بہو کو رام کیسے کریں - راحیلہ ساجد

اگر آپ ايک عدد بہو کی ساس ہيں تو بہو کے آنے کے بعد آپ پر سب سے زيادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آنے والی لڑکی جہاں اپنے ساتھ والدين کو، گھر کو، بھائی بہنوں کو چھوڑنے کا دکھ ساتھ لائی ہے، وہاں وہ نئے گھرکے سپنے، اپنی جگہ بنانے، سب کو خوش رکھنے اور سب سے بڑھ کر مياں کے ساتھ ايک خوشحال زندگی گزارنے کے سپنے بھی ساتھ لاتی ہے۔ اس کے ليے سب کچھ نيا ہوتا ہے۔

وہ بچی يا لڑکی سکول، کالج لائف سے نکل کر اچانک ايک اجنبی گھر ميں پہنچ جاتی ہے۔ اپنے ماں باپ کے گھر وہ موڈ کے مطابق کام کرتی ہے، اگر آپ اس کے آتے ہی ساری ذمہ داری اس پر ڈال ديتی ہیں تو اس کا گھبرا جانا، بےزار ہو جانا، چڑچڑا ہو جانا يقينی ہے۔ کچھ تجاويز پيش کر رہی ہوں جن پر آپ عمل کر کے اپنی بہو کو نئے گھر ميں وہ سکون اور خوشی دے سکتی ہيں، جس کا اس نے سوچا تھا اور بدلے ميں آپ کو وہ محبت اور پيار ملے گا جس کی آپ کو چاہت ہے۔

۔ بہو کے آتے ہی اس کے سونے جاگنے اور اٹھنے بيٹھنے پر تنقيد مت شروع کر ديجيے۔ نئے گھر اور نئے ماحول میں اس کو ايڈجسٹ ہونے ميں وقت لگے گا. اپنی روٹين بنانے کے ليے اسے وقت درکار ہے اور آپ اسے يہ وقت ديں۔ 15 دن، 20 دن، ايک مہينہ، تاکہ کم از کم وہ نئے گھر ميں سيٹ ہو سکے۔

۔ جب بھی سامنا ہو ، پيار سے اس کی طرف ديکھیں، مسکرائیں، صبح اٹھ کر جنب وہ آپ کو سلام کرے تو اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھيريں۔ دن ميں اس سے چھوٹی چھوٹی باتيں کرتی رہیں، ليکن ياد رہے کہ ايسی باتيں نہیں جس میں آپ اسے اپنے گھر کے اصول سمجھانا شروع کر ديں بلکہ اس سے اس کے بارے ميں پوچھیں، اپنی پرانی باتيں اس کو بتائیں۔ اس طرح سے آپ اجنبيت کی ديوار کو گرانے ميں کافی کامياب ہو جائیں گی۔

۔ بہو کے آتے ہی اسے گھر کے کاموں ميں نہ پھنسا لیں۔ اگر وہ اپنی خوشی سے آپ کی مدد کرنے لگے تو روکیں نہیں ليکن اس پر ايک دم سے ذمہ داری نہ ڈالیں۔

۔ رمضان ميں اچانک سب گھر والوں کے ليے سحری کا انتظام اس کے سپرد نہ کر ديں۔ آپ بڑی ہیں۔ آپ جيسے پہلے کر رہی تھیں اسی طرح کرتی رہیں۔ خدانخواستہ اسے آپ اپنی زندگی کی آخری سٹيج پرتو نہیں لے کر آئيں کہ اس کے آتے ہی آپ کو يہ سب کام منع ہو گئے ہيں۔ آپ اپنی ذمہ داری نبھاتی رہيں، ساتھ وہ مدد کرتی رہے، جيسے برتن لگا ديے، برتن اٹھا ديے، آمليٹ کے ليے پياز کاٹ ديا يا اسی طرخ کے ديگر ان گنت چھوٹےچھوٹے کام۔

اسی طرح افطاری ميں کام بہت زيادہ ہوتا ہے۔ افطاری اور کھانا بنانا۔ وہ بچی جووالدين کے گھر تھی تو آخری ايک گھنٹے ميں والدہ کی مدد کراتی تھی اور اگر اب اسے آتے ہی انتظام سنبھالنے پر لگا ديں گی تو اس کا دل تو برا ہوگا نا ۔ کم از کم پہلا رمضان تو اسے اپنائيت کا احساس ديجيے۔ اگلے رمضان وہ آپ کے شانہ بشانہ کچن ميں کھڑی ہوگی۔ ان شاء اللہ

۔ اگر بہو کی کوئی بات بری لگ جائے تو بجائے منہ پھلا کر بيٹھ جانے کے يا بيٹے کے کان بھرنے کے، بہت پيار سے جس طرح آپ اپنی بيٹی کو بتاتی ہيں، اسے بھی بتا ديجيے بغير کسی طنز اور شکايت کی آميزش کے۔ اس کا بہت مثبت اثر ہوتا ہے۔ يقين اور اعتماد کی فضا بحال ہوتی ہے۔

۔ اپنے چھوٹے موٹے کاموں ميں بہو سے مشورے ليجيے مثلا کسی پارٹی ميں جانا ہے تو کپڑوں کے متعلق، جوتے کون سے پہنے جائيں، کسی کو گفٹ دينا ہے تو اس سے پوچھ ليں۔ کسی کی دعوت ہے تو کيا پکايا جائے وغيرہ، اس طرح اجنبيت ختم ہوتی ہے۔

۔ بہو اگر کچھ پکائے اور وہ اچھا نہ پکے تو بجائے کيڑے نکالنے کے اس کی ہمت بندھائيں کہ کوئی بات نہيں، ايسا ہو جاتا ہے، ايسے ہی پکانا آتا ہے۔ دل برا نہیں کرو، اگلی بار ٹھيک بن جائے گا۔ مجھے بھی تو نہیں آتا تھا نا، پکا پکا کر اب ايکسپرٹ ہو گئی ہوں، تم بھی سيکھ جاؤ گی۔ اس طرح آپ اسے خود اعتمادی ديں گی۔

۔ کبھی کبھی بہو کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کر ليجيے، مل کر قہقہے لگائيے، ایک دوسرے سے ہلکی پھلکی مستی بھی کيجيے، اس سے رشتے مضبوط ہوتے ہيں۔

۔ اس کے سامنے اس کے گھر والوں کے بارے میں غلط بات نہ کيجيے۔ اس سے اس کے گھر والوں کا حال احوال پوچھ ليا کريں ، اس سے بہو کے دل ميں اپ کی عزت بڑھے گی۔

۔ کبھی کبھار خود بيٹے اور بہو کو کہيں کہ جاؤ، گھوم پھر آؤ، اس سے وہ يقينا خوش ہوں گے۔

کسی نئے گھر کو بسانے اور مضبوط کرنے ميں ساس کا بہت ہاتھ ہوتا ہے۔ وہ جتنی محبت اور محنت سے اسے سنوارے گی، آنے والی کو جتنا پيار اور اعتماد دے گی، وہ اسے سود سميت واپس ملے گا۔ يہ تو بہت ابتدائی ٹپس ہیں شروع کے چھ مہينوں کی۔ اور اگر ان پر عمل کر ليا جائے تواس کے بعد والے عرصے ميں گھر مئں سکون ہی سکون ہوگا، نہ بيٹا ماں سے بدظن ہوگا ، نہ ساس کو لگے گا کہ بہو نے تو آتے ہی بيٹے پر قبضہ کر ليا اور نہ بہو کا دل ساس سے برا ہوگا ۔ اپنے گھرکو پرسکون بنانے کے ليے تھوڑی سی قربانی ديجيے، تھوڑا ظرف بڑا کيجيے، برداشت کو اپنی طاقت بنائيے۔ ياد رکھيے، بڑا ہونے اور بڑا بننے ميں فرق ہے۔

Comments

راحیلہ ساجد

راحیلہ ساجد

راحیلہ ساجد ناروے میں مقیم ہیں۔ معاشرتی اور سماجی مسائل پہ لکھتی ہیں۔ گوکہ ناروے میں رہتی ہیں مگر ان کا دل پاکستان کے لیے دھڑکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.