ایک مسجد کی آپ بیتی - اسماعیل احمد

آپ مجھے ہر گز وہ والی مسجد نہ سمجھیے گا جو اس دنیا میں خدا کا پہلا گھر تھا، جِس کی تعمیر ایک خدا پرست اور حلم والے بندے اور اس کے فرزند نے دنیا کےایک بے آب و گیاہ گوشے میں کی تھی اور جو مرجعِ خلائق ہے۔ کئی کروڑ فرزندانِ توحید جس کی طرف رخ کر کے خدا کی عبادت بجا لاتے ہیں۔

آپ مجھے وہ مسجد بھی نہ سمجھیے گاجو مسلمانوں کا قبلہ اول، حضرت محمدؐ کے سفرِ معراج کا پہلا پڑاؤ تھی۔ جو مسلمانوں، عیسائیوں، یہودیوں کے لیے یکساں مقدس اور متبرک ہے۔ جس کی تعمیر مختلف ادوار میں خدا کے برگزیدہ پیغمبروں، موسیٰٰؑ، سلیمانؑ اور رسول ؐ کے پیارے ساتھی عمر فاروقؓ نے فرمائی۔

آپ مجھے وہ مسجد بھی نہ سمجھیے گا جو ہجرت ِمدینہ کے بعداس کائنات کی سب سے محترم ہستی ﷺنے سب سے پہلے تعمیر فرمائی۔ میں وہ مسجد بھی نہیں ہوں جو دلوں کا کعبہ ہے۔ لاکھوں کروڑوں عشاق جس کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستے ہیں۔ جسے یہ شرف حاصل ہے کہ رسولِ خدا، میرے آقاﷺ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے میری تعمیر فرمائی اور جہاں ساری دنیا اور اس کے مالک کے پیارے ﷺکا روضہ ہے۔

میں ان مسجدوں میں سے کوئی مسجد نہیں، میں تو ایک عام سی مسجد ہوں۔ آپ کے شہروں، قصبوں، دیہاتوں، پنڈوں، ڈھوکوں، چوراہوں، گلیوں، جھوکوں کی ایک عام سی مسجد۔ میرا نام مختلف نسبتوں سے بہت اعلیٰ اور اشرف ہوتا ہے۔ کہیں مسجدِصدیقِ اکبر، کہیں مسجدِ بلال، کبھی مسجدغوثیہ، کبھی مسجد ذوالنورین اور اسی طرح کی عظیم ہستیوں کے پاک ناموں سے مجھے منسوب کیا جاتا ہے۔

لیکن میں تو وہ مسجد بھی نہیں ہوں واصف علی واصفؒ نےاپنی ایک کتاب کا انتساب جس کے نام کیا تھا۔ ایک گمنام گاؤں کی مسجد جس میں لاؤڈ سپیکر نہ ہو۔ میری تعمیر مخیّر حضرات اور صاحبِ ثروت لوگ کرتے ہیں۔بعض اوقات میری بنیاد جس زمین پر رکھی جاتی ہے وہ زمین قبضہ کی ہوئی زمین ہوتی ہے۔کسی حقدار کا حق مار کر یا حکومتی زمینوں پر قبضے کر کے میری تعمیر کا آغاز کیا جاتاہے۔ چوری کی بجلی اور پانی میرے اندر استعمال کیا جاتا ہے۔ مجھے اللہ کا ناملے کر بنا یا تو جاتا ہے لیکن میری تعمیر میں ہر وہ کام کیا جاتا ہے جو اللہ کے نام کے شایانِ شان نہیں ہوتا اور جس کے کرنے سے خود اللہ نے منع کیا ہوا ہے۔ مجھے تعمیر کرنے والوں کا سارازور میری ظاہر ی سج دھج پر ہوتا ہے۔ انتہائی قیمتی پتھر میری تعمیر کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ دیواروں پر مہنگی منقش ٹائلز استعمال کی جاتی ہیں، رنگ برنگ کے بیل بوٹے نکالے جاتے ہیں جو بسا اوقات نمازیوں کی اپنے رب کے حضور یکسوئی میں خلل انداز ہوتے ہیں، بے جا زینت و گلکاریاں میرے اندر کی جاتی ہیں جس کا مقصد اپنی تعمیر کردہ مسجد کی دوسرے علاقوں کی مساجد پر برتری ثابت کرنا ہوتا ہے۔میرے مناروں اور گنبدوں کو آس پڑوس میں سب سے اونچا کرنے کے لیے سارے علاقے کا چندہ ان پر صرف کر دیا جاتا ہے لیکن میں جس علاقے میں واقع ہوتی ہوں وہاں نہ جانے کتنے بچے بھوکے سوتے رہتے ہیں، کتنے غریب قرض کے بوجھ تلے دبے رہتےہیں، عام زندگی کی کم ترین ضروریات روٹی، کپڑے اور مکان کو ترستے رہتے ہیں اور مجھے تعمیر کرنے والے بس میرا مینار اور گنبد ہی اونچا کرتے رہتے ہیں۔عمدہ سے عمدہ قالین، عمدہ سے عمدہ فانوسوں سے مجھے مزیّن کیا جاتا ہے۔ اندر آنے والے میری سج دھج دیکھ کر عش عش کر اٹھتے ہیں۔ پر میرے اندر اب آتا بھی تو کوئی نہیں۔

سچے لوگوں کے زمانوں میں مسجدیں سادہ ہوتی تھیں مگر ان کے اندر نمازیوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی تھی۔ اب میری تعمیر و تزئین تو بہت عالیشان ہے لیکن میرے اندر کوئی نہیں آتا۔بس عید یا جمعہ کے دن ہوتے ہیں جب میں آباد ہوتی ہوں لیکن میرے اندر آنے والے اب پہلے کی طرح برابری کی سطح پر نہیں آتے ۔ وہ اب اپنا نام، عہدہ، مرتبہ، جاہ ہ حشمت ساتھ لے کر آتے ہیں۔ نماز کی اوقات کے علاوہ باقی سارا دن اور رات مجھ پر تالا لگا رہتا ہے۔

کبھی میں مخلوق کا مرکز ہوا کرتی تھی۔ جسے کہیں ٹھکانہ نہ ملتا وہ میرے سینے پہ سر رکھ کر سو جایا کرتا۔ بس میں ایک جائے قرار تھی ہر پریشان حال کے لیے۔ لیکن اب سارا دن تالا پڑا رہتا ہے۔ مجھے بنانے والوں نے میرے اندر اتنی قیمتی چیزیں اکٹھی کردی ہیں کہ اب ان کی چوری کے خوف سے وہ مجھے بہت پردے میں رکھتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کی نظروں سے بچا کر۔

مگر میرے اندر موجود ساری قیمتی چیزیں نکال دو اور مجھے اللہ کےبندے واپس کر دو۔ کبھی میں ایسی آباد ہوا کرتی تھی کہ ایک اسلام ہی کیا ہر مذہب کے ماننے والوں کو میرے اندر سکون ملتا تھا۔ اب زمانہ بدل گیا ہے اب تو سارے مسلمان بھی میرے اندر آنے سے کتراتے ہیں۔ میں جس فرقے یا مسلک سے منسوب ہوتی ہوں صرف اس سے تعلق رکھنے والے میرے اندر آتے ہیں اور ان کا وقت بھی میرے اندر زیادہ تر خدا کی عبادت اور مخلوق سے محبت میں نہیں بلکہ اپنے علاوہ ہر دوسرے مسلمان کو کافر، مشرک، منافق ثابت کرنے میں صرف ہوتا ہے۔ میں تو اللہ کے گھر کی ایک شاخ تھی، بیت اللہ کی بیٹی تھی، اللہ کے بندوں کا جائے سکون، جائے عافیت تھی لیکن اب میر ا نیا منظر کچھ اس قسم کا ہے۔ انتہائی عالیشان محل کی طرح کی ایک عمارت جس کے اندر قیمتی ساز وسامان ہے، کافر کافر کی صدائیں ہیں اور باہر درواز ے پر تالا ہے۔

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.