امام حسین کے غم میں رونا - طاہر علی بندیشہ

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے جبرئیل امین نے (عالم بیداری میں) بتایا کہ میرا یہ بیٹا حسین عراق کی سرزمین میں قتل کر دیا جائے گا. میں نے کہا جبرئیل مجھے اس زمین کی مٹی لا کر دکھا دو جہاں حسین کو قتل کر دیا جائے گا، پس جبرئیل گئے اور مٹی لا کر دکھا دی کہ یہ اس کے مقتل کی مٹی ہے۔ (1. البدايه والنهايه، 8 : 196 – 200، 2. کنز العمال، 12 : 126، ح : 34313)

ایک دوسری روایت ہے : عن عائشة عنه انه قال أخبرنی جبرئيل ان ابني الحسين يقتل بعدي بأرض الطف حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جبرئیل امین نے مجھے خبر دی کہ میرا یہ بیٹا حسین میرے بعد مقام طف میں قتل کر دیا جائے گا۔ (المعجم الکبير، 3 : 107، ح : 2814)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی روایت بھی کم و بیش وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے، یہ بھی قتل حسین رضی اللہ عنہ کی اطلاع ہے۔ یہ روح فرسا اطلاع پا کر قلب اطہر پر کیا گزری ہوگی؟ اس کا تصور بھی روح کے در و بام کو ہلا دیتا ہے، پلکوں پر آنسوؤں کی کناری سجنے لگتی ہے اور گلشن فاطمہ سلام الله علیها کی تباہی کا دلخراش منظر دیکھ کر چشم تصور بھی اپنی پلکیں جھکا لیتی ہے۔

اسی طرح ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ آقا علیہ السلام کے چشمان مقدس سے آنسو رواں تھے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج کیا بات ہے، چشمان مقدس سے آنسو رواں ہیں؟ فرمایا کہ مجھے ابھی ابھی جبرئیل خبر دے گیا ہے کہ ان امتک ستقتل هذا بأرض يقال لها کربلاء آپ کی امّت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس بیٹے حسین کو اس سر زمین پر قتل کر دے گی جس کو کربلا کہا جاتا ہے۔ (المعجم الکبير، 3 : 109، ح : 2819)

عن ام سلمة قالت قال رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم يقتل حسين بن علي علي رأس سيتن من المهاجري (مجمع، 9 : 190)

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا حسین بن علی کو ساٹھ ہجری کے اختتام پر شہید کر دیا جائے گا۔ (بحواله طبراني في الاوسط)

غیب کی خبریں بتانے والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف حضرت امام حسین سلام الله علیه کے مقتل کی نشاندہی کر دی کہ یہ عراق کا میدان کربلا ہوگا بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ یہ عظیم سانحہ 61 ہجری کے اختتام پر رونما ہوگا۔

میرے آقا مولا، مصطفےٰ، مجتبیٰ، محمود، شفیع، شافع، خاتم الانبیا، رسول اللہ، حبیب اللہ، اشرف المرسلین، سید البشر، محبوب حق، طاہر، مختار، سراج منیر، امین، صادق، شمس الضحیٰ، بدرالدجیٰ، طۤہ، یٰس، مزمل، مدثر، سرور کائنات، فخر موجودات کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں، ہم پر لعنت ہو کہ ہم صفی اللہ، نعمۃ اللہ، خیرة خلق اللہ کی سنت پوری نہ کریں۔ اگر رسول پاکﷺ غمگین ہوں تو ہمیں غمگین ہونا چاہیے اور سنت کو پورا کرنا چاہیے۔

حضرت سلمی ٰسے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہؓ سے رونے کا سبب پوچھا اور کہا: کس شے نے آپ کو گریہ و زاری میں مبتلا کر دیا ہے؟ آپ نے کہا : میں نے خواب میں نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہے۔ آپﷺ کا سر انور اور ریش مبارک گرد آلود تھی۔ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ، آپﷺ کی کیسی حالت بنی ہوئی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے ابھی ابھی حُسین کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے!

مندرجہ بالا روایت مندرجہ ذیل کتب اہل سنت میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہیں
جامع ترمذی // ابوعیسی ٰ ترمذی //ص 1028//حدیث:3771//باب:مناقب حسن و حسین (ع) //طبع الاولیٰٰ 1426ھ، دار الکتب العربی بیروت
مستدرک//امام حاکم //تلخیص:علامہ ذہبی//ج 4//ص 387//ح:6895//باب ذکر ام المومنین ام سلمہ //طبع قدیمی کتب خانہ پاکستان،جز:5
تہذیب التہذیب // ابن حجر عسقلانی // ج 2//ص 356//ترجمہ: امام حسین (ع) // طبع الاولی ھند
البدایہ والنھایہ//ابن کثیر//محقق:عبدالمحسن ترکی//ج:11//ص 574//طبع الاولیٰٰ 1418 ھ، جز:21 الھجر بیروت

امام احمد نے اپنی مسند میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپ ﷺ غبار آلود دوپہر کے وقت خون سے بھری ہوئی ایک شیشی لیے ہوئے ہیں۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ فداک ابی و امی، یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا، یہ حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے جسے میں آج صبح سے اکٹھا کر رہاہوں۔

عمار کہتے ہیں کہ ہم نے حساب لگایا تو ٹھیک وہی دن شہادت امام حسینؑ کا روز تھا۔

امام ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس روایت کو امام احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد قوی ہیں۔ (البدایۃ والنھایۃ)

ابن ابی الدنیا نے عبداللہ بن محمد بن ہانی ابو عبد الرحمن نحوی سے، انہوں نے مہدی بن سلیمان سے اور انہوں نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن عباس سو کر اٹھے تو "انا للہ و انا الیہ راجعون " کہا اور کہنے لگے اللہ کی قسم امام حسین شہید کر دیے گئے ہیں۔ ان کے اصحاب نے پوچھا کہ اے ابن عباس ! کیوں کر؟ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو خون کی ایک شیشی لیے ہوئے خواب میں دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے ابن عباس ! کیا تم جانتے ہو کہ میرے بعد میری امت کے اشقیاء نے کیا کیا؟ انہوں نے امام حسینؑ نے شہید کر دیا ہے۔ اور یہ اس کا اور اس کے اصحاب کا خون ہے جسے میں اللہ تعالی کے حضور پیش کروں گا۔ چنانچہ وہ دن اور گھڑی لکھ لی گئی۔ اس کے بعد چوبیس دن بعد مدینہ شریف میں یہ خبر آئی کہ امام حسین کو اسی دن اور اسی وقت میں شہید کیا گیا۔

حمزہ بن زیارت نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دیکھا کہ دونوں پیغمبر امام حسینؑ کے روضہ پر نماز پڑھ رہے ہیں۔ شیخ ابو نصر نے بالاسناد حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالہ سے بیان کیا کہ حضرت جعفر بن محمد نے فرمایا کہ حضرت حسین ؑ کی شہادت کے بعد آپ کی قبر انور پر ستر ہزار فرشتے اترے اور قیامت تک آپ کے کے لیے اشکباری کرتے رہیں گے۔ (البدایۃ والنھایۃ )

ایک روایت میں ہے کہ یہودی نے خواب میں دیکھا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام رو رہے ہیں تو اس نے پوچھا کہ آقا! آپ کیوں رو رہے ہیں۔ فرمایا کہ آہ! اشقیاء نے امام الانبیاء کے نواسہ کو شہید کر دیا ہے ہم انہی کے غم میں رو رہے ہیں۔

اب ایسے تمام لوگوں کو میری صلاح ہے کہ آپ ارادتاً محرّم میں ہی اپنی شادیاں اور بقیہ خوشیاں انجام دیجیے گا۔ میں تو ایسے کئی چشم دید واقعات کا گواہ ہوں جس میں ایسے لوگوں کی خوشیاں جنہوں نے محرم میں منائی، جلد یا بدیر غموں میں بدل گئی۔ اس میں میرے نانکے میں ہمسائے رہتے تھے، انہوں نے ضد کر کے محرم میں اپنے دونوں بیٹوں کی شادیاں رکھیں اور پھر وہ خوشیاں انہیں سال بھی نصیب نہیں ہوئیں، ایک تو اسی دن برات سے واپسی پر ایکسیڈینٹ ہو کر راہی عدم ہو گیا اور دوسرے تقریباً چھ سات میں ماہ میں دونوں ٹانگیں کٹوا کر بیٹھ گیا، اور میں دوسروں کی کیوں مثال دوں میرے تو اپنے خاندان میں میرے تایا کی بیٹی کے ساتھ ایسا ہی ہوا، اس کی شادی بھی منع کرنے کے باوجود محرم میں طے پاگئی تھی۔ اب اپنا علم تو قرآن و حدیث اور پھر ذاتی تجربہ و مشاہدہ پر مبنی ہے۔ یعقوب علیہ السلام چالیس تک اپنے بیٹے کی جدائی میں روتے رہے اور رو رو کر اپنی بینائی ختم کر لی اور نواسۂ رسول کا تو واقعہ جو خود وہ نیزے پر فرماتے ہیں کہ اے "أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا" پڑھنے والے میری طرف غور کر میرا واقعہ تو ان سے بھی عجیب تر ہے۔ تو جب آپ خود گواہی فرما چکے ہیں اسی لیے تو آپ کا ذکر اور غم چودہ سو سال سے متواتر جاری ہے اور برابر ہم اہل سنت اور شیعوں دونوں میں جاری ہے۔ بہت سارے آئے آپ جیسے یہ کہتے ہوئے کہ غم نہ مناؤ، خوشی کرو محرم کے ایام میں خوشی کرنا ممنوع نہیں ہے۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ نہیں منع مگر کوئی شرم و حیا بھی ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے رسول پاک ﷺ کی حیا ہے کہ ہم ان کے نواسے کے غم کے ایام میں کوئی خوشی نہیں کرتے،

ویسے بھی اپنا عقیدہ بڑا سیدھا سا ہے، رسول اللہ ﷺ کی خوشی کے ساتھ خوشی اور ان کے غم کے ساتھ غم، امام حسینؑ کے شہید ہونے سے بہت پہلے جب ان کی شہادت کی خبر بچپن میں ملتی ہے تو میرے نبی پاک ﷺ وہ خبر سن کر روتے ہیں۔ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنھا والی حدیث مبارکہ اٹھا کر دیکھیے، زمانے کی آنکھ میں حیا ہی باقی نہیں رہ گیا ہے۔ کس زبان سے ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اپنے نبی کے ماننے والے ہیں؟ ان کی اولاد کے غم کو غم ہی نہیں سمجھتے؟ الحذر! ایسی ژولیدہ فکری۔ امام باقر سے روایت ہے کہ امام زین العابدین اپنے باپ سے انہوں نے پوچھا کہ ابا جی! کیا وجہ ہے کہ آپ کبھی ہنستے نہیں ہیں۔ فرمایا بیٹا! "جو کچھ میں نے دیکھا ہے وہ بھول سکنے والا ہی نہیں ہے۔ " کچھ خدا کا خوف کرو، رسول اللہ ﷺ اور آل رسول کا کچھ حیا ہی نہیں رہا ہے۔ اگر دین علم میں ہی ہوتا تو کیوں پھر یزیدی، امام حسین کو شہید کرتے؟ چودہ سو سال سے لے کر ہر عالم، محدث، مؤرخ، شاعر، صوفیاء کرام شہادت امام حسین کا احترام کرتے آئے ہیں، ان دنوں کو وہ غم کے دنوں سے یاد کرتے آئے ہیں اور اب آئے ہیں کچھ بالشتیے چند کتب کیا پڑھ لیں؟ اہل بیت کے غم کو تولنے چلے ہیں۔

سلطان باہو نے حضرت امام حسینؓ کی عظیم شہادت کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔


جے کر دین علم وچ ہوندا تے سر نیزے کیوں چڑھدے ہُو
اٹھارہ ہزار جو عالم آہا اوہ اگے حسینؓ دے مَردے ہُو

جے کُجھ ملا حظہ سرور دا کردے تے خیمے تنبو کیوں سڑدے ہُو
پر صادق دین اونہاں دے باہُو جو سر قربانی کر دے ہُو

اگر دین صرف علم کے حاصل کرنے میں ہوتا توعمل کرتے ہوئے سر نیزوں پر کیوں چڑھا دیے
اُس وقت کے اٹھارہ ہزار عالموں کو حضرت امام حسین کے نام پر جان قربان کرنی چاہیے تھی
اگر ان کو ذرا بھی لحاظ ہوتا حضورکا توخیمے کیوں جلتے
اگر وہ حضور سے کی گئی بیعت کو مانتے تو پانی بند نہ کرتے
پر سچا دین تو باہو ان کا ہے جو اپنا سر راہ خدا میں قربان کرتے ہیں

اقبال کہتے ہیں

ای صبا ای پیک دور افتادگان
اشک ما بر خاک پاک او رسان

اے صبا! اے دور رہنے والے لوگوں کی قاصد! ہمارے آنسووں کا ہدیہ امام حسینؓ کے قدموں کی پاک خاک تک پہنچا دے۔

عجب مذاق ہے اسلام کی تقدیر کے ساتھ
کٹا حسینؑ کا سر نعرہ تکبیر کے ساتھ

اب بھی وہی مذاق جاری ہے ایسے ہی لوگوں کے ذریعے جو یہ کہتے ہیں کہ نواسۂ رسول کا غم مت مناؤ۔

علامہ اقبال کا کچھ کلام باقیات اقبال کے نام سے شائع ہوا ہے، جسے علامہ اقبال نے اپنے کلام کو مرتب کرتے وقت نظر انداز کردیا تھا، اس میں سے دو شعر پیش ہیں:

جس طرح مجھ کو شہید کربلا سے پیار ہے
حق تعالیٰ کو یتیموں کی دعا سے پیار ہے

رونے والا ہوں شہید کربلا کے غم میں
کیا دُر مقصود نہ دیں گے ساقی کوثر مجھے

اس بات کو اس مثال سے سمجھیے کہ جب ہمارے پڑوس میں کوئی فوتگی ہو جاتی ہے تو ہم اپنے پڑوسی یا اہل محلہ کے ساتھ یگانگت کے لیے اس دن میں اپنے گھر ٹی وی نہیں چلاتے کہ پڑوس کے گھر میں آج غم کی رات ہے کہ ان کا عزیز فوت ہو گیاہے۔ ہمارے دیہاتوں میں تو یہ روایت بھی رہی ہے کہ کسی کی شادی ہے تو پڑوس میں ہو جانے ولی فوتگی کی وجہ سے اپنی شادی ملتوی کر دیتے تھے اور تاریخ تبدیل کر لیتے تھے۔ مگر ہمیں اپنے رسول ﷺ کی آل کے غم میں شریک ہونے سے تکلیف ہوتی ہے اس لیے کہ وہ شیعہ کرتے ہیں شیعوں کا عمل ان کے ساتھ، وہ اپنے عمل کے جواب دہ ہیں اور ہم اہل سنت اپنے عمل کے جواب دہ ہیں۔ بات بڑی سیدھی ہے کہ اپ قرآن و حدیث سے اس کی جواز اور امتناع کے دلائل تو لے آئے ہیں مگر اس طرف نہیں سوچا کہ قرآن اور صاحب قرآن کو ماننے کا حق کیا ہے۔ قرآن، صاحب قرآن کی معیت کے بنا اپنے معانی نہیں کھولتا۔ صاحبِ قرآن سے قربت، ان کا شرف ہے جو انہیں سر آنکھوں پر رکھیں، جنہیں صاحب قرآن نے کندھوں پر اٹھائے رکھا۔قرآن اور اگر صرف قرآن ہی کافی ہوتا تو آیات تو یزید نے بھی پڑھی تھیں۔ نماز تو لشکرِ اشقیاء نے بھی پڑھی تھی۔

جن لوگوں کو محرّم میں ہی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کی یاد آتی ہے، جنہیں صرف محرم الحرام میں ہی قرآن و حدیث یاد آتے ہیں اور ان کی تان بس امام حسین علیہ السلام کے غم میں رونا اور ان کے غم میں کچھ دن غمگین رہنا ہی کھٹکتا ہے وہ ذرا امام شافعی کے یہ اشعار پڑھ کر اپنے دل کے اندر جھانکیں کہ کیا وجہ ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے کچھ یوں فرمایا ہے۔:

اذافی مجلس ذَکَرُواعلیاً۔ وسِبْطَیْہِ وَفاطمةَ الزَّکیَةَ
فَاجْریٰ بَعْضُھم ذِکریٰ سِوٰاہُ۔ فَاَیْقَنَ اَنَّہُ سَلَقْلَقِیَةَ
اِذٰا ذَکَرُوا عَلیَاً اَو ْبَنیہِ۔ تَشٰاغَلَ بِالْرِّوایاتِ الْعَلِیَةِ
یُقال تَجاوَزُوا یاقومِ ھٰذا۔ فَھٰذا مِنْ حَدیثِ الرّٰافَضِیََّّةِ
بَرِئتُ الی الْمُھَیْمِن مِن اناسٍ۔ بَرونَ الرَّفْضَ حُبَّ الْفٰاطِمَیةِ
عَلیٰ آلِ الرَّسولِ صَلوةُ رَبِّی۔ وَ َلَعْنَتُہُ لِتِلْکَ الْجٰاھِلِیَّةِ

”جب کسی محفل میں ذکر ِعلی علیہ السلام ہویا ذکر ِسیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہاہویا اُن کے دوفرزندوں کا ذکر ہو، تب کچھ لوگ اس واسطے کہ لوگوں کو ذکر ِمحمد و آلِ محمدسے دور رکھیں، دوسری باتیں چھیڑ دیتے ہیں۔ تمہیں یہ یقین کرلینا چاہیے کہ جوکوئی اس خاندان کے ذکر کے لیے اس طرح مانع ہوتا ہے،وہ بدکار عورت کا بیٹا ہے۔ وہ لمبی روایات درمیان میں لے آتے ہیں کہ علی و فاطمہ اور اُن کے دو فرزندوں کا ذکر نہ ہوسکے۔وہ یہ کہتے ہیں کہ اے لوگو! ان باتوں سے بچو کیونکہ یہ رافضیوں کی باتیں ہیں(میں جو امام شافعی ہوں) خدا کی طرف سے ان لوگوں سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جو فاطمہ سے دوستی و محبت کرنے والے کو رافضی کہتے ہیں۔ میرے رب کی طرف سے درودوسلام ہو آلِ رسول پر اور اس طرح کی جہالت(یعنی محبانِ آلِ رسول کو گمراہ یا رافضی کہنا) پر لعنت ہو“۔

(حوالہ جات : 1.شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، صفحہ329،باب62،از دیوانِ شافعی۔ 2.شبلنجی،کتاب نورالابصار میں،صفحہ139،اشاعت سال1290)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com