بیوی کا انتخاب - اَشفاق پرواز

نکاح سے پہلے لڑکی کے دیکھ لینے کو علماء نے مستحب لکھا ہے، کیونکہ یہ پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ لڑکی پسند آگئی تو یہ ان کے لیے پوری زندگی کے لیے خوشی کا باعث ہوگا اور اگر نہ دیکھا اور خدا نخواستہ بعد میں وہ پسند نہ آئی تو آپس میں ناچاقی اور زندگی تلخ ہوجائے گی۔

رفیقہ حیات کاانتخاب ایک اہم ترین مرحلہ ہوتا ہے، جس میں خوب باریک بینی سے کام لینا چاہیے۔ شریعت کے بتلائے ہوئے طریقہ سے استخارہ بھی کیا جائے۔ ازدواجی زندگی کا بندھن کمزور پڑنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ رشتہ کرنے میں بڑی عجلت اور جلد بازی سے کام لیا جاتا ہے اور کسی قسم کی چھان بین اور جستجو نہیں کی جاتی۔ اسلام رشتہ کرنے میں دیر نہ کرنے کا حکم ضرور دیتا ہے مگر اس کامطلب یہ نہیں کہ آنکھیں بند کر کے جہاں بھی ہو، جیسے بھی ہو رشتہ کر دیا جائے۔ بلکہ مناسب دینی و اخلاقی چھان بین کے بعد ہی رشتہ طے کرنا عقلی اور دینی تقاضاہے۔چٹ منگنی پٹ بیاہ کی صورتوں سے بہر صورت بچنا چاہیے۔فضول شرائط و اہداف اور خود ساختہ غیر ضروری معیارات مقرر کرنا مناسب نہیں۔رشتہ پر رشتہ نہ بھیجا جائے۔ جس لڑکی کے لیے رشتہ کا پیغام بھیجا جارہا ہو وہاں یہ دیکھ لینا چاہیے کہ اس کا رشتہ کہیں طے نہ ہوا ہویا کسی اور سے لڑکی نکاح تو نہیں کرنا چاہتی۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ فرماتے ہیں کہ : میں نے ایک لڑکی کو رشتہ کا پیغام دینے کا ارادہ کیا، اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کو دیکھ بھی لیا؟ عرض کیا : نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اس کو دیکھ لو، کیونکہ یہ تمہارے درمیان محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔(ترمذی)

حضور ﷺ نے فرمایا کسی لڑکی سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے۔ اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسب نسب کی وجہ سے، اس کے دیندار ہونے کی وجہ سے، اس کے حسن و جمال کی وجہ سے، لیکن دیکھو تم دیندار عورت سے نکاح کرنا۔ لڑکی کے انتخاب کے وقت جو صفات مد نظر رکھنی چاہئیں ان میں سب سے اہم صفت نیک اور دیندار ہونا ہے۔حضور ﷺ نے شادی کے خواہاں حضرات کی اس جانب رہنمائی فرمائی کہ وہ دینداری کا انتخاب کریں تاکہ عورت اپنے شوہر اور بچوں کا مکمل حق ادا کر سکے اور اسلامی تعلیمات اور نبیﷺ کے ارشادات کے مطابق گھر کا نظم و نسق چلا سکے۔اس حدیث کا یہ مطلب ہر گز بھی نہیں ہے کہ خوبصورتی اور حسن و جمال کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ نیا رشتہ تلاش کرتے وقت محض خوبصورتی کو سب کچھ نہ سمجھا جائے۔ جس سے نکاح کیا جائے، معلوم کر لینا چاہیے کہ اس کا مزاج کیسا ہے؟ بد مزاج عورت جھگڑالو اور ناشکری ہوتی ہے جس سے زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ایک اچھی صفت یہ ہے کہ عورت جوان اور کنواری ہو۔ اس میں بہت ساری حکمتیں اور فائدے ہیں۔ایسے رشتوں میں میاں بیوی کو ایک دوسرے سے زیادہ محبت ہوگی کیونکہ شادی شدہ عورت پہلے ایک مرد دیکھ چکی ہوتی ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہی پہلا مرد اس کے دل و دماغ پر حاوی رہے اور دوسرے شوہر میں وہ پہلے کی سی الفت نہ پائے، جس کی وجہ سے دوسرے کے لیے اس کے دماغ میں جگہ نہ بن سکے۔

ابن ماجہ کی حدیث ہے : تم غیر شادی شدہ عورتوں سے شادی کرو، اس لیے کہ وہ شیریں دہن، پا ک و صاف، رحم والی، کم دھوکہ دینے والی اور تھوڑے پر قناعت کرنے والی ہوتی ہیں۔ پہلے یہ نہ پوچھا جائے کہ ہونے والی بیوی نے کس درس گاہ میں تعلیم پائی ہے بلکہ پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ اس کی پرورش کس گھرانے میں ہوئی ہے۔نکاح کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے بیج بونے والا۔ اس لیے انسان کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کہاں بیج ڈال رہاہے۔ جیسا بیج ہوگا ویسا ہی فصل ہوگا۔

رسول اللہ ﷺ نے نیک عورتوں سے نکاح کی ترغیب دیتے ہوئے فرما کہ ایک مومن کے لیے خدائے تعالیٰ کے تقویٰ کے بعد نیک بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ اگر وہ اسے کسی بات کا حکم دیتا ہے تو وہ اس کی تعمیل کرتی ہے اور اگر اسے دیکھتا ہے تو اسے خوش کرتی ہے اور اگر اس پر قسم کھاتا ہے تو اس کی قسم پوری کرتی ہے اور اگر اسے چھوڑ کر کہیں جاتاہے تو اس کی غیر حاضری میں اس کی اور اس کے مال کی حفاظت کرتی ہے (ابن ماجہ)۔ نیز فرمایا : چار چیزیں خوش بختی کی علامت ہیں، نیک بیوی اور بڑا گھر، نیک پڑوسی اور آرام دہ سواری۔ اور چار چیزیں کم بختی کی علامت ہیں : بری عورت اور تنگ گھر، برا پڑوسی اور بری سواری۔

حسن انتخاب کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مرد جس لڑکی سے شادی کر رہا ہو، اس کے مشاغل و مصروفیات کے بارے میں معلوم کر لے۔ بعض حضرات کا حال یہ ہوتا ہے کہ بات طے کرتے وقت وہ لڑکی کے لیے مختلف شرائط وضع کردیتے ہیں۔ جیسے کہ میری بیوی ڈاکٹر ہونی چاہیے یا استانی ہونی چاہیے یا ملازم پیشہ ہو۔ یہ شرائط وضع کرتے وقت یہ حضرات بھول جاتے ہیں کہ ان شرائط پر ٹیکس بھی لاگو ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر کا کام انتہائی مشکل اور کٹھن ہوتا ہے اور اس کا سارا وقت لے لیتا ہے۔ ڈاکٹر عورت کو ایک ایسے شوہر کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی مصروفیات پر صبر کرے اور گھر کے کام کاج میں اس کی مدد کرے۔ مدد تو کرنا ہی پڑے گا کیونکہ انتخاب آپ ہی نے کیا ہے۔

اسی طرح سے دوسرے شعبوں کا قیاس کر لیں اور سمجھ لیں کہ ہر پیشے کا ایک ٹیکس ہے جو آپ کو آگے چل کر ادا کرنا ہے۔ اس طرح سے بیوی کو بھی شوہر کا انتخاب کرتے وقت اس بات کو سمجھ لینا چاہیے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کی مصروفیات اور مشاغل کے بارے میں معلومات حاصل کر لیں اور اس کے عواقب و نتائج کو بھی سمجھے پھر فیصلہ کر لے کہ اسے یہ لڑکی یا لڑکا قبول کرنا چاہیے کہ نہیں۔اور اگر قبول کر ے تو بعد میں اس کے نتائج پر بھی صبر و تحمل سے کام لے۔

Comments

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز ٹنگمرگ، مقبوضہ کشمیر کے جواں سال قلم کار ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی اخبارات میں ان کے کالم شائع ہوتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھنے والوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.