مہدی عاکف، چند یادیں - محمد عامر خاکوانی

اخبار میں سنگل کالمی، چند سطروں پر مشتمل خبر شائع ہوئی،
”اخوان المسلمون کے سابق مرشد عام مہدی عاکف انتقال کرگئے۔“
خبر کے مطابق نواسی (89) سالہ مہدی عاکف کینسر کے مریض تھے، مگر انھیں رہا نہیں کیا گیا اور جیل ہی میں ان کی موت ہوئی۔ جناب مہدی عاکف کا نام ہی یادوں کی ایک فلم ذہن میں چلنا شروع ہوگئی۔ چند سال پہلے قاہرہ میں اخوان المسلمون کے دفتر میں ان سے ملاقات کا موقع ملا، اخوان کے دوسرے ممتاز لیڈروں کے ساتھ مرشدعام کا بھی انٹرویو کیا۔ بڑی چمکدار آنکھوں اور بارعب شخصیت کے مالک مہدی عاکف سے ملاقات ایسی نہ تھی جو بھلائی جا سکتی۔ ہمارے ہاں اخوان المسلمون پر گزرنے والی قیامت کے حوالے سے زیادہ نہیں شائع ہو رہا، مہدی عاکف کی موت کی خبر بھی اس لیے آ گئی کہ تمام عالمی ایجنسیوں نے اسے رپورٹ کیا تھا۔ سوچا تھا کہ لکھوں گا، مگر خیالات مجتمع کرتے کئی دن لگ گئے۔ اس دوران دیکھتا رہا کہ شاید کسی اخبار یا ٹی وی چینل کے پروگرا م میں مہدی عاکف کا تذکرہ ہو، کہیں کچھ نہیں ملا۔ جماعت اسلامی سوشل میڈیا نے البتہ فیس بک پر دو چار پوسٹیں ان کے حوالے سے لگائیں۔ جماعتی سوشل میڈیا سیل کے سربراہ برادرم شمس الدین امجد کی ایک تحریر سے مہدی عاکف کے آخری سفر کی دلدوز تفصیل بھی پتہ چلی۔

یہ مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ سے ایک سال پہلے کا تذکرہ ہے۔ فیڈریشن آف اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (Fima)کے ایک پروگرام میںشرکت کے لیے مجھے نائجیریا جانا تھا۔ وہاں مختلف اسلامی ممالک کے آئی سرجنز کے فری میڈیکل کیمپس لگائے جا رہے تھے، پاکستانی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی ان میں شامل تھی۔ مشہور آئی سرجن اور سماجی رہنما پروفیسر ڈاکٹر انتظار بٹ ٹیم لیڈر تھے۔ ڈاکٹر انتظار بٹ کی وجہ سے میں نے بھی ساتھ جانے کی ہامی بھری تھی۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسا متحمل، حلیم اور مخلص شخص نہیں دیکھا جس کی زندگی کا ہر لمحہ خیر پھیلانے اورمعاشرے کے لیے مثبت کنٹری بیوشن میں وقف ہے۔ کبھی وقت ملا تو ان کے پراجیکٹ ”پی او بی“ پر لکھوں گا، جس کے تحت پاکستان میں بےشمار فلاحی منصوبے چل رہے ہیں۔ خیر ڈاکٹر انتظار بٹ کے ساتھ یہ طے ہوا کہ نائجیریا آتے جاتے ہوئے قاہرہ میں قیام ہے تو اس دوران اخوان المسلمون کے لیڈروں سے ملاقاتیں کرنی ہیں۔ برادرم عبدالغفار عزیز کے توسط سے عرب میڈیکل ایسوسی ایشن کے اس وقت کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمنعم ابوالفتوح کا نمبر مل گیا، وہ اخوان کے مرکزی رہنماؤں میں سے ایک تھے، بعد میں الگ ہوئے اور ڈاکٹر مرسی کے مقابلے میں صدارتی انتخاب بھی لڑا۔ معلوم نہیں کہ جنرل سیسی کے ظالمانہ دور حکومت میں ان پر کیا گزری؟

یہ دسمبر کا ایک خوشگوار دن تھا، جب قاہرہ میں اخوان المسلمون کے دفتر پہنچا۔ پہلے ڈاکٹر عصام الریان سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر عصام کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ پارٹی کے اولڈ گارڈز اور اصلاحات نافذ کرنے کے خواہاں نوجوان رہنماؤں کے مابین پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اخوان کی مجلس شوریٰ کے وہ رکن تھے۔ ڈاکٹر عصام الریان ہی ہمیں مہدی عاکف کے کمرے میں لے گئے۔ سادہ سا کمرہ، جسے دیکھ کر بالکل اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ یہ اخوان المسلمون کے مرشد عام کا کمرہ ہے۔ اخوان کے سربراہ کو مرشد عام (General guide) کہتے ہیں، پوری دنیا میں اخوان کے مختلف چیپٹرز کام کر رہے ہیں، مگر مرشد عام ایک ہی ہوتا ہے۔ مہدی عاکف نے ان دنوں اعلان کیا تھا کہ وہ خرابی صحت کے باعث اگلی مدت کے لیے مرشد عام نہیں بنیں گے، یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی مرشد عام اپنی زندگی میں ریٹائر ہو رہا تھا، ان سے پہلے ہر مرشد عام تاحیات اپنے عہدے پر کام کرتا رہا۔ مہدی عاکف پروقار شخصیت کے مالک تھے، تیز چمکدار آنکھیں، گلابی تمتماتا ہوا چہرہ، خشخشی ڈاڑھی، نرمی، شفقت اور تقویٰ کا ایک ہالہ سے ان کے گرد موجود تھا۔ ڈاکٹر عصام الریان نے مترجم کے فرائض سرانجام دیے۔ مرشد عام مہدی عاکف کی زندگی کا بڑا حصہ مزاحمت اور قید و بند میں گزرا تھا۔ ایک اخوانی رہنما نے بتایا تھا کہ انہوں نے سنتالیس سال کی عمر میں شادی کی، اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی نصف زندگی جیل میں گزر گئی۔

میں نے اپنے پرانے کاغذات کھنگالے، دورہ مصر میں تیار کیے گئے نوٹس مل گئے۔ مہدی عاکف کامسکراتا ، مشفق چہرہ بار بار سامنے آ جاتا۔ ان سے گفتگو کے چند نکات نقل کر رہا ہوں۔ مشرق وسطیٰ اور مصر کی صورتحال پر سوالات کے بعد ان سے تحریکی یا دینی ذوق کے حامل نوجوانوں کے لیے مشورے یا ٹپس کا پوچھا تو ایک لمحے کے توقف کے بعد کہنے لگے، ”دین کو جاننے کی کوشش کریں، ہدایت کو جانیں، کلچر اور اسلامی ثقافت کو جانیں۔ دین کی تعلیمات پر مضبوطی سے قائم ہوجائیں۔ مزاحمت میں ڈٹ جائیں۔ آج کل کے حالات میں ہم لوگ اسلام پر عمل پیرا نہیں ہو رہے ہیں، ورنہ باطل پٹ جائے گا۔ اللہ قوموں میں اقتدار اور طاقت کو بدلتے (Rotate) ہیں، اگر حق پر قائم رہے اور کمپرومائز نہ کیا تو ہم کامیاب ہوجائیں گے۔ عمل اور اچھا کام ضروری ہے۔ ہر مسلمان کو ایک دوسرے سے جوڑ دو، رابطہ مضبوط بناؤ۔ اصحاب حق جہاں بھی موجود ہوں، ان سے جڑا جائے۔ “ تحریکی کارکنوں کے لیے ان کا مشورہ تھا، ”معاشرے کو بدلنے کی کوشش کریں۔ جب لوگ بدل جائیں تو خود ہی آپ کو اقتدار میں لے آئیں گے۔ ہم دونوں محاذوں پر کام کر رہے ہیں، مگر ترجیح معاشرے میں تبدیلی ہے۔ جب معاشرے آزاد ہوں گے، ریفارمز تیز ہوجائیں گی۔ اگر آزادی نہیں ہوگی تو اسے لانے کی بڑی کرشش کرنے کی ضرورت ہے۔ کارکنوں کو مختلف ذمہ داریاں تفویض کرنا ہوں گی۔ دعوہ اور اخلاقیات کا کام بہت ضروری ہے، عام آدمی کو اسلامی کلچر اور اسلام کی روح سے واقف کرایا جائے۔“

حسن البنا شہید کی بعض تحریریں اور اخوانی کارکنوں کے لیے عبادات اورتلاوت کا نصاب ”ماثورات“ مصر جانے سے کچھ عرصہ پہلے پڑھی تھی اور میں اخوان کے بانی کے روحانی تشخص سے متاثر ہوا۔ مرشد عام مہدی عاکف سے میرا سوال تھا کہ حسن البنا شہید تو صوفی معلوم ہوتے تھے، مگر اخوان المسلموں کا موجودہ سٹرکچر مختلف نہیں؟ مغربی میڈیا اخوان پر وہابی اسلام سے متاثر ہونے کے الزامات بھی لگاتا ہے، حقیقت کیا ہے؟ بزرگ اخوانی قائد یہ سوال سن کر گویا تڑپ سے گئے، برجستہ جواب دیا ،”حسن البنا اصلاً صوفی تھے، انہوں نے صوفی تنظیم بنائی، اخوان میں صوفی ازم عملی طور پر موجود ہے، اصلی طور پر یہ ایک صوفی تحریک ہے، مگر یہ عملی صوفی نظریہ ہے۔ خانقاہوں میں بیٹھے رہنے کے بجائے میدان عمل میں سرگرم ہونے کا نظریہ۔ میرے خیال میں سب اسلامی تحریکوں کو عملی طور پر صوفی کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت، تقویٰ اور آخرت کی محبت دلوں میں بھر دی جائے۔ “

ڈاکٹر عصام الریان اور مرشد عام نے اپنے انٹرویوز میں تین چار باتیں واضح طور پر کہیں، ”ہم انقلابی نہیں بلکہ اصلاحات کے حامی (ریفارمر) ہیں۔ اسلام میں جنگ کو اعلانیہ ہونا چاہیے، کسی سویلین یا شہری کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، اسلام میں نہتے شہری کو مارنے کی گنجائش موجود نہیں۔ ہمیں مزاحمت اور تشدد میں فرق کرنا چاہیے۔ فلسطینیوں اور افغانوں (افغان طالبان) کو قبضے کی مزاحمت کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہمارے خیال میں کشمیریوں کو اپنی راہ چننے کا حق ہونا چاہیے، انھیں استصواب رائے کا حق ملنا چاہیے۔ القاعدہ کی پالیسی تباہ کن ہے، القاعدہ یا ایمن الظواہری کو مسلم دنیا کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں۔ ہم نے نائن الیون کے اگلے روز یعنی بارہ ستمبر کو غیر مشروط طور پر امریکہ میں حملے کی مذمت کی تھی۔ فلسطین میں اسرائیل کے خلاف خودکش حملے کا معاملہ مختلف ہے، اس بارے میں حماس والے بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں، مگر ہم عراق میں شیعوں اور دوسرے ممالک میں خود کش حملوں کو ناجائز سمجھتے ہیں۔ شدت پسند مصر اور عالم اسلام میں مکمل طور پر مسترد ہو چکے ہیں۔ ان سے صرف امریکہ اور مغرب کو فائدہ ہوا ہے، اور اس سے مغرب نے اسلامک فوبیا کا تاثر قائم کیا ہے۔ ہمیں اپنا کام پرامن طریقے اور مکالمے سے آگے بڑھانا چاہیے۔ اخوان معاشرے میں تبدیلی کا کام اور سیاست بیک وقت کر رہی ہے، مگر سیاست صرف پانچ فیصد ہے، باقی توجہ تبدیلی کے لیے وقف ہے۔“

اخوان المسلمون کے سربراہ سید حسن البنا شہید کو مصری خفیہ پولیس کے ٹارگٹ کلرز نے گولی ماری تھی۔ حکومتی جبر اس قدر شدید تھا کہ ان کے جنازے میں کسی کو شریک نہ ہونے دیا گیا۔ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی تحریک اخوان المسلمون (Muslim Brotherhood) کے بانی کا جنازہ ان کے اہل خانہ نے اٹھایا۔ بزرگ والد کے ساتھ گھر کی تین چار عورتوں نے بمشکل میت اٹھا کر قبرستان پہنچائی تھی۔ پینسٹھ سال بعد اسی اخوان المسلمون کے لیڈر مہدی عاکف کے ورثا پر بھی ایسی ہی قیامت توڑی گئی۔ ان کے جنازے میں بمشکل پانچ سات گھر کے لوگ شریک تھے۔ ان کی بیوہ نے اس موقع پر میت سے مخاطب ہو کر کہا، میرے محبوب تمھیں حسن البنا بہت پسند تھے، ان کی طرح جینا اور مرنا چاہتے تھے، تمھیں نوید ہو کہ تمھارا جنازہ بھی حسن البنا شہید کی طرح اٹھایا جا رہا ہے۔ محرم کے سوگوار دنوں میں مہدی عاکف دنیا سے رخصت ہوئے۔ مصر کے مقتل میں وہ آخری سانسوں تک سربلند کھڑے رہے، کینسر کے مریض تھے، موجودہ مرشد عام ڈاکٹر محمد البدیع نے انہیں گھر آرام کرنے کا مشورہ دیا، مگر مہدی عاکف پیرانہ سالی کے باوجود عملی جدوجہد میں شریک ہوئے اور جیل کی سختیاں برداشت کرتے رہے۔ حسن البنا شہید کی طرح مہدی عاکف بھی اخوان کے اس قافلے کا حصہ بنے، جنہوں نے اپنے لہو کے چراغ جلا کر باطل کا مقابلہ کیا اورحق کے لیے جاں قربان کر دی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.