عاشورا کا روزہ؛ سنتِ رسول ﷺ اور سلف کا طرزِ عمل - حافظ طاہر اسلام عسکری

عاشورا یعنی دس محرم کا دن رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی قریش مکہ کے یہاں قابل تعظیم تھا اور وہ اس دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی بعثت کے بعد روزہ رکھا اور صحابہؓ کو بھی حکم دیا۔ مدینہ ہجرت فرمائی تو دیکھا کہ یہود بھی اس دن روزہ رکھتے تھے؛ آں حضور ﷺ نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ دن بڑا نیک ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات دی تو انھوں نے اس دن کا روزہ رکھا؛ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہم تم سے زیادہ موسیٰؑ کا حق رکھتے ہیں؛ پس خود بھی روزہ رکھا اور صحابہؓ کو بھی ہدایت کی۔ (بخاری، رقم2004) پھر جب صیامِ رمضان کی فرضیت کا حکم آیا تو آں حضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو یہ روزہ رکھنا چاہے، رکھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ (مسلم ، رقم2637) تاہم اس کی فضیلت برقرار رہی؛ چناں چہ ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عاشورا اور رمضان کے علاوہ کسی دن کو دیگر ایام سے افضل سمجھ کر اس کا روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔ (بخاری، رقم2006) خود نبی ﷺ نے اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: مجھے خدا سے امید ہے کہ عاشورا کا روزہ گذشتہ ایک برس کے گناہوں کو مٹا دے گا۔ (مسلم، رقم 2746)

دس محرم کے ساتھ نو یا گیارہ کا روزہ
اپنی حیاتِ طیبہ کے آخری برس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آئندہ برس میں زندہ رہا تو لازماً نو محرم کا روزہ رکھوں گا لیکن اس سے پہلے ہی آپ ﷺ رحلت فرما گئے۔ (مسلم، رقم 1134) اس سے مقصود یہود کی مخالفت تھی؛ حضرت ابن عباسؓ فرماتے تھے کہ یہود کی مخالفت کرو اور نو اور دس کا روزہ رکھو۔ (مصنف عبدالرزاق،رقم 7839) بعض کم زور روایتوں میں دس محرم سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد روزہ رکھنے کا بھی حکم آیا ہے۔ اس بنا پر محدث ابن قیمؒ اور حافظ ابن حجرؒ نے کہا ہے کہ اس باب میں تین مدارج ہیں : ادنیٰ مرتبہ یہ ہے کہ محض دس تاریخ کا روزہ رکھا جائے ؛ درمیانہ درجہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ نو کا روزہ ملایا جائے اور اعلیٰ ترین مرتبہ یہ ہے کہ نو ، دس اور گیارہ تینوں دن روزہ رکھا جائے کہ محرم میں جتنے زیادہ روزے رکھیں جائیں گے ، اتنا ہی اجر زیادہ ہو گا۔ (زادالمعاد 2/72 ۔ فتح الباری 4/289)

اسوۂ سلف اور ہم!
صحابۂ کرامؓ اور سلف صالحین یوم عاشور کے روزے کا بہت اہتمام فرماتے تھے۔ امام مالکؒ کے موطا میں ہے کہ سیدنا عمربن خطابؓ نے حارث بن ہشام کو پیغام بھیجا کہ کل عاشورا کا دن ہے تو خود بھی روزہ رکھو اور اپنے گھروالوں کو بھی روزہ رکھنے کا کہو۔ حافظ ذہبیؒ نے نقل کیا ہے کہ ابن شہاب زہریؒ نے سفر کے دوران میں یوم عاشور کا روزہ رکھا ؛ اس پر لوگوں نے کہا کہ آپ تو سفر میں رمضان کا روزہ بھی نہیں رکھتے پھر یہ کیوں رکھا ہے؟ انھوں نے جواب دی: رمضان کی گنتی تو دوسرے دنوں میں پوری کی جا سکتی ہے لیکن عاشورا کا روزہ فوت ہو جائے گا۔ (یعنی اس کی قضا ممکن نہیں ہے۔) حافظ ابن رجبؒ کے مطابق ابن عباسؓ ، ابو اسحاق سبیعیؒ اور زہریؒ سفر میں بھی عاشورا کا روزہ ترک نہیں کرتے تھے اور امام احمدؒ نے بھی اسی کی تصریح کی ہے کہ یہ روزہ سفر میں رکھنا چاہیے۔(لطائف المعارف ، ص70)

افسوس ناک امر یہ ہے کہ آج ہم محرم اور خصوصاً عاشورا کے دن غیر مسنون اعمال تو کرتے ہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جس عمل کی فضیلت بیان فرما کر اس کی ترغیب دلائی، اس کا کوئی اہتمام نہیں کرتے؛ اللہ عزوجل ہمیں اسوۂ حسنہ کو اپنانےاور سلف صالحین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم ان دنوں میں روزہ رکھ سکیں؛ آمین۔

Comments

حافظ طاہر اسلام عسکری

حافظ طاہر اسلام عسکری

حافظ طاہر اسلام عسکری اسلام کے علمی و فکری اور تحریکی موضوعات سے شغف رکھتے ہیں؛ اتحاد ملت اور امت کی نشاَۃ ثانیہ کے خواب کو شرمندہ تعبیر دیکھنا مقصدِ زیست ہے۔ شعر و ادب کو اہل مذہب کے لیے لازمی گرادانتے ہیں تاکہ فکر و خیال کی لطافتوں کا ابلاغ شائستہ تر اسلوب میں ممکن ہو سکے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں