سعودی عرب میں آنے والی نئی تبدیلیاں - غلام نبی مدنی

26 ستمبر شام کوسعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے ایک تاریخی حکم نامہ جاری ہوا، جس میں پہلی مرتبہ عورتوں کو سعودی عرب میں ڈرائیونگ کرنی کی اجازت دی گئی۔ اس حکم نامے میں کہاگیا کہ کہ ایک ماہ تک متعلقہ لوگ بادشاہ کو تجاویز دیں گے جس کے بعد جون 2018ء تک ہرحال میں یہ فیصلہ نافذ العمل ہوجائے گا۔ سعودی عرب میں شروع سے عورتوں کی ڈرائیونگ قانوناً اگرچہ پابندی نہیں تھی، تاہم تہذیبی اور معاشرتی رویّوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عمل کی اجازت نہیں تھی۔ بہرحال، اس تاریخی فیصلے کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ، انجیلا مرکل، برطانوی وزیراعظم تھریسامے سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے سعودی عرب کے اس فیصلے پر داد دی ہے جبکہ سعودی عرب کی علماء کمیٹی نے بھی اس فیصلے کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ شرعی طور پر عورتوں کی ڈرائیونگ کے خلاف کوئی صریح دلیل نہیں، تاہم علماء نے اجتہاد کرکے مفاسد کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ممنوع قرار دیا تھا۔

سعودی ماہرین اقتصادیات کے مطابق اس فیصلے سے ملک کی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ ساڑھے چار بلین ڈالر سالانہ خواتین 10 لاکھ سے زیادہ ڈرائیوروں کو دیا کرتی تھیں،اس فیصلے کے بعد یہ رقم بچ جائے گی۔عوامی سطح پر اس فیصلے کے حق اور مخالفت میں رائے عامہ تقریباً برابرہے۔اس فیصلے کو سراہنے والے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ پہلے عموماً غیر محرم ڈرائیوروں کے ساتھ خواتین کو مجبوراً جانا پڑتا تھا جب کہ اس فیصلے کے بعد خواتین غیرمحرم ڈرائیوروں سے آزاد ہوجائیں گی۔جب کہ کچھ لوگ معاشرتی اورثقافتی روایات کی وجہ سے اس فیصلے پرخدشات رکھتے ہیں۔کیونکہ عرب بالخصوص سعودی عرب ثقافتی اور تہذیبی طور پر عورتوں کے معاملے میں انتہائی حساس ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج تک خواتین کو عرب معاشرے میں بے پناہ عزت حاصل ہے،بلاحجاب عورتوں کو عیب کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے،کام کاج کرنے والی خواتین کو بھی معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔اس وجہ سے بہت سے لوگ اب بھی یہی توقع کررہے ہیں کہ بہت کم تعداد میں خواتین ڈرائیونگ کو پسند کریں گی۔تاہم ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بھرمار اوربین الاقوامی سرمایہ کاروں کی بہتات کو سامنے رکھتے ہوئے بہت سے لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مستقبل میں عرب کلچر اور ثقافت یکسر تبدیل ہوجائیں گی۔جس کااندازہ یہاں کے لباس اور پرتعیش رہن سہن سے لگایا جاسکتاہے، جس پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بھرپور قبضہ ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عرب بہار اور شام، زمینی صورتحال کیا ہے؟ محمد طیب سکھیرا

سعودی عرب میں آنے والی نئی تبدیلیوں میں دوسری تبدیلی 23 ستمبر کو سعودی عرب کے 87 ویں قومی دن کی تقریبات میں بایں طور دیکھی گئی کہ پہلی مرتبہ سعودی عرب کے قومی دن انتہائی جوش جذبے سے منایا گیا۔ ریاض میں حکومتی سطح پر منعقد کی گئی قومی دن کی ایک تقریب میں مردوں کے ساتھ پہلی مرتبہ خواتین کو بھی شرکت کی اجازت دی گئی۔ایک اور تبدیلی یہ سامنے آئی کہ اب حکومتی سطح پر خواتین کے مارکیٹ میں کام کرنے کو حکومت سطح پر سراہا جارہاہے۔جس پر چند سال پہلے تک وہ توجہ نہیں تھی، جو اب ہے۔چنانچہ پہلے خواتین حکومتی شوری ٰ میں شرکت نہیں کرسکتی تھیں،مگر شاہ عبداللہ نے پہلی مرتبہ خواتین کو حکومتی شوریٰ میں شامل کیا۔خواتین کے معاملے میں آنے والی ان تبدیلیوں کی بڑی وجہ عالمی سطح پر سعودی عرب پر ہونے والی وہ تنقید ہے جس میں سعودی عرب کو خواتین کے حقوق کے معاملے میں شدت پسندی کا طعنہ دیا جاتاتھااور اس تنقید میں انتہائی مبالغہ آمیزی بھی کی جاتی رہی ہے۔ورنہ سعودی عرب میں خواتین کو جو حقوق حاصل ہیں وہ شاید کسی اور ملک میں نہ ہوں۔ کیونکہ یہاں خواتین کونکاح کے معاملے سے لے کر وراثت تک حکومتی اور معاشرتی سطح پر جوحقوق حاصل ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔بہرحال، خواتین کے معاملے میں آنے والی یہ نئی تبدیلیاں اگرچہ خوش آئندہیں، مگر ان کے ساتھ شرعی اور ثقافتی اقدار کا خیال رکھنا ہمیشہ ضروری ہے۔

سعودی عرب میں آنے والی نئی تبدیلیوں میں ایک اورتبدیلی یہ ہے کہ جس کا اظہار امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن نے ایک سائل کے جواب میں کہا۔سوال یہ تھا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی پھیل رہی ہے،جس کا تانے بانے سعودی عرب سے ملتے ہیں،کیونکہ داعش اور القاعدہ ایسی شدت پسندسوچ یہیں سے پروان چڑھیں،تو امریکی حکومت اس سوچ کو ختم کرنے کے لیے کوئی مستقل اقدامات کیوں نہیں کرتی؟جواب میں ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ امریکا نے سعودی حکومت کے ساتھ مل کر ریاض میں ایک مرکز کھولا ہے،جہاں سعودی عرب میں پڑھائے جانے والے نصاب اور دیگر کتب پر غور وفکر کیا جائے گا۔اس میں جہاں کہیں شدت پسند سوچ ملی اسے ختم کردیا جائے گا۔بظاہر ٹیلرسن کا یہ جواب اچھا ہے۔لیکن بہت سے لوگ اس پر بھی خدشات کا اظہار کررہے ہیں،کہ کہیں اس کی آڑ میں اسلامی روایات پر ہاتھ نہ صاف کردیا جائے۔لیکن سعودی معاشرے کی دین سے جڑی روایت کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا ہونا ناممکن ہے۔لیکن بہرحال پھر بھی امریکا کی چالاکیوں پر نظر رکھنا ہوگی کیونکہ یہی امریکا ہے جس نے نائن الیون کے نام پر اسلامی دنیا کو تہس نہس کیا۔یہی امریکا ہے جس کے صدر بش نے کہا تھا کہ نائن الیون دراصل مسلمانوں کے خلاف عیسائی مقدس جنگ کا آغاز ہے۔یہی امریکا ہے جس نے دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑدیا۔اس لیے امریکا کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے ہمیشہ کڑی نظر رکھنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   عرب بہار اور شام، زمینی صورتحال کیا ہے؟ محمد طیب سکھیرا

بہرحال سعودی عرب میں آنے والی ان تبدیلیوں سے روشن مستقبل کی امید ہے۔لیکن ان تبدیلیوں میں ہمیشہ معاشرتی رویوں اور ثقافتی اقدار کا پاس رکھنا بہت ضروری ہے۔کیونکہ اگر ان تبدیلیوں کی آڑ میں خدانخواستہ معاشرتی اور تہذیبی اقدار جاتی رہیں تو ملک میں فساد پھیل جائے گا۔جس کے نقصانات انتہائی بھیانک ہوں گے۔دعاہے کہ اللہ ایسے وقت سے سعودی عرب اور امت مسلمہ کو محفوظ رکھے۔

Comments

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، ایم اے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں گریجوایٹ ہیں۔ 2011 سے قومی اخبارات میں معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کے لیے خصوصی بلاگ اور رپورٹ بھی لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.