برکس اعلامیہ اور وزیر خارجہ کے بیانات - یاسر محمود آرائیں

چند روز قبل 'برِکس' ممالک کے اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں چین کی جانب سے پاکستان سے اس کے نان اسٹیٹ ایکٹرز کے خلاف کارروائی کے مطالبے کے بعد حکمران جماعت میں اس مسئلہ کی بابت تقسیم واضح نظر آنے لگی اور اس کے سرکردہ رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا.اس کی ابتدا وزیر خارجہ خواجہ آصف کے اس بیان سے ہوئی جس میں انہوں نے نان اسٹیٹ ایکٹرز کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے نام لے کر کہا کہ ہمیں اپنا ہاؤس آرڈر کرنا ہوگا اور لشکر طیبہ اور جیش محمد کے خلاف عملاً کارروائی کرنا ہوگی تاکہ دنیا کو ہم پر اعتماد ہو ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ہم دنیا میں تنہا رہ جائیں گے اور ہمارے دوست بھی ہماری مدد سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ ان کے بیان کی حمایت وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی کی مگر ان کے اس بیان کے خلاف سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار خم ٹھونک کر میدان میں آگئے اور انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ کا یہ بیان ملک دشمنی ہے اور ان کے اس موقف کے ہوتے ہوئے پھر ہمیں دشمنوں کی کیا ضرورت ہے؟

ہمارے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ گئے ہوئے تھے، وہاں بیٹھ کر انہوں نے اپنے ہی ملک میں کارروائی کرنے کے خواجہ آصف کے بیان کی حمایت کردی اور یہ تک خیال نہ کیا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل ان کی جانب سے اس بیان سے پاکستان کی پوزیشن مزید کمزور ہوگی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اقوام متحدہ میں بھارت کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دنیا کی توجہ دلاتے اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت عالمی برادری میں پیش کرتے، انہوں نے خود اپنے ہی خلاف چارج شیٹ بنا کر پیش کردی۔ وہیں عالمی برادری کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے کہ اگر پاکستانی قوم کشمیریوں کی حق خودارادیت کی اخلاقی،سفارتی یا مالی حمایت حمایت کرتی ہے تو یہ کوئی غیر قانونی اقدام نہیں ہے کیونکہ کشمیر ایک تصفیہ طلب علاقہ ہے اور وہاں کی عوام کی پاکستان سے وابستگی بھی دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں اور خود اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے تعین کا حق ملنا چاہیے جو بھارت بزور قوت دبائے بیٹھا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس نہ تو بلوچستان کوئی متنازع علاقہ ہے اور نا اس کی کوئی سرحد انڈیا سے ملتی ہے مگر پھر بھی وہ وہاں شورش برپا کرنے کی کوشش میں رہتا ہے اور اب بھی بلوچستان پر پروپیگنڈے کے لیےکرائے کے افراد کے ذریعے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفاتر کے باہر 150ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرکے مہم چلارہا ہے اور وہاں کے علیحدگی پسندوں کو اپنی سرزمین پر ہر ممکن امداد فراہم کررہا ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں پاکستان کے خلاف افغان حکومت کی جانب سے امریکی سرپرستی میں 20 ہزار افراد پر مشتمل قائم کی گئی نجی ملیشیا پر بھی اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران توجہ مبذول کرانا چاہیے اور بتانا چاہیے کہ ہم تو خود 'نان اسٹیٹ ایکٹرز' کی دہشت گردی کا شکار ہیں اور اپنے حصے کا کام ہم پہلے ہی بہت کرچکے اور کسی کے مطالبے پر مزید ہم اپنے شہریوں کو پابہ زنجیر نہیں کرسکتے اب دنیا کی باری ہے کہ ہمارے لیے 'ڈو مور' کرے اور اپنے اپنے دہشت گردوں کو لگام دے۔

ہمیں ایک بار اچھی طرح یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لینی چاہیے کہ پاکستان کو جس قدر چین کی ضرورت ہے اس سے کہیں زیادہ چین کو ہماری ضرورت ہے۔ چین کی جانب سے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ 62ء کی چین انڈیا جنگ کے بعد بڑھایا گیا تھا کیونکہ اس جنگ کے بعد چین کو اندازہ ہوگیا تھا کہ بھارت جیسے پڑوسی کے ہوتے ہوئے انہیں بھارت کے پڑوس میں اس کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط اتحادی کی ضرورت ہے۔ اس لیے اس بات سے ہرگز گھبرانے کی ضرورت نہیں کہ چین ہماری مدد سے ہمارے کسی اندرونی مسئلے کی وجہ سے ہاتھ کھینچ لے گا، بلکہ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ہمیں چین کو اپنی ناپسندیدگی کا پیغام پہنچانا چاہیے کہ یہ ہمارا داخلی معاملہ ہے اور اس پر ہم کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ چین کو یہ بھی یاد کرانا چاہیے کہ ہم محض اس کی دوستی کی خاطر سنکیانگ میں اپنے ہم مذہب بھائیوں پر ہونے والی زیادتیوں پر اتنا عرصہ خاموش بیٹھے رہے ہیں تو چین کو بھی ہماری داخلی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے اور وہیں چین کو بیک فٹ پر لانے کے لیے ہمیں اس سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ مسلم کشی میں مصروف آنگ سان سوچی حمایت فی الفور بند کرے۔

Comments

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں "باب الاسلام" اور صوفیوں کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔حافظ قرآن ہیں اور اچھا لکھنے کی آرزو میں اچھا پڑھنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.