ایکسٹرا محتاط - محمد فیصل شہزاد

ایک ہلکی سی ٹون نے ہماری توجہ موبائل کی طرف مبذول کرا دی. موبائل نے ہمیں الرٹ کیا تھا کہ چارجنگ صرف 8 پرسنٹ رہ گئی ہے. بے چارہ 24 گھنٹے میں کوئی پندرہ بار تو ہمیں الرٹ کرتا ہی ہے، مگر ہم کم ہی اسے سو فیصد شکم سیر ہونے کا موقع دیتے ہیں. خیر اس سے قبل کہ ہم اپنا موبائل چارجر پر لگاتے، اسی وقت ہمارے دفتر کے ایک ساتھی جو کافی دیر سے موبائل ہاتھ میں لیے بولائے بولائے سے پھر رہے تھے، ہماری میز پر آئے اور بڑی لجاجت سے بولے:
’’میرا موبائل اپنے چارجر پر لگا دیں گے، میں دراصل اپنا چارجر گھر بھول آیا ہوں.‘‘
اوہ! اب سمجھ میں آیا کہ انہیں کسی پل چین کیوں نہیں آ رہا تھا، کیوں کہ ہم نے اکثر ان کے موبائل کو چارج ہوتے ہی دیکھا تھا، بہرحال ہم نے اس خیال سے کہ کوئی ضروری کال کرنی ہوگی اور موبائل بند ہونے والا ہوگا، اپنے موبائل کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے ان کا موبائل لیا اور چارجر سے کنکٹ کر دیا. انہوں نے اطمینان کا یوں گہرا سانس لیا جیسے منوں بوجھ ان کے سر سے اتر گیا ہو۔

کنکٹ ہوتے ہی اسکرین روشن ہوئی اور 76 کا ہندسہ نظر آیا جو چارجنگ کی حد بتا رہا تھا، ہم نے اپنا سر پکڑ لیا اور انہیں کہا کہ اتنا چارج ہوا تو ہے، جبکہ ادھر ہمارا موبائل بند ہونے والا ہے. ان کا چہرہ اول تو بجھ سا گیا، پھر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ لبوں پر نمودار ہوئی اور بولے:
’’وہ … وہ دراصل میں نے کبھی اسے 60 فیصد سے کم نہیں ہونے دیا، عجیب سی الجھن ہونے لگتی ہے!‘‘
جی ہاں! اکثر لوگ ایسے ہی ایکسٹرا محتاط ہوتے ہیں.
٭ اپنے موبائل کو کبھی 80، 90 سے کم پر نہیں آنے دیتے،
٭ شادی ہال میں بلائے گئے وقت سے بھی احتیاطا آدھ گھنٹہ پہلے پہنچ جاتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ دیے گئے وقت سے ڈیڑھ گھنٹے بعد ہی کھانا کھلنا ہے.
٭ ون وے پر بھی احتیاطا دونوں طرف اچھی طرح دیکھ کر ہی راستہ پار کرتے ہیں.
٭ سفر ایک دن کا بھی ہو تو احتیاطا سر درد سے لے کر بواسیر تک اور دستوں سے لے کر شوگر تک کی دوائیں ضروربیگ میں رکھ لیتے ہیں کہ کہیں اچانک ضرورت نہ پڑ جائے. ہوتی انہیں جبکہ صرف خارش ہی ہے!
٭ یہ تو سفری احتیاط کی بات ہوئی. صحت کے حوالے سے بھی اتنے احتیاط پسند ہوتے ہیں کہ ہر چھوٹی بڑی بیماری کی ہر طریقہ ہائے علاج کی دوا اپنے پاس رکھتے ہیں، جیسا کہ ہمارے یہی کولیگ بلامبالغہ صرف کھانسی کے ہر وقت چار سے پانچ ایلوپیتھک، قرشی اور ہومیو سیرپ اپنی الماری میں رکھتے ہیں اور کھانسی ہو جائے تو سب کے ایک ایک چمچ معدے میں انڈیل لیتے ہیں!
٭ رات کو جب کبھی آنکھ کھلتی ہے تو احتیاطا اپنے بچوں کو گن لیتے ہیں کہ پورے ہی ہیں نا.
٭ وضو کرتے وقت احتیاطا چہرے کےساتھ گردن، ہاتھوں کے ساتھ اوپر بازو اور پاوں کے ساتھ پنڈلیاں تک دھو جاتے ہیں.
٭ اسی طرح آخری قعدے میں اک ذرا سے وسوسے کے آنے پر احتیاطا کھڑے ہو کر ایک رکعت زیادہ پڑھ لیتے ہیں.

یہ سب باتیں محض تفنن طبع کے طور پر نہیں عرض کیں، بلکہ خود مختلف احتیاط پسند احباب میں یہ احتیاطیں نوٹ کی ہیں. پھر جب ایسی باتوں میں جہاں احتیاط کی کوئی ضرورت نہیں، احتیاط پسندوں کا یہ حال ہے تو خود ہی سوچ لیجیے کہ جہاں واقعی احتیاط کے مواقع ہوں گے، وہاں احتیاط پسند احتیاط میں کیا کیا نہ مبالغہ کرتے ہوں گے!

Comments

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد کو شوق 10 سال قبل کوچہ صحافت میں لے گیا۔ روزنامہ اسلام اور روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے رہے، طبی میگزین جہان صحت، ہفت روزہ خواتین کا اسلام، ہفت روزہ بچوں کا اسلام اور پیام حق کے مدیر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.