پانی زندگی ہے - قدسیہ ملک

ابھی چند ہفتے قبل ہی کی بات ہے کہ صحت و صفائی سے متعلق سپریم کورٹ کے قائم کردہ کمیشن کے رپورٹ پیش کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ کراچی کو فراہم کیے گئے پینے کے پانی کے 33 نمونوں میں انسانی فضلہ پایا گیا ہے بلکہ شہر کے 90 فیصد پانی کے نمونے پینے کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ یہ پانی نہ صرف انسان کے لیے زہر قاتل ہے بلکہ اس سے نہانے سے جلدی امراض بھی پھیل رہے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، 95 فیصد گندا پانی اور 75 فیصد صنعتی فضلہ بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے دریاؤں اور ندی نالوں میں بہا دیا جاتا ہے اور یہی صاف پانی کے ذخائر پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ ایک لاکھ 25 ہزار افراد گندے پانی کی وجہ سے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ ہر تین سیکنڈ میں ایک بچہ پانی کی مناسب اور بروقت رسد نہ ہونے کی وجہ سے مر جاتا ہے۔ پاکستان میں 25 سے 30 فیصد اموات معدے اور آنتوں کی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں جن کا بنیادی سبب گندا پانی ہے۔ ان امراض میں ٹائیفائیڈ، انتڑیوں کی سوزش، نظام ہاضمہ کے مسائل، گیس، معدے کا السر، اپھارہ، اسہال اور جوڑوں کے درد جیسے امراض شامل ہیں جو مہلک بھی ہو سکتے ہیں۔

پانی ایک عظیم نعمت ہے۔ انسانی و حیوانی حیات کا دارومدار پانی پر ہے۔ زمین کا بہت بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہے جن میں سات بڑے سمندروں کے ساتھ ساتھ 27 اہم جھیلیں، 41 بڑے دریا اور 32 مشہور آبشاریں بھی ہیں۔ اللہ کی قدرت سے سمندر کے اندر سرد اور گرم روئیں بہتی ہیں، یعنی ایسے دریا جن کے کنارے بھی پانی کے ہی ہوتے ہیں۔ خلیجی رو ان میں سے ایک بڑی گرم رو ہے جو خط استواء کے اردگرد متحرک رہتی ہے۔ اس کی کئی شاخیں سمندروں میں رواں دواں ہیں اور یہ موسموں اور بارشوں پر اہم اثرات ڈالتی ہیں۔ پھر زمین پر پہاڑوں سے پھوٹنے والے چشمے اور پگھلتے ہوئے گلیشیئرز سے نکلتا پانی بھی اہم آبی ذریعہ ہیں۔

ماہرین طب کے مطابق روزانہ آٹھ سے دس گلاس صاف پانی، مناسب ورزش اور متوازن خوراک بہت سی بیماریوں سے نجات دلا سکتا ہے۔ خود انسانی جسم کا دو تہائی حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ ایک عام انسان کے جسم میں 35 سے 50 لیٹر تک پانی ہوتا ہے۔ صرف دماغ ہی 85 فیصد پانی پر مشتمل ہے۔ انفیکشن سے لڑنے والے محافظ خلیے خون میں فر کرتے ہیں جو بذات خود 83 فیصد پانی ہے۔ یہاں تک کہ جسم کے ہر خلیے میں موجود پانی سے ہی جسم کے تمام نظام چلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جسم میں پانی کی کمی سےبےپناہ نقصانات ہوتے ہیں جن میں چکر آنا،سر درد اور بھاری پن،تھکن اور کمزوری، نظر میں کمی و دھندلاہٹ،منہ کی خشکی اور بھوک کی کمی،قوت سماعت میں کمی،نبض کی رفتار میں اضافہ،سانس کا پھولنا، چال و رفتار میں لڑکھڑاہٹ، پیشاب کی بار بار حاجت،ذیابیطس،دل کی بیماریاں اور ہائی بلڈ پریشر شامل ہیں۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ ہماری بیشتر تکالیف کا تعلق ناکافی غذا سے نہيں بلکہ ناکافی پانی پینے سے ہے۔ یہاں تک کہتے ہیں کہ حسب ضرورت پانی نہ پینا دل کے لیے اتنا ہی نقصان دہ ہے، جتنا کہ تمباکو نوشی۔ جو افراد پانی کی جگہ مشروبات، چائے اور کافی استعمال کرتے ہیں، ان میں بھی دل کے دورے کے خطرات دوگنے ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں صاف پانی کے استعمال سے اسہال، معدے اور آنتوں کے بیشتر مسائل اور جراثیم سے پھیلنے والی بیماریوں سے 50 فیصد تک بچاؤ ممکن ہے۔

لیکن یہ تمام فوائد محض صاف پانی سے ممکن ہیں اور یہ اس وقت سب سے بڑا سوال ہے کہ صاف پانی کہاں سے میسر ہو؟ یہی وجہ ہے کہ پینے کے صاف پانی کی عدم موجودگی اور بڑھتی ہوئی قلت نئے عالمی مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ محکمہ ماحولیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر اظہارالحق کے مطابق مستقبل میں جنگیں پانی کے مسئلے پرہوا کریں گی۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور پھیلتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے پانی پر جنگوں کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ اس کا مشاہدہ ہم آئے روز بھارت کی آبی دہشت گردی کی صورت میں کر رہے ہیں، جو سندھ طاس معاہدے کے برخلاف کشمیر میں ڈیم بنا کر پاکستان کو قحط سالی کا شکار کرنا چاہتا ہے اور یہی نہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ پانی چھوڑ کر ہمیں سیلابی کیفیت سے بھی دوچار کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر کئی وجوہات ہیں جن کی بناء پر پاکستان میں مستقبل کا منظرنامہ کچھ شفاف نہيں دکھائی دیتا۔ اسی سے اندازہ لگالیں کہ 1956ء میں پاکستان میں فی کس پانی کی فراہمی 5650 مکعب میٹر تھی جو گھٹتے گھٹتے 1997ء میں 5014 میٹر رہ گئی۔

اس جدید دور میں بھی دنیا میں ایک ارب 20 کروڑ افراد ایسے ہیں جنہیں صاف پانی میسر نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملے کی سنگین نوعیت کو سمجھا جائے اور نئے آبی ذخائر کی تعمیر، موجودہ ذخائر کی حفاظت، بارش اور ندی نالوں کے پانی کو صاف اور محفوظ بنانے، صنعتی فضلے کو آبی ذخائر میں جانے اور شہری نالوں کے پانی کو بغیر ٹریٹمنٹ کے سمندر میں پھینکنے سے روکنے اور ہر شہری تک صاف پانی کی رسائی کو ممکن بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں کیونکہ مستقبل کے لیے یہی ایک مضبوط، صحت مند اور مستحکم معاشرے کی بنیاد ہوگی۔

Comments

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں ایم فل سال اوّل کی طالبہ ہیں۔ مختلف رسائل، اخبارات اور بلاگز میں لکھتی ہیں۔ سائنس، تعلیم، سماجی علوم، مذہب و نظریات دلچسپی کے ایسے موضوعات ہیں جن پر آپ قلم اٹھاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.