وزیر خارجہ کی بے اعتدالی، اصل مسئلہ پنجابی سے انگریزی ترجمہ - ظفرالاسلام سیفی

نیویارک میں ایشیا سوسائٹی، مختلف فورمز اور انٹرویوز میں وزیر خارجہ خواجہ آصف فرط جذبات میں وہ کچھ بھی ہمارے ناتواں کندھوں پر ڈال گئے جس کا ہم میں تحمل ہے، نہ نفس الامر میں دھرتی ماں اس طرح کے کسی بوجھ سے شناسائی رکھتی ہے۔ ہمارے مسئلہ خارجہ محاذ پر مضبوط ومربوط خارجہ پالیسی کی تشکیل میں ناکامی ہی نہیں، ایسے اہل افراد سے محرومی بھی ہے جو بین الاقوامی سطح پر ارض وطن کا مقدمہ خوداعتمادی سے پیش کر سکیں۔ کہنے کو تو وزیر خارجہ خواجہ آصف نے دوران گفتگوازراہ تفنن فرمایا کہ " میرے ذہن میں پہلے پنجابی آتی ہے جس کا انگریزی میں ترجمہ کرکے بات کر رہا ہوں" مگر یہ ارشاد موصوف کی علمی لیاقت اور خالصتاً قومی بلکہ عالمی سیاسی حساس مسئلہ پر حلقہ اقتدارکی سنجیدگی پر سوالیہ نشان بھی بہر طورلگا رہا ہے۔

خواجہ آصف نے حافظ سعید اور حقانی نیٹ ورک کے وجود کو دھرتی کا بوجھ قرار دیتے ہوئے ان سے نمٹنے کے لیے وسائل وطاقت کی عدم دستیابی کا رونا بھی رویا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ یہ کہنا آسان ہے کہ پاکستان حافظ سعید وحقانی نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کر رہا ہے، ان کو ہمارے گلے کا ہار بنا دیا گیا، یہ گلے کا ہار نہیں ہم پر بوجھ ہیں مگر ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ہمارے پاس متبادل اثاثے نہیں۔ امریکہ ہمارے بوجھ میں اضافہ کر رہا ہے۔ ہمیں ڈو مور کے لیے وقت درکار ہے ‘‘

وزیر خارجہ کے مذکورہ ارشادات لاریب کہ ریاستی بیانیہ نہیں۔ پوری عسکری وسیاسی قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی امریکی پالیسی کے اجراء کے بعد ببانگ دہل 'ڈو مور' کا جواب 'نو مور' سے دیا تھا۔ دنیا سوال اٹھا رہی ہے کہ حجم میں دو چھوٹے سے گروہ آخر وہ کون سی وسعت وقوت رکھتے ہیں جو ایک ایٹمی ملک کے وسائل وطاقت کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں؟ گھر کی صفائی کے تناظر میں ابہام پیدا ہوگیا ہے کہ کہیں ان نیٹ ورکس کے پیچھے بجائے خود ریاستی عناصر تو نہیں؟ وزیر خارجہ شعوری یا غیر شعوری طور پر پاکستانی کردار کو غیر ملکی سطح پر مشکوک فرما رہے ہیں۔ مبصرین کے نزدیک یہ جملہ ارشادات جلد یابدیر پاکستان کو نئی مشکلات سے دوچار کر سکتے ہیں۔ بھارتی کردار پر انہوں نے ریاستی مقدمہ بجا طور خوب پیش کیا مگر بھارت سے مذکراتی اقدامات کی سیاسی قیمت چکانے کے بیانات سے داخلی منظرنامہ میں تیسری قوت کی موجودگی وبالادستی کی طرف بھی لطیف اشارہ کردیا جو یقیناً عالمی منظرنامہ پر ملک کے جمہوری چہرے کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

گھر کی صفائی کی اہمیت سے انکار ہے، نہ بے اعتدالی کی موجودگی سے، مگر لندن یا نیویارک ایسے بیانات کے لیے مناسب مقامات ہیں؟ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پنجابی کی ہربات کاہر جگہ پر انگریزی ترجمہ کر کے بولنا ضروری نہیں ہوتا، وزیر خارجہ کو اس کا ادراک رکھنا ہوگا۔ سوال ارباب اقتدار کے سیاسی فہم سے ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور بعد ازاں بعد امریکی کونسل آف فارن ریلیشنزکے فورمز اور مختلف انٹرویوز میں جہاں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی عباسی ریاستی بیانیے کو پوری قوت سے بیان کرتے، حقانی نیٹ ورک سمیت جملہ غیر ریاستی تنظیموں کا انکار کرتے، پاکستان کے داخلی عسکری حالات سے دنیا کو مطمئن کرتے اور اسے پاکستان کی قربانیوں کے اعتراف کی طرف متوجہ کرتے نظر آئے، وہیں وزیر خارجہ خواجہ آصف ریاستی بیانیہ بارے شکوک پیدا کرتے، ریاست کی عسکری قوتوں کے حوالے سے ابہامات پیدا کرتے اور پاکستانی مقدمے کو اپنی غلطیوں کے اعتراف کے ساتھ احساس کمتری کے ساتھ پیش کرتے نظر آئے۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان میں سفراء کانفرنس سے جو وزیر خارجہ پاکستان کے جنگ جیتنے کا اعلان کر رہے تھے، وہ نیویارک میں کیسے اور کیوں حقانی نیٹ ورکس کی سامنے اپنی بے بسی کا رونا روتے نظر آئے؟ جو پاکستان میں باور کروا رہے تھے کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کا وقت گزر چکا ہے، وہ امریکی فضاؤں میں 'ڈو مور' پر عمل کے لیے مہلت مانگتے کیوں نظر آئے؟ جنہوں نے امریکی دورہ منسوخ کرکے چین کی طرف رخ التفات کیا تھا اور جتلایا تھا کہ اب ہمیں امریکہ کی طرف دیکھنے کے بجائے دنیا میں ابھرتی دوسری طاقتوں کی طرف دیکھنا ہوگا، وہ نیویارک میں امریکہ کے پاکستان کو تنہا چھوڑ جانے اور خود جلتی جہنم میں امریکی مدد کی بھیک کیوں مانگ رہے تھے؟ کیا اسے بھی حضور والا کی فکر رسا میں آتی پنجابی کے انگریزی ترجموں کے پہلو سے ہی دیکھا جائے؟ ڈرون حملوں کے خلاف پارلیمنٹ کی واضح قراردادوں کے باجود وزیر خارجہ نے ڈرون حملوں کی کم تعداد کو دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں کامیابی کی دلیل کے طورپر پیش کیا اور کہا کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کی کم تعداد بتلا رہی ہے کہ ہم نے دہشت گردی پر کافی حد تک قابو پالیا ہے۔ تو کیا یہاں پارلیمنٹ کی واضح قرار دادپر عملدرآمد کی طرف دنیا کو متوجہ کرنے کی ضرورت نہ تھی؟

ضرورت اس امر کی تھی کہ وزیر خارجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی افغان پالیسی کو مسترد کرتے، ان کی گیدڑ بھپکیوں کے خلاف احتجاج بلند کرتے، بھارت کی طرف امریکی جھکاؤ کی مذمت کرتے، دفتر خارجہ کی طرف سے بھیجی گئی امریکی سفارتخانے کو پارلیمانی قرارداد اور قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کی طرف امریکی قیادت کو متوجہ کرتے، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو نیٹو اتحادی کے درجہ سے ہٹانے اور دہشت گردوں کے سرپرست جیسے بیانات پر وضاحت طلب کرتے ہوئے اپنی خود دارانہ حیثیت انہیں جتلاتے، مگر ان سب پر نہ ہونے کے برابر کام کیا گیا۔ لاریب کہ چیدہ چیدہ آوازیں اس نوع کی بھی آتی رہیں مگر وہ ضرورت سے بہت کم تھیں۔ جن مقدمات کو اصالتاً پیش کرنے کی ضرورت تھی انہیں بالتبع بیان کیا گیا اور جو بیان ہوئے ان کی کوئی ضرورت تھی نہ اہمیت۔ گھر کی صفائی، بھارت سے مذاکرات کی سیاسی قیمت چکانا، حقانی نیٹ ورکس کو بوجھ قرار دینا، ڈو مور کے لیے وقت مانگنا، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا نہ صرف غیر واقعی وغیر ضروری بیانات ہیں بلکہ بظاہر خواجہ آصف کی پنجابی کے انگریزی ترجمہ سے زائد ان کی کوئی حیثیت نہیں لگتی۔

امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن پاکستان بارے جو خیالات رکھتے اور جو زہر اگلتے رہے، ان کا ازالہ ضروری تھا۔ وزیر اعظم عباسی اگرچہ امریکی نائب صدر مائیک پنس، ترکی صدر رجب اردوغان، ایرانی صدرحسن روحانی، اردن کے صدرعبد اللہ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور برطانوی وزیر اعظم تھریسامے سمیت متعدد رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے ہوئے اپنے حصے کاکام کرتے نظر آئے، مگر شاید آپسی کوآرڈینیشن نہ ہونے کے باعث خواجہ آصف بے لگام سرپٹ بھاگتے گئے، جو دنیا کے سامنے ہماری جگ ہنسائی اور پاکستانی عوام کے لیے اذیت وتکلیف کا باعث بنا۔ چنانچہ عالمی فورم پر میڈیائی تضحیک کے علاوہ ملکی سطح پر بھی شدید اضطراب پایا جا رہا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی برائے خارجہ امور نے خواجہ آصف کو طلب کرتے ہوئے اپنے بیانات کی وضاحت طلب کر لی۔ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت نے وزیر خارجہ کے بیانات کو غیر واقعی اور خطرناک قراردیا۔ سماجی وفلاحی تنظیموں نے بھی اسے حقائق کی غلط تعبیر قرار دیتے ہوئے حیرانگی کا اظہار کیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے فارن ریلیشنز کو بہتر بنانے کے لیے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنائے، جملہ معاہدات ومعاملات پارلیمنٹ میں زیربحث لاکراسے روبہ عمل قرار دے، تھنک ٹینکس کو تشکیل دے جو عالمی منظرنامے کا گہرا ادراک کر کے طویل المدتی پالیسیاں تشکیل دے، امریکہ کی دورس پالیسیوں کی پشت پر متعدد امریکی تھنک ٹینکس کی طویل المدتی سفارشات ہوتی ہیں جو ریاست کو اپنی سفارشات فروخت کرتی ہیں جو پوری دنیا کے گہرے جغرافیائی وسیاسی مطالعہ کی بنیاد پر بسااوقات صدسالہ پیش آمدہ حالات پر اپنا گہرا سیاسی تجزیہ پیش کرتے ہیں اور ان کی ان طویل المدتی سفارشات کی روشنی میں امریکی صدر بسا اوقات اپنے انتخابی وعدوں تک سے ان سفارشات کے دورس نتائج کے حصول کے لیے انحراف کر دیتا ہے۔ ہمارا مسئلہ صرف اور صرف یہی ہے کہ ہمارے سفارتی تعلقات اتفاقی حادثو ں کی بنیاد پر کھڑے ہیں۔ تھنک ٹینک ہے، نہ سوچ وادراک، جماعتیں اور ادارے اپنے اپنے مفادات کے تحت خارجی پالیسیوں کو تشکیل دے رہے ہیں۔ دنیا کو آج تک ہمارے داخلی منظرنامے میں طاقت کا محور ہی سمجھ نہیں آیا، کھینچا تانی اور تناؤ کی اس کیفیت میں کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔ وزیر اعظم عباسی کچھ فرما رہے تھے اور خواجہ آصف کچھ گل کھلائے جا رہے ہیں، اس لیے سوچ بسیار کے بعد اپنا خارجہ سطح پر محاذ تشکیل دیں اور پھر خود اعتمادی سے اس کا دفاع کیا جائے۔ پوری قوم کے سامنے رکھا جائے کہ ملک عالمی منظرنامے میں کہاں کھڑا ہے۔ ہمارے کرم فرما بضد ہیں کہ خواجہ آصف بھی ہمارے طرح ریاستی بیانیے کو سمجھتے ہیں، نہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مگر میری نظر میں ان کا معاملہ مختلف ہے۔ بظاہرممکن نہیں کہ خواجہ صاحب خارجہ پالیسی سے واقف نہ ہوں البتہ میری نظر میں ان کا مسئلہ فقط پنجابی سے انگریزی ترجمہ ہے۔ اظہار موقف کے لیے انہوں نے الفاظ بولنے تھے جو جو لفظ ان کے منہ سے نکلتا گیا، جملہ بنتا گیا۔ قطع نظر اس کے کہ وہ جملہ کیا ہے اور اس کا معنی کیا؟ بقول کسے ’’ الفاظ آتے گئے جملہ بنتا گیا ‘‘ بروزن ’’ لوگ آتے گئے کارواں بنتا گیا‘‘۔