قصہ ایک محسن کا - فضل ہادی حسن

ایک ایسی تنظیم کا ذکر آج ضروری سمجھتا ہوں جس کے بارے میں دینی پس منظر رکھنے والوں کو آگاہی تو ہو گی لیکن معاشرہ کا عام پڑھا لکھا طبقہ، بشمول سیکولر و لبرل، شاید کہ اس تنظیم کے بارے میں جانتا ہو۔ ایک ایسی تنظیم جس نے ایک طرف دینی مدارس کے طلباء کو محدود سوچ اور فرقہ پرستی و شخصیت پرستی کے حصاروں سے نکال کر امّتِ واحدہ کا تصوّر دیکر فکر و ذہن کی وسعت کو بلندیوں پر پہنچا دیا تو دوسری طرف اس مادّہ پرستانہ اور تعصّب زدہ دور میں دین و دنیا کا حسین امتزاج بھی دے دیا۔

10 محرم الحرام 1395ھ مطابق 31 جنوری1975ء کو لاہور میں وجود آنے والی تنظیم "جمعیت طلبہ عربیہ" کا مقصد اور طریق کار کچھ یوں ہے:

1۔ طلبہ کو اسلام کا تحقیقی علم حاصل کرنے اور اس کو عملاً اپنانے کی دعوت دینا۔

2۔ دینی مدارس کے ایسے طلبہ جو عقائد اسلام کے تحفظ اور قرآن و سنت کے مطلوبہ انقلابِ امامت کا جذبہ رکھتے ہوں، جمعیت کے تحت منظم کرنا۔

3۔ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان سے وابستہ طلبہ کے لیے اسلام اور جدید علوم کے گہرے مطالعے، اخلاق و کردار کی تطہیر و تعمیر، تحریر و تقریری، ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے فروغ کا موثر انتظام کرنا۔

4۔ اختلافی مسائل میں طلبہ کے اندر اعتدال پیدا کرنا اور انہیں فرقہ واریت، شخصیت پرستی اور سیاسی اور علاقائی تعصبات سے بالاتر رکھتے ہوئے انَّمَا الْمُؤْمِنُوْنََ اِخْوَۃٌ کا مصداق بنانا اور اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے منظم ہر اول دستہ بنانا۔

5۔ پاکستان میں نظامِ تعلیم کو مکمل طور پر اسلامی تقاضوں کے مطابق بنانے کی جدوجہد کرنا اور مدارسِ عربیہ کے طلبہ کے جائز مطالبات اور مسائل حل کرانے کی بھرپور کوشش کرنا۔

واضح طریقہ کار پر کاربند اس تنظیم کو اپنا محسن سمجھتا ہوں۔ مدراس میں مجموعی طور پر جانے والے طلباء ایک طرف دین و دنیا کی تفریق اور دینی و عصری علوم کی تقسیم کا شکارہوتے ہیں تو دوسری طرف عصری ضروریات اور حالات سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے معاشرہ میں پذیرائی حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ایک دینی مدرسے کے قابل اور ذہین طالب علم آرزو و تمنّا جہاں علوم و فنون پر دسترس حاصل کرکے اساتذہ کا اعتماد حاصل کرنا ہوتی ہے، وہیں اس اعتماد کے باعث مدرسے میں درس و تدریس اس کے لیے ایک "خواب" بن بھی جاتی ہے۔ یوں قابل طلبہ کا بڑا حصہ اس مقابلہ بازی کی نذر ہوجاتے ہیں۔ نصابی کے ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کا تصور تو ماضی قریب تک مفقود تھا، جسے جمعیت طلبہ عربیہ نے حقیقپ کا روپ دینے میں دینی مدارس کے طلبہ کی بڑی مدد کی ہے۔ بلاشبہ دینی مدارس میں قابلیت اور ٹیلنٹ کی ایک بڑی کھیپ ہوتی ہے لیکن دین داری، اکابرین اور اعتماد کے نام پر یہ ٹیلنٹ "تقریباً" ضائع بھی ہوجاتا ہے۔ البتہ حالات کا تقاضہ اور عصرِ حاضر کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے مدارس اور طلبہ جدید علوم اور معاشرہ کے ساتھ ہم آہنگی ہونے لگے جو کہ ایک خوش آئند امر ہے۔

مسلک پرستی ہو یا فرقہ پرستی، تعصب ہو یا شخصیت پرستی، بدقسمتی سے یہ تمام چیزیں احترام اور عقیدت کے نام پر دینی طبقہ کو محدود کرنے، باہمی اختلافات کا ذریعہ اور اسلام کے لیے زہر قاتل ہیں۔ اس حوالے سے میں جمعیت طلبہ عربیہ کا حصہ رہنے اور زیر تربیت رہنے پر فخر کرتا ہوں۔ میرا تعلق بے شک کسی جماعت سے ہو لیکن شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی، اور اہل حدیث سب کے ساتھ احترام کا رشتہ اور تعلق قائم ہے۔ فروعی اختلاف میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ فقہی اختلاف کو میں علمی تناظر میں دیکھتا ہوں جہاں فتوے بازی یا ضال و مضل جیسی لایعنی بحثوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

تنقید میں شائستگی اور اظہار آزادی رائے کا جامع تصوّر اس تنظیم کا کارنامہ اور احسان ہے، جس نے تحمل و برداشت اور رواداری کا دامن کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔ معاشرے کے مختلف شعبہ ہائے حیات اور طبقوں کے ساتھ واسطہ پڑنے اور تعلق رکھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جمعیت طلبہ عربیہ نے اتفاق و اتحاد کا درس دیا ہے، وہی تعصّب و نفرت سے دور بلاتفریق مذہب، مسلک اور عقیدہ ہر فرد کا احترام سکھا دیا۔ اپنی سوچ اور فکر کے زاویوں کو دیکھ کر میں کہہ سکتا ہوں کہ اس تنظیم نے یقینا مجھے احترامِ انسانیت کا بھولا ہوا سبق یاد کروانے میں مدد دی۔

(دینی مدارس کی تنظیم جمعیت طلبہ عربیہ کے 45 ویں یوم تاسیس کے موقع پر لکھی گئی )

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.