درود شریف کی فضیلت و اہمیت - شاہد شفیع

اِنَّ الله وَمَلائِکتَهُ يُصَلُّونَ عَلیَ النَّبِیِ یَااَیُّھاالَّذِینَ آمَنُو صَلُّو عَلَیهِ وَسَلّمُو تَسلِيما. القرآن
بے شک اللہ اور اُس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس نبی پر، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

امام جلال الدین سیوطی اپنی کتاب، در منثور، میں فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو لوگ جوق در جوق رسولِ کریم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ تبریک پیش کرنے لگے۔

علامہ سخاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں، کہ آیت شریفہ مُضارع کے صیغہ کے ساتھ ہے جو دلالت کرنے والا ھے اِستمرار اور دَوام پر، یہ آیت دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ اللہ اور اُس کے فرشتے ہمیشہ درود بھیجتے رہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ آیت شریفہ میں حضور کو نبی کے لفظ کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے، محمد کے لفظ سے تعبیر نہیں کیا گیا جیسا کہ اور انبیاء کو ان کے اسماء کے ساتھ ذکر کیا گیا۔ یہ رسول اکرم کی غایت عظمت اور غایت شرافت کی وجہ سے ہے۔

صلوۃ کا لفظ آیت شریفہ میں وارد ہوا ہے اور اُس کی نسبت اللہ جلَّ شانہ کی طرف، فرشتوں کی طرف اور مؤمنین کی طرف کی گئی. ایک مشترک لفظ ہے جو کئی معنی میں مستعمل ہے۔ نسبتیں بدلنے سے معانی ومفاہیم بھی بدل جاتے ہیں۔

درود شریف کی یقینی قبولیت کے لیے انسان کے فکر و نظر اور قلب وذات کا پاک ہونا ازحد ضروری ہے، کیونکہ درود پاک جب ایسی زبان سے ادا ہو جو ریا و غرور، حسد و بخل و دیگر باطنی خباثتوں سے پاک ہو تو سلامتی کے ساتھ شرفِ قبولیت سے نوازا جاتا ہے، لہذا قلوب کو ان جمیع عیوب سے پاک کرنا لازم ہے تاکہ درود شریف کی برکات سے کُلیتاً مُستفید ہوا جا سکے۔

مذکورہ بالا آیت کریمہ کے بارے میں علمی نکات کتبِ تفاسیر میں موجود ہیں بالخصوص مولانا محمد زکریا کاندھلوی کا رسالہ، فضائل درود شریف، ایک بہترین تحقیق ہے۔
اس تحریر کا مقصد ان اکابرین علماء ومشائخ وصوفیاء کا ذکر کرنا ہے جن کے معمولات میں درود شریف کی تسبیحات شامل تھیں۔

1۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ ہر روز بعد نماز فجر طلوع آفتاب تک قبلہ رو بیٹھتے اور درود شریف پڑھتے تھے۔

2۔ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ شب برات میں ایک تہائی رات درود و سلام پڑھا کرتے تھے۔

3۔ سیدنا امام جعفر صادقؒ ماہ شعبان میں ہر روز سات سو مرتبہ درود شریف پڑھنے کی بہت ذیادہ فضیلت بیان کرتے تھے۔

4۔ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ پر جب کوئی صدمہ پیش آتا تو اللہ کریم کی جانب متوجہ ہوتے اور اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نفل پڑھتے تھے، نماز کے بعد 100 مرتبہ درود شریف پڑھتے تھے اور کہتے تھے۔ اَغِثنِی یَا رسول اللہ علیک الصلوة والسلام

5۔ اشبیلیہ کا رہنے والا ایک لوہار تھا، وہ کثرت سے درود شریف پڑھنے کی وجہ سے، اللھم صل علی محمد کے نام ہی سے مشہور ہو گیا تھا اور ہر شخص انھیں اسی نام سے جانتا تھا۔

6۔ شیخ المشائخ خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ روزانہ رات کو 3000 مرتبہ درود شریف پڑھتے اور اس کے بعد سوتے۔

7۔ خواجہ نظام الدین اولیاءؒ فرماتے ہیں کہ میری والدہ ماجدہ کو ان کی زندگی میں جب کوئی ضرورت پیش آتی تو وہ 500 مرتبہ درود شریف پڑھ کر اپنا دامن پھیلا کر دعا مانگتی تھیں اور جو چاہتی تھیں مل جاتا تھا۔

8۔ شیخ ابراھیم متبولی قاہرہ کے محلہ حسینیہ میں جامع مسجد کے دروازے کے قریب چنے بیچا کرتے تھے۔ کثرتِ درود شریف کی وجہ سے اکثر رسولِ کریم کو خواب میں دیکھا کرتے تھے۔

9۔ حضرت سید علی المشہور بابا میر ؒ نے رسول کریم پر صلوۃ و سلام پڑھنے کے لیے 7000 درود شریف تالیف فرمائے۔ آپ کا مزار بیجاپور، بھارت میں ہے۔

10۔ شیخ محمد چشتی بدایونیؒ روزانہ 10000 مرتبہ درود شریف پڑھتے تھے۔ درود شریف کی وجہ سے آپ کو طے الارض حاصل تھا۔ آپ ہر جمعہ کو طواف کے لیے مکہ مکرمہ جاتے تھے۔

11۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ فرماتے تھے کہ روزانہ رسول کریم پر درودشریف کو 1000 مرتبہ سے کم نہ مقرر کرنا چاہیے۔اگر اتنا نہ ہو سکے تو 500 مرتبہ لازمی ہو۔

12۔ مولانا شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادیؒ فرمایا کرتے تھے کہ درود شریف بکثرت پڑھو، جو کچھ ہم نے پایا درود شریف سے پایا۔

13۔ پیر عبد الغفور کشمیریؒ مدفون لاہور کی تصانیف رسول کریم کے لیے صلوۃ و سلام پر وقف رہیں۔ درود شریف کے موضوع پر دنیا کے کسی بھی خطے میں بھی کسی تصنیف کا پتہ چلتا تو اسے ہر قیمت پر حاصل کرتے۔ آپ کی قلمی تالیف خزائن البرکات، جو چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے، دنیا کے نوادرات میں سے ایک ہے۔ آپ اس کتاب کے دیباچہ میں تحریر فرماتے ہیں۔۔
بود در جہاں ہر کسے را خیالے
مرا از ہمہ خوش خیال محمد
یعنی کسی کا کوئی شغل اور کسی کا کوئی، مگر میرا شغل تو ہر وقت خیالِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

14۔ حضرت خواجہ عبدالرحمن حنفیؒ مدفون چھوہر شریف ہری پور ہزارہ نے درود شریف کے 30 پارے مرتب کیے، ان کا نام، مجموعہ صلوت الرسول، رکھا۔ اس کا پہلا ایڈیشن رنگون برما سے شائع ہوا۔

15۔ حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ ہر روز بعد نماز تہجد 3000 مرتبہ درود شریف خضری کا ورد فرماتے تھے۔ آپ کی مسجد میں روزانہ بعد نماز فجر اور نماز عشاء سے پہلے ایک لمبی سفید چادر بچھا دی جاتی تھی جس پر کھجور کی گٹھلیاں رکھی جاتی تھیں، آپ دیگر احباب کے ساتھ ان پر درود خضری پڑھا کرتے تھے۔

16۔ پیر مہر علی شاہؒ، کے معمولات میں رسول کریم پر کثرت سے درود شریف پڑھنا شامل تھا۔

17۔ علامہ اقبالؒ سے پوچھا گیا کہ آپ حکیم الامت کیسے بنے، تو اقبالؒ نے بلاتکلف جواب دیا، یہ تو کوئی مشکل کام نہیں، آپ بھی بن سکتے ہیں اور وہ ایسے کہ میں نے گن کر ایک کروڑ مرتبہ درود شریف پڑھا ہے۔

18۔ پیر سید جماعت علی شاہ ؒ اپنے مریدین کو درود شریف پڑھنے پر بہت زور دیتے تھے۔ نماز تہجد کے بعد کم از کم ایک سو گیارہ مرتبہ درود شریف ہزارہ پڑھنے کا اکثر حکم فرماتے تھے، اور خود روزانہ نماز تہجد کے بعد 300 مرتبہ درود شریف پڑھتے۔

19۔ سردار عبدالرب نشتر کثرت سے درود شریف پڑھتے۔ یہ آپ ہی کے اشعار ہیں۔۔
شب وروز مشغول صلِ علی ہوں
میں وہ چاکرِ خاتم الانبیاء ہوں
نگاہ کرم سے نہ محروم رکھیو
تمہارا ہوں گر بھلا یا بُرا ہوں

20۔ امام ابن قیمؒ اس واقعہ کو ذکر کرتے ہیں کہ، عبداللہ بن حکم کہتے ہیں، میں نے امام شافعیؒ کو خواب میں دیکھا اور پوچھا اللہ کریم نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کریم نے مجھ پر رحم فرمایا، مجھے بخش دیا اور مجھے جنت میں ایسے لے جایا گیا جیسے دلہن کو لے جایا جاتا ہے اور مجھ پر رحمت کے پھول نچھاور کیے گئے۔ میں نے پوچھا یہ عزت افزائی کس بات کا صلہ ہے تو کہنے والے نے مجھے کہا کہ تو نے اپنی کتاب، الرسالہ، میں رسول کریم پر جو درود کہا ہے، یہ اُس کا صلہ ہے۔

21۔ نواب صدیق حسن خان بھوپالی، درود شریف تنجینا، کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ درود شریف حاجاتِ دنیاوی ودینی کے لیے اکسیرِ اعظم ہے اور جو کوئی شبِ جمعہ میں اس کو ہزار بار پڑھے گا، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھے گا اور اُس کے تمام حوائج پورے ہوں گے۔

22۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ایک مرتبہ یوں فرمایا، جی چاھتا ہے کہ آج درود شریف ذیادہ پڑھوں وہ بھی ان الفاظ سے کہ، الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ۔

23۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے نشر الطیب میں لکھ کہ، احقر آج کل درودشریف کی کثرت کو دیگر وظائف پر ترجیح دیتا ہے۔

24۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں، میں نے حضرت مولانا گنگوہی کو دیکھا کہ ہر وقت درود شریف کا ورد رہتا تھا۔

25۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ، میں نے عربوں کے متعلق سنا ہے کہ اگر کہیں بازار میں دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہو جاتا اور کو ئی تیسرا آدمی بآواز بلند اللھم صل علی سیدنا وبارک وسلم، پڑھ لیتا تو لڑائی فوراً روک دی جاتی۔

26۔ الصلوۃ والسلام عليك يا رسول اللہ، پڑھنے کی تلقین، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ علیہ نے بھی کی ہے۔

27۔ مولانا احتشام الحق تھانوی کو حضور اکرم کی ذات سے بے پناہ محبت تھی۔ درود پاک کثرت سے پڑھتے تھے، اور درود تنجینا مولانا کا سب سے پسندیدہ درود تھا۔

28۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی رات کے تیسرے پہر اٹھ کر اپنے مکان پر تہجد ادا فرماتے، اس کے بعد ذِکر فرماتے، مَناجاتِ مقبول اور درود شریف کی کتاب، ذريعۃ الوصول الی جناب الرسول، کی طباعت کے بعد اس کی منزل پڑھتے۔

تحدیثِ نعمت کے طور پر عرض کرتا چلوں کہ الحمد للہ عرصہ 26 سال سے مجھ گنہگار کا بھی اللہ کی توفیق سے دن میں تقریباً 500 مرتبہ درود شریف پڑھنے کا معمول ہے۔ ذالک فضل اللہ یؤتيه من يشاء
نبی الھدی ذوالمعجزات العظیم
اتانا بنوراللہ والکون مظلم
عیون الھدی والعلم منک تفجرت
فلا علم الا من جنابک یقسم
دعو ودعو ذکری حبیب ومنزل
بذکریٰ امام المتقین ترنمو

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہدایت ہیں، صاحب معجزات عظیم ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم، ہمارے پاس خدا تعالی کا نور لے کر تشریف لائے جبکہ سارا عالَم تاریک تھا۔
ہدایت اور علم کے چشمے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی پُھوٹتے ہیں۔
جہاں کہیں بھی علم ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ ہی سے تقسیم ہوتا ہے۔
چھوڑو چھوڑو حبیب و منزل کی یاد کو
امام المتقین کے ذکر کو ہی گنگناو۔

حوالہ کتب بالترتیب۔۔۔
1۔سید شریف احمد، شرافت نوشاہی، شریف التواریخ، مطبوعہ لاھور 1979،ج1 ،ص319
2۔شیخ یوسف بن اسماعیل نبہانی، سعادت دارین، عربی، مطبوعہ بیروت، ص، 169
3۔ایضاً۔۔۔ص، 169
4۔مولانا محمد احتشام الحسن کاندھلوی، غوث اعظم، مطبوعہ ادارہ اسلامیات انار کلی لاھور، 1978،ص، 33
5۔شیخ یوسف بن اسماعیل نبہانی، جواہر البِحار، مطبوعہ لاھور، 1975،ج، ا، ص، 431
6۔امیر خورد سید محمد مبارک علوی کرمانی، سیر الاولیاء، مطبوعہ اردو سائنس بورڈ لاھور، 1986،ص، 135
7۔شیخ عبد الحق محدث دہلوی، اخبار الاخیار، مطبوعہ کراچی، ص، 586
8۔امام عبد الوہاب شعرانی، طبقات الکبری، مطبوعہ نفیس اکیڈمی، کراچی، 1965،ص551
9۔محمد ابراھیم بیجاپوری، روضة الاولیاء، مطبوعہ، حیدرآباد دکن، ص، 78
10۔خواجہ رضی الدین بسمل بدایونی، تذکرة الواصلين، مطبوعہ نظامی پریس بدایوں، 1945
11۔شیخ عبدالحق محدث دہلوی، مدارج النبوۃ، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی، 1972،ج، 1،ص، 575
12۔سید مغفورالقادری، عبدالرحمن، تذکرہ مشائخ بھر چونڈی، مطبوعہ لاھور، 1991،ص، 69
13۔خلیفہ ضیاء محمد ضیاء، گلزار رحمانی ،مطبوعہ لاھور، 1976،ص، 11
14۔محمد امیر شاہ قادر گیلانی، تذکرہ علماء ومشائخ سرحد، مطبوعہ پشاور، 1963ج، 1،ص، 195
15۔حاجی فضل احمد مونگہ شرقپوری، حدیثِ دلبراں، مطبوعہ لاھور، 1993،ص، 119،295،330،302
16۔مولانا فیض احمد فیض، ملفوظات مہریہ، مطبوعہ گولڑہ شریف راولپنڈی، 1974،ص، 48
17۔۔ماہنامہ نعت، لاھور شمارہ دسمبر، 1990،ص، 70
فکر اقبال قرآن وسنت کی روشنی میں،محمد حنیف شاھد
18۔پروفیسر محمد حسین آسی، انوار لاثانی، مطبوعہ علی پور سیداں، 1983،ص، 81
پروفیسر محمد طاہر فاروقی، سیرت امیر ملت، مطبوعہ علی پور سیداں، ص، 106
19۔روزنامہ نوائے وقت لاہور، شمارہ جمعرات، 14 فروری، 1980،ص، 3،مضمون سردار عبدالرب نشتر ،مضمون نگار، ممتاز عارف۔
20۔محمد بن ابی بکر المعروف حافظ ابن قیم جوزی دمشقی، جلاء الافہام، عربی، مطبوعہ مصر، ص، 247
21۔نواب صدیق حسن خان بھوپالی، الداء والدواء، مطبوعہ نعمانی کتب خانہ اردو بازار لاھور، ص، 164
22۔ظفر احمد تھانوی، حاشیہ، شکر النعمہ بذکرالرحمتہ، مطبوعہ مکتبہ تھانوی دفتر الابقاء کراچی، ص، 18
23۔مولانا اشرف علی تھانوی، نشر الطیب، پہلی فصل، نورِ محمدی کے بیان میں، ص، 3
24۔مولانا اشرف علی تھانوی، خطباتِ میلاد، ص، 117
25۔مقالاتِ اقبال،
26۔حاجی امداداللہ مہاجر مکی، کلیاتِ امدادیہ،
ضیاءالقلوب، ص، 15
-27۔عشقِ رسول وعلمائے دیوبند، باب ثالث، تقاضائے عشق والفت، ص، 326
28۔حافظ محمد ادریس کاندھلوی، انوار العلوم، جنوری، 1953،ص، 60