حرمت کے مہینے اور پاکستانی کلچر – روبینہ شاہین

اسلام میں چار مہینے "حرمت"کے ہیں۔ محرم، رجب، ذی القعدہ اورذی الہجہ ہیں۔ قرآن مجید میں ہے: إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُم ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلاَ تَظْلِمُواْ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ وَقَاتِلُواْ الْمُشْرِكِينَ كَآفَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَآفَّةً وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ کہ بیشک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب (یعنی نوشتہ قدرت) میں بارہ مہینے (لکھی) ہے جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین (کے نظام) کو پیدا فرمایا تھا ان میں سے چار مہینے (رجب، ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم) حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے سو تم ان مہینوں میں (ازخود جنگ و قتال میں ملوث ہو کر) اپنی جانوں پر ظلم نہ کرنا اور تم (بھی) تمام مشرکین سے اسی طرح (جوابی) جنگ کیا کرو جس طرح وہ سب کے سب (اکٹھے ہو کر) تم سے جنگ کرتے ہیں، اور جان لو کہ بیشک اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

ظہوراسلام سے قبل بھی کفار ان مہینوں کی حرمت کا خیال رکھتے تھے۔ لٹائی جھگڑا، گالی گلوچ، لڑنا بھڑنا سب اس میں منع ہوتا تھا۔ لوگ مکمل امان میں ہوتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عرب بڑے جنگجو تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پہ چالیس چالیس سال کے لیے جنگ چھڑ جاتی تھی۔ بقول مولانا حالی کبھی پانی پلانے پہ جھگڑا کبھی گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پاکستانی جنہوں نے یہ ملک اسلام کے نام پہ حاصل کیا تھا۔ کیا یہاں مہینوں کی حرمت کا خیال رکھا جاتا ہے؟کیا کوئی سیاسی پارٹی حرمت والے مہینے میں یہ اعلان کرتی ہے کہ ہم اپنی مخالف پارٹی کے خلاف نہیں بولیں گے؟ کیا کوئی رشتہ دار اللہ کے حرام کردہ مہینوں کے احترام میں رشتے داروں سے لڑائیاں بند کرنے کا اعلان کرتا ہے؟کیا گھروں میں بچوں کو ٹرینڈ کیا جاتا ہے کہ اب حرمت والے مہینے شروع ہو گئے ہیں۔ آپ لوگ آپس میں نہیں لڑیں گے۔ ؟یقیناً جواب نفی میں ہوگا۔

جب چیزیں کلچر میں رچ بس جائیں تو عمل کا حصہ بننے سے انھیں کوئی نہیں روک سکتا۔ چاہے وہ اغیار کی نقالی ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی رچ بس جاتی ہے۔ ہمارے چینلز اور سوشل میڈیا ان مہینوں کی حرمت واضح کرنے کے لیے ایڈ چلا سکتے ہیں، گھروں میں سکولوں اور کالجوں میں اس کی تشہیر کی جا سکتی ہے۔ دنیا اپنے آخری مدار میں داخل ہو چکی ہے، کیا ہمارے لیے اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کی حرام کردہ اشیاء کو حرام جانیں اور حلال کو حلال؟ کیا ہمارے لیے اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کی حدوں کو پامال کرنے سے رک جائیں؟ کیا حکمران خاندان اور حزب اختلاف کے مسائل اتنے بڑے ہیں کہ سارا سارا دن ان کو کوریج دی جائے اور اللہ کی حدوں کو پامال ہونے سے روکنے کے لیے کوئی ایک ایڈ بھی نہ چلے؟

یاد رکھیں!اسلام شروع میں بھی اجنبی تھا۔ آخر میں بھی اجنبی رہ جائے گا۔ اگر آپ بطور اجنبی ہیں حرمت والے مہینوں کے احکام سے تو اپنی اجنبیت کو دور کیجیے۔ اپنے بچوں اور دیگر لوگوں کو اس کے بارے میں آگاہ کیجیے۔ اپنے عمل سے ان کے اندر تحریک پیدا کریں۔ اللہ ہمیں اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والا بنا دے، آمین!

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.