بے روزگاری اور اسلام – شاد محمد شاد

عصرِ حاضر میں عمومی طور پر ہر ملک اور خصوصا اسلامی ممالک بے روزگاری کی مصیبت اور اس كا مقابلہ کرنے کی مشکلات میں مبتلا ہیں۔جدید اقتصادی نظریات کے حامل کئی اداروں نے بےروزگاری اور اس کے اسباب کو سمجھنے اور اس کے لیے علاج دریافت کرنے کی بڑی کوششیں اور تگ ودو بھی کی ہے،لیکن سب بے سود و بے کار ثابت ہوئیں۔مغربی ممالک ان تمام تر کوششوں کے باوجود بے روزگاری کی بھیانک پرچھائیوں سے چھٹکارا حاصل نہ کرسکے اور نہ ہی انہیں بے روزگاری اور اس کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی قدرت حاصل ہوئی۔

جہاں تک اسلامی ممالک کی بات ہے تو جن اسلامی ممالک نے اپنی اقتصادی باگ ڈور مغربی اقتصادی نظریات کے ہاتھوں میں دے رکھی ہے،ان اسلامی ممالک کی حالت مغربی ممالک سے بھی ابتر ہے۔ان کو لیبر مارکیٹ کے بگاڑ اور بے روزگاری کا شدت سے سامنا کرنا پڑا ہے۔ایسے اسلامی ممالک میں طبقاتی فاصلےاور دُوریاں پیدا ہوئی اور لوگوں کے میعارِ زندگی میں گراوٹ اور نقص آیا ہے۔اسلامی ممالک میں مغرب کے اقتصادی طرز و نظریات کو لاگو کرنے والے یہ نہ سمجھے کہ مغرب کی تقلید کبھی بھی مفید ثابت نہیں ہوئی۔مغربی اور اسلامی ممالک کے درمیان اقتصادی اور ذہنی اختلافات اور رغبات و خواہشات کا مختلف ہونا اس بات کے لیے ایک اہم سبب ہے کہ اسلامی ممالک میں مغربی تصورات کو منطبق کرنا جہالت اور تاریکی کی طرف چلنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

اسلامی ممالک کو چاہیے کہ مغرب کی تقلید کے بجائے اپنے لیے الگ اور خاص اقتصادی نہج طے کرلیں،کیونکہ ہر سلامتِ فکر رکھنے والے شخص کو یہ ادراک حاصل ہے کہ بے روزگاری اور مالی واقتصادی بحران سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ اپنا اقتصادی نہج اسلامی خطوط پر استوار کیا جائے۔

بے روزگاری کے اسباب:

1۔شعبہ تعلیم کا ناقص ہونا، جہالت کا پھیل جانا اور لوگوں کو بے روزگاری کے نقصانات سے آگاہ نہ کرنا بے روزگاری کا بنیادی سبب ہے۔

2۔بے روزگاری کے اضافے میں صنعت کے لیے انسانوں کے بجائے جدید مشینری،آلات اور ٹیکنالوجی کا استعمال اور صنعتی اداروں کی سرگرمیوں میں کمی کی وجہ سے روزگار کی فراہمی میں کمی ایک اہم سبب ہے۔

3۔کسی شخص کو اس کی اہلیت وقابلیت کی سطح سے کم سطح کے کام پر لگانا اور جو کام ایک کثیر مقدار کے افراد کے کرنے کا ہوتا ہے،وہی کام لوگوں کو مشقت وتکلیف میں مبتلا کرکے کم اور قلیل افراد سے لینا۔

4۔بے روزگاری کا ایک سبب مہارت کی کمی ہے۔آج کل نوجوان طبقہ جس کسی شعبے کی طرف رجوع کرتے ہیں تو سرسری سی تعلیم حاصل کرکے فوراً نوکری کی تلاش میں لگ جاتے ہیں،حالانکہ کسی بھی شعبہ میں اختصاص اور مہارت نہایت اہم اور ضروری ہے۔

5۔غیر مستقل مزاجی اور کسی ایک جگہ کام نہ کرنا، بلکہ ایک نوکری سے استعفیٰ دیکر دوسری نوکری کی تلاش میں لگ جانا اور اس کو عادت بنالینابھی بے روزگای کا سبب ہے۔

6۔نوجوانوں کو ابتدائی تعلیم کے بعد کوئی بہتر رہنمائی نہیں ملتی کہ مارکیٹ لیول پر کس قسم کی جابز اور بزنس کی مانگ زیادہ ہے اور جس نوجوان کے ہاتھ میں ڈگری آجائے وہ بڑے جاب کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے اور نچلی سطح کی جاب میں عار محسوس کرتا ہے۔

7۔ اپنے علاقے،ملک اور معاشرے کے افراد کے بجائےدوسرے علاقوں اور ممالک کے افراد کو نوکریاں دینا کسی بھی علاقے کے اندر بے روزگاری کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   غیر سودی بینکاری اور حضرت شیخ الاسلام کے خلاف کمپین - محمد احمد

8۔ ان کے علاوہ کساد بازاری،موسموں کا تغیّر،ملکوں کی باہمی جنگیں،سستی وکسل مندی اور والدین کی کمائی پر قناعت اور دیگر عالمی معاشی اسباب بھی بے روزگاری میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

نقصانات:

بے روزگاری کے کچھ نقصانات تو فرد سے متعلق ہیں،مثلاً بے روزگار شخص کو زندگی گزارنے کے لیے آمدنی نہیں ملتی۔حرکت وعمل نہ کرنے کی وجہ سے سستی اور کاہلی کا عادی بن جاتا ہے۔جسمانی و نفسیاتی پریشانی اور ڈپریشن کی وجہ سے مختلف امراض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔نااہلی اور احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے۔اپنی فیملی اور گھر والوں کی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر رہتا ہے اور دوسرے افراد کے لیے بوجھ اور دردِ سر بن جاتا ہے۔

بے روزگاری کا اثر انسانی معاشرے پر بھی ہوتا ہے،مثلا بے روزگاری مصنوعات کی پیداوار میں کمی اور توانائیوں میں خلل کا باعث بنتی ہے۔ معاشرے میں لوٹ مار اور چوری ڈکیتی کا سبب بنتی ہے۔بھیک جیسی لعنت کو پیدا کرتی ہے۔نوجوان طبقہ دوسرے ممالک کی طرف جانا شروع کردیتے ہیں اور بے روزگاری کسی بھی ملک کی ترقی میں رکاوٹ بن کر عالمی سطح پر اس کےاثر ورسوخ اور شہرت کو نقصان پہنچاتی ہے۔

بے روزگاری کا اسلامی حل:

اسلامی کی اقتصادی ومعاشی تعلیمات پر غور کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے جہاں معاشی سرگرمیوں سے متعلق مکمل ہدایات دی ہے،وہیں اسلام نے بے روزگاری کے علاج اور حل کے لیے بھی کئی قوانین اور تعلیمات فراہم کی ہے۔بے روزگاری سے متعلق اسلامی تعلیمات دو قسم کی ہیں:

1۔اقدامی:

اس سے مراد ایسی تعلیمات، طریقے یا علاج ہے جو بے روزگاری کے وقوع سے پہلے ہی اپنانے ضروری ہے،تاکہ بے روزگاری کی مصیبت سِرے سے واقع ہی نہ ہو۔اس قسم کی اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے:

(1)۔اسلام یہ چاہتا ہے کہ مسلمان معاشرے کا فرد اپنی معاشی ضروریات میں دوسروں پر بوجھ بننے کے بجائے خود ہی معاشی کوششیں کرے، بلکہ خاندان کے جو دوسرے افراد کمزورہیں،جیسے عورت اور بچے، ان کی ذمہ داری اور بوجھ بھی یہی شخص اٹھائے۔ اس سلسلے میں قرآن وحدیث میں عمل ومحنت کرنے اور معاش و رزق کے حصول کی کوشش کی ترغیب دی گئی ہے۔تفصیل کے لیے قرآن کی ان آیات کی تفسیر ملاحظہ کی جاسکتی ہے:سورتِ جمعہ،آیت نمبر:10۔سورتِ ملک،آیت نمبر:15۔سورتِ بنی اسرائیل،آیت نمبر:66۔سورتِ حجر،آیت نمبر:20۔سورتِ اعراف،آیت نمبر:10۔

اسی طرح احادیث میں بھی سرورِ دوعالمﷺ نے حلال رزق کمانے کی فضیلت بیان فرماکرترغیب دی ہے۔آپﷺ نے حلال رزق کمانے کو دوسرے درجے کا فرض قراردیا۔ ( المعجم الكبير (10/ 74)حدیث نمبر: 9993)ایک حدیث میں ہے کہ حلال رزق کمانا ایسا ہے جیسا بہادروں سے مقابلہ کرنا اور جس نے حلال کی طلب میں گھر سے دور رات گزاری تو اس کی رات مغفرت کے ساتھ گزری۔( شعب الإيمان (2/ 438)حدیث نمبر: 1177)دوسری جگہ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ اس رزق سے بہتر کوئی رزق نہیں ہے جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھائے۔( صحيح البخاري- (ص: 124)حدیث نمبر: 2072)اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ محترفین(کام کرنے والوں)کو پسند فرماتے ہیں۔( المعجم الأوسط حدیث نمبر: 8934)

(2)۔اسلام نے سخت ضرورت اور اضطراری حالت کے بغیر دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور بھیک مانگنے سے منع فرمایا ہے۔حدیث میں اس پر سخت وعید آئی ہے۔آپﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص باجود قدرت وطاقت کے لوگوں سے بھیک مانگتا ہے وہ قیامت کے دن چہرے پر سوال کا داغ لیکر آئےگا۔( سنن الترمذي (3/ 40)حدیث نمبر: 650)ایک اور مقام پر آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ کسی شخص کے لیےدوسروں سے مانگنے سے یہ زیادہ بہتر ہے کہ وہ رسی لیکر پہاڑ پر جائے اور لکڑیاں کاٹ کر اُسے فروخت کرے،ایسے شخص کے لیے اللہ کافی ہوجاتا ہے۔( صحيح البخاري،حدیث نمبر: 1471)

یہ بھی پڑھیں:   غیر سودی بینکاری اور حضرت شیخ الاسلام کے خلاف کمپین - محمد احمد

2۔دفاعی:

اسلام کی دوسری قسم کی تعلیمات دفاعی ہیں۔یعنی اگرمعاشرہ بے روزگاری کی مصیبت میں مبتلا ہوچکا ہے تو اس سے خلاصی کیسی حاصل کی جائے؟اس کے لیےبھی اسلام نے اہم تعلیمات دی ہیں،مثلا:

(1)۔اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ حکومت بے روزگاروں کو روزگار کے مواقع فراہم کرے۔سرورِ دوعالمﷺ نے جہاں طلبِ حلال کی اہمیت اور مانگنے کی مذمت بیان فرمائی، وہیں آپﷺ نے کئی مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روزگار کے مواقع کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ہے۔اس سلسلے میں یہاں صرف ایک ہی روایت بیان کی جاتی کہ ایک صحابی نےاپنی کسی حاجت کے لیے سوال کیا تو آپﷺ نے اس سے فرمایا کہ تمہارے گھر میں کچھ موجود ہے؟اس نے عرض کیا کہ ہاں،ایک چادر اور ایک پیالہ ہے۔آپﷺ نے دونوں چیزیں منگواکر مجلس میں دو درہم کے عوض فروخت کرکے فرمایا کہ ایک درہم سے گھر والوں کے لیے کھانا لے لو اور دوسرے سے کلہاڑخرید لو،آپﷺ نے خود ہی کلہاڑی کا دستہ لگایا اور صحابی کو لکڑیاں کاٹنے کے کام کا حکم دیا۔جب وہ پندرہ دنوں کے بعد آیا تو دس درہم کماچکا تھا۔( مشكاة المصابيح (1/ 579)حدیث نمبر: 1851)

(2)۔اسلامی تعلیمات سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ زکٰوۃ اور خراج کا نظام درست کرے اور اس سے مستحق لوگوں کی امداد اور بے روزگاروں کے لیے روزگار فراہم کیا جائے۔

(3)۔حکومت کو چاہیے کہ بے روزگاروں اور عاجز لوگوں کو قرض حسنہ فراہم کرے، تاکہ وہ اپنا کوئی کاروبار اور تجارت کرسکے۔اس سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے بیت المال سے عراق کے کسانوں کو زمینیں آباد کرنے اور غلہ اور پیداوار اُگانے کے لیے قرض فراہم کیا تھا۔(الفلاحین فی العراق)

(4)۔جو زمینیں حکومت کی ملکیت ہیں اور بنجر ہیں،بے روزگاروں کو ان زمینوں کے احیاء اور آباد کرنے کی اجازت دی جائے اور جو شخص ایسی زمین میں محنت کرکے اُسے آباد کرے،شرعی حکم کے لحاظ سے وہ اس زمین کا مالک ہوجائےگا۔( سنن أبى داود (3/ 142)حدیث نمبر: 3075)

(5)۔ جو افراد زمین آباد کرنے پر قدرت نہ رکھتے ہوں، حکومت ان کو زمین عطاء اور تحفہ کے طور پر بھی دے سکتی ہے،جسے وہ لوگ کسی اور کے ذریعے سے آباد کرواسکتے ہیں یا بیچ کر رقم حاصل کرکے اپنا کوئی روزگار شروع کرسکتے ہیں۔

(6)۔سودی نظام اور رقم پر رقم لینے کے ناجائز طریقوں اور سودی بینکوں سے توبہ کرلے اور غرروجوے پر مبنی نظام تجارت کی اصلاح کرلے،کیونکہ سود،جوا اور سٹہ معاشی بحران کا ایک بنیادی سبب ہے۔اس کے بجائے اسلامی بینکاری کی ترویج کے لیے کوششیں کرے اور ایسے معاملات کی اہمیت وافادیت اجاگر کی جائے جن کی پشت پر حقیقت میں اثاثہ جات ہوں،جن کو ”Asset based transaction“ کہا جاتا ہے۔