سیاست یا منافقت - ارشدعلی خان

سینٹ سے انتخابی اصلاحات بل کی شق 203 کی منظور ی کی گرد ہے کہ بیٹھنے کا نام نہیں لے رہی. اس معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے اپنے سینیٹر میاں عتیق شیخ کی پارٹی رکنیت معطل کرنے کا اعلان کیا۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ میاں عتیق نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے جس کی بنیاد پر ان کی بنیادی رکنیت ختم کی گئی ہے، جبکہ دوسری جانب میاں عتیق کا مؤقف ہے کہ انہوں نے خواجہ سعد رفیق کے کہنے پر حکومت کو ووٹ دیا، کیونکہ خواجہ صاحب نے انھیں کہا کہ فاروق ستار سے بات ہوگئی ہے اور آپ مسلم لیگ ن کو ووٹ دے دو۔ (منافقت کی انتہائی شکل ملاحظہ ہو)

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے بھی اپنے دو سینٹرز نعمان وزیر اور جان ولیمز کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سات روز میں وضاحت طلب کی ہے کہ انتخابی اصلاحات بل 2017ء کے لیے ووٹنگ میں حصہ کیوں نہیں لیا۔ (سیاست یا منافقت ملاحظہ ہو)

22 ستمبر کے دن جب انتخابی اصلاحات بل 2017ء سینٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا تو تحریک انصاف کے 7 سینٹرز سینٹ میں موجود تھے، تاہم ذرائع کے مطابق آخری وقت میں جہانگیر ترین کی جانب سے ایک فون کال پر تمام سینیٹرز نے ایوان سے واک آؤٹ کیا اور ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، جس کی وجہ سے حکومت آسانی سے انتخابی اصلاحات بل منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی، اور اب اتمام حجت کے لیے اپنے دو سینٹرز کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں تاکہ عمران خان کی مستقبل قریب میں نااہلی کے خدشے کا تاثر زائل کیا جاسکے۔

سینٹ میں پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینٹر تاج حیدر کی جانب سے بھی اپنے تین سینٹرز رحمان ملک، عثمان سیف اللہ اور سیف اللہ بنگش کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں جس کا سبب انتخابی اصلاحات بل 2017ء کی منظوری کے دن سینٹ سے ان کی غیرحاضری ہے (یہاں بھی منافقت اپنے اونچے ترین منصب پر دکھائی دیتی ہے)۔ پچھلے کالم میں ذکر کر چکا ہوں کہ چونکہ انتخابی اصلاحات بل 2017ء کی شق 203 میں ترمیم پیپلزپارٹی کے سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن کی جانب سے آئی تھی، اس لیے چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی بھی ناراضگی کا تاثر دیتے ہوئے کارروائی ادھوری چھوڑ گئے، جس کے بعد اجلاس کی صدارت مولانا عبدالغفور حیدری نے کی اور یوں مسلم لیگ ن انتخابی اصلاحات بل 2017ء سینٹ سے منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی۔

مشاہد حسین سید (جن کے متعلق ایک حسن ظن ہمیشہ سے قائم ہے) کے بارے میں بھی خبر ہے کہ سینٹ کی عمارت میں موجود ہونے اور بار بار رابطہ کرنے پر بھی وہ ووٹنگ میں حصہ لینے نہیں پہنچے اور ہر بار یہی کہتے رہے کہ بس ابھی پہنچ رہا ہوں۔

اورآخر میں صالحین کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی کیونکہ 22 ستمبر کے دن لالہ سراج الحق کا بھی سینٹ اجلاس میں کہیں اتہ پتہ نہیں تھا۔ ایوان کا وہ رکن بھی غائب تھا جو بقول عدالت عظمی کے ایک ذی وقار جج کے واحد ایسی ہستی ہے جو آئین کے آرٹیکل 62 63 میں دی گئی شرائط پر پورا اترتی ہے، تاہم وہ بھی ایک ایسے اہم دن سینٹ میں موجود نہیں تھے جو انتخابی اصلاحات جیسے اہم ترین بل کی منظوری کا دن تھا۔ (اب اگر اس کو بھی منافقت یا سیاست کا نام دیا جائے تو جماعت اسلامی کے بھائی فتوے دینا شروع کردیں گے)۔

یوں سب نے مل جل کر ایک ایسی ترمیم کو منظور کرانے میں حکومت وقت کا ساتھ دیا جس کو کوئی اون بھی نہیں کر رہا اور اب شوکاز نوٹس جاری ہونے کی دوڑ لگی ہوئی ہے تاکہ اس تاثر کو زائل کیا جاسکے۔

اب آتے ہیں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کی جانب جس کی سب سے زیادہ متمنی پاکستان تحریک انصاف ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ہے، تاہم کسی زمانے میں یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے لیے آگ اور پانی کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن اب سیاسی ضرورت دونوں جماعتوں کو قریب لے آئی ہے۔ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے وفد نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز نائن زیرو کا دورہ کیا اور فاروق ستار سمیت ایم کیو ایم پاکستان کے دیگر رہنماوں سے ملاقات کی، جس دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی تبدیلی اور نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔ ملاقات کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ انتخابات کی شفافیت کے لیے پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی تبدیلی پر اتفاق کیا ہے اور اس حوالے سے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا.

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ایم کیو ایم کے خلاف کی گئی تقاریر کا ریکارڈ اگر دیکھا جائے تو دونوں جماعتوں کا یہ ملاپ کچھ نہیں بلکہ بہت غیر فطری ہے، تاہم جس طرح جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہوجاتا ہے، اُسی طرح آج کل کی سیاست میں بھی سب کچھ جائز ہے، بشرطیکہ اس سے آپ کا مفاد پورا ہوتا ہو۔

تحریک انصاف نے ایک اور پنڈورا بکس بھی کھول دیا ہے اور وہ ہے نئے انتخابات کا مطالبہ۔ دیکھا جائے تو اس وقت میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد بھی ملک کسی آئینی و سیاسی بحران کا شکار نہیں، ایوان صدر میں صدر مملکت موجود ہیں، وزیراعظم، سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ سمیت دیگر آئینی عہدیدار بھی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، تو ایسے میں نئے انتخابات کا مطالبہ کہاں کی دانشمندی ہے، جبکہ حکومت کا وقت بھی کچھ خاص نہیں رہ گیا، اور یہ مسلم لیگ ن کی حکومت کا آخری سال ہے۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ عمران خان کیوں مسلم لیگ نون کو سیاسی شہید کا درجہ دینے پر تلے ہوئے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں ان کی اتحادی جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی ان کے اس مطالبے کی شدید مخالفت کی ہے۔ اپنی بات کا اختتام اس شعر پر کرنا چاہوں گا
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں

Comments

ارشد علی خان

ارشد علی خان

خیبر نیوز سے بطور نیوز اینکر، سب ایڈیٹر، خصوصی رپورٹر وابستہ ہیں۔ دلیل کےلیے دہشت گردی، فاٹا اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */