذکرہ کالعدم قرار دیے گئے افراد پر پاکستان کی کسی عدالت میں کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ اعلیٰ عدالتوں نے انہیں کسی بھی قسم کے الزام سے بری الذمہ قرار دیا ہوا ہے جب کہ اول الذکر افراد بہت سے مقدمات میں نامزد ہیں اور انہیں اب تک کسی عدالت نے کلیئر قرار نہیں دیا تو ایسے میں اگر خدانخواستہ خاکم بدہن کالعدم قرار دے کر جنہیں محض امریکی خواہش پر دیوار سے لگایا جارہا ہے اگر کل کو ٹی ٹی پی کی مانند کسی دشمن نے انہیں استعمال کرلیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟

میاں صاحب کو یہ بات جس قدر جلد سمجھ آجائے ان کے لیے اچھا ہوگا کہ امریکہ کبھی بھی کسی ہارے ہوئے گھوڑے اور پٹے ہوئے مہرے پر ہاتھ نہیں رکھتا اور ویسے بھی میاں صاحب چونکہ ایک سیاست دان ہیں اس لیے اگر وہ چاہیں بھی تو امریکی مفادات کا آلہ کار بننے میں جنرل پرویز مشرف کی حدوں تک نہیں پہنچ سکتے اس لیے انہیں اس کے انجام سے سبق سیکھنا چاہیے کہ جب امریکا کا یہ مہرہ اس کے کام کا نہیں رہا تھا، اس نے بلا تاخیر اس کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ ویسے بھی امریکہ بہادر کا ماضی کا وہ دبدبہ اور رعب داب باقی نہیں رہا اور وہ خود اس وقت افغانستان میں بری طرح پٹ چکا ہے اور اس کو اس دلدل سے جان چھڑانے کے لیے خود کسی سہارے کی تلاش ہے اور اسے یہ بھی ادراک ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں اس کی اس قسم کے کام میں مدد صرف ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہی کرسکتی ہے۔ اس واسطے انکل سام ہماری ناعاقبت اندیش لیڈر شپ کو سیاسی مقدمات سے ریلیف دلانے اور اپنا وزن سیاسی پلڑے میں ڈالنے کا جھانسہ دے کر ان سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لانے کی خاطر بیانات دلوا رہا ہے تاکہ بیک فٹ پر آکر ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ امریکہ کی خاطر اس دلدل میں خود کو ایک بار پھر گندا کرلے جس سے بڑی مشکل اور بے پناہ قربانیوں کے بعد ہماری خلاصی ہوئی ہے۔

اس طرح امریکا تو ایک تیر سے بیک وقت کئی شکار کررہا ہے مگر میاں صاحب اس وقت موقع پرستوں اور ابن الوقت مشیروں کے نرغے میں اس بری طرح گرفتار ہیں کہ وہ اس وقت نوشتہ دیوار پڑھنے سے بالکل قاصر ہیں۔ ان کے تمام ہمدرد اس وقت موجودہ صورتحال سے نہایت دل گرفتہ ہیں کہ کہیں میاں صاحب ایسے مصاحبین کی بدولت بھٹو صاحب جیسے انجام سے کہیں دوچار نہ ہوجائیں، شاید اسی لیے میاں شہباز شریف کو بھری بزم میں ببانگ دہل یہ سب کچھ کہنا پڑا۔ اب بھی وقت ہے کہ میاں صاحب اپنی پالیسی بدل لیں اور اپنی لڑائی کو کسی کے کندھوں کے بجائے اپنے بل لڑنے کی کوشش کریں اور ایک سیاسی مقدمے کو سیاست تک ہی محدود رکھیں اور اس کو اداروں کے درمیان محاذ آرائی تک نہ لے کر جائیں تو یہ اس ملک کے لیے جمہوریت کے لیے اور سب سے بڑھ کر خود ان کے لیے بے حد مفید ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com