برما میں قتل عام اور سول سوسائٹی - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

برما میں مسلمانوں کی نسل کشی کی خبریں بالآخر عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیلنے کے بعد پاکستانی میڈیا اور ٹاک شوز کی بھی زینت بنیں۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کے بعض حقوق انسانی کے علمبرداروں کے انٹرویوز سننے کا موقع ملا۔ امید تھی کہ شاید حقوق انسانی کے علمبردار ایمنسٹی انٹرنیشنل، اقوام متحدہ اور ہیومن رائٹس وغیرہ کی رپورٹس کی بنیاد پر مسلمانوں کی نسل کشی کی بھرپور الفاظ میں مذمت کریں گے۔ مگر اس امید پر پانی پھر گیا۔ ان انٹرویوز کو سن کر دو باتیں واضح طور پر معلوم ہوئیں:

1۔ سول سوسائٹی کے لوگوں کو اندازہ ہوگیا کہ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق مسلم نسل کشی کی جا رہی ہے، اس سے بین الاقوامی سطح پر نظریہ پاکستان کو سپورٹ ملے گی، کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور کفر ایک ملت ہے، اس لیے وہ بار بار یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ محض معاشی مفادات کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہ مسلمانوں کی نسل کشی نہیں۔ مگر ان کو اس میں ناکامی ہوئی، کیونکہ سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیوز، روہینگیا کے لوگوں کے انٹرویوز اور بین الاقوامی رپورٹس نے اس بات کو رد کر دیا۔ اور ثابت ہو گیا کہ اراکان میں بسنے والے صرف مسلماوں پر یہ مظالم ڈھائے جا رہے ہیں دیگر مذاہب کے لوگ محفوظ ہیں۔ کبھی یہودیوں کے ہولو کاسٹ کے خلاف تو بات کر کے دیکھیں۔ وہ اوقات یاد دلا دیں گے۔

2۔ جب یہ حربہ ناکام ہوگیا تو اب موضوع کو دیگر مباحث کے ساتھ خلط ملط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ کنفیوژن پیدا ہو جائے۔
جیسے
پاکستان میں بھی تو اقلیتوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔
روہینگیا میں مسلمانوں کی دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔
پہلے پاکستان میں ظلم ختم کریں، پھر دوسروں کی فکر کریں۔
کم از کم سول سوسائٹی کو حقوق انسانی کی بنیاد پر تو ان کی مذمت بھر پور طور پر کرنی چاہیے تھی۔

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.