کرکٹ کی ایک جدّت، جو بِن کھلے مرجھا گئی - فہد کیہر

ایک زمانہ تھا کرکٹ کو "شرفاء کا کھیل" کہا جاتا تھا۔ یوں اپنی سست رفتاری کی وجہ سے عرصے تک یہ کھیل شرفاء کے "چنگل" سے نہ نکل سکا یعنی عوامی نہیں بن سکا۔ آج بھی کرکٹ محض برطانیہ کی سابق نو آبادیات میں معروف ہے بلکہ اپنی جنم بھومی برطانیہ میں بھی فٹ بال کے ہاتھوں چت ہو چکا ہے۔ اسے عالمی کھیل بنانے کی کوششیں آج تک کامیاب نہیں ہو سکیں یہاں تک کہ مستقبل قریب میں اولمپکس میں پہنچنے کے امکانات بھی نظر نہیں آتے۔ لیکن ایک پہلو ایسا ہے جس میں کرکٹ کے مقابلے کا کوئی کھیل نہیں۔ نت نئی جدّتیں اختیار کرنے میں کرکٹ کا ثانی شاید ہی ملے۔ ایک تو یہ ویسے ہی بہت پیچیدہ کھیل ہے، آپ کو نہيں لگتا تو کسی کرکٹ سے نابلد شخص کو ایل بی ڈبلیو کا قانون واضح کریں۔ اگر یہ کام آپ کے لیے آسان تو ذرا ڈک ورتھ اینڈ لوئس میتھڈ کے بارے میں آگہی دیجیے، اندازہ ہو جائے گا کہ کرکٹ کتنا پیچیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرکٹ میں جب بھی کوئی ٹیکنالوجی استعمال ہوئی، بہت ہی پیچیدہ نوعیت کی تھی۔

ایل بی ڈبلیو کے فیصلے کو جاننے کے لیے جو 'ہاک آئی' ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے وہ دراصل 'ملٹری ٹیکنالوجی' ہے جو میزائل ٹریکنگ اور اس طرح کے دیگر کاموں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یعنی ہم 'ہاک آئی' کو میزائل ٹریکنگ کا 'سویلین ورژن' کہہ سکتے ہیں۔ پھر 'ہاٹ اسپاٹ' ہے، یہ بھی ایسی ہی عسکری ٹیکنالوجی ہے، 'ہاٹ اسپاٹ' مختلف قسم کے دور مار ہتھیاروں کی مار اور ہدف پر پڑنے والی ضرب اور اس کو پہنچنے والے نقصان کو جانچنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ پھر گیند کی رفتار جانچنے کے لیے "اسپیڈ گن" کا استعمال تو بہت پرانا ہوچکا لیکن گیند نے بلّے کا کنارہ لیا ہے یا نہیں، یہ جاننے کے لیے انتہائی حسّاس "اسنکو" ٹیکنالوجی آج کافی استعمال ہوتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ گیند وکٹوں کو چھو جائے تو "زنگ اسٹمپس" جل اٹھتی ہیں۔ اب جہاں ایسی ٹیکنالوجیاں استعمال ہو رہی ہوں، وہ کھیل بھلا دقیانوسی کیسے ہو سکتا ہے؟

کرکٹ میں جدّت کا حقیقی آغاز 1992ء کے بعد سے ہوا۔ تب فیصلہ کیا گیا تھا کہ رن آؤٹ کے لیے ٹیلی وژن یا تیسرے امپائر سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ 1993ء میں یعنی آج سے 24 سال پہلے، پہلی بار تھرڈ امپائر متعارف ہوئے۔ فٹ بال اور ٹینس نے تو بہت دیر سے اس جدّت کو قبول کیا یا پھر کئی کھیلوں میں ضرورت کے باوجود آج بھی یہ ٹیکنالوجیز موجود نہیں۔ یعنی کرکٹ اس لحاظ سے "جدّت پسند" ہے لیکن کیا کھلاڑی کو اپنی حیثیت میں کوئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی اجازت ہے؟ ہرگز نہیں! اگر آپ ٹیکنالوجی کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں گے تو سختی سے روکا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کی افسوسناک شکست -

کرکٹ میں ہمیں میدان عمل میں سب سے زیادہ متحرک کپتان نظر آتا ہے۔ فٹ بال کی طرح کوچ یا مینیجر کا کردار یہاں کھیل کے دوران اتنا اہم نہیں دکھائی دیتا۔ کسی وقفے کے علاوہ کوچ کو مشاورت کا موقع نہیں ملتا۔ رابطے کی یہی کمی اہم مراحل پر فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی آج سے 18 سال پہلے دو ایسے کرداروں نے کی تھی، جو جدّت کے علمبردار سمجھے جاتے تھے اور بدقسمتی سے دونوں اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ یہ ورلڈ کپ 1999ء تھا، تاریخ کے بہترین ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں سے ایک کہ جس کے ایک مقابلے میں جنوبی افریقہ کے کوچ باب وولمر نے "جدّت" کی طرف ایک قدم بڑھایا۔ انہوں نے کپتان ہنسی کرونیے کے کان میں ایک 'ایئرپیس' نصب کروایا اور یوں وہ میدان میں رہتے اور کوچ سے براہ راست رابطہ کرکے ہدایات لینے لگے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت کرکٹ قانون میں ایسا کچھ نہ تھا، نہ ہی ورلڈ کپ کے قواعد و ضوابط ایسا کوئی ضابطہ تھا، جو انہیں اس سے روکتا۔ پھر وارم اپ میچز میں دونوں نے یہ تجربہ کیا اور خوب کامیاب بھی رہے۔ لیکن جب بھارت کے خلاف مقابلہ ہوا بھارتی کپتان اظہر الدین نے دیکھا کہ ہنسی کرونیے کے ساتھ ساتھ فاسٹ باؤلر ایلن ڈونلڈ کے کان میں بھی ایک ننھا سا آلہ لگا ہوا ہے۔ کھیل شروع ہوا تو کچھ ہی دیر میں بھارتی بیٹسمین امپائروں سے استفسار کرنے لگے۔ ہنسی کرونیے نے امپائر اسٹیو بکنر اور ڈیوڈ شیفرڈ کو بتایا کہ وہ اس آلے کے ذریعے کوچ سے رابطے میں ہیں۔ کچھ دیر بعد میچ ریفری بھی معاملے میں کود پڑے۔ کیونکہ قانون اس بارے میں خاموش تھا اس لیے تینوں پریشان ہوئے۔ بہرحال، کچھ دیر بعد انہوں نے کرونیے سے ایئر پیس اتارنے کا کہہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کی افسوسناک شکست -

ایک ایسی جدّت جس سے نہ بیٹسمین کو پریشانی ہوتی ہے اور نہ ہی یہ کسی کے کام میں مداخلت کرتی ہے، اسے روک دینا عجیب فیصلہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہنسی کرونیے خوش نہیں تھے، بعد میں انہوں نے صاف کہا کہ کوچ کا کھیل دیکھنے کا زاویہ مختلف ہوتا ہے اور اس کی رائے بھی بہت اہم ہے۔ اس لیے کھیل کے دوران اہم موقع پر اس کے مشورے کو سننا بہت ضروری ہوتا ہے۔ جب دستانے تبدیل کرنے کے بہانے پیغامات وصول کرنے میں کوئی برائی نہیں تو محض ائیر پیس لگانے میں کیا قباحت ہے؟ لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی یہاں تک کہ اگلے سال وہ خود فکسنگ اسکینڈل میں پکڑے گئے، "بڑے بے آبرو ہوکر" نکالے گئے اور کچھ ہی سال بعد ایک حادثے میں جان بھی دے گئے۔ باب وولمر بعد ازاں پاکستان کے کوچ بنے اور 2007ء کے ورلڈ کپ میں آئرلینڈ کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست کا غم برداشت نہیں کر سکے اور اسی دن دار فانی سے کوچ کرگئے۔

لیکن ان دونوں کے دنیا چھوڑ جانے کے بعد ہمیں یہ جدّت بالآخر کرکٹ میدانوں میں نظر آئی، بین الاقوامی سطح پر تو نہیں لیکن مختلف لیگز میں۔ آئی پی ایل اور بگ بیش لیگ میں تو کمنٹیٹر کو براہ راست میدان میں موجود کھلاڑی سے جوڑ دیا گیا اور یوں نہ صرف کمنٹیٹرز بلکہ عوام بھی کھیل کے بارے میں میدان میں موجود کھلاڑی کی فوری رائے جاننے لگے۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں وہ وقت کب آئے گا؟ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا بلکہ ہو سکتا ہے 18 سال بعد یہ "جدّت" شمار بھی نہ کی جائے۔