ریاست کے اندر ریاست - فیاض راجہ

تو جناب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے نویلے وزیر داخلہ صاحب!
آج جب اپنی انا کو ٹھیس پہنچی، آج جب اپنی کھال پر اس گلے سڑے نظام نے چٹکی لی، آج جب بے بسی اپنی آخری حدوں کو چھونے لگی تو آپ کو پتہ چلا کہ ریاست کے اندر ریاست بن چکی ہے اور آپ اس ریاست کے اندر بنی ریاست کو نہیں چلنے دیں گے۔

نہیں حضور!
ریاست چلے نہ چلے، ریاست کے اندر بنی یہ ریاست ضرور چلے گی، اور آپ استعفی بھی نہیں دیں گے کیونکہ ریاست کے اندر بنی اس ریاست کے فوائد اٹھانے والے آپ ہیں، آپ کے بھائی بند ہیں۔ آپ کی کلاس ہے، وہ چاہے کالے بوٹ والوں کی ہو یا کالے کوٹ والوں کی۔ کالی شیروانی والوں کی ہو یا کالے گاؤن پہننے والوں کی۔ قلم کی کالی سیاہی سے صفحے کالے کرنے والوں کی ہو یا کالے کیمرے کی آڑ میں چھپ کر کالے دھندے کرنے والوں کی۔

آپ سب کی کھال سانجھی ہے جو کبھی کبھار عشرے دو عشرے بعد باہمی مفادات کے ٹکراؤ کے نتیجے میں کسی اپنے ہی کے ہاتھ آجاتی ہے تو آپ اپنی کھال بچانے کے لیے عوام کے غم میں گھلنے کا ناٹک رچا کر اپنا الو سیدھا کرلیتے ہیں۔ اپنا الو سیدھا کرنے کا فارمولہ اس ملک کو جنرل ضیاء الحق نے اسی کی دہائی میں دیا تھا۔ جنرل ضیاء نے اسی کی دہائی میں نظریاتی سیاست کو دفن کر کے غیر جماعتی انتخابات کی صورت موقع پرستی کا جو بیج بویا تھا وہ آج تناور درخت بن چکا ہے، اور آپ سب اور ارد گرد کے کئی دوسرے اس کا پھل۔

اے آپا نثار فاطمہ کے ہونہار فرزند!
تمھیں جنرل ضیا یاد ہے نا!
ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کہ تم اگر آپا نثار فاطمہ کے فرزند نہ ہوتے تو کیا اس مقام تک پہنچ سکتے تھے اور اگر آپا نثار فاطمہ جنرل ضیاءالحق کا ساتھ نہ دیتیں تو کیا وہ اس مقام تک پہنچ سکتی تھیں، جہاں وہ ایک آمر کی مدد سے پہنچ کر تمھیں اس مقام تک پہنچا سکیں۔

علم کیمیا کے طالب علم خوب جانتے ہیں کہ عمل انگیز کسی بھی کیمیائی عمل میں تیزی پیدا کر دیتا ہے۔ ہم سب کی زندگیوں میں کبھی نہ کبھی، کوئی نہ کوئی جنرل ضیاء الحق موجود ہوتا ہے جو ہمارے لیے عمل انگیز کا کام کرتا ہے اور ہمیں دوسروں سے ذرا جلدی اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں اپنے محنت سے پہنچنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔

ہم سب پوری زندگی کسی نہ کسی کا حق مارتے رہتے ہیں۔ دوسروں کی لاشوں پر چڑھ کر اپنی کامیابیوں کے مینار بناتے ہیں اور پھر ساٹھ سال کی عمر پوری ہونے کے بعد جب اصلی منزل نظر آنا شروع ہوتی ہے تو اپنی گلی، اپنے محلے یا اپنے گاؤں میں مسجد بنا کر اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور پھر اس مسجد کی انتظامی کمیٹی میں بیٹھ کر دوسروں کو حرام نہ کمانے، اپنی پوزیشن کا غلط استعمال نہ کرنے، کسی کا حق نہ مارنے، اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کرنے کے بھاشن دینے لگتے ہیں، مگر یہ جانتے نہیں کہ جن کو ہم مشورے دے رہے ہیں ابھی ان کی عمر "ساٹھ" کو نہں پہنچی۔ ابھی انہیں وہی مزہ آرہا ہے جو کبھی ہمیں آیا کرتا تھا۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ کبھی کسی کے تجربے سے نہیں بلکہ اپنے تجربے سے سیکھنے والے کیوں پائے جاتے ہیں اور تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔

اے آپا نثار فاطمہ کے ہونہار فرزند!
سن! میں تمھیں بتاتا ہوں کہ ریاست کے اندر ریاست تو جانے کب کی بنی ہوئی ہے۔ یہ اسی دن بن گئی تھی جب میں اپنے ابا کے ساتھ راولپنڈی کے ایک فیڈرل اسکول میں داخلے کے لیے گیا تھا تو انہیں کہا گیا کہ وہ کسی فوجی آفیسر کم از کم بریگیڈئیر کا عہدہ رکھنے والے کی سفارش لائیں تو مجھے اسکول میں داخلہ مل جائے گا۔
ریاست کہتی ہے کہ آئین پاکستان کے تحت تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اگر میرٹ پر پورا اترتا ہے تو اس ہر صورت داخلہ ملنا چاہیے مگر سسٹم کہتا ہے کہ سفارش لاؤ۔ حضور ! یہ ہوتی ہے ریاست کے اندر ریاست۔ کیا آپ اس سے ٹکرا سکتے ہیں۔

ریاست کے اندر ریاست اسی دن بن گئی تھی جب میں اپنے ابا کو لے کراسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پہنچا تھا تو شدید بیماری کےباوجود انھیں اسپتال میں بستر نہیں ملا۔ مجھے کہا گیا کہ کسی وزیر کی سفارش لائیں تو بستر چھوڑ علیحدہ کمرہ بھی مل جائے گا۔
ریاست کہتی ہے کہ آئین پاکستان کے تحت صحت، مناسب نگہداشت اور بیماری کے علاج کی سہولت ہر شہری کا حق ہے، مگر سسٹم کہتا ہے کہ سفارش لاؤ۔ حضور ! یہ ہوتی ہے ریاست کے اندر ریاست۔ کیا آپ اس ریاست سے ٹکر لے سکتے ہیں۔

ریاست کے اندر ریاست تو اسی دن بن گئی تھی جب ایک جرنیل، جب ایک جج، جب ایک وزیر، جب ایک وکیل، جب ایک پولیس آفیسر اور جب ایک صحافی کھلے عام ٹریفک سگنل توڑ کر نکل گئے تھے، اور چوک میں کھڑا ٹریفک اہلکار ان کا بال بھی بیکا نہیں کرسکا تھا۔ مگر ایک عام شہری، ایک مزدور، ایک کسان اور ایک استاد پرامن مظاہرہ کرنے پر بھی دھر لیے گئے تھے۔

عوامی تندوروں کی جگہ سستے تندور، عام پولیس کی جگہ موٹر وے پولیس، عام اسکولوں کی جگہ دانش اسکول، عام عدالتوں کی جگہ فوجی عدالتیں، آئین سازی کی جگہ ایگزیکٹو آرڈر (شاہی فرمان)، وفاقی کابینہ کی جگہ کچن کابینہ، قومی اسمبلی کی جگہ رائے ونڈ، زرداری ہاؤس اور بنی گالہ، کیا ریاست کے اندر بنی کئی ریاستیں نہیں ہیں؟

کیا ذوالفقار بھٹو کے لیے ایوب خان، نواز شریف کے لیے ضیاء الحق اور عمران خان کے لیے پرویزمشرف ریاست کے اندر ریاست نہیں تھا۔ کیا ریٹائر ججوں اور جرنیلوں، کیا حاضر سروس صحافیوں اور وکیلوں نے آمروں سے ذاتی فائدے نہیں اٹھائے۔ کیا ہم سب ریاست کے اندر موجود ریاست سے فائدہ اٹھانے والے نہیں؟

پارٹ ٹائم اور پیشہ ور اخباری مالکان اور ٹی وی چینلز کے سیٹھوں کو تو رہنے دیجیے، کیا 40 کی دہائی سے نظریاتی صحافت کرنے والے اخبارات کے مالکان اور ان کے رشتہ داروں نے فوجی آمروں کی بنائی گئی کابینہ میں وزارتوں کے مزے نہیں لوٹے؟

خواجہ آصف سچ کہتے ہیں کہ پہلے گھر کی صفائی ضروری ہے۔ احسن اقبال بھی سچ کہتے ہیں کہ ریاست کے اندر ریاست بن چکی، مگر گھر کی صفائی کرنے سے پہلے اپنے گھر کا دروازہ تو کھول لیجیے کہ شاید آپا نثار فاطمہ مرحومہ اور خواجہ صفدر مرحوم کی تصاویر پر جمی وقت کی موٹی تہہ اتر جائے اور کارنس پر سجے ان فریموں میں ریاست کے اندر بنی ریاست پر کاری ضرب پڑ سکے۔