صوفی گلریز اور برہان پور کا سفر - ریحان خان

علی الصبح بارہ بجے صوفی گلریز علی سجے دھجے غریب خانے پر آ دھمکے اور صورِ اسرافیل کی طرح "ابے او ریحان!" کی صدا لگائی.
گھر والوں نے بتایا کہ مابدولت کی نیند کی گہرائی و گیرائی صوتِ انسانی و الآرمی سے بالاتر ہے. صرف یورشِ آبی سے ہی ہم بیدار ہوسکتے ہیں تو سیدھا کمرے میں آگئے اور چادر کھینچ کر فرمانے لگے:
" آج دس محرّم ہے اور تم ابھی تک سو رہے ہو وہابی مردود! تم پر حسین کے قاتلوں سے زیادہ لعنت اور پھٹکار."

بارہ بجے تک سونے سے پھٹکار تو بہرحال چہرے پر جلوہ افروز ہوتی ہی ہے لیکن لعنت کے متحمل ہم بالکل نہ تھے.
ویسے بھی صوفی کی لعنتوں کا کوئی شمار نہیں، وہ ہر روز اپنی بیگم کو چھ طلاقیں دیتے ہیں اور بیگم بھی پلٹ کر بارہ "تلاخیں" ان کے منہ پر دے مارتی ہیں. پھر ایک گھنٹے بعد دونوں سیر و شکر ہوجاتے ہیں.

صوفی کی دھج دیکھ کر ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں. بےداغ سفید کرتے میں ملبوس منہ میں پان دبائے اس طرح شرما رہے تھے جیسے کوئی دلہن شب عروسی کے بعد اپنے شوہر سے شرماتی ہے، کیونکہ قاعدے کے حساب سے انھیں سیاہ کرتا زیبِ تن کرکے آنا چاہیے تھا.
ہم نے پوچھ لیا تو فرمانے لگے،
" گرمی کتنی شدید پڑ رہی ہے، ایسے میں سیاہ کرتا کیا غضب ڈھاتا. کل ہی مولانا نے بیان میں کہا تھا کہ کپڑوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بس دل سیاہ ہونا چاہیے."
"اللّہ اکبر ... جاؤ تم اکیلے ہی محرم منا آؤ. میری مغفرت اس کے بغیر بھی ہوسکتی ہے." اتنا کہہ کر ہم نے چادر دوبارہ اوڑھ لی.
"میں جانتا تھا تم مردود سیدھے سے نہیں مانو گے. آج کل اہل حدیثوں کے ساتھ جو رہنے لگے ہو." صوفی نے دوبارہ چادر کھینچی.
ان کا ایمان تھا کہ اگر دنیا میں ہی جنّت کے مزے لوٹنا ہو تو ریحان کے ساتھ محرّم کے ایّام میں برہانپور کا سفر کیا جائے.
" جاؤ تم اکیلے ہو آؤ، میں نے ان خرافات سے توبہ کرلی ہے."
"کب کی توبہ؟؟"
"آج، ابھی، اسی وقت"
"بس پیارے اس بار چلے چلو، ابھی تمھاری توبہ سفر میں ہی ہوگی." صوفی کے انداز میں بے پناہ درد اور التجا تھی.
طوعاً و کرھاً بستر چھوڑنا پڑا، اور صوفی گزرے معرکوں کی یاد میں کھو گئے.

محرّم کی ان مجالس کے لیے صوفی اور ہم لازم و ملزوم تھے. صوفی کے بغیر ہمیں داخلہ نہیں مل سکتا تھا اور صوفی ہمارے بغیر جانے کو وقت کا ضیاع سمجھتے تھے. اپنی رنگ باز طبیعت کے ہاتھوں مجبور تھے کیونکہ ان کے سارے صوفی دوست صحیع العقیدہ صوفی تھے.

"تم نے منّی بائی کا حال سنا ہے؟" صوفی کہنے لگے.
"برہانپور کی وہ مغنّیہ، جس نے چند برسوں قبل سبیل کمیٹی میں پانچ سو کی نوٹوں کا بنڈل بطور چندہ دیا تھا."
"ہاں! بعد میں نوٹوں کا وہ بنڈل جعلی ثابت ہوا تھا جس پر سبیل کمیٹی والوں نے منّی بائی پر مقدمہ دائر کردیا تھا."
"ہاں ہاں وہی.... اس کی اسی حرکت پر اس کا سارا جسم پھوڑہ ہوگیا ہے، اب وہ نقاب پہننے لگی ہے."
" اچھا! لیکن میں نے تو سنا ہے کہ وہ مولانا مودودی کی کتاب "پردہ" پڑھ کر تائب ہوگئی ہے، اور حجاب بھی پہننے لگی ہے."
"اونہہ ! مودودی وودودی کچھ نہیں..... کہنے کی باتیں ہیں سب...... دراصل اس جعل سازی کے سبب اس پر عذاب نازل ہوا ہے. دیکھنے والوں نے بتایا کہ اس کے ہاتھ بھی نہیں دکھتے، تم ذرا جلدی تیار ہو. پچھلے محرم پر تمہاری وجہ سے ہی مجرے کی محفل میں آگے جگہ نہ مل سکی تھی."
"کیا کہا؟؟ میری وجہ سے جگہ نہیں ملی تھی یا تم اس بنگالن کے پیچھے دوڑے چلے گئے تھے؟"
"آہستہ بولو یار.... کوئی سن لے گا." صوفی گھگھیانے لگے.
"میں نے تمہیں لاکھ منع کیا تھا کہ وہ صرف سیٹھیوں اور منتریوں کو گھاس ڈالتی ہے، لیکن تم میری بات نہیں مانے اور اس کے پیچھے چلے گئے، میں مجرے کی جگہ وقت سے ایک گھنٹہ قبل پہنچ گیا تھا کہ آگے جگہ حاصل کرسکیں."
"مٹی ڈالو یار..... اگر اس دفعہ وہ بنگالن آئی تو اسے اپنے پیروں پر بٹھاؤں گا." اتنا کہہ کر صوفی اپنی جیب سے نوٹوں کا ایک بنڈل نکال کر اچھالنے لگے.
"اتنے پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟" ہم نے مشتبہ لہجے میں سوال کیا.
"بس آگئے یار! بس تم جلدی سے تیار ہوجاؤ ..... آج تو عیش ہی عیش ہیں."
"پہلے یہ بتاؤ کہ پیسے کہاں سے لائے ہو ورنہ میں نہیں جاؤں گا برہانپور"
"ارے یار! پچھلے سال چاندی کی تعزیہ پر جمی دھول صاف کرنے کے بہانے اس کا ایک گنبد رومال میں چھپا کر اتار لیا تھا."
"تم پر تو حسین کے قاتلوں سے زیادہ لعنت" اس دفعہ ہم نے کہا تھا.