تصویریں بولتی ہیں - صائمہ تسمیر

کہتے ہیں کہ تصویریں بولتی ہیں، مگر ہمیں ادراک ہوا کہ کچھ تصویریں صرف بولتی ہی نہیں بلکہ چیختی ہیں اور ان کی چیخ آپ کو لرزا کر رکھ دیتی ہے۔ آپ چاہتے ہوئے بھی ان سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے، آپ کھانا کھانے بیٹھیں یا کسی بات پرآپ کا ہنسنے یا بے ساختہ قہقہہ لگانے کا دل چاہے تو عین اسی لمحے وہ چیختی چنگھاڑتی تصویریں سامنے آجاتی ہیں، پھر کہاں کی بھوک اور کہاں کی ہنسی؟

آئیے ! چشمِ تصور سے کچھ ایسی ہی چیختی تصویریں دیکھتے ہیں۔ میرے سامنے یہ آنکھوں میں آنسو سجائے کسی ماں کا لعل ہے، بمشکل چار سالہ معصوم،جس کی شکوہ کناں اداس نظریں دل چیر کر رکھ دیتی ہے۔ وہ سراپا سوال بنا نظر آتا ہے کہ اے شہرِ اماں کے رہنے والو! میرا جرم تو بتاتے جاؤ، میرے ماں باپ مجھ سے کیوں چھین لیے گئے ، میرے پیارے گھر کو کیوں جلادیا گیا، میر ے بہن بھائی، دوست،میرے کھلونے کہاں کھوگئے؟

میں اس ننھے فرشتے کے سوالات سے گھبراکر آگے بڑھتی ہوں تو دس سالہ فاطمہ کی پتھرائی آنکھیں میرے قدم جکڑ لیتی ہیں۔ فاطمہ جیسے اس لمحے میں قید ہوکر رہ گئی ہے، جس لمحے اس کے گھر کو ماں باپ سمیت برمی درندوں نے آگ لگادی تھی۔ اس کی خوش قسمتی یا بد قسمتی کہ وہ گھر سے باہر کھیتوں میں سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی یوں ان بھیڑیوں کے ہاتھوں ذبح ہونے سے بچ گئی۔ پھر جان بچاکر بھاگنے والوں کے ساتھ بنگلہ دیش پہنچ گئی، جہاں نہ اس کی پیار کرنے والی ماں موجود ہے، نہ ہی اس کے لاڈ اٹھانے والا شفیق باپ۔ وہ ہر چہرے میں اپنے ماں باپ کو کھوجتی ہے۔ بھوک کے عالم میں ماں کی ہاتھ کے بنے لذت بھرے کھانوں کی یاد تڑپاکر رکھ دیتی ہے۔ والدین کے شفقت بھرے لمس کو ترستی فاطمہ کی آنکھوں کی ویرانی دیکھی نہیں جاتی، جس کی ہنستی بستی دنیا اجاڑدی گئی۔ اس کی اداس آنکھوں میں رقم ان گنت سوالات سے جسم میں بجلی سی دوڑگئی۔

میں فوراًآگے بڑھی تو دیکھتی ہوں کہ ایک اور داستانِ الم مجسم میرے سامنے ہے۔ جسے بیان کرنے کے لیے کسی لفظ کے سہارے کی ضرور ت نہیں۔ یہ چار سال سے دس سال تک کے لاوارث یتیم معصوموں کی اجتماعی تصویر ہے، جن کے ماں باپ کو جلادیا گیا، ذبح کردیا گیا یا وہ راستے میں جان کی بازی ہار گئے۔ان بچوں کی تعداد گیارہ ہزار تک بتائی جارہی ہے۔ ان میں کوئی عبداللہ ہوگا، کوئی عبدالرحمٰن تو کوئی یوسف و ابراہیم، جن کے ماں باپ نے ان کی پیدائش پر خوشیاں منائی ہوں گی۔ اپنے بچے کے بہترین مستقبل کے خواب دیکھے ہوں گے، انہیں زمانے کے سرد وگرم سے بچانے کی مقدور بھر سعی کی ہوگی، اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے لختِ جگر کی فرمائش پوری کی ہوگی۔ یہاں فاطمہ و زینب اور عائشہ و کلثوم بھی جابجا نظر آتی ہیں، جن کی کھلکھلاہٹ کہیں گم ہوگئی ہے، جن کے ناز نخرے اٹھانے والا،انہیں زبردستی کھانا کھلانے والا کوئی نہیں ہے۔ کوئی اللہ کا بندہ چند نوالے کھلادے تو ٹھیک، ورنہ ان کی خبرگیری کرنے والا کوئی نہیں۔ ان معصوموں پر ٹوٹی قیامت دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ان کی آنکھوں میں غموں نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔ ان کے کھیلنے کودنے اور شرارت کرنے کے دن تھے، مگر سفاکوں نے ان کی ہنسی چھین لی، غم جیسے ان کی آنکھوں میں ٹہرساگیا ہے۔ انہیں محبت بھرے آشیانے، کھانے اور دواؤں کی ضرورت ہے۔روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں معصوم جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ ان کی زندگی ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے، یہ ذہنی وجسمانی صدمے سے دوچار بچے منتظر آنکھوں سے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔

ان معصوموں سے نظریں چراتے ہوئے آگے بڑھی تو روہنگیا بچے اپنی ڈرائنگ دکھاتے نظر آئے۔ کسی نے ان کی ذہنی حالت کی بہتری کے لیے کلر پینسل اور کاغذدیے ہوں گے کہ بچے کچھ دیر کے لیے رنگوں سے کھیل کر خوش ہوجائیں گے۔ ہمارے بچے تو اپنی پسندیدہ پھل، جانور یا کوئی خوب صورت منظربنا کررنگوں سے سجاتے ہیں، لیکن ان بچوں کی زندگی کی طرح ان کی ڈرائنگ بھی نارمل نہیں تھی۔ تمام بچوں نے اپنی آنکھوں دیکھی وحشیانہ بربریت کی عکاسی کی ہوئی تھی۔ ا س سفاکیت نے ان کے تخیل سے وادی اراکان کی خوب صورتی اور سبزہ زار کو محو کرکے آگ و بارود کی بو بھردی تھی۔ موت کے سوداگر برمی فوج، جلتے گھر، اجڑی بستیاں، سربریدہ لاشیں ہی ان کے تخیل میں سمائی ہوئی تھی۔ جس کا اْظہار انہوں نے اس سلیقے سے کیا کہ دیکھنے والے اپنے آنسووں پر قابو نہ رکھ پائے۔ شاید یہ بچے تاحیات ان دہشت ناک مناظر کو بھلا نہ پائے۔

اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتی اگلی تصویرپر نظر ڈالی تو دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔گویا ایک بار پھر کربلا کا میدان سجایا گیا تھا۔میرے سامنے زندگی سے آزاد بچوں کی تصویر تھی، ترتیب سے رکھی ان کی لاشیں خون کے آنسو رلارہی تھی۔ ایسا محسوس ہورہاتھا جیسے کھیلتے کھیلتے تھک کر سو گئے ہیں، ابھی اٹھ کر چیچہانا شروع کردیں گے اور شرارتوں سے آسمان سر پر اٹھا لیں گے۔ مگریہ معصوم پھول بن کھلے ہی مرجھاگئے۔ مصائبِ دنیا سے آزاد ہوکر وہ پرسکون گہری نیند سوگئے۔ جان بچا کر بھاگنے والے روہنگیا مہاجرین کی کشتی موسم کی خرابی کی باعث حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔ اس حادثے میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد بے رحم موجوں کے نذر ہوگئے۔ خواتین اور بچوں سمیت اکیس افراد کی نمازِجنازہ آج ادا کردی گئی جب کہ ساٹھ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ان چیختی چلاتی جھنجھوڑتی تصا ویر کا ناختم ہونے والا سلسلہ ہے، کیا کیا دیکھیں گے، کیاکیا دکھاؤں گی ؟

یہ حسرت و یاس کی تصویر بنی ایک ماں ہے جس کے خاندان کا کوئی فرد باقی نہ رہا۔ یہ غم سے نڈھال ایک بوڑھا باپ ہے، جس کے جوان بیٹے ذبح کردیے گئے،وہ جو اس کے بڑھاپے کا سہارا تھے، وہ محبوب اولاد کہ جنہیں پیار سے پالا تھا کہ ہمارے جنازے کو کندھا دیں گے لیکن انہیں بے دردی سے کاٹ دیا گیا۔یہ بے بسی کی تصویر بنا ایک بھائی ہے جس کے سامنے اس کی معصوم لاڈلی بہن کی عزت کو تار تار کیا گیا۔یہ ایک گم سم سی معصوم صورت عورت ہے، جس کا ایک محبت کرنے والا شوہر تھا،جان سے پیارے بچے تھے ایک محبت بھرا آشیانہ تھا جہاں زندگی مسکراتی تھی، ایک ہی لمحے میں سب ختم ہوگیا۔ وہ اپنے باپ کی نازوں پلی بیٹی، اپنے شوہر کی محبوبہ جس کی ضروریات و خواہشات بن کہے پوری ہوجاتی تھی، اس کا سائبان چھین لیاگیا، دوسروں کو دینے والا ہاتھ لینے والا ہاتھ بن گیا،اب اسے زندگی سے رشتہ قائم رکھنے کے لیے کسی امدادی ٹرک کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے، تب جا کر چند نوالے نصیب ہوتے ہیں۔

کوئی تو ان بولتی تصویروں میں چھپے درد کو محسوس کرے؟ کوئی تو ان کے دکھوں کا مداوا کرے؟ ان کی جگہ ہماراکوئی عزیز ہوتا تو کیا ہم یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ؟ اگر ان معصوموں نے بروز حشر سوال کرلیا کہ بای ذنب قتلت؟ ان مظلوموں نے ہمارا گریبان پکڑلیا کہ ہمیں کس جرم کی سزا دی گئی ؟ تو کیا جواب ہوگا ہمارے پاس؟

Comments

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر کا آبائی تعلق برما کے مسلم اکثریتی صوبے اراکان سے ہے۔ ان کے آبا و اجداد نے 70ء کی دہائی میں اراکان سے کراچی ہجرت کی، جہاں آپ پیدا ہوئیں اور تعلیم حاصل کی۔ آپ کا تعلق شعبہ تدریس و طب سے ہے۔ آجکل ملائیشیا میں مقیم ہیں۔ ایک کالم نگار اور معلمہ ہیں اور اراکان کے موجودہ حالات کو دنیا تک پہنچانے کے لیے پرنٹ اور سوشل میڈیا پر فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.