معمارانِ قوم اور ہماری ذمہ داریاں - عبدالصبور شاکرؔ

بابا جی نے متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھا اور پھر میرے قریب خالی جگہ دیکھ کر بیٹھ گئے۔ ان کی نگاہوں میں شکایات نوحے کر ر ہی تھیں۔ آنکھیں شکووں کی رم جھم برسا رہی تھیں۔ مجھے خواہ مخواہ ان پر ترس آ رہا تھا۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور پوچھ بیٹھا’’ چچا جان! آپ کو تھانے میں کیا کام آن پڑا ہے جو اس عمر میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں؟‘‘ بابا جی نے جیب سے رومال نکالا، آنکھوں سے آنسو پونچھے اور پھر گویا ہوئے: ’’بیٹا! میرا ایک فرزند سکول ٹیچر ہے۔ آج صبح اس کے کسی شاگرد نے محکمہ تعلیم کو غلط اطلاع فراہم کی کہ ہمارا ٹیچر ہمارے اوپر تشدد کرتا ہے۔ چناں چہ آج دوپہر کے وقت پولیس میرے بیٹے کو اٹھا کر یہاں لے آئی ہے۔ اسی سلسلے میں یہاں آیا ہوا ہوں۔‘‘

بابا جی کی بات سن کر میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے۔ کیا ہم اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جن کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا ’’بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘ جن کے خلیفہ چہارم نے فرمایا تھا ’’اگر کوئی شخص مجھے ایک لفظ بھی پڑھا دے تو میں اس کا غلام ہوں، جو چاہے تو مجھے بیچ دے۔‘‘ جس قوم کے بادشاہ اپنے بیٹوں سے محض اس لیے ناراض ہو جائیں کہ انہوں نے اپنے استاذ کے پاؤں اپنے ہاتھوں سے خود کیوں نہیں دھوئے؟ لیکن جب اپنی قوم کی موجودہ صورت حال دیکھتا ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ جو شخص ہمیں زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک لے جانے کی تگ و دو میں ہے اسے جھوٹے مقدمات میں پھنسا دیا جائے۔ جس کا ادب کرنے کا حکم حکیم لقمان اپنے بیٹے کو دیں، اسے ڈنڈوں سے پیٹا جائے۔ جسے نان جویں کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنا پڑے، جسے سکول میں لیٹ ہوجانے پر بھاری جرمانے ادا کرنے پڑیں، جسے اپنے خاندان کے علاوہ کسی فوتگی میں شرکت کرنے کے لیے چھٹی تک نہ ملے، جو ساری دنیا کے بچے پڑھا دے لیکن اس کے بچوں کے لیے مخصوص 20 فیصد کوٹے تک سے اسے محروم کر دیا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو علم کی اس ناقدری پر مشیّت ایزدی ہم سے روٹھ جائے اور ہم جو پہلے ہی تنزلی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرے ہوئے ہیں مزید پستیوں کی جانب لڑھک جائیں۔

ہر سال 5 اکتوبر کو یونیسکو کی جانب سے ’’ٹیچرز سلام ڈے‘‘ منایا جاتا ہے۔ جس میں یونیسکو کی جانب سے منظور شدہ ان باتوں کا عزم کیا جاتا ہے کہ اساتذہ کو تحفظ دینے اور کارکردگی کو مؤثر بنانے کے لیے پالیسی بنائی جائے گی، انہیں ایک قانونی ڈھانچہ فراہم کیا جائے گا۔اہل اور شوقین لوگوں کو معلم بھرتی کیا جائے گااور انہیں تعلیمی ساز و سامان بھی مہیا کیا جائے گا۔ انہیں تربیت فراہم کی جائے گی اور ان کے کیریئر کی ترقی کے لیے باضابطہ پروگرام تیار کیا جائے گا۔ان کی رہنمائی کی جائے گی، انہیں بااختیار بنایا جائے گا اور انہیں سفری سہولیات، صحت، معیشت اور معاشرتی مراعات نیز پینشن وغیرہ بھی دی جائیں گی۔

لیکن اصل صورت حال اس سے مختلف ہے۔ میرے خیال میں اس اختلاف و تضاد کی وجہ حکومت اور اساتذہ کرام دونوں کا اپنے اپنے فرائض سے غافل ہونا ہے۔ اساتذہ کرام کو چاہیے کہ وہ اپنے وقار، عزت نفس، مقام و مرتبہ اور وقعت و توقیر میں اضافہ کریں۔ مادیت پرستی سے اجتناب کرتے ہوئے درس و تدریس کو اپنا شعار بنائیں۔ اسلاف کی زندگیوں سے راہنمائی حاصل کریں۔ اپنے شاگردوں کو حقیقی بچوں جتنا مقام دیں۔ ملکی و ملّی مفادات کا نہ صرف تحفظ کریں بلکہ بچوں کو بھی اس بات کی ترغیب دیں تاکہ وہ اچھے شہری بن سکیں۔ ان کی بہترین تربیت کریں۔ اپنی ملازمت کو بجائے نوکری کے، مقدس پیشہ کا درجہ دیں۔ اور اپنے فرائض سے آگاہی حاصل کریں۔

اسی طرح حکومت کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کرام سے اضافی ذمہ داریوں کا بوجھ ختم کر دے مثلاً انسداد پولیو مہم، الیکشن اور مردم شماری میں اساتذہ کرام کی تقرری وغیرہ۔ان کے ادب و آداب کا خیال رکھا جائے۔ ایسے قوانین کا اجراء نہ کیا جائے جس سے ان کی عزت نفس اور رعب و دبدبہ پر حرف آئے۔ بلکہ ان کے معاشی، معاشرتی اور ملی مقام کو بلند کرنے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔ انہیں معاشی تفکرات و مسائل سے آزاد کر دیا جائے۔ ان کے بچوں اور دیگر اہل خانہ کو معاشرے میں بلند مقام عطا کیا جائے۔ صحت، ٹرانسپورٹ، حکومتی اداروں، پبلک مقامات اور دیگر جگہوں پر انہیں نمایاں مرتبہ عطا کیا جائے اور ان کا خیال رکھا جائے۔

گورنمنٹ سیکٹر کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کے اساتذہ کو بھی اپنی اولاد سمجھا جائے اور ان کے لیے بھی کچھ سہولیات فراہم کرنے کا بند و بست کیا جائے۔خاص طور پر مذہبی معلمین کو بھی ریلیف دیا جائے اور انہیں بھی عصری تعلیم دینے والے اساتذہ کے ہم پلہ قرار دیا جائے۔ نیز پرائیویٹ اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے بھی کوئی قانون سازی کی جائے۔

جب ہمارے علم کا ڈنکا پورے عالم میں بجتا تھا اس وقت ایک ایک استاذ کی تنخواہ پانچ پانچ ہزار اشرفیاں ہوا کرتی تھی اور بڑے اہل علم کو سونے چاندی میں تولا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ یونیسکو کے منشور کے مطابق اساتذہ کو تربیت فراہم کی جائے۔ کیوں کہ ایک استاذ خلَّاقِ عالَم کی جانب سے انمول تحفہ ہے۔ یہ اخلاقی و تمدنی اور مذہبی و ثقافتی ترقی کی کلید ہوا کرتا ہے۔ ترقی کے سوتے اسی کے کرم سے پھوٹتے ہیں۔ ایک استاذ مینارہ نور اور روشنی کا چراغ ہوتاہے۔ اور یہی وہ شخصیت ہے جو بیک وقت ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ یاد رہے اگر ایک استاذ کی صحیح تربیت ہو گئی تو گویا پورے معاشرے کو سدھا لیا گیا، ورنہ ایک گمراہ ’’ٹرینر‘‘ پوری قوم کی لٹیا ڈبو دیتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */