ہم یہودی ایجنٹ سے زیادہ لبرل ہیں - آصف محمود

ایک ملک کا وزیر خارجہ جب بیرون ملک تشریف لے جاتا ہے تو اس سے کیا توقع رکھی جانی چاہیے؟ یہ کہ وہ اپنے ملک کا مقدمہ دوسروں کے سامنے رکھے گا یا وہ دست سوال بن کر دراز ہو جائے گا اور ملازمت کے لیے گویا اپنا ’’سی وی‘‘ پیش کرتے ہوئے کہے گا ’’ہم تحریک انصاف سے زیادہ لبرل ہیں‘‘۔

سوال یہ تھا کہ آپ کے ملک میں انتخابات ہونے والے ہیں، یہ بتائیے کہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی خارجہ پالیسی میں کیا فرق ہے؟ صاحب نے لمبی سی سانس لی، انگلیوں کے کڑاکے نکالے، پنجابی میں سوچا، پھر اس کا انگریزی ترجمہ کر کے جب علم و فضل کے موتی بکھیرے تو بصیرت و دانش کی گویا ایک کہکشاں تھی جو منور ہو گئی۔ فرمایا: ’’ہم تحریک انصاف سے بہت زیادہ لبرل ہیں۔ تحریک انصاف میں تو مذہبی لوگوں کے لیے کشش ہے۔‘‘

جس وزیر خارجہ صاحب علم و فضل کے ان موتیوں سے عالمی برادری کی فکری رہنمائی فرما رہے تھے، اسی دن جناب وزیر ریلوے نے بھی اپنے فہم و تدبر سے ہم وطنوں کی رہنمائی فرمائی کہ تحریک انصاف کی حقیقت کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ عمران خان کے یہودی لابی سے مراسم کوئی راز نہیں۔اب گویا منظرنامہ کچھ یوں ہے کہ عمران خان یہودی ایجنٹ ہیں، عمران خان مغربی کلچر متعارف کرا رہے ہیں ، عمران خان کے جلسوں میں ناچ گانا ہوتا ہے، عمران خان ہماری اقدار کے دشمن ہیں، عمران خان ہماری نئی نسل کو بے راہ روی کی طرف مائل کر رہے ہیں۔ چنانچہ جب مسلم لیگ کی صفوں سے ارشاد ہوا کہ ’’ہمارے لوگ تہذیب کے دائرے میں ناچ رہے ہیں‘‘ تو عام آدمی نے یہی سمجھا کہ یہ لوگ عمران خان کی طرح لبرل نہیں بلکہ اپنی روایات اور اقدار کے باب میں بہت حساس ہیں اسی لیے یہ تحریک انصاف والوں کی طرح نہیں ناچ رہے بلکہ یہ تہذیب کے دائرے میں رہ کر ناچ رہے ہیں۔ لیکن اب بھلا ہو جناب خواجہ آصف صاحب کا جنہوں نے سب کی یہ غلط فہمی دور کر دی ہے اور بتایا ہے کہ ہم عمران خان سے زیادہ لبرل ہیں۔ اور نہ صرف بتایا ہے بلکہ امریکہ کے حضور کھڑے ہو کر بتایا ہے تا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ یہی نہیں انہوں نے گویا آقا کے دربار میں شکایت بھی لگا دی ہے کہ دیکھیے جناب عمران خان کی جماعت میں تو ان لوگوں کے لیے کشش ہے جو مذہبی رجحانات رکھتے ہیں۔ اس لیے براہ کرم اپنے دست شفقت کے لیے ہمارا انتخاب کیجیے گا کہ ہم ہی ہیں جو اصل لبرل ہیں۔ حیرت ہوتی ہے اقتدار کے لیے آدمی کو کیا کچھ کرنا پڑتا ہے؟

اجازت ہو تو تہتر کے آئین کے تناظر مین کچھ سوالات قبلہ مولانا فضل الرحمن صاحب سے بھی پوچھ لیے جانے چاہییں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ آپ اس حکومت کی کابینہ میں کس فقہی اصول کے تحت تشریف فرما ہیں جو ایک مبینہ یہودی ایجنٹ کی تحریک انصاف سے بھی زیادہ لبرل ہے؟ اگر مقصد غلبہ اسلام ہی کی جدوجہد ہے تو جس گھن گھرج سے ’علی وجہہ البصیرہ‘ ایک یہودی ایجنٹ کی مخالفت کرتے ہیں آپ کو تو اس حکومت کی اس سے زیادہ شدت سے مخالفت کرنی چاہیے تھی کیونکہ یہ اس یہودی ایجنٹ کی جماعت سے زیادہ لبرل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نئے پاکستان میں عوام کا احتساب - آصف خان

دوسرا سوال یہ ہے کہ بقول خواجہ صاحب تحریک انصاف میں مذہبی لوگوں کے لیے زیادہ کشش ہے تو اس سے کیا مراد لی جائے؟ دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ مولانا صاحب کی جے یو آئی مذہبی جماعت نہیں ہے، اس لیے اس عمران خان کی تحریک انصاف میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی۔ یہ اگر مذہبی جماعت ہوتی تو بقول خواجہ صاحب عمران کی پی ٹی آئی میں کشش محسوس کرتی۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ن لیگ بڑی مذہبی جماعت ہے، اس لیے مولانا کو اس میں بڑی کشش محسوس ہوتی ہے اور وہ اس کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے۔ اب ظاہر ہے ایسا تو ہے نہیں کہ خود خواجہ صاحب اس تاثر کی نفی کر چکے ہیں۔ تو پھر معاملہ کیا ہے؟

دیانت کے ساتھ معاملہ کیا جائے تو خواجہ آصف نے بات کچھ اتنی غلط بھی نہیں۔ لبرل ازم کے فروغ کے لیے ان کی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ اقبال ؒ کی شاعری لبرل ازم کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ تھی، ان کی کتب تو ضبط نہ کی جا سکیں البتہ اقبال کی چھٹی کے لیے یوم اقبال کی چھٹی کا خاتمہ اسی بابرکت دور میں ہوا۔ سود کے حق میں گنجائش نکالنے کا مطالبہ اسی مبارک عہد حکومت میں کیا گیا، اس سے پہلے قوم کا ایک دو قومی نظریہ ہوتا تھا لیکن اس بابرکت دور کا اعجاز ہے کہ اس میں قوم کو بتایا گیا ہم بھی آلو کھاتے ہیں وہ بھی آلو کھاتے ہیں،بس بیچ میں ایک لکیر آ گئی ہے جسے سرحد کہتے ہیں۔نصاب سے اسلام اور مسلم تشخص کے بارے میں چیزیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالنے کی ناکام کوشش بھی اسی بابرکت دور میں ہوئی۔ جماعت اول کے قاعدے میں ق سے قرآن ، قینچی اور قلم لکھا تھا، اس میں سے لفظ قرآن نکال دیا گیا۔ تیسری جماعت کی اردو کی کتاب میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سبق تھا جس میں سیرت طیبہ کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی گئی تھی ، یہ سبق بھی ختم کر دیا گیا۔ تیسری جماعت کی انگریزی کی کتاب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر ایک مضمون تھا وہ بھی ختم کر دیا گیا ۔تیسری جماعت ہی کے نصاب میں حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کے بارے میں ایک مضمون تھا وہ نکال دیا گیا، ایک مضمون مسجد کی تکریم کے حوالے سے تھا اسے بھی ختم کر دیا گیا ۔ خانہ کعبہ کی ایک تصویر تھی وہ بھی برداشت نہ ہو سکی اسے بھی نکال دیا گیا، ایک تصویر گنبد خضرا کی تھی سیکولر انتہا پسندی اسے بھی برداشت نہ کر سکی، یہ تصویر بھی نکال دی گئی۔ بچوں کی تربیت و آگہی کے لیے حجر اسود ، مقام ابراہیم ، غار حرا کی تصاویر تھیں یہ تصاویر بھی ان سے برداشت نہ ہوئیں اور نکال دی گئیں۔ بادشاہی مسجد اور فیصل مسجد کی تصاویر بھی نکال دی گئی ہیں۔ایک تصویر میں ایک قاری صاحب بچوں کو قرآن کی تعلیم دے رہے تھے یہ تصویر بھی نکال دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   جنابِ وزیرِ اعظم سے چند گزارشات - مفتی منیب الرحمن

یہ اتنے لبرل واقعہ ہوئے ہیں کہ ان کی رائے بھی غیر فقاریہ ہو چکی ہے۔ چنانچہ سسر جی فرماتے ہیں مستقبل کا پاکستان لبرل پاکستان ہے تو داماد جی فرماتے ہیں پانامہ کیس نواز شریف نہیں بلکہ نظریہ پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ بس اب یہ کسر باقی ہے کہ کوئی نونہال اٹھے اور قوم کو بتائے کہ قرارداد پاکستان تو اصل میں جاتی امرا کے لان میں منظور کی گئی تھی۔ اس سے زیادہ ’’اوپن مائنڈڈ‘‘ حکومت چشم فلک نے کب دیکھی ہوگی کہ کسی کو معلوم ہی نہیں کہنا کیا ہے۔ برکس اعلامیہ آیا تو دفتر خارجہ کا موقف اور تھا، وزیر خارجہ کچھا ور فرما رہے تھے، اور وزیر داخلہ کا موقف کچھ اور تھا۔ کوئی چیخ رہا ہے مجھے کیوں نکالا تو کوئی خفا ہے مجھے اندر جانے سے کیوں روکا۔ لیکن یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ دستور پاکستان کے کس آرٹیکل میں لکھا ہے کہ ملزم جب عدالت میں پیش ہو رہا ہو تو وزرائے کرام کا لشکر اپنے کام چھوڑ کر کورنش بجا لانے کے لیے وہاں لازمی طور پر موجود ہوا کرے۔

یہ بات تو طے ہوگئی کہ ن لیگ ایک یہودی ایجنٹ کی تحریک انصاف سے زیادہ لبرل ہے لیکن یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ عمران خان کیا ہے۔ وہ بیک وقت طالبان خان بھی ہے اور یہودی ایجنٹ بھی۔ وہ فحاشی بھی پھیلا رہا ہے اور ملک میں مذہبی انتہا پسندی کو بھی فروغ دے رہا ہے۔وہ یہودی لابی کا خاص آدمی بھی ہے اور مذہبی لوگ بھی اس میں کشش محسوس کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ حکمرانوں کو ہو کیا گیا ہے؟اور جواب یہ ہے کہ انہیں عمران خان ہو گیا ہے؟اب وہ ایک یہودی ایجنٹ سے زیادہ لبرل کہلا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ سیاست بھی آدمی سے کیا کچھ کرواتی ہے؟پہلے لوگ اونٹ سے پوچھتے تھے: اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی؟ آج کل یہی سوال وہ شرافت کی سیاست سے کرتے ہیں۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • عمدہ تبصرہ جناب آصف صاحب۔ شکریہ۔ اقتدار کے لئے انسان کیا کچھ کر سکتا ہے اور اپنے زمینی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے کس حد تک جایا جاسکتا ہے عہدِ شریفی نے ہمیں اسکا اندازہ کر وا دیا ہے۔