دائیں اور بائیں بازو میں بڑھتی خلیج، ایک گزارش - حافظ محمد ادریس

آغازِ تحریر میں وضاحت کرتا چلوں کہ دائیں بازو سے میری مراد اسلام پسند اقامتِ دین/غلبہ دین کا حامی و خواہشمند طبقہ ہے جبکہ بائیں بازو سے اسلام بیزار یا سیکولرازم و لبرل ازم اور دوسرے الفاظ میں انسانوں پر "انسان ساختہ" نظام کے غلبے کا حامی و خواہشمند طبقہ مراد ہے اور دوسری وضاحت یہ کہ لفظِ خلیج سے مراد دائیں اور بائیں بازو یا اسلام اور غیرِ اسلام میں فرق نہیں ہے کیونکہ صحیح اور غلط، حق اور باطل، رائٹ اور لیفٹ (لیفٹ کو "رانگ" پڑھا جائے) میں فرق ہونا تو ضروری ہے بلکہ یہ تو ایمان کا تقاضا ہے کہ اگر اسلام اور غیرِ اسلام میں فرق ہی مٹ جائے تو پھر یہ سارا جھگڑا کس بات کا؟ خلیج سے میری مراد مسلمان معاشروں میں بالعموم اور وطنِ عزیز میں بالخصوص دائیں اور بائیں بازو کے طبقات میں بڑھتا ہوا فاصلہ اور نفرت اور کم ہوتا ہوا رابطہ اور افہام و تفہیم کا ماحول ہے۔

مقصدِ تحریر اسی پہلو کی جانب توجہ مبذول کروانا ہے۔ جیسا کہ گزارش کی کہ ہمارے ہاں مذکورہ دونوں طبقات میں رابطہ کم ہو رہا ہے جبکہ فاصلہ بڑھ رہا ہے، نفرت اور تعصب بڑھ رہا ہے اور برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ بحث و مباحثے میں دلائل تو شاذ شاذ ہی ملتے ہیں لیکن طعن و تشنیع اور طنز کے تیر ہمہ وقت برسنے کو تیار رہتے ہیں۔ افہام و تفہیم، مروت اور وضعداری ڈھونڈے سے ہی ملتی ہے۔ اخلاقی بحران ہے کہ بڑھتا ہی نظر آتا ہے۔ ویسے تو یہ کیفیت دونوں طرف برابر ہی ہے لیکن میرے خیال میں اس کی زیادہ ذمہ داری دائیں بازو یعنی ہم اسلام پسندوں پر عائد ہوتی ہے، اس لیے کہ اللہ کے دین کو انسانیت کے مسائل کا واحد حل اور عدل و انصاف اور رحمت کا واحد منبع ثابت کرنا ہماری اور ہماری ہی ذمہ داری ہے، انسانیت کے سامنے اس کو جبر، بداخلاقی اور طنز کے ساتھ ہر گز ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ اس کے لیے محسوس ہوسکنے والی ہمدردی، خیر خواہی، درد اور تڑپ کا ہونا ضروری ہے۔ اس نظام کو لے کر آنے والے آقائے دوجہاں، رحمة اللعالمینﷺ کے اسوۂ حسنہ سے تو یہی نظر آتا ہے۔ کیا محبوبِ خدا نے مخلوق کو ہمہ جہت محبت سے نہیں نوازا؟ کیا آپ کی ہر بات مدلّل اور دلوں میں اتر جانے والی نہیں ہوتی تھی؟ کیا نفرت، دشمنی، بائیکاٹ، گالیوں اور تشدد کے جواب میں سید الکونینﷺ نے کبھی صرف طنز کا سہار لیا یا کسی اس کی تعلیم دی؟ کیا اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کو ان الفاظ میں نہیں پکارا کہ "آپ ان کے غم میں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال لیں گے"؟

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اپنے دامن میں دلائل اور خیرخواہی کی بجائے نفرت اور طنز ہی پاتے ہیں، اور یہ حال طرفین کا ہے۔ اعلیٰ ظرفی، مروّت اور وضع داری خال خال ہی نظر آتی ہے۔ سیکولر و لبرل طبقہ ہر مسئلے اور خرابی کا ذمہ دار ملّا اور دین کو قرار دے کر بغلیں بجاتا ہے حالانکہ ہمارے موجودہ مسائل کا سبب اسلام ہے ہی نہیں۔ جواب میں دائیں بازو کی طرف سے زیادہ تر یہی انداز نظر آتا ہے کہ جب کوئی واقعہ اپنے حق میں نظر آیا تو فوراً بیان داغ دیا کہ اب "سیکولرز کے ماتم کا وقت ہوا چاہتا ہے"، پھر یہ کہ اپنی وابستگیوں یا موقف کو مقدم اور حق بات کو مؤخر رکھا جاتا ہے، دائیں اور بائیں دونوں اطراف کے لکھاریوں اور دانشوروں کا، خصوصاً سوشل میڈیا پر، اوّل و آخر مقصد یہی نظر آتا ہے کہ مدمقابل کی بات کو ہرصورت غلط ثابت کرنا ہے اور اس کوشش میں بارہا اصل موضوعِ بحث اس مباحثے کے گردوغبار میں کہیں بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔

گستاخی معاف ہونے کی امید کے ساتھ اسی تناظر میں کچھ گزارشات دست بستہ پیشِ خدمت ہیں:

۱- بحث مباحثہ کرتے ہوئے ہر آن یہ ارشادِ ربّانی پیشِ نظر رہے: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور ان کے ساتھ احسن انداز سے مجادلہ کرو"

۲۔ دین خیر خواہی کا نام ہے لہٰذا مخاطب غیرمسلم ہو یا کوئی مسلمان سیکولر یا لبرل ہو، ہماری گفتگو، کردار اور بحث میں مخاطب کو اپنے لیے خیرہواہی و ہمدردی محسوس ہونی چاہیے۔

۳۔ ہم اپنے کردار، تحریر اور تقریر سے اسلام کو انسانیت کے مسائل اور مشکلات کا واحد حل کے طور پر پیش کریں، انداز جدید ذہن کی سطح کے مطابق ہو۔

۴- ہر فرد اور ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا اور بغیر سوچے سمجھے تو بالکل نہیں۔

۵۔ ہمارے الفاظ اخلاقیات کے دائرے کو کسی صورت پار نہ کریں۔

۶۔ ہم میں سے ہر فرد دانشور یا سکالر نہیں ہے اور نہ ہی ایسا ہونا ممکن ہے، لہٰذا ضروری نہیں کہ ہر بات میں مداخلت کی جائے۔ اگر کسی فرد کو زیرِ بحث موضوع سے متعلق کافی معلومات نہ ہوں تو کسی صاحبِ علم سے رجوع کیا جائے یا خاموش رہ لیا جائے۔