پہچان باپ کے نام سے، آخرت میں بھی - عادل سہیل ظفر

ہم مُسلمانوں پر ٹوٹنے والی بڑی مصیبتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم لوگ اپنے دِین، اپنی دُنیا، اپنی آخرت سے متعلق کِسی مسئلے، کِسی موضوع پر چند ایک باتیں سُن پڑھ کر فیصلے صادر کرنے لگتے ہیں اور اُس سے بڑی اور بُری مُصیبت یہ ہے کہ جو فیصلہ صاد رکر دیتے ہیں، یا، اپنا لیتے ہیں اُس میں کِسی غلطی، کِسی کوتاہی، کِسی نا دُرُستگی کو ماننے کا قطعا حوصلہ نہیں رکھتے۔ ایسے بہت سے مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ "کِسی شخص کی پہچان باپ کے نام سے ہونا چاہیے، یا ہو گی، یا ماں کے نام سے؟ "

ہمارے کچھ مُسلمان بھائی اغیار کے فلسفوں سے متاثر ہو کر، اپنے دِین ء حق اِسلام میں دی گئی تعلیمات، جو کہ اللہ عزّ و جلّ کے فرامین اور اللہ کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین اور عملی سُنّت پر مبنی ہیں، اُن تعلیمات پر عمل کو ہی غیر اِخلاقی، غیر فطری کہنے تک پہنچ جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کی خطاؤں سے درگزر فرمائے اور اُنہیں حق قبول کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ اُنہیں شاید اِس حقیقت کا بھی اندازہ نہیں کہ جو کچھ اللہ عزّ و جلّ، اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات کے مُطابق نہیں وہ کِسی بھی طور دُرُست اور اِخلاقی نہیں ہو سکتا۔ خواہ ساری ہی دُنیا کے تمام تر معاشرے اُس کو اپنائے رہیں۔

اِسی طرح اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم کا کوئی حکم، کوئی تعلیم، اُن کے ہاں مقبول کوئی بھی معاملہ قطعا غیر فِطری نہیں ہے۔ جو کوئی بھی ایسا سوچتا ہے وہ درحقیقت اللہ جلّ و عُلا، اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے احکام و تعلیمات پر بہتان بازی کا مُرتکب ہو رہا ہوتا ہے، سمجھ پائے یا نہ سمجھ پائے۔

بہر حال، یہ تو چند سر راہ باتیں تھیں، اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں۔ ہمیں اللہ جلّ و عُلا کے فرامین مُبارکہ میں یہ ہی ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں، دُنیا اور آخرت میں اشخاص کی پہچان، اُن کے اپنے ذاتی ناموں اور باپوں کے ناموں کے ساتھ مربوط ہے، نہ کہ ماؤں کے نام سے۔ کِسی جگہ پڑھنے میں آیا کہ میرے ایک مُسلمان بھائی نے مادر سِری نسب کی حمایت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ایک فرمان میں سے ایک دو الفاظ کا ذِکر کیا اور وہ بھی غلط، انہوں نے لکھا "وللانساب"، جبکہ قران کریم میں یہ الفاظ کہیں نہیں ہیں، بلکہ قیامت کے احوال کے ذِکر میں اللہ جلّ و عُلا کا یہ فرمان ہے کہ فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَپھر جب صُور(میں) پھُونکا جائے گا تو اُس دِن اُن (اِنسانوں ) میں نہ رشتہ داریاں رہیں گے اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا(سُورت المؤمنون (23) / آیت 101)

یہ بھی پڑھیں:   بچے دو ہی اچھے - قدسیہ ملک

اِس آیت شریفہ میں نسب کے کِسی انداز کا، یا انساب کا کوئی اِنکار نہیں، بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ اُس دِن اِنسانوں کو اپنے نسب، اپنی رشتہ داریاں کِسی کا کوئی خیال نہ رہے گا، بس اپنا آپ بچ جانے کی ہی فِکر ہو گی،

اِسی طرح اُس بھائی نے کِسی حوالے کے بغیر ایک حدیث کا بھی ذِکر کر دِیا کہ " قیامت کے دن ہرشخص کی پہچان ماں سے ہوگی "،

کِسی صحیح ثابت شُدہ حدیث میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی، یہ بات درج ذیل روایت میں ہے:

إذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنْ إخْوَانِكُمْ فَسَوَّيْتُمْ التُّرَابَ عَلَى قَبْرِهِ فَلْيَقُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى رَأْسِ قَبْرِهِ ثُمَّ لْيَقُلْ يَا فُلَانُ بْنُ فُلَانَةَجب تم لوگوں کے بھائیوں میں سے کوئی مر جائے، اور تم لوگ اُس کی قبر پر مٹی برابر کر چکو تو تم سے کوئی ایک اُس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو، اور کہے، اے فُلاں عورت کے فُلاں بیٹے( اِس روایت کو محدثین کرام رحہم اللہ نے ضعیف اور مُنکر، یعنی کمزور، ناقابل حجت قرار دِیا ہے، لہذا اِسے کِسی دلیل کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا)

اِس مذکورہ بالا مُنکر روایت پر تکیہ کرتے ہوئے، میرے اُس بھائی کی دِین کے بارے میں معلومات، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرامین پر اِیمان کی حالت کا اندازہ اُس کی اِس بات سے بھی ہوتا ہے کہ " اگر قیامت کا دن کوئی ایک مخصوص دن نہیں بلکہ ایک سلسلہ کا نام قیامت ہے "،

خوفناک، دُکھ بھری حیرت ہے کہ مُسلمانوں میں، اللہ کے احکام سے اِس قدر غافل لوگ بھی ہیں، جنہیں قیامت کا دِن ہونے پر بھی شک ہے،

صحیح حدیث شریف میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ الْغَادِرُ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلاَنِ بْنِ فُلاَنٍغداری کرنے والے کے لیے، قیامت والے دِن، (اُس کے نام کا ) جھنڈا بلند کیا جائے گا، (اور ) کہا جائے گا کہ یہ فُلاں مرد کے فلاں بیٹے کی غداری ( کا جھنڈا ) ہے۔ مزید وضاحت اِن الفاظ میں مروی ہے کہ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلاَنٍ غداری کرنے والے کے لیے، قیامت والے دِن، (اُس کے نام کا ) جھنڈا ہو گا، جِس کے ذریعے اُس کی پہچان ہو گی، (اور ) کہا جائے گا کہ یہ فُلاں مرد کے فلاں بیٹے کی غداری ( کا جھنڈا ) ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

پس بالکل واضح ہے کہ دُنیا اور آخرت میں اللہ سُبحانہ ُو تعالیٰ کے ہاں کِسی اِنسان کی پہچان، کِسی اِنسان کا حسب نسب، باپ کے ذریعے ہی ہوتا ہے اور ہو گا، اِس کے عِلاوہ جو کوئی بھی کوئی دُوسرا انداز اپناتا ہے وہ غلطی پر ہے۔

افسوس پر افسو س کہ اُس بھائی نے مغرب سے متاثر ہوتے ہوئے یہ بھی لکھا دِیا کہ " اگر موجودہ دور کے انسانی معاشروں پر نگاہ دوڑائیں تو مغرب جو زیادہ پڑھا لکھا، زیادہ سیانا، زیادہ علقمند، زیادہ سمجھدار ہے۔ وہاں تمام معاشرے تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔یعنی پدرسری سے مدرسری بنتے جارہے ہیں "۔ کِسی مُسلمان کو کِسی بھی عقیدے یا عمل کی حمایت کرنے سے پہلے اچھی طرح یہ جان لینا چاہیے کہ کہیں وہ حمایت اُس کے لیے اُس کی آخرت میں کِسی خسارے کا سبب نہ ہو جائے۔

بے شک دُنیاوی مادی عُلوم کی تعلیم، ترقی، وُسعت وغیرہ اِنسانی مُعاشرے میں کچھ آسانیوں کا سبب بنتی ہے، لیکن۔۔۔ اِن میں کوئی ایک بھی اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کو سمجھنے کی کسوٹی نہیں، بلکہ اِن سب میں سے حق اور باطل کی پہچان اللہ جلّ جلالہُ کی وحی کے ذریعے ہوتی ہے، وہ وحی جو قران کریم کی صُورت میں، اور صحیح احادیث شریفہ کی صُورت میں اللہ پاک نے ہم تک پہنچائی ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو حق پہچاننے، ماننے، اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اُس کے سامنے حاضر ہو کر، اُس کی رضا پانے والوں میں سے بنائے۔

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.