انتخابی اصلاحات بل اور اس کی اخلاقی حیثیت - یاسر محمود آرائیں

آخر کار قومی اسمبلی نے بھی انتخابی اصلاحات بل کی منظوری دے دی جس کو صدر ممنون حسین کے دستخط کے بعد فوری نافذ بھی کردیا گیا ہے۔اس طرح نواز شریف کی سیاست میں واپسی کے دوران جو قانونی رکاوٹ حائل تھی، وہ دور ہوگئی ہے۔ اب کم از کم وہ پارٹی صدارت سنبھالنے کے اہل ہوچکے ہیں اور اس طرح وہ اپنی پارٹی پر ناصرف گرفت برقرار رکھ سکیں گے بلکہ ان کی نااہلی اور سیاست سے دوری کے باعث پارٹی جن اختلافات اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہی تھی، اب ایک بار پھر ان کی قیادت میں مجتمع ہوجائے گی۔اس بل کی قانونی اور آئینی حیثیت کے بارے میں تو کوئی قانون دان ہی درست رائے دے سکتا ہے اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس بل کو تحریک انصاف اور شیخ رشید نے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

بلاشبہ یہ دن مسلم لیگ ن کے لیے ایک تاریخی دن ہے اور اس بل کی منظوری سے مسلم لیگ کی جیت ہوئی ہے مگر یہ دن پاکستان کے آئین، جمہوریت اور عوام کی بالادستی کے لیے ایک سیاہ اور تاریک دن ہے۔اس بل کی منظوری نے مسلم لیگ کو تو ضرور تقویت پہنچائی ہے مگر اس کی صورت میں پاکستان کی سلامتی کو سنجیدہ اور گہرے خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

بہت سے دوستوں کو اس بات سے شاید اعتراض ہو کیونکہ ان کا استدلال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن نے ایک آئینی طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنی راہ کے کانٹے چننے کی کوشش کی ہے مگر یہ بات اتنی سادہ نہیں، جتنی نظر آتی ہے۔ اگر اس کا گہرائی اور شخصی وابستگی سے بالاتر ہوکر جائزہ لیا جائے تو بطور ریاست اس کے اثرات نہایت سنگین ہیں۔ کیونکہ اس بل کی صورت ایک چور دروازہ کھل گیا ہے جس سے کوئی بھی چور،قاتل،لٹیرا یا عدالتوں سے سزا یافتہ شخص، حتیٰ کے کوئی غدار وطن بھی اگر اس طرح کی اکثریت ایوان میں کسی باعث حاصل کرلے تو کل کو خدانخواستہ اس ملک پر حکمران بن بیٹھے گا اور اگر اس پریکٹس کو معمولی سمجھ کر ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرلیا جائے تو کل کو غدار وطن الطاف حسین بھی کسی نہ کسی طرح واپس سیاست میں آجائے تو اس کے سدباب کی کیا صورت ہوگی؟ اگر محض عددی برتری کے بل پر کسی کو کھل کر کھیلنے اور آئین کی اس چاک قبا میں اپنی پسند کا رفو لگانے کی اجازت ہے تو اکثریت تو شیخ مجیب الرحمٰن نے بھی حاصل کی تھی، تو پھر اس کو بھی اپنے عزائم پورے کرنے کے لیے مینڈیٹ کے احترام میں آزادی کیوں نہ دی گئی؟

یہ بھی پڑھیں:   شہباز، پرویز فارمولا؟ ماریہ میمن

اس ملک کا اور اس کے آئین سے کھلواڑ کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہاں پر حقیقی جمہوریت کا کوئی تصور سرے سے موجود نہیں ہے۔ یہاں پر شروع سے ہی ہر دور میں آمریت برسر اقتدار رہی ہے۔مختلف ادوار کی آمریت میں فرق صرف اتنا ہوتا کہ کبھی شخصی آمریت اس ملک پر سایہ فگن ہوتی ہے تو کبھی خاندانی آمریت اقتدار پر اپنے پنجے گاڑے بیٹھی ہوتی ہے۔فوجی ادوار کو تو چھوڑیں، بظاہر جمہوری سمجھے جانے والے ادوار میں بھی مختار کل صرف ایک فرد واحد کی ذات ہی ہوتی ہے۔جمہوریت کا نظریہ عوام کو براہ راست ملک کے فیصلوں میں شریک کرنے پر استوار ہے مگر یہاں پر 24 گھنٹے جمہوریت کی مالا جپنے والی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا یہ حال ہے کہ ان کے لیڈران بنیادی فیصلوں میں اپنی ہی جماعت کے کسی رہنما کے مشوروں کو بھی اہمیت نہیں دیتے اور اگر وقتی طور پر کچھ ایسا ناگزیر معاملہ پیش آجائے کہ پارٹی لیڈر کی قیادت کے آگے کوئی رکاوٹ کھڑی ہوجائے تو بھی اس مختصر عرصے کے دوران جب تک مختلف حیلوں سے وہ رکاوٹ دور نہ کرلی جائے۔ قیادت اپنی اولاد کے بجائے کسی دوسرے پر اعتبار کرنے پر ہرگز تیار نہیں ہوتی۔ماضی میں پیپلز پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے آصف زرداری نے کیا کیا نہ پاپڑ بیلے؟ اور بلاول زرادری کے نام کے ساتھ محض پارٹی پر کنٹرول کی خاطر بھٹو کا لاحقہ جوڑا گیا اور اس پورے عمل کو سند جواز اور قبولیت بخشنے کے لیے کہیں سے ایک وصیت کا بھی اہتمام کیا گیا۔

اب نواز شریف کی نااہلی کے بعد دو ماہ کے عرصہ تک مسلم لیگ کی صدارت کو بالکل خالی رکھا گیا اور اس مختصر عرصے میں بھی جب تک ان کے واپس پارٹی صدر بننے کے درمیان حائل رکاوٹ دور نہ کرلی گئی، وہ اپنے سگے بھائی شہباز شریف کو بھی اس منصب پر قبول کرنے پر تیار نہ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:   شریف برادران کی غیرموجودگی میں ن لیگ کون چلائےگا؟

مختلف ادوار میں مختلف حلقوں کی جانب سے یہ رونا رویا جاتا ہے کہ جمہوریت کو اس ملک میں چلنے نہیں دیا جاتا اور اس کی ذمہ داری ہر کوئی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق کسی نہ کسی پر ڈالنے کی کوشش میں لگا رہتا رہتا ہے مگر جمہوریت کی پنیری کو اس ارضِ پاک پر پنپنے نا دینے میں جتنا دیگر دیدہ ونادیدہ قوتوں کا ہاتھ ہے اسی قدر اس کی ذمہ دار خود ہماری تمام نام نہاد جمہوری پارٹیاں اور ان کی قیادت ہے۔

اگر ہمارے سیاسی رہنما اپنے عمل سے اداروں کو مضبوط کریں اور جمہوریت کے تحفظ کے نام پر صرف اپنے خاندانی اور ذاتی مفادات کے تحفظ پر اپنی توانائیاں صرف نہ کریں، صرف ایک شخص کے اقتدار کی خاطر اپنے ہی ملک کے اداروں سے خوامخواہ کی عداوت نہ پالیں اور پارلیمان کے فورم کو لیڈران جمہوریت کے بجائے حقیقتاً جمہوریت کے تحفظ کی خاطر استعمال کریں تو کبھی بھی کسی سیاست دان کو اپنی سیاست زندہ رکھنے کے لیے کسی غیر اخلاقی اور چور دروازے کی ضرورت پیش نہ آئے اور نا ہی دوبارہ کسی کو یہ کہنے کی نوبت آئے گی کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا گیا۔