جمہوری تماشا – احسان کوہاٹی

اس شاندار عمارت کے ہال میں کاغذ کے پرزے نہیں اُڑ رہے تھے بلکہ ہوس اقتدار کی خواہشیں پر لگا کر اڑ رہی تھیں اور بتا رہی تھیں کہ کرسی کتنی عزیز ہوتی ہے، اقتدار اور اختیار کتنا میٹھا ہوتا ہے، جوایک بار تخت پر بیٹھ جائے پھر اسے تقدیر کے ہاتھ ہی کھینچ کر اتاریں تو اتاریں وہ خود سے نہیں اترتا، تخت سب سے پہلے کم ظرفوں کی عقل خبط کرتا ہے، اختیار سرگوشی کرتا ہے کہ جو حکم دیں گے بجا لایاجائے گا، خواہش کہتی ہے اس روشن دن کو غروب ہونے سے بچائیں۔ قومی اسمبلی میں ہونے والے شور شرابے میں سیلانی آئین میں پیش کی جانے والی ترمیم کے اپوزیشن ارکان کے ہاتھوں اُڑتے پرزے دیکھنے لگا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ایسا وہاں کیوں نہیں ہوتاجہاں سے ہم جمہوریت بیگم کو عروسی جوڑے میں لائے ہیں ؟

اسے سوئیڈن کے سہیل بھائی یاد آگئے۔ سہیل بھائی کبھی کراچی والے تھے، اب سوئیڈن والے ہیں۔ یہ شہر قائد سے اچھے مستقبل کے لیے سوئیڈن ہجرت کر گئے اورپھر وہیں کے ہو رہے۔ انہوں نے وہیں سوئیڈش خاتون سے شادی کی اور گھر بسا لیا۔ سوئیڈش ہونے کے باوجود وطن سے محبت انہیں بے چین کیے رکھتی ہے۔ پاکستان میں کچھ ہوتا ہے تو بے چین ہو جاتے ہیں، فون کرتے ہیں، کڑھتے ہیں، دل جلاتے ہیں اور افسوس کرتے ہیں کہ ہم کب سدھریں گے؟ 2009 ء کی بات ہے، ان کی کال آئی اور بتانے لگے سیلانی بھائی جانتے ہیں آج کیا ہوا؟ظاہر ہے سیلانی نے اس کا جواب نفی میں ہی دینا تھا۔ اس کے بعد جو انہوں نے بتایا وہ اسے حیران کرنے کے لیے بہت کافی تھا لیکن بدیسی جمہوریت کے ملک میں عام سی تھی۔

یورپی ممالک میں عموماً پولیس کا کوئی ایک سپاہی ’’ناکہ‘‘لگا لیتا ہے یہ ناکہ ہمارے دیسی ناکوں سے ذرا مختلف ہوتا ہے۔ اس میں ٹوں ٹوں کرتی پولیس موبائلیں کھڑی ہوتی ہیں، نہ رائفلیں لیے سپاہی،بس ایک سپاہی STOPکا بورڈ لگاکر کھڑاہوجاتا ہے۔ یہ چار حرف دیکھ کر گاڑیوں کی خود بخود بریکیں لگ جاتی ہیں۔ ان بریک لگانے والوں میں اعلٰی آفیسر بھی ہوتے ہیں اور بڑھئی بھی،سیاستدان بھی اور سائنس دان بھی۔ اس روز بھی ایسی ہی قطار لگی ہوئی تھی،ایک اسمارٹ سا سپاہی ہاتھ میں کوئی آلہ لیے گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے پاس جاتا۔ انہیں مسکرا کر 'گڈ مارننگ' کہتا، حال چال پوچھتا اور وہ آلہ ان کے سامنے کر دیتا، جس میں ڈرائیور گہری سانس خارج کر کے حکم کی تعمیل کرتے۔ یہ ٹیسٹ شراب نوشی کی جانچ کا ٹیسٹ ہوا کرتا ہے کہ ڈرائیور شراب پی کر تو گاڑی نہیں چلا رہا۔ وہ سپاہی قطار میں لگی گاڑیوں میں سب ڈرائیوروں کے ٹیسٹ لیتا ہوا ایک بوڑھے کے پاس پہنچا۔ ستّر برس سے زائد عمر کے بوڑھے نے ہچکچاتے ہوئے ایک لمبی سانس لی اور آلے میں پھونک مار دی۔ پھونک کے نتیجے پر سپاہی چونک گیا،مشین بتا رہی تھی کہ بابا جی کے خون میں الکحل کی مقدار زیادہ ہے۔ اس سپاہی نے بابا جی کو وارننگ دی اور جرمانہ کر دیا۔ باباجی نے کوئی رولا ڈالا، نہ شورمچایا کہ جرمانہ کیوں لگایا؟ بلکہ وہ شرمندہ ہوگیا۔ اس شرمندہ بوڑھے پر جرمانے کی خبر پورے ملک میں آناً فاناً پھیل گئی کیوں کہ وہ بوڑھا کوئی عام شخص نہیں تھا سوئیڈن کی حکمران پارٹی کا اہم عہدیدار تھا اور یہی نہیں اس وقت کے وزیر اعظم فریڈرک رئین فلڈٹ کا باپ تھا۔ اس نے کوئی شور مچایا نہ دُہائی دی، مشین کی کارکردگی پر بھی سوال نہیں اٹھائے۔ خاموشی سے عدالت گیا، جرمانہ دیا اور شرمندہ شرمندہ واپس آکر پارٹی کے عہدے سے بھی استعفٰی دے دیا کہ میں اس عہدے کے لائق نہیں ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   برطانیہ کی منقسم جمہوریت - جہاں تاب حسین

غلطیوں پر شرمسار ہونے کی کہانیاں ان جمہوری معاشروں میں خرگوش کے بچوں کی طرح عام ہیں۔ نیو ساؤتھ ویلز، آسٹریلیا کی ریاست ہے یہاں بھی ان ہی لوگوں کی حکومت ہے جنہیں ہم ایمان کی دولت سے محروم سمجھ کر افسوس کرتے رہتے ہیں۔ یہاں بھی جمہوریت کا دور دورہ ہے، ہمارے ملک کی طرح یہاں بھی الیکشن ہوتے ہیں، جلسے جلوس نکالے جاتے ہیں، تند وتیز تقاریر ہوتی ہیں، ایک دوسرے پر پھبتیاں کسی جاتی ہیں، طعنے دیے جاتے ہیں۔ لیکن وہاں کچھ مختلف بھی ہے، 2010ء کی بات ہے یہاں کے نیوز چینل 'سیون نیوزکی' ایک فوٹیج پر ہنگامہ برپا ہوگیا، لوگ بپھر گئے، ہر جانب حکومت پر انگلیاں اٹھنے لگیں اور اگر سیلانی آپ کو بتائے کہ معاملہ کیا تھا تو حیرت سے آپ اپنی انگلیاں منہ میں داب لیں گے۔ معاملہ یہ تھا کہ نیو ساؤتھ ویلز حکومت کا ایک اہم وزیر کیمپ بیل ایک رات ایک ہم جنس پرست کلب کا دورہ کرتا ہے۔ یہ کوئی اہم بات نہیں، اس معاشرے میں اس غلاظت کو کسی بھی انسان کے حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن اشو یہ تھا کہ اس نجی دورے کے لیے وزیر صاحب نے اپنی سرکاری کار استعمال کی۔ ’’اختیارات کے غلط استعمال ’’ کی اس خبر پر عوام خاصے ناراض ہو گئے۔ انہوں نے نیوز چینلز کے رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کیمپ بیل کو اس لیے ووٹ نہیں دیا تھا کہ وہ جیت کر سرکاری وسائل کو یوں استعمال کریں۔ لوگوں کو وزیر کے ہم جنس پرست کلب جانے پر نہیں، سرکاری وسائل کے غلط استعمال پر ناراضگی تھی۔ اگر چہ اس سفر میں بمشکل پچاس لیٹر پٹرول بھی نہیں خرچ ہو اہوگا لیکن بات ڈالرز کی نہیں روایات کی تھی۔ کیمپ بیل کے لیے یہ مشکل صورتحال بن گئی۔ ایک جانب وزارت کے مزے تھے اور دوسری جانب جمہوری قدریں۔ اس نے جمہوری قدروں کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور لوگوں سے معافی مانگتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفٰی دے کر گھر چلا گیا۔

یہ تو رواں برس ہی کی بات ہے، فرانس کی نئی نویلی وزیر دفاع سیلیو گولرڈ (Sylvie Goulard) مشکل میں پڑگئیں۔ مشکل اتنی بڑی نہیں تھی کیوں کہ وہ اس جماعت کے پلیٹ فارم سے وزیر دفاع کے دفتر تک پہنچی تھیں، جس نے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ انہیں اپنے دفتر کا چارج لیے ہوئے بمشکل 38 دن گزرے تھے کہ ان کا نام فنڈز کے غلط استعمال میں لیا جانے لگااور مجسٹریٹ نے اس سلسلے میں حکومت کی اہم ترین وزیر اور صدر کی قریبی ساتھی کے خلاف انکوائری کا حکم بھی دے دیا۔ تحقیقات کے حکم کے بعد خاتون وزیر دفاع نے کوئی حیل حجت نہیں کی انہوں نے انکوائری پر کوئی سوال اٹھایا، نہ اپنی پارٹی سے کسی قسم کی مدد لی۔ انہوں نے استعفٰی لکھ کر دے دیا اور کہا کہ میں نہیں چاہتی کہ ہماری پارٹی کا عوام میں اعتماد کم ہو، مجھ پر انکوائری ہو رہی ہے میں رضاکارانہ طور پر استعفٰی دے رہی ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   لبرلز کی خوشنودی کے لیے عمران، نواز ایک ہو گئے - انصار عباسی

اب یہ منظر اس اسلامی مملکت پاکستان کے دارالخلافے اسلام آباد کا ہے جہاں سیلانی تین اکتوبر کوکنونشن سینٹر میں اپنی نوعیت کا منفرد اجتماع دیکھ رہا ہے۔ یہ اجتماع حکمران پارٹی مسلم لیگ نون کی جنرل کونسل کا ہے۔ اس غیر معمولی اجلاس میں ایک ایسے شخص کو ملک کی بڑی جماعت کا سربراہ منتخب کیا جانا تھا جسے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے حکم پر اس کے عہدے سے فارغ کیا گیا تھا، نہ صرف انہیں وزیر اعظم ہاؤس خالی کرنے کے لیے کہا گیا تھا بلکہ پارٹی صدارت بھی چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ میاں محمد نوازشریف کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی انکوائری ٹیم نے تحقیقات کی تھیں۔ ان تحقیقات سے پہلے میاں نوازشریف نے 22اپریل 2016ء کو قوم سے خطاب میں خود سے کیا گیا عہد بتایاتھا کہ میرا اپنے آپ سے عہد ہے اگر کمیشن کی تحقیقات کے نتیجے میں مجھ پر کوئی الزام ثابت ہوا تو میں ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر گھر چلا جاؤں گا۔ میاں صاحب گھر تو گئے مگر سارے راستے یہ چیختے رہے کہ مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں نکالا؟ دو اکتوبر کی شام اس نااہل قرار دیے گئے شخص کے لیے قومی اسمبلی میں آئین میں ترمیم کی گئی گنجائش بنائی گئی کہ نااہل قرار دیا گیا شخص پارٹی کا صدر بن سکے گا اور اس کی نااہلی بھی پانچ برسوں سے زیادہ کی نہ ہوگی۔ اس ترمیم کے بمشکل اٹھارہ گھنٹوں بعد ہی اسلام آباد کے کنوشن سنٹر میں مسلم لیگ کی صدارت کے لیے الیکشن ہوئے، میاں نوازشریف کے مقابلے میں کسی نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے اور وہ بلامقابلہ چار برس کے لیے مسلم لیگ نون کے صدر ہو گئے۔ سیلانی کوغالب کا شعر یاد آگیا

بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے

اور وہ میز پر کہنی رکھے ہتھیلی پر ٹھوڑی جمائے یہ گنگناتے ہوئے کنونش سینٹر میں لگا جمہوری تماشہ دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.