الیکشن قوانین میں تبدیلی اور ختمِ نبوت کا مسئلہ : آخر ہوا کیا ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

جب سے نئے قانون کا مسودہ سامنے آیا اس پر مختلف اطراف سے کافی کچھ تنقید ہوئی ہے اور میری رائے جاننے کے لیے بھی کئی دوستوں نے رابطہ کیا۔ میں صبح سے بہت مصروف رہا۔ اب کچھ سطور قلم بند کررہا ہوں ۔

پہلی بات: مقننہ کی طرف کسی لغو کام کی نسبت نہیں کی جاسکتی۔
یہ تعبیرِ قانون کا بنیادی اصول ہے۔ قانون میں کوئی لفظ کیوں شامل کیا گیا؟ کیوں نکالا گیا؟ کیوں تبدیل کیا گیا؟ کچھ بھی بغیر کسی مقصد کے نہیں ہوتا۔ جب بھی عدالت کسی قانون کی تعبیر کی ذمہ داری ادا کرنے بیٹھتی ہے، یہ اس کے سامنے بنیادی مفروضہ ہوتا ہے۔ اس لیے اگر پہلے سے موجود قانون میں کسی لفظ کی تبدیلی کی جائے تو عدالت لازماً یہ دیکھتی ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد کیا تھا، تاکہ قانون کی ایسی تعبیر اختیار کی جائے جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مناسب ہو۔
یاد رکھیے!
تعبیرِ قانون کے معاملے عدالت کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ مقننہ کا ارادہ (intention of the legislature) معلوم کرکے اس کی روشنی میں قانون کا مفہوم متعین کرے۔ اس اصول کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قانون میں کسی لفظ، کسی حرف، بلکہ کسی شوشے کی تبدیلی کو بھی لغو، لایعنی، بغیر کسی مقصد کے، نہ قرار دیا جائے ۔

ختمِ نبوت کا حلفیہ بیان کیوں تبدیل کیا گیا؟
اس بنیادی اصول کی روشنی میں اب اس سوال پر غور کیجیےکہ ختمِ نبوت کے اقرار پر مشتمل بیانِ حلفی کے الفاظ میں کیا تبدیلی کی گئی؟ اس تبدیلی کا مقصد کیا تھا؟ اور کیا وہ مقصد حاصل ہوگیا؟
جیسا کہ کئی لوگوں نے واضح کیا ہے، پہلے ختمِ نبوت کا اقرار باقاعدہ بیانِ حلفی کے طور پر کیا جاتا تھا، جبکہ نئے قانون میں اسے محض ایک بیان بنادیا گیا ہے۔ قانونی لحاظ سے اس فرق کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ محض بیان اگر بعد میں جھوٹا ثابت ہوجائے تو اس کی بنیاد پر بیان دینے والے کے خلاف دستور کی دفعہ 62 کے تحت نااہلی کا مقدمہ قائم نہیں ہوسکتا۔ البتہ اگر بیانِ حلفی بعد میں جھوٹا ثابت ہوجائے تو ایسا شخص دستور کی دفعہ 62 کی رو سے نااہل ہوسکتا ہے۔
اس لیے یہ تو معلوم ہوا کہ جس کسی نے بھی یہ تبدیلی تجویز کی تو اس نے یہ بغیر کسی ارادے کے نہیں کی، اور ارادہ یقیناً اچھا نہیں تھا!
ارادہ اچھا نہ ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ نئے قانون کی دفعہ 60 اور دفعہ 110 کا موازنہ پچھلے قانون کی متعلقہ دفعات سے کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پرانے قانون کی متعلقہ دفعات میں جو دستاویزات مذکور تھے، ان میں ختمِ نبوت کا بیانِ حلفی بھی تھا، لیکن نئے قانون کی ان دفعات میں یہ بیانِ حلفی مذکور نہیں ہے۔ البتہ نامزدگی کے فارم میں ختمِ نبوت کا بیان، نہ کہ بیانِ حلفی، شامل کیا گیا ہے، جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا۔ سوال پھر یہ ہے کہ آخر بیانِ حلفی کو قانون کی دفعات سے نکالنے کا مقصد کیا تھا؟ یاد کیجیے کہ مقننہ کوئی بھی کام بغیر کسی مقصد کے نہیں کرتی!

اب رہا یہ سوال کہ جس کسی کے کہنے پر بھی قانون میں یہ تبدیلیاں کی گئیں؟ تو کیا یہ دونوں کام کرچکنے کے بعد اس کا مذموم مقصد پورا ہوگیا؟ اس کا جواب نفی میں ہے، والحمدللہ!
ان تبدیلیوں کے باوجود کہ نامزدگی فارم کے آخر میں مذکور ہے کہ فارم بھرنے والا شخص حلفاً تصدیق (solemnly affirm) کرتا ہے کہ فارم میں کی گئی تمام اندراجات اس کے علم اور یقین کی حد تک درست ہیں۔ اس بنا پر ختمِ نبوت کا وہ بیان بھی بیانِ حلفی بن جاتا ہے۔ دراصل فارم کے آخر میں یہ بیانِ حلفی پہلے ہی سے موجود تھا اور جس کسی نے بھی پہلی دو تبدیلیاں کیں، اس کی توجہ اس طرف نہیں گئی۔ میں تو اسے اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل سمجھتا ہوں کیونکہ یہ قوم کم از کم دو معاملات میں کسی قسم کی مداہنت کی قائل نہیں ہے: ختمِ نبوت اور توہینِ رسالت۔

یہ بھی پڑھیں:   ختم نبوتؐ پر پوری قوم ایک ہے - انصار عباسی

خلاصۂ بحث یہ نکلا کہ ختمِ نبوت کے متعلق بیانِ حلفی کو محض بیان بنا دینے کی کوشش کا مقصد یہ تھا کہ اس کے جھوٹا ثابت ہونے پر کسی کو نااہل نہ قرار دیا جاسکے لیکن الحمدللہ یہ بیان اب بھی بیانِ حلفی ہی ہے۔

حکومت کے مدافعین اگر یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کا یہ مقصد ہرگز نہیں تھا تو ان پر لازم ہے کہ وہ ان دو تبدیلیوں کی کوئی معقول وجہ بیان کر دیں۔ بارِثبوت حکومت کے مدافعین پر ہے، نہ کہ اس کے ناقدین پر۔ کسی معقول جواز کی عدم موجودگی میں ان تبدیلیوں کا واحد مقصد قادیانی لابی کو خوش کرنا ہی تھا، اور کچھ نہیں۔

تاہم میرے نزدیک اس قانون کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے۔ اگر حکومت کے مدافعین اور عذر خواہ ان دو تبدیلیوں کا کوئی معقول جواز تراش بھی لیں، تو اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ جو تیسری بڑی تبدیلی اس قانون نے کی ہے، وہ بہت خطرناک ہے اور وہ قطعی ثبوت ہے اس بات کا کہ ان تبدیلیوں کے ذریعے حکومت نے قادیانی لابی کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس قانون کے ذریعے جو سب سے خطرناک تبدیلی کی گئی ہے، اور جو قانون بنانے والوں کی بدنیتی کا قطعی ثبوت ہے، وہ بیانِ حلفی کے الفاظ میں تبدیلی نہیں بلکہ ایک اور امر ہے جو اس طریقے سے سرانجام دیا گیا ہے کہ اچھے اچھوں کو اس کی خبر ہی نہیں ہوسکی ہے.

نئے قانون کی دفعہ 241 کے ذریعے کئی پچھلے قوانین کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ انھی قوانین میں ایک قانون جنرل پرویز مشرف کا جاری کردی وہ صدارتی آرڈر ہے جس کے ذریعے 2002ء کے الیکشن کے لیے قواعد وضوابط متعین کیے گئے تھے۔ اس آرڈر کو بعد میں سترھویں دستوری ترمیم کے ذریعے مستقل قانون کی حیثیت مل گئی تھی۔

2002ء سے قبل الیکشن جداگانہ طرزِ انتخاب پر ہوتے تھے ، یعنی مسلمان امیدوار کو مسلمان ووٹر ہی ووٹ دے سکتا تھا اور غیرمسلم امیدواروں کو غیرمسلم ووٹر ووٹ دیتے تھے۔ 2002ء میں مخلوط طرزِ انتخاب رائج کیا گیا جس میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں قادیانی ووٹر اب ووٹرلسٹ میں اندراج کے ذریعے خود مسلمان نہ کہلوانا شروع کردیں۔ اس خدشے کے پیشِ نظر جنرل مشرف کو اس صدارتی آرڈر میں دفعہ 7 بی اور دفعہ 7 سی کا اضافہ کرنا پڑا۔

دفعہ 7 بی میں یہ قرار دیا گیا تھا کہ مخلوط طرزِ انتخاب کے باوجود قادیانیوں اور لاہوریوں کی قانونی حیثیت غیرمسلم ہی کی رہے گی، جیسا کہ دستورِ پاکستان میں طے پایا ہے ۔
دفعہ 7 سی میں یہ قرار دیا گیا کہ اگر کسی ووٹر پر کسی کو اعتراض ہو کہ اسے مسلمان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ درحقیقت وہ قادیانی یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا ہے تو اس ووٹر پر لازم ہوگا کہ وہ مجاز اتھارٹی کے سامنے ختمِ نبوت پر ایمان کے متعلق اس طرح کا بیانِ حلفی جمع کرائے جیسے مسلمان کرتے ہیں۔ مزید یہ قرار دیا گیا کہ ایسا بیانِ حلفی جمع کرانے سے انکار کی صورت میں اسے غیرمسلم متصور کیا جائے گا اور اس کا نام مسلمانوں کی ووٹرلسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ یہ بھی قرار دیا گیا کہ اگر ایسا ووٹر مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش ہی نہ ہو ، باوجود اس کے کہ اسے باقاعدہ نوٹس مل چکا ہو، تو ایسی صورت میں اس کے خلاف قضاء علی الغائب (ex parte decision) کے اصول پر فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ پلٹ کر پھرحملہ کریں گے - محمد عامر خاکوانی

ذرا سوچیے!
پرویز مشرف جیسے بدبخت آمر سے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ قانون جاری کروایا تھا. پھر یہ بھی سوچیے کہ مسلم لیگ جیسی پارٹی اور اس کے مذہبی اتحادیوں نے اس قانون کو منسوخ کروایا ! عبرت کی جا ہے، واللہ !

بہرحال غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب نئے قانون کی دفعہ 241 کی ذیلی دفعہ جی کے ذریعے 2002ء کے اس قانون کو منسوخ کیا گیا تو اب قانونی حیثیت کیا ہے؟
2002ء کے قانون کی دفعہ 7 (ذیلی دفعہ بی) کی منسوخی کے باوجود قادیانیوں اور لاہوری گروپ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی حیثیت بدستور غیرمسلم ہی کی رہے گی کیونکہ ان کی یہ حیثیت دستور نے متعین کی ہے اور جب تک دستور میں ترمیم کرکے اس قانونی حیثیت کو تبدیل نہ کیا جائے کسی بھی قانون میں تبدیلی یا نئے قانون کی آمد کے بعد بھی ان کی حیثیت بدستور وہی رہے گی۔ البتہ اس طرح کے قانون سے قانون بنانے والوں کی نیت تو بہرحال معلوم ہوجاتی ہے.

سب سے خطرناک ترین حقیقت یہ ہے کہ 2002ء کے قانون کی دفعہ 7 (ذیلی دفعہ سی) کی منسوخی کے بعد اب قادیانی یا لاہوری گروپ کے کسی ووٹر کو مسلمانوں کی ووٹرلسٹ سے نکالنے کا کوئی قانونی طریقہ باقی نہیں رہا۔ اسی سے یہ بات قطعی طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ یہ تبدیلیاں کس کے کہنے پر، یا کس کو خوش کرنے کے لیے، کی گئی ہیں! کیا اب بھی کسی ثبوت کی ضرورت باقی ہے ؟

پس چہ باید کرد ؟
اب آئندہ کا لائحۂ عمل کیا ہو؟ اس پر، ان شاء اللہ، کل تفصیل سے بحث کریں گے۔ اس وقت اتنا ہی نوٹ کیجیے کہ حکومت اور اس کے اتحادیوں کے پاس اپنی اس سنگین غلطی کی تلافی کی ایک ہی صورت ہے : فوراً سے پیش تر نیا قانونی مسودہ پارلیمان سے منظور کرواکر ان تبدیلیوں کو پھر سے کالعدم کیا جائے۔

پاکستانی قوم نے ختمِ نبوت کے معاملے میں ہمیشہ جس ایمانی حمیت کا مظاہرہ کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ ایسا بہت جلد ہوجائے گا، ان شاء اللہ ۔ و ماذلک علی اللہ بعزیز

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!