حیدر - نصرت یوسف

پھولوں کی جس قدر حسین جھاڑیاں اس گھر کے باہر تھیں، شاید ہی پوری کالونی میں کہیں اور تھیں۔ حسن اور ترتیب بھی بڑی ہی دلنشیں تھی۔ لگتا تھا مالی کو اپنے کام میں منفرد رہنا پسند ہے۔ کوئی انوکھی اقسام تو نہ تھیں اور نہ کوئی نایاب پھول،و ہی عام سے رنگ بر نگے گلاب، سدابہار، سورج مکھی، چنبیلی، موتیا وغیرہ۔ پھیلتے شہر کی نئی کالونی تھی، اونچی عمارتوں کا طرز ابھی مفقود تھا۔ سو فضا میں بھی آلودگی کم اور زمین پر صفائی نسبتاَ بہتر تھی۔

پھولوں کے کنج میں گھرے اس گھر کے باہر جو تختی لگی تھی، اس پر "حیدر" کندہ تھا مگر اس گھر میں کوئی بھی حیدر نام کا نہ تھا۔ بس ایک چود ہ برس کا لڑکا تھا جس کا نام فاروق صدیقی تھا اور اس کے والد کا نام حیدر صدیقی تھا، لیکن حیدر صدیقی کو تو گزرے پورے چودہ برس ہو چکے تھے۔ وہ شہر کے کسی گنجان علاقہ میں رہا کرتے تھے، اور سلیم عارف چچا جو اس گھر کے مالک تھے، ان کے دوست تھے۔ لوگ پوچھتے ’گھر کا نام حیدر کیوں‘؟ سلیم چچا کے چہرے پر فوراً ہی غم نمایاں ہو جاتا۔ ''حیدر میرا جگری یار تھا، فاروق کا باپ، 'اللہ بخشے روزی روٹی حلال کرنے کے چکر میں مارا گیا، بس اسی کے نام پر یہ تختی ہے۔'' اور پھر لوگوں کے سوالات ہوتے اور سلیم عارف کی رندھی آواز میں معلومات، جن کا خلاصہ یہ تھا کہ "حیدر صدیقی جو پھلوں کا بیوپاری تھا، پھلوں میں مضر صحت کیمیکل کے ذریعہ مٹھاس inject کرنے کا سخت مخالف تھا، چلتی ہواؤں سے تصادم کا نتیجہ اس کی موت کی صورت میں نکلا۔ بیوی پہلے ہی اس کی غیر ضروری ایمانداری سے عاجز تھی، فاروق حالانکہ شادی کے پانچ برس بعد ان کی پہلی اولاد تھا۔ ماں دو برس کا مجھے دے کر دوسری شادی کر کے ملک سے باہر چلی گئی۔ اب وہاں وہ بہت عیش میں ہے، حیدر خود بےنام و نشان تھا، اس کا بچہ کہاں جاتا۔" یہ کہتے کہتے سلیم عارف کی آواز کمال کی رندھ جاتی، ''بس یہ معصوم اب میرے پاس ہے۔"

فاروق کو یہ سب جملے، لوگوں کی اپنے لیے ہمدرد نگاہیں اور سلیم عارف کے لیے جنتی کا لیبل حفظ ہوچکا تھا۔ اس کے قلب و روح میں باپ ہیرو اور ماں زیرو بن چکی تھی۔
سلیم چچا اور اس کے گھر والے اس کو ایک دن پرانے اخبار سے زیادہ اہمیت نہ دیتے تھے، لیکن پھر بھی وہ ان کا احسان مند تھا کہ جب وہ رب کی بنائی وسیع و عریض کائنات میں بےحیثیت وجود کی مانند لاچاری کی انتہا پر تھا، ماں مسترد کر کے جا چکی تھی، اس وقت بیگم ماریہ سلیم عارف نے اس کو سنبھالا اور ماں والے کام کیے، حالانکہ اس کی یادداشت میں ایک بھی ایسا لمحہ نہ آتا جب بیگم ماریہ سلیم نے اسے محبت کی نظر اور الفت بھرے لمس سے چھوا ہو، اس نے ہمیشہ ایک بےتاثر اور غیر جذباتی تعلق ہی اپنے اور باقی گھر والوں کے درمیان محسوس کیا تھا۔

سلیم عارف کے تین بچے تھے۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ فاروق صدیقی ان کے دوسرے بیٹے کاشان کے برابر تھا۔ تینوں لڑکے اوپر تلے کی عمر کے تھے۔ بس بیٹی فروا ہی فاروق سے دس برس چھوٹی تھی۔ فروا کی چوتھی سالگرہ پر سلیم صاحب نے اسے بلی کا ننھا سا بچہ تحفتاً دیا تھا۔ کہنے کو یہ فروا کا تحفہ تھا لیکن جلد ہی تمام گھر والوں کی توجہ کا مرکز بن چکا تھا۔ سلیم عارف گھر آنے کے بعد باقاعدگی سے کچھ وقت اس کو پچکارنے میں ضرور لگاتے، ماریہ سلیم اس کی صفائی ستھرائی کا بہت ہی محبت سے خیال رکھتیں۔ لڑکے گودوں میں چڑھاتے اور فروا نے تو اپنی معصوم سی عمر کی تمام تر خالص محبتوں کی حقدار اس چھوٹی سی بلی کو بنا دیا تھا۔ بس ایک فاروق تھا جس کا بلی سے زیادہ سلیم صاحب سے بات کرنے کا دل چاہتا، ماریہ سلیم کی اپنے ساتھ مسکراتی نگاہ کی طلب ہوتی جو عموما بےتاثر ہی رہتی۔ دونوں لڑکے آپس میں ایک دوسرے کے ہی دوست تھے۔ فروا کو بلی سے پہلے ’مما‘ اور اب ’بلی اور مما‘ کے علاوہ گھر میں کسی سے واسطہ نہ تھا۔ ایسے میں فاروق چھت پر بنے اپنے کمرے ہی تک محدود رہنا پسند کرتا۔

حیدر صدیقی پر "احسان عظیم" سلیم عارف نے یہ بھی کیا کہ ایک بےحد واجبی سے اسکول میں میٹرک تک تعلیم مکمل کرا دی۔ مہنگائی اور انسانوں کے دل کی تنگی کے ہوتے دسویں تک کامیاب ہو کر اسکول ختم کر لینا بھی ایک کارنامہ ہی تھا۔ اس دوران فاروق نے ذہانت کے کوئی جھنڈے گاڑے نہ کوئی غیرمعمولی کام کیا۔

ماریہ سلیم نے اس کو اپنے بچوں کے ساتھ بٹھا کر کھلانا کبھی پسند نہیں کیا، آٹھ سال کی عمر میں اس نے یہ محسوس کر لیا تھا اور پھر وہ خود ہی کترانے لگا۔ وہ آ کر میز پر بیٹھتا تو ماریہ اسے ہاتھ کے اشارے سے کھانا شروع کرنے سے روک دیتیں۔
"نماز پڑھ کر کھانا کھاؤ"
اسے ان کے منہ سے یہ جملہ سن کر حیرت ہوتی کہ ایسی کوئی ہدایت کبھی بھی اس گھر میں کسی اور فرد کو نہیں دی جاتی تھی، لیکن وہ ’اس گھر کا نہیں تھا‘
رویہ سے دیا جانے والا یہ احساس اس کے ساتھ ہی پرورش پا رہا تھا۔ سو خاموشی سے اٹھ کر شدید بھوک کی لہریں دباتا چھت پر بےترتیب سے بنے اپنے لیے الاٹ شدہ کمرے میں آجاتا۔ پھر چاہا تو نماز پڑھ لی، چاہا تو نہیں پڑھی۔ نماز سکھائی کس نے تھی جو وہ ٹھیک سے ادا کر پاتا۔

واجبی اسکول میں اور کچھ ہو نہ ہو، خدا اور رسول سے تعلق کے کچھ رشتے باقی رہ جاتے ہیںِ، جو غیرملکی نصاب اور کتب ملیا میٹ کر دیتے ہیں۔ فاروق نے بھی بس انھی حوالوں سے کچھ جان لیا تھا، کچھ سیکھ لیا تھا، وہیں یہ بھی سیکھا تھا "کہ احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ نہیں"۔

چھٹی جماعت میں سر فضل الرحمن تھے، اردو بھی پڑھاتے اور زندگی کا سلیقہ بھی بتاتے۔ انھوں نے ہی اپنے شاگردوں کو دین سے اخذکردہ یہ سبق دیا تھا جسے پچاس بچوں کی بےہنگم جماعت نے سنا ہو یا نہیں، فاروق حیدر نے ضرور سنا اور دل پر لکھ لیا۔ بس اس کے بعد اس نے اپنے تیئں سلیم عارف کے گھر کے باہر پودے اور پھول لگا کر "احسان کا بدلہ احسان" سے دینے کی کوشش کرنی شروع کر دی۔ چند سالوں کی کوششوں سے وہ اس قابل ہو سکا کہ کالونی میں ’حیدر‘ اپنے پھولوں سے پہچانا جانے لگا، اور ’حیدر‘ کے ساتھ ’فاروق صدیقی‘ بھی۔ یہ پھول پھلواری فاروق کی تنہائی باٹنے سے لے کر اس کی شناخت تک کا ذریعہ بن گئے، ورنہ اس سے قبل وہ ’بےچارہ‘ ہی سمجھا جاتا تھا۔

میٹرک کا نتیجہ آنے سے کچھ دن پہلے کی بات تھی، سلیم عارف نے اسے بلایا، ایسا مدت سے نہ ہوا تھا کہ انھوں نے اسے خاص طور پر بلایا ہو، سو وہ گھبرا رہا تھا۔گھر میں سب ہی موجود تھے۔ شام کا وقت تھا، وہ چھت پر رکھے گملوں کو پانی دے رہا تھا۔ ان کے بلاوے پر نیچے اترا تو وہ لاؤنج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ سب ہی کچھ نہ کچھ کھانے پینے میں مصروف تھے، اس کا دل لمحہ بھر کو سکڑا کہ وہ ان سب کے درمیان کیوں نہیں؟ لیکن پھر اگلے ہی لمحے خود آگاہی نے جواب دے دیا جسے اس نے قبول کر کے دکھ کو پھیلنے سے روک دیا۔
"تم ان کے تو نہیں"۔

"آج ریان کی سولھویں سالگرہ ہے"۔ سلیم عارف نے اس کی شکل دیکھ کر پہلا جملہ یہی کہا تو وہ بمشکل مسکرا سکا۔ ایک آدھ دن میں تمھارا دسویں کا نتیجہ بھی آنے والا ہے۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ ان کے سامنے کھڑا باسی اخبار سے بھی زیادہ بےوقعت لگ رہا تھا۔ کم ازکم اخبار سامنے میز پر سلیقہ سے رکھا ہوا تھا۔ اس پر رکھی ایش ٹرے اسے ادھر ادھر تھپیڑے کھانے اور رلنے سے بچا کر عزت کا مقام دے رہی تھی۔
تھپیڑے وہ بھی کھانے سے بچ رہا تھا، لیکن عزت؟؟ یہ سوالیہ نشان تھا۔
"ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ، بلکہ تم ایسا کرو، پلیٹ اٹھا لو اور کچھ کھانا پینا ساتھ کرتے ہوئے میری بات بھی سنو۔"
سلیم عارف کانٹے سے آم کا ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے اس سے بڑا ہی غیر متوقع جملہ 'ساتھ شامل ہونے' کا کہا تو وہ 'حیران و پریشان' دونوں ہی ہو گیا۔ ماریہ حسب معمول اس کے سامنے بےتاثر چہرے کے ساتھ تھیں۔ حالانکہ کچھ دیر قبل ان کے ہنسنے کی آواز اسے سیڑھیاں اترتے سنائی دی تھی، لیکن اب مزاج کا چینل بدل چکاتھا۔ اس نے ان کے کہنے سے پلیٹ اٹھا لی لیکن کچھ خوردونوش کا سامان اٹھانے کی جرأت سب کے سامنے نہ کر سکا۔ کرتا بھی کیسے، ساری عمر سوائے گنتی کے کچھ مواقع کے اس کو ساتھ شامل ہی نہ کیا گیا تھا۔ اس سے تو بہت بہتر وہ بلونگڑا تھا جو اب خوبصورت سی بلی بن چکا تھا اور ہر وقت اور ہر موقع پر سلیم عارف کے گھر والوں کے درمیان رہتا۔ حالانکہ اگر وہ بلا اپنے قبیلے اور نسل کے بغیر تنہا تھا، تو فاروق صدیقی، انسان کا بچہ بھی اپنے والدین اور قبیلے سے محروم تھا۔
اب بھی اس کی خالی پلیٹ جیسے کسی کو نظر ہی نہ آ رہی تھی۔

"اب تم سترہ سال کے ہوچکے ہو۔"
"پوری دس جماعتیں بھی تم کو پڑھائی جا چکی ہیں۔"
"جوان ہو اب۔"
"اس عمر کے انسان ہی دنیا کو تسخیر کرتے ہیں۔"
پورے چار جملے، اس کی ذات سے جڑے، ایک ساتھ اس سے پہلے انھوں نے کم ہی کہے تھے، سو وہ پوری توجہ سے سن رہا تھا۔
"میرا ایک دوست ہے کباڑیہ، اسکریپ کا بڑا زبردست کام کرتا ہے۔ میں نے اس سے بات کی ہے کہ وہ تمہیں بھی کچھ کاروبار سکھا دے تاکہ چار پیسے تم کما لو اور اپنا گھر بناؤ. اس حیدر سے زیادہ اچھا"۔
سلیم عارف نے آخری جملہ کہتے چاروں طرف دیکھا اور لمحہ بھر کو سر جھکا لیا۔ وہ چپ چاپ سن رہا تھا، کیا کہتا اور کیوں کہتا،
"اس کا گھر اس کے کاروباری علاقے ہی میں ہے۔ تمھیں بھی اس کے ساتھ رہنا ہوگا۔"
سلیم عارف آم کا آخری ٹکڑا نگلتے ہوئے بولے۔
"حیدر چھوڑنا ہوگا؟"
بےاختیار جملہ فاروق کے منہ سے لرزتا نکلا تو ماریہ کے چہرے پر ہیجانی کیفیت سی آگئی۔
"ظاہر ہے حیدر چھوڑنا ہوگا" وہ بولیں تو آواز میں جیسے تپش تھی۔ سلیم عارف نے پاس بیٹھی بیوی کے ہاتھ تھپتھپا کر سنبھلنے کا اشارہ دیا۔
"اب اس کا نام ماریہ ہاؤس ہوگا۔" ماریہ کی تند آواز نے فاروق کا سر جھکا دیا۔
اور پھر وہ آنے والے دنوں میں اس گھڑ ی کا انتظار کرنے لگا جب سلیم عارف اس کے نئے ٹھکانے تک اسے لے جائیں۔

وہ حساس ضرور تھا لیکن قدرت نے اسے کمال مہربانی سے حساسیت سے پڑنے والے ذہنی آبلوں سے بچا لیا تھا، ورنہ جس طرح اس کی پرورش ہوئی تھی، وہ الجھی سی شخصیت بن سکتا تھا۔ یہ معجزہ تھا اور معجزے عمومی حالات اور عمومی رویوں کے درمیان نہیں ہوتے۔ یعنی فاروق حیدر کے معاملے میں کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ خاص ضرور تھا۔
سلیم عارف کو بس اس کے نتیجے کا انتظار تھا، جیسے کباڑیہ کے کام کے لیے فاروق کے دسویں پاس کرنے کا ثبوت دینا ہو، اور پھر وہ نتیجہ آنے کے اگلے ہی دن اسے 'حیدر' سے لے کر نئے مقام پر جانے کے لیے تیار ہوگئے۔

فاروق نے پندرہ سال گزاری جگہ سے اپنا سامان اسی دن بیگ میں ڈال لیا تھا جب اس کو رخصت کی خبر دی گئی تھی۔ کچھ جوڑے کپڑے، کچھ روپے، جو سلیم عارف نے اس کو تہواروں پر دیے تھے، اور کچھ بیج پھولوں کے۔ پھول اور پھلواری کے لیے سلیم عار ف نے ہی ایک آدھ بار اس کو کچھ رقم دی، جس سے وہ اچھی کھاد اور بیج خرید سکا۔ اب وہی کچھ بیج اس نے ساتھ رکھ لیے تھے، مٹھی میں پھیلے بیجوں نے اس کو دیکھا اور دھیرے سے بڑبڑایا "نہ جانے تمھاری قسمت کا پودا کیسا ہوگا؟"
آنسو اس کی آنکھ سے ٹپک جاتا لیکن اس نے سختی سے آنکھ مسل ڈالی۔
"رب کے سامنے رونے سے ہمت اور مخلوق کے سامنے رونے سے کم ہمتی پیدا ہوتی ہے"۔ یہ سبق بھی سر فضل الرحمن نے ایک دن بہت شور مچاتے لڑکوں کو دینا چاہا تھا، جو بجلی کی غیر موجودگی سے بپھرے ہوئے تھے۔
فاروق صدیقی بالکل آگے بیٹھا تھا، ہوا کا ایک آدھ جھونکا اس تک پہنچ رہا تھا اور استاد کا جملہ بھی، سو اس نے سنا اور دل پر لکھ لیا۔

بس کے ایک لمبے سفر کے بعد سلیم عارف اسے جس جگہ لے کر پہنچے، وہ اس کے لیے انتہائی مختلف اور نئی دنیا تھی۔ کہیں بھی نرمی اور لطافت کا گزر نہ تھا۔ شہر کی صفائی کی بدترین شکل اور چہرے مہرے کے تاثرات میں بھی لوہے کی سی سختی۔ سلیم عارف اسے لے کر ایک دکان پہنچ گئے۔ لگتا تھا علاقے کی بڑی دکانوں میں سے ایک دکان تھی۔ ہر طرح کے دھاتی کاٹھ کباڑ نما سامان سے ہال بھرا پڑا تھا۔

فاروق صدیقی کو تو کم ازکم یقین نہ آ رہا تھا کہ محض اس طرح کے کاروبار کے لیے بھی کوئی معقول آدمی دماغ لگا سکتا ہے۔ سوچیں اس کی تھیں جن کو سمت دینے والا فی الحال کوئی نہ تھا۔ یہ سب کچھ بہرحال اس کے مزاج سے کچھ تال میل کھاتا نہ لگ رہا تھا۔ ایک گہری سانس لے کر اس نے معقول سے حلیہ کے ایک آدمی کو سلیم عارف سے ہاتھ ملا کر اس پر گہری نظر ڈالتے دیکھا،
"یہ فاروق ہے، پڑھا لکھا بچہ ہے، کاروباری دماغ ہے۔ تمہارے مطلب کا آدمی"۔ سلیم عارف اس کا وہ تعارف کرا رہے تھے جو خود اس کے لیے اجنبی تھا۔
کاروباری دماغ اس کا ہوتا تو وہ پھولوں کو اس شام ضرور عمدہ قیمت پر بیچتا جب 'حیدر' کے پڑوسی کفیل الدین نے اپنے سمدھیانے کی دعوت پر میز پرگلدان سجانے کے لیے فاروق سے رنگ برنگے گلاب مانگے تھے۔ اس دن ماریہ سلیم بچوں کو لے کر اپنی بہن کے گھر چھٹیاں گزارنے ہفتے بھر کے لیے جا چکی تھیں۔ اس نے بنا تردد ڈھیروں پھول ان کو تھما دیے اور انہوں نے کچھ نوٹ اس کی جیب میں بن کہے ڈال دیے۔ اس نے ان کو تیزی سے پلٹتے اور جیب میں رکھے نوٹوں کو ایک ساتھ دیکھا اور پھر یہی نوٹ اس کے لیے ہفتے بھر کو بھوک مٹانے کو کافی ہوگئے۔
کچن میں وہ اس وقت تک نہ داخل ہوتا جب تک سلیم عارف گھر نہ لوٹتے۔ سو صبح کے ناشتے بعد جب وہ شام ڈھلے گھر لوٹتے تو بازار کی تیار کوئی چیز ہی ان کے ساتھ ہوتی جسے فاروق کو تھماتے اور گرم کرنے کا کہہ کر یہ خیال بھی انہیں نہ آتا کہ دن بھر فاروق صدیقی نے کیا کھایا ہوگا۔
فاروق صدیقی کو دوپہر میں دو سموسے کھانے کے بعد رات کھانے کو کچھ ملتا تو 'رزق اور رازق' کے کتنے فلسفے خود بہ خود سمجھ آنے لگے۔
"میں ایسا کیا کروں کہ اپنا رزق خود حاصل کر سکوں"۔ سوچیں آتیں لیکن جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔
کالونی کے جن لڑکوں سے دوستی تھی، وہ اس کے ماحول کی پوری اصلیت نہ جانتے تھے۔
''حیدر میں اس کی حیثیت کیا ہے؟'' وہ کسی کو بتانا پسند نہ کرتا تھا۔ جتنا لوگ خود جان جان گئے تھے، وہی کافی تھا۔
ایسے میں سلیم عارف کا 'کاروباری دماغ' کے حوالے سے فاروق کا تعارف خاصہ مضحکہ خیز ہی تھا۔ جیسا بھی تھا بہرحال اس کی نئی شناخت سلیم عارف کی دی گئی معلومات کی بنیاد بر بننی تھی۔

زندگی کچھ لوگوں کی شناختی حیثیت میں ردوبدل کرتی ضرور ہے، لیکن اس سے ان کی معاشرتی حیثیت اور مقام پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر گزشتہ شناخت میں وہ بےوزن سمجھے جاتے تھے تو نئی شناخت بھی ان کو بےوزن ہی رکھتی ہے۔ یہی کچھ فاروق حیدر کے ساتھ بھی ہوا۔ وہ حیدر میں 'باسی اخبار' کی حیثیت رکھتا تھا تو نئی جگہ پہنچ کر 'فاروق کچھوا' کے نام سے پہچان پا سکا۔
''آخر ایسا کیوں کہا جاتا تھا اسے؟''
کیونکہ دکان کے مالک سعود شاہ کو فاروق حیدر کی 'پر سوچ نگاہیں' اور 'دھیمی چال' کچھوے کی سی لگتی۔
"سلیم بھی کس پروفیسر کو میرے متھے مار گیا؟" وہ چڑ کو کہتا، لیکن بہرحال اس نے فاروق کو کبھی بھوکا نہ سونے دیا۔

سعود شاہ اپنے آبائی علاقے میں گھر چھوڑ کر اس شہر میں روٹی روزی کی تلاش میں تیس برس قبل آیا تھا۔ بھوک، جھڑکیاں، خوف، مار، ابر، دھوپ، قضا، حیات اور کتنے ہی لاتعداد عنوانات کے تحت زندگی اس پر عیاں ہو چکی تھی۔ ہر عنوان نے اپنی داستان ان تیس برسوں میں اس کی رگوں میں بہتے لہو اور سوچتے اعضا میں رقم کر دی تھی۔ خون کے سرخ ذرات کے ساتھ یہ سب اوراق جس وقت پھڑپھڑاتے تو وہ 'مسعود شاہ' نہیں 'جلال شاہ' بن جاتا۔ پھر فاروق کی بھی خوب شامت آتی۔ اسے گالیاں بھی سننے کو ملتیں اور نااہلی کے طعنے بھی، احسانات بھی گنوائے جاتے، احساسات بھی روندے جاتے، تذلیل سے سیاہ پڑے چہرے کو دیکھ کر قہقہہ بھی لگایا جاتا۔ غرض روح کو خوب ہی تار تار کیا جاتا۔ فاروق صدیقی جس کی 'حیدر' میں رہ کر نفسیات بھونچال سے محفوظ رہ گئی تھی، مسعود شاہ کے جنونی انداز سے بگڑنے لگی تھی۔ وہ اگر حیدر میں کبھی بھوکا بھی ہوتا تو اچھے دنوں کی آس اسے زندگی کی طرف لوٹا دیتی تھی۔ زندگی نے موڑ کاٹا بھی تو کیسا؟ وہ رونا نہ چاہتا تھا لیکن گیلی آنکھوں سے تکیہ پر سر رکھے پہروں اندھیری رات سے گفتگو کرتا۔ دکان کے باہر لوہے کا ایک پلنگ اس کا بستر تھا۔ وہ سڑکوں پر رہنے کاعاد ی تو نہ تھا، لیکن اب سڑک پر سوتا تھا۔ کتنی راتوں تک وہ گھبراہٹ میں مبتلا رہا۔ ہلکی سی آہٹ سے چونک جاتا تھا، اور ساری رات جاگتا رہتا تھا، ایسے میں وہ صبح کے وقت 'کچھوا' نہ بنتا تو کیا اعلی نسل کا 'گھوڑا' ہوتا۔
ساری رات وہ سوچتا "یقینااس کا خدا اس کو بنا کر بھول چکا ہے، یا پھر وہ اس کی اتنی بیکار تخلیق ہے جس سے ذرہ برابر اسے دلچسپی نہیں، تبھی تو وہ اس کے لیے کوئی خیر نہیں بھیجتا بلکہ ہر وہ پہلو اس کی زندگی میں آتا ہے جو اس کو پچھلے دور سے زیادہ سختی میں دھکیل دیتا ہے۔" یہ سب سوچتے بھی اس کی نگاہ اس چمکتے ستارے پرضرور جمتی جو کالے سیاہ آسمان پر اپنی مخصوص جگہ پر ہر رات کو موجود ہوتا۔ آسمان اور ستارے اسے اپنی جانب کھینچتے تھے۔
"کاش میں بھی ایک ستارہ ہوتا۔" وہ آخر میں یہ ضرور سوچتا۔
"آسمان پر موجود خدا سے گفتگو آسان ہوتی تو وہ میری شاید سنتا بھی"۔ اب تو سن کر بھی توجہ نہیں دیتا۔ پانی کے قطرے آنکھوں سے بہتے جاتے اور ستارے کی چمک میں دھندلاہٹ آنے لگتی۔

دو سال ایسی کیفیات میں گزر گئے۔ مسعود شاہ کے ذریعہ ملے رزق نے اسے قد کاٹھ کا خوب ہی اچھا کر دیا تھا۔ وہ اس کو محض کھلانے کی ذمہ داری کو اپنا فرض سمجھتا تھا۔ 'فاروق کچھوا' کی کوئی اور ذمہ داری نہ رکھتا تھا۔ نہ اجرت اور نہ کوئی مروت۔ حلیہ کے حساب سے وہ مسعود شاہ کے اسکریپ کے کام کا ہی کوئی اسکریپ سا پرزہ لگتا تھا۔ تڑا مڑا، میلا سا لباس۔ کون کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی فاروق ہے جو 'حیدر' میں رہتا تھا، اور بہت بہتر حلیے میں ہوتا تھا۔ سلیم عارف کے گھر میں اس کا ظاہر بہت بہتر رکھا جاتا، چاہے اس کا معدہ گھنٹوں خالی رہتا، وہ کس نے دیکھنا تھا۔
مسعود شاہ کے پاس آیا تو ظاہری حلیے کی نشانیاں دو سال چل گیئں، لیکن پھر ضرورتوں کے لیے وسائل کی ضرورت پڑنے لگی۔ دو سال کی چار دیواری سے باہر کی زندگی نے اس کو حوصلوں کے حساب سے سخت کر دیا تھا۔ اسکریپ نے اس کی ہتھیلیوں کو کھردرا بنا دیا تھا۔ وہ ہاتھ جو بہترین باغبانی کاگر جانتے تھے، وہ وزنی ہتھوڑا اٹھا کر لوہے کی چادر پر ایسے برستے جیسے اندر کی ساری گٹھن نکال کر اپنی زندگی کو ہموار کرنا چاہتے ہوں۔ اس کی ایسی کیفیت دیکھ کر مسعود شاہ نے ایک شام خاموشی سے اس کے ہاتھ میں ہزار کے کچھ نوٹ پکڑا دیے، شاید اسے فاروق سے اب خطرہ ہو چکا تھا۔ اسکریپ پر برستا ہتھوڑا کہیں اس پر کسی روز برس پڑا تو وہ کیا کرے گا۔

فاروق صدیقی نے آسمان پر پھیلی سیاہی اور ہاتھ میں پکڑے نوٹ دیکھے، اس کے اپنے بازو اور ہاتھ آسمان جیسے رنگ کے ہو رہے تھے۔ مسعود شاہ نے اس کے تاثرات سے جھرجھری سی محسوس کی اور دبے پاؤں وہاں سے چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی فاروق صدیقی کی آنکھوں کا رنگ بدلنا شروع ہو گیا۔ پہلے وہ بھیگیں اور پھر وہ رونے لگا۔ فاروق اپنی عمر میں اس طرح شاید ہی رویا تھا، وہ حیدر میں کبھی اس کیفیت سے نہ رویا، جو اب اتنا کڑیل جوان بنا رو رہا تھا۔
وہ اس وقت اسکریپ کے گودام کے کھلے حصہ میں تھا، جہاں کوئی نہ تھا۔ مسعود شاہ بھی نہیں، اس کی آنکھیں مستقل بہہ رہی تھیں۔ نوٹ بھی ہاتھ سے گر کر ادھر ادھر اڑ رہے تھے۔ اندھیرا گہرا ہونے لگا تھا اور رات کا مخصوص ستارہ بادلوں کی اوٹ سے نکلنے کو بے تاب تھا۔ اتنے میں آہٹ ہوئی اور اس حصہ میں آتے مسعود شاہ کی آنکھیں اس منظر کو دیکھ کر حیران رہ گیئں۔ گرے ہوئے نوٹ اندھیرے میں کہاں نظر آتے، ہاں اس کی سسکیوں کی وقفے سے اٹھتی آواز اور ہاتھوں میں تھامے سر کو ہی وہ دیکھ پایا۔
"ابے کیوں زنانیوں کی طرح روتا ہے؟''
"نوٹ بھی پھینک دیے!" نیم روشنی کی لکیر میں اچانک اس کی نگاہ ہزار کے نوٹ پر ٹک گئی۔ پہلے جملے میں ہمدردی تھی تو دوسرے میں غراہٹ آگئی تھی۔ پھر مسعود شاہ کو نوٹوں کی فکر لگ گئی۔ اس نے ادھر ادھر شکاری کی سی نظریں گھمائیں۔ روشنی کوئی معقول نہ تھی، اس نے جیب سے سیل فون نکال کر ٹارچ روشن کر دی۔
لیکن اسے ایک نوٹ مل کر ہی نہ دیا۔ زیر لب گالیاں دیتا وہ فاروق کے پاس آیا تو اس نے ایک دم ہتھوڑا اٹھا لیا۔
"آج کے بعد نہیں۔" آنسوؤں سے سرخ ہوتی لال انگارا آنکھوں اور وزنی ہتھوڑے کے ساتھ مسعود شاہ نے فاروق کا کہا جملہ دہرایا۔
"آج کے بعد نہیں۔"
فاروق کا ہاتھ فوراََ ہی نیچے ہوگیا۔ اس نے مسعود شاہ کو اپنے آگے سے دھکیل کر جگہ بنائی اور تیز تیز قدم اٹھاتا وہاں سے نکل گیا۔ اٹھائے گئے ہتھوڑے اور آنکھوں میں آنے والی وحشت نے اس کو جیسے نئے سرے سے زندہ کیا تھا۔ وہ اب دنیا کو اپنے ہتھوڑے کے نیچے آنے والے کاٹھ کباڑ کی طرح دیکھنا چاہتا تھا۔ حیرت تھی کہ دماغ میں بگولوں کے بجائے ایسا اطمینان تھاگویا وہ پھول چننے جا رہا ہو۔ حالانکہ دنیا میں تخریبی سرگرمی شروع ہو جانی تھی۔ طاقت کے احساس نے جیسے اس میں روح پھونک دی تھی۔ اس رات وہ مسعود شاہ کی جگہ سے ہتھوڑا لے کر نکلا اور کسی اجنبی جگہ کی اجنبی سڑک پر اسے بغل میں دبائے بڑی بے فکری سے سویا ۔گرا ہو ایک نوٹ جو مسعود شاہ کو نہیں ملا تھا، وہ اسے مل گیا تھا۔ بس اسی اثاثے پر وہ دنیا کو تسخیر کرنے نکلا تھا۔

کوئی اتنا خوش نصیب بھی ہوتا ہے کہ شر کی جانب قدم بڑھانا بھی چاہتا ہے تو اس کے پرکھوں کی دعائیں اس کو خیر کی جانب کھینچ لاتی ہیں، معجزے ظہور میں آجاتے ہیں۔ بس یہی ہوا فاروق کے ساتھ۔ ہتھوڑے کے ساتھ لیٹے اس کی تصویر چند منچلوں نے کھٹا کھٹ لی اور سوشل میڈیا پر زمانے کے مروجہ انداز کے فقروں کے ساتھ بھیج دی۔ اس وقت کون جانتا تھا
یہ ہے فاروق صدیقی؛
جسے اس کی ماں دو برس کی عمر میں بلکتا چھوڑ کر شہید شوہر کے دوست کے حوالے کر گئی،
جسے 'حیدر' نے 'باسی اخبار' بنایا،
جسے ماریہ سلیم عارف نے 'حیدر ' سے باہر کٹھور دنیا کے حوالے کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہ کی،
جسے سلیم عارف نے بےدردی سے نکال باہر کیا،
جسے مسعود شاہ نے 'باغباں' سے 'ہتھوڑا مار' بنانے میں کردار ادا کیا،
جسے دنیا کے انسانوں نے اپنے ظرف اور کردار کے حساب سے سلوک کا حقدار جانا، مگر
اسے خالق نے ہر آن اور ہر لمحہ اپنی نگاہ میں رکھا، وہ اپنی ہر مخلوق پر ایسی ہی گہری نگاہ رکھتا ہے۔
اب جب دنیا میں فاروق صدیقی کی مختلف تصاویر گردش میں تھیں، جس میں وہ ہتھوڑا تھامے سویا تھا تو بھی وہ خالق کی نگاہ تلے تھا۔
اس رات بھی آسمان پر ستارہ چمکا، شہاب ثاقب ٹوٹا، اور سیاہی روشنی کی جانب بڑھتی گئی۔
....................................................................
دنیا کے دوسرے سرے پر شاندار درودیوار میں بیٹھی وہ حسین عوررت جس کی سولہ سالہ بیٹی ہر وقت شاکی ہی رہتی تھی، اس وقت گھر پر نہیں تھی۔ ماں رات گزارنے کے لیے کسی دوست لڑکی کو بھی پسند نہ کرتی، اور بیٹی کے لیے ماں کی یہ بات مانناگھٹن کا سبب بنتا تھا۔ مگر وہ آج لڑ جھگڑ کر کیتھرین کے گھر چلی گئی تھی۔

اس شاندار دکھنے والی عورت کا دولت مند شوہر اس رات بھی، اور بہت سی راتوں کی طرح، کسی اور کی زلفوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ لمبا عرصہ اسے پلٹ کر نہ پوچھتا، اس کے دکھ سکھ سے بےخبر رہتا، یہ سب کچھ دلخراش تھا، لیکن اس کی زندگی میں موجود سب آسائشات اور راحت اسی خاموش کی قیمت تھی۔ قیمتی سامان سے سجے گھر میں خاموشی تھی لیکن دماغ میں سوچیں خوب شور اٹھا رہی تھیں۔ رات کے دو بج رہے تھے۔ اس نے اپنے جانے پہچانے لوگوں اور گروپ کی تصاویر انٹرنیٹ پر دیکھ کر تنہا گھر میں کرلاتے دل کو بہلانا چاہا۔ بظاہر وہ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ نہ جانے سردی رات کے اس پہر بڑھ گئی تھی، یا خیالات نے ہمت چوس کر جسم میں کپکپی سی پیدا کر دی تھی، وہ کافی بنانے اٹھ کھڑی ہوئی، مگر ایک دم ٹھٹک گئی۔
''حیدر'' بے آواز سرگوشی ہوئی۔
''حیدر'' اس نے پھر دہرایا،
اسکرین پر جس شخص کی تصویر تھی، وہ حیدر ہی تھا بالکل حیدر،
لیکن حیدر یہاں میلے کچیلے کپڑوں میں سڑک پر کیسے ہو سکتا ہے، ہتھوڑا لیے۔ وہ تو دفن ہو چکا ہے۔ عورت بڑبڑائی۔
کتنی عجیب سی تصویر تھی۔ چت لیٹا شخص، بغل میں ہتھوڑا۔
ہتھوڑے پر گرفت کے ساتھ تصویر کچھ عجیب سا تاثر دے رہی تھی۔ چہرے پر بنی خیالات کی تصویر اور ہاتھ میں تھامے اوزار میں مماثلت کیوں نہ تھی، وہ چونک گئی۔
وہ اتنی گہری نگاہ تو نہ رکھتی تھی، پھر یہ سب اس تصویر میں اسے کیسے دکھائی رہا تھا۔ یادیں بے چین روح کی مانند پھڑپھڑانے لگیں۔
اس نے زخمی سی مسکراہٹ کے ساتھ سامنے دیوار گیر آئینہ پر اپنے آپ کو دیکھا۔ وہ آج بھی شاداب تھی لیکن اب اس کے میاں کا دل شاداب کے بجائے نکھار پر آچکا تھا۔ دل تو اس کا بھی اپنے میاں سے دور ہو چکا تھا، لیکن اسے اب کسی کی تلاش نہ تھی۔ عیش و آرام جس کی وہ عادی ہو چکی تھی، وہ سب دیکھتے بھی نہ دیکھنے میں تھا، جانتے ہوئے بھی نہ جاننے میں تھا۔
(جاری ہے)

Comments

نصرت یوسف

نصرت یوسف

نصرت یوسف جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں. تنقیدی اور تجزیاتی ذہن پایا ہے. سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے فکشن لکھتی ہیں مگر حقیقت سے قریب تر. ادب اور صحافت کی تربیت کے لیے قائم ادارے پرورش لوح قلم کی جنرل سیکریٹری ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.