اقبال کی شخصیّت میں تنوّع یا تضاد؟ - شہباز بیابانی

اقبال ایک ہمہ گیر شخصیت ہیں، انہوں نے اپنے کلام میں زندگی کے ہر شعبے پر تنقید کی ہے۔ تنقید کا مطلب کسی چیز کو صرف رد کرنا نہیں بلکہ اس کو پرکھنا ہوتا ہے۔ اور تنقید کے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس چیز پر تنقید کی جائے اس کے اندر داخل ہوکر اس کو خوب الٹ پلٹ کر دیکھا جائے اس کے بعد اس پر کوئی رائے قائم کی جائے۔ اقبال صرف امیجنری شاعر نہیں ہیں، انہوں نے شرق و غرب کے علوم پڑھے تھے اور تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا تھا ان کی نظر زندگی کے ہر شعبے پر تھی اوروہ عمیق تجربے اور خداداد سوجھ بوجھ کی بناء پر تنقید کرتے تھے۔

اقبال کی شخصیت میں تنوع کی وجہ سے لوگ ان کو سمجھنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ اقبال نے ہر چیز یا شخصیت میں جو اچھے پہلو دیکھے ہیں ان کی تعریف کی ہے اور اسی چیز یا شخصیت میں جو بری خصلتیں ہیں ان کی مذمّت بھی کی ہے۔ مثلاً صوفیوں پر تنقید بھی کی ہے اور کسی مردِ مومن کے غلام اور مرید بننے کی تاکید بھی کی ہے۔ لیکن اس میں اقبال تضاد کا شکار نہیں ہے کیونکہ صوفی دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک حقیقی اور ایک نقلی۔ نقلی صوفیوں کے بارے میں کہتے ہیں

قم باذن اللہ کہہ سکتے تھے جو، رخصت ہوئے

خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن

لیکن خودی کی تربیت کے لیے اورباطن کی صفائی حاصل کرنے کی ضرورت کی وجہ سے وہ تصوّف کا ساری اردو و فارسی شاعری میں ذکر کرتے ہیں۔ وہ شعیب و شبانئ شب و روز کی تلقین کرتے ہوئے اپنے نظم " خودی کی تربیت" میں کہتے ہیں:

یہی ہے سرّ کلیمی ہر اک زمانے میں

ہوائے دشت و شعیب و شبانئ شب و روز

اقبال نے نئی تہذیب کی تعلیمی نظام پر تنقید بھی کی ہے، مثلاً

آہ! مکتب کا جوان گرم خوں

ساحر افرنگ کا صید زبوں

اور

اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم

ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

لیکن اگر کسی کی خودی مضبوط ہو اور جوہر میں کلمہ طیبہ اور قوی ایمان ہو تو یہ بھی کہا ہے کہ

جوہر میں ہو لا الہ تو کیا خوف

تعلیم ہو گو فرنگیانہ

اسی طرح مغرب کی اس مادّی ترقی کی مذمت کی ہے جو روحانیّت سے عاری ہے:

نہ کر افرنگ کا اندازہ اس کی تابناکی سے

کہ بجلی کے چراغوں سے ہے اس جوہر کی براّقی

دوسری طرف علم و فن کے بدولت حاصل کیے گئے مغرب کی قوت کی تعریف کی ہے کیونکہ قوت حاصل کرنا جس طرح مغرب والوں کے لیے ضروری ہے اس سے زیادہ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے، تو فرماتے ہیں

قوتِ افرنگ از علم و فن استا

از ہمیں آتش چراغش روشن است!

ترجمہ: مغربی ملکوں کی قوّت علم و فن سے ہی ہے اور ان کا چراغ اسی آگ سے روشن ہے۔

اقبال نے مغربی جمہوریت کی سخت تردید کی ہے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس میں چند تبدیلیاں کرنا ضروری ہے اس کے بعد یہ اسلامی شورائی نظام کی مماثل ہو جائے گی۔ وہ کہتے ہیں

گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کارے شو

کہ از مغز دو صد خر فکر انسانے نمی آید

لیکن جو لوگ اس معاملے میں راہ راست پر تھے ان کو لیڈر مان کر اوراس کی جماعت میں فعّال کردار بھی ادا کیا، میری مراد مسلم لیگ اور جناح صاحب سے ہے۔

ایک طرف اقبال وطن کی مٹی سے اپنی محبت کا اظہار بڑے جذباتی انداز میں کرتے ہیں جبکہ دوسرے طرف وطن کو سب سے بڑا بت بھی کہتے ہیں، ملاحظہ کیجیے " ترانۂ ہندی" " ہندوستانی بچوں کا قومی گیت" وغیرہ۔

اس قسم کے ترانے گانے کے کچھ عرصہ بعد اقبال اس کے بر خلاف یہ کہنے لگے:

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے

اور

چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا

مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا

یہاں پر جو تضاد نظر آتا ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ ابتدا میں دوسرے بعض لیڈروں کے طرح اقبال بھی نیشنلسٹ ذہنیت رکھتے تھے اور ہندو-مسلم اتحاد پر زور دیتے تھے لیکن جب حالات نے ثابت کر دیا کہ ہندو مسلم اتحاد ناممکن ہے اور یہ کہ انگریز وطنیت کو ایک سیاسی نظریے کے طور پر مسلمانوں میں پھیلا رہا ہے اور ان کو ملکوں اور گروہوں میں تقسیم کر رہا ہے تو پھر انہوں نے اس قسم کی شاعری کو 'یو ٹرن' دیا اور وطنیت کو بطور سیاسی نظریے کے ردّ کر دیا۔ لیکن اس طرح کرنے سے انہوں نے حب الوطنی کو خیر آباد نہیں کہا کیونکہ وطنیت اور حب الوطنی میں بہت تڑا فرق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قلم کی امامت - صائمہ نسیم بانو

اقبال ایک طرف عشق کو مسلمان کے لیے بہت ضروری تصور کرتے ہیں اور مولیوں کی طرح فتوے لگاتے ہیں کہ جو عاشق نہیں وہ کافر ہے لیکن دوسرے طرف عشق کو بیماری سے تعبیر کرتے ہیں تو بظاہر تو یہ ہم کو تضاد نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں تضاد نہیں بلکہ عشق دو قسم کا ہے۔ ایک بازاری عشق اور ایک حقیقی۔ دونوں کے بارے میں اشعار پڑھیے، عشق حقیقی کے بارے میں کہتے ہیں

طبع مسلم از محبت قاہر است

مسلم از عاشق نہ باشد کافر است

عشق مجازی کے بارے میں کہتے ہیں

نہ باد بہاری، نہ گلچیں، نہ بلبل

نہ بیمارئ نغمۂ عاشقا نہ

اقبال جلال الدین رومی کو اپنا پیر و مرشد مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ

پیر رومی را رفیق و را ساز

تا خدا بخشد ترا سوز و گداز

لیکن رومی کے متوصفانہ مسلک وحدۃ الوجود کی نفی کرتے ہیں اور اس پر تنقید کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ رومی کے بدنی رقص کے بجائے روح کے رقص پر زور دیتے ہیں۔

اقبال عقل کو عشق کے مقابلے میں بہت کم حیثیت دیتے ہیں لیکن عقل کی افادیّت کے بھی قائل ہیں

وہ پرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیں

عشق سیتا ہے انہیں بے سوزن و تارِ رفو

وہ فکر یا عقل کو زمان و مکان کی پیمائش کے لیے ضروری سمجھتے ہوئے کہتے ہیں

مقام فکر ہے پیمائش زمان و مکاں

مقام ذکر ہے سبحان ربی الاعلیٰ

اسی طرح وہ جنون کی بھی دو قسم بتاتے ہیں

اک جنوں ہے کہ باشعور بھی ہے

اک جنوں ہے کہ با شعور نہیں

جس کا مطلب یہ ہے کہ اصل جنون وہ ہے جو شعور کے ساتھ مل کر کام کرے۔ وہ عقل و جنون کا اشتراک چاہتے ہیں، اس بارے میں مرزا بیدل کی شعر سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں:

با ہر کمال اندکے آشفتگی خوش است

ہر چند عقل کل شدہ ای بے جنوں مباش

تقدیر کے بارے میں اقبال جب مسلمانوں کو عمل کرنے کے لیے ابھارتے ہیں تو کہتے ہیں

خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی

عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ

لیکن یہ بھی کہتے ہیں کہ

ذرّہ ذرّہ دہر کا زندانئ تقدیر ہے

پردۂ مجبوری و بے چارگئ تدبیر ہے

اس کی وجہ یہ ہے کہ اقبال یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ تشریعیات میں انسان مکمل طور پر آزاد ہے البتہ تکوینیات میں مجبور ہے۔

اسی طرح اقبال نے اشتراکیت کے اچھے پہلوؤں کی تعریف بھی کی ہے اور کارل مارکس کو 'اشتراکی کوچہ گرد' بھی کہا ہے، مثلاً ان کی نظم " لینن خدا کے حضور میں" کو دیکھیے۔ جس میں انہوں نے لینن کی تعریف کرتے ہوئے مغرب پر تنقید بھی کی ہے لیکن جب کمیونزم کا پردہ چاک ہوا اور اقبال پر اس کی حقیقت واضح ہوگئی تو کارل مارکس کے بارے میں ابلیس کی زبان سے کہا

کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد

یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشفتہ مو

اقبال خود فلسفی تھے لیکن فلسفہ کے برے اثرات پر تنقید بھی کی ہے

ہیگل کا صدف گہر سے خالی

ہے اس کا طلسم سب خیالی

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اقبال فلسفہ و ادب بلکہ ہر ہنر میں خون جگر کے خواہاں ہیں۔ جیسا کہ ان کا شعر ہے:

یا مردہ ہے یا نزع کی حالت میں گرفتار

جو فلسفہ لکھا نہ گیا خون جگر سے

اقبال ماضی سے رشتہ منقطع کیے بغیر مستقبل میں جھانکنے پر زور دیتے ہیں، تاکہ ہم اپنے آباء و اجداد کے کارناموں سے حرارت حاصل کرکے مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں۔ اس بارے میں ان کا مسلک یہ ہے

اور

آہ وہ مردان حق، وہ عربی شہسوار

حامل "خلق عظیم"، صاحب صدق و یقین

لیکن وہ آئین نو سے ڈرنے اور طرز کہن پر اڑنے کو قوموں کے لیے کٹھن تصور کرتے ہوئے کہتے ہیں

آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پر اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

اصل میں اقبال زمانے کے تقسیم کے خلاف ہیں وہ "زمان و مکان " کے مسئلے پر کافی تحقیق کرکےکہتے ہیں کہ زمانے کی تقسیم صحیح نہیں، وہ زمانے کو مسلسل سفر سے تعبیر کرتے ہیں

سفر زندگی کے لیے برگ و ساز

سفر ہے حقیقت، حضر ہے مجاز

اور

سعی پیہم ہے ترازوئے کم و کیف حیات

تیری میزاں ہے شمار سحر و شام ابھی

تو جب زمانہ ایک ہے تو پھر جدید و قدیم کی بحث کی گنجائش نہیں کہ ہم کہہ دیں کہ اقبال ماضی پرست یا قدامت پسند تھے۔

چونکہ اقبال کے افکار کا بنیادی فلسفہ خودی ہے لہذا وہ اس کو مد نظر رکھ کر چیزوں کو پرکھتے ہیں۔ اس لیے وہ سرود حلال اور سرود حرام کی اصطلاحات لاتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ سرود حلال ہے جس سے انسان کا دل زندہ ہو جائے اور اس کی خودی کی تربیت ہوجائے، وہ کہتے ہیں، اور جس سرود سے خودی مر جاتی ہو اور اس میں موت کا پیغام پوشیدہ ہو تو وہ ان کے نزدیک حرام ہے۔

اقبال تقلید کی مذمت بھی کرتے ہیں اور خود امام ابو حنیفہؒ کی تقلید بھی کرتے تھے۔ اسی طرح کسی پختہ کار مرد کی غلامی کرنے کا بھی کہتے ہیں، جیسے وہ کہتے ہیں

تقلید سے نا کارہ نہ کر اپنی خودی کو

کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ

یہاں بقول پروفیسر یوسف سلیم چشتی کے تقلید سے مراد کسی فلسفیانہ سکول یا اپنے خاندان یا ماحول یا آباء و اجداد یا کسی قوم کے رسوم، لباس یا عقائد، اور خیالات کی تقلید ہے۔ اس سے مراد فقہی تقلید نہیں ہے کیونکہ اقبال نے ساری زندگی امام ابو حنیفہؒ کی تقلید کی ہے۔ یہ تقلید کے دو قسم ہونے کی وجہ سے ایسا ہے۔ اور انہوں نے پختہ کار آدمی کی غلامی اختیار کرنے کی تلقین کی ہے اور خود کسی کی غلامی اختیار کرنا ہی تقلید ہے۔

گریز از طرز جمہوری، غلام پختہ کارے شو

اقبال خود شاعر ہیں وہ شاعری اور شاعر کو بڑا مقام دیتے ہیں۔ شاعر کو دیدۂ بینائے قوم بتاتے ہیں جو قوم کی مبتلائے درد ہونے پر روتی ہے۔ اپنی نظم "شاعر" میں اقال لکھتے ہیں:

شاعر رنگیں نوا ہے دیدہ بینائے قوم

اور

شاعر دل نواز بھی بات اگر کہے کھری

ہوتی ہے اس کی فیض سے مزرع زندگی ہری

مگر شعراء پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس

آہ! بیچاروں کے اعصاب پر عورت ہے سوار

اس کی وجہ بھی صاف ہے کہ شاعری کو صرف عورت کے گرد نہیں گھومنا چاہیے، اس کو ایک عظیم مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اقبال نے ایک حقیقت کے طور پر اپنی تعریف بھی کی ہے اور اپنے اوپر تنقید بھی۔ دونوں قسم کے اشعار یہ ہیں:

دیا اقبال نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا

یہ اک مرد تن آساں تھا، تن آسانوں کے کام آیا

اور وہ اپنے اوپر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں صرف گفتار کا غازی ہوں

اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے

گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا

خلاصہ یہ کہ اقبال کے ہاں نظریات کا ایک نظام ہے، جب تک ہم اقبال کے کلام کا استیعاب نہ کریں ہم کو اقبال کے ہاں بظاہر تضاد نظر آئے گآ حالانکہ ایسا نہیں ہے، اقبال کی شخصیت میں بہت زیادہ تنوع ہے جیسا کہ اس مقالہ سے واضح ہوا۔