آزمائش کس کی - حنا تحسین طالب

ہمارے اردگرد جتنے بھی واقعات پیش آتے ہیں، وہ صرف ان لوگوں کے لیے آزمائش نہیں ہوتے جن کا اس واقعے سے براہ راست تعلق ہوتا ہے، بلکہ جن تک کسی بھی طرح اس واقعے کے اثرات پہنچتے ہیں، وہ کس انداز میں، کیسا اور کیا ردعمل دکھاتے ہیں؟ یہ ان کی آزمائش ہوتی ہے.

ہمارا المیہ مگر یہ ہے کہ ایسے تمام مواقع پر ہماری نگاہیں ہمیشہ اس شخص کی طرف اٹھتی ہیں جس کا اس واقعے سے براہ راست تعلق ہو اور اپنی طرف نگاہ ڈالنے کا خیال تک نہیں آتا. اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دوسرے کے متعلق نہایت بےخوفی سے زبان دراز کرلینا، دوسرے کی عزت و آبرو کا لحاظ کیے بغیر کسی بات کی اندھادھند تشہیر کرنا، بالکل جائز خیال کیا جاتا ہے.

کیا یہ بات نہیں ہے کہ جن حدود کی خلاف ورزی پر ہم بیچ چوراہے میں ماتم کر کے اور لوگوں کو بھی اس واقعے سے باخبر کر رہے ہوتے ہیں، تب ہمارا یہی عمل خود اللہ کے حکم کی خلاف ورزی میں شمار ہوتا ہے. اللہ تعالی سورہ النور میں فرماتے ہیں
"ایسے (الزام کو) سنتے ہی مؤمن مردوں اور عورتوں نے اپنے حق میں نیک گمانی کیوں نہ کی اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ تو کھلم کھلا صریح بہتان ہے." ( النور:12)
یعنی مسلمان ایک جان کی طرح ہیں، اس طرح کے حالات میں اپنے پر قیاس کرتے ہوئے فورا ایسی خبروں کی تردید کرنی چاہیے جو کہ ہم نہیں کرتے.

کیا قرآن کی رو سے افواہ سازی اور اس کی نشرواشاعت بھی جرم عظیم نہیں ہے، جس پر انسان عذاب عظیم کا مستحق قرار پا سکتا ہے. (النور: آیت نمبر 14 سے 16)
سورہ النور (19) میں بدکاری کی ایک جھوٹی خبر کی اشاعت کو بھی اللہ تعالی نے بےحیائی سے تعبیر فرمایا ہے اور اسے دنیا و آخرت میں عذاب الیم کا باعث قرار دیا ہے،
" جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزومند رہتے ہیں ان کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے."

یہ بھی پڑھیں:   نیوزی لینڈ میں کیا اور پاکستان میں کیا ہو رہا ہے! انصار عباسی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ اس طرح کے معاملات میں کس قدر تحقیق و احتیاط سے کام لیتے. ایک شخص (غالبا حضرت عائز رض) خود آکر بدکاری کا اعتراف کرتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کئی مرتبہ اعراض فرماتے ہیں، پھر رعایت دیتے ہیں کہ شاید نشے کی کیفیت میں یہ بات کر رہے ہیں، جب تحقیق سے نشے میں نہ ہونا ثابت ہوتا ہے تو حیا کے پیکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے، جو اس طرح کے معاملات میں کنائے سے کام لیتے، یہاں تحقیق و تصدیق کے لیے نہایت کھل کر گفتگو کی کہ واقعی یہ فعل اسی طرح ہوا ہے. مکمل تصدیق و تحقیق کے بعد جب سزا دی گئی تو بھی لوگوں کو ان کے بارے میں غلط باتیں کرنے سے روک دیا گیا.

یہ ہے ایک مسلمان کا رویہ، اس درجہ احتیاط
ہم کب سمجھیں گے کہ اگر کوئی واقعی گناہگار ہے بھی تو دین ہمیں گناہ سے نفرت کا درس دیتا ہے، گناہگار سے نہیں.
اور جو گناہگار ہی نہ ہو تو ہمارا یہ غیرمحتاط رویہ کس قدر سنگین جرم کھلائے گا.
"حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس سے کوئی گناہ صادر ہوگیا تھا اور لوگ اسے برا بھلا کہہ رہے تھے. حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا ذرا یہ تو بتاؤ اگر تمھیں یہ آدمی کسی کنویں میں گرا ہوا ملتا تو کیا تم اسے نہ نکالتے؟ لوگوں نے بولا ضرور نکالتے. حضرت ابو الدردا نے کہا تم اسے برا بھلا نہ بولو اور اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمھیں اس گناہ سے بچا رکھا ہے. لوگوں نے کہا کیا آپ کو اس آدمی سے نفرت نہیں ہے؟ انھوں نے فرمایا مجھے اس کے برے عمل سے نفرت ہے، جب یہ اسے چھوڑ دے گا تو پھر یہ میرا بھائی ہے. ( اخرجہ ابن عساکر کذا فی الکنز، ج 2 ص 174)

یہ بھی پڑھیں:   "گمشدہ مرشد ویلنٹائن" - محمد فاروق بھٹی

یہ صرف ایک واقعہ ہے، ایسی خیرخواہی، عیب پوشی کے کئی واقعات ہمیں اسلامی تاریخ میں ملتے ہیں، لہذا معاملہ کوئی بھی ہو اور کسی بھی شخص سے متعلق ہو، معاملہ گناہگار کا ہو یا نیک شخص کا، محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنی سوچ، زبان اور قلم کو پابند کرنا چاہیے.
اپنی ذمہ داری کو پہچانیں.
آزمائش صرف ایک شخص کی نہیں ہوتی، ان سب کی ہوتی ہے جن تک اس واقعے کے اثرات پہنچیں.

Comments

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب کا تعلق کراچی سے ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابسته ہیں۔ بنیادی طور پر سپیکر ہیں اور اسی کو خاص صلاحیت سمجھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.