تتلی نگر کی سبھی سہیلیوں کے نام - نیر تاباں

تتلی نگر کا حسن ہی کچھ اور تھا۔ نرم دھوپ میں چمکتے شبنم کے قطرے، دور تک پھیلا ہوا سبزہ، خوشبو، رنگا رنگ پھول اور پھولوں پر تتلیاں۔ یہاں وہاں، ہر طرف دیدہ زیب رنگوں والی حسین تتلیاں۔ اس کا ہر نیا خواب ایک نئی تتلی کے روپ میں اڑتا تھا، ہر خیال ان کے پروں کو نئے رنگ دیتا تھا۔ تتلی نگر کے عین وسط میں کانچ کا وہ کمرہ تھا جہاں اس کے دن کا زیادہ تر حصہ گزرتا۔ نرم دھوپ اپنے اندر جذب کرتے نگاہ اٹھاتی تو رنگ، خوشبو، حسن اور نزاکت کو مجسم پاتی۔

پھر یوں ہوا کہ موسم شدت اختیار کرنے لگا۔ تمازت بڑھنے لگی۔ تپش ناقابلِ برداشت ہوئی تو سب حسین خیال جان بچانے کو تتلی نگر سے بھاگنے لگے۔ خوابوں کا سانس اکھڑنے لگا۔ تتلیوں کے نازک پر جل کر راکھ ہونے لگے۔ کبھی جہاں رنگ گنگناتے اور خوشبوئیں باتیں کیا کرتی تھیں، اب وہاں خاموشی کے ڈیرے تھے، اور گہرے کالے بادل۔

تتلی نگر کی یہ حالت دیکھ کر اس کی اپنی ذات کتنے ہی ٹکڑوں میں بکھر رہی تھی۔ ریزہ ریزہ ہوتے وجود کو جب سمیٹا تو محسوس کیا کہ ٹوٹ کر بکھرنے والی نازک سی ذات کوئی اور تھی، دوبارہ جڑ کر بننے والا مضبوط وجود کوئی اور ہے۔ تتلی نگر کا منظر اب تحلیل ہو چکا تھا۔ رنگ و خوشبو رخصت ہو گئے تھے۔ کانچ کے کمرے کی جگہ اینٹ اور گارے کے گھر نے لے لی تھی۔ تو کیا ہوا کہ پورا دن چھن چھن کر نرم دھوپ اب اندر نہیں آتی تھی، دیواریں پکی تو تھیں ناں۔ کیا ہوا کہ تا حد نظر اڑتی نظر آنے والی تتلیاں اور ان کے رنگ مفقود تھے، چھت تو مضبوط تھی۔

دل کے نہاں‌ خانوں میں وہ اب بھی تتلیوں کی اتنی ہی محبت لئے ہوئے ہے، ہاں لیکن اس نے جان لیا کہ اینٹ پتھر کے اس گھر میں تتلیوں کی جگہ نہیں۔ وہ تو تازہ ہوا، سبزہ زاروں اور کھلی وادیوں کی چیز ہیں۔ تتلیاں اب بھی اس سے باتیں کرتی ہیں، خواب اب بھی ان میں رنگ بھرتے ہیں، خوشبوئیں آج بھی اسے دیوانہ کر دیتی ہیں، لیکن وہ انہیں گھر کا رستہ نہیں دکھاتی بلکہ یونہی چپکے سے شام کے کسی پہر ان کے پیچھے ہو لیتی ہے اور صبح ہونے سے پہلے اپنے گھر کی مضبوط چھت تلے واپس آ جاتی ہے۔

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.