آئی بی اور آئی ایس آئی کو بخش دیجیے - محمداشفاق

پاکستان کے سویلین سیٹ اپ میں بہت سے خفیہ ادارے کام کر رہے ہیں. کسٹمز انٹیلیجنس، ایف آئی اے، پولیس سپیشل برانچ اور انویسٹیگیشن برانچ. جو کہ سابقہ سی آئی ڈی کے دو شعبے تھے، جو اب علیحدہ علیحدہ کام کر رہے ہیں. ان میں سب سے ممتاز اور اہم ادارہ انٹیلی جنس بیورو ہے.

فوج کے زیرانتظام بھی کئی خفیہ ادارے قائم ہیں، ملٹری انٹیلی جنس، فیلڈ انٹیلی جنس یونٹس وغیرہ مگر فوج کا سب سے اہم خفیہ ادارہ انٹر سروسز انٹیلی جنس ہے.

آئی بی اور آئی ایس آئی دونوں کا دائرہ عمل بھی طے شدہ اور ایک دوسرے سے الگ ہے. انٹیلی جنس بیورو داخلی خطرات کی نشاندہی، پیش بندی اور تدارک کی ذمہ داری نبھاتا ہے، جبکہ آئی ایس آئی ملک کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سرگرم عمل ہے. چونکہ داخلی اور خارجی سکیورٹی بہت صورتوں میں ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہے، اس لیے دونوں ایجنسیوں کا کام اکثر ایک دوسرے سے اوورلیپ ہوتا رہتا ہے. نیشنل ایکشن پلان کے بعد سے صوبائی سطح پر اپیکس کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جہاں دیگر سلامتی کے ذمہ دار اداروں کے ساتھ ساتھ یہ دونوں خفیہ ایجنسیاں بھی اپنا ان پٹ دیتی رہتی ہیں. ان کی مثالی کوآرڈینیشن ہی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ چار سال میں ہمیں دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں. آئی بی نے ضرب عضب کے دوران اور اس کے بعد ملک کے شہری علاقوں میں دہشت گردوں کے پاکٹس اور سلیپر سیلز کو پکڑنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہت مدد کی ہے، خصوصا کے پی کے اور پنجاب میں ان کی کارکردگی ہر لحاظ سے مثالی کہی جا سکتی ہے. اسی طرح ضرب عضب اور ردالفساد آپریشن کے دوران آئی ایس آئی نے دہشت گردوں اور ان کے بیرونی ممالک میں بیٹھے ہمدردوں یا سرپرستوں کا باہمی رابطہ توڑنے، انہیں بے نقاب کرنے اور ان کی سرکوبی میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے. اگر آج ملک کے عوام کی اکثریت سکون سے اپنے گھروں میں سوتی ہے تو اس کی بڑی وجہ آئی بی اور آئی ایس آئی کے وہ گمنام ہیروز ہیں، جو کسی صلے یا ستائش کی تمنا کیے بغیر ہماری سلامتی اور تحفظ کے لیے فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہمراہ دن رات کوشاں ہیں. فوجی و سیاسی قیادت کے عزم کے بعد ہماری دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ان دونوں خفیہ ایجنسیوں کا کردار ہی فیصلہ کن عامل رہا ہے. ہمارے دشمنوں کی یقینا یہ دلی خواہش اور بھرپور کوشش ہوگی کہ ان دونوں ایجنسیوں کے کام میں رکاوٹ پیدا کر کے، انھیں بدنام کر کے، متنازعہ بنا کر یا بدترین صورت میں انھیں آپس میں لڑوا کر کمزور کیا جا سکے. ہماری انتہائی بدنصیبی ہے کہ سیاست اور میڈیا میں موجود کچھ کرم فرماؤں کی وجہ سے ہمارے دشمنوں کا کام آسان ہوا جا رہا ہے.

یہ اعتراف کرنے میں قطعی کوئی قباحت نہیں کہ گزشتہ اور موجودہ تمام فوجی و سویلین حکومتیں ان دونوں پریمیم ایجنسیوں کو اپنے مفاد کی خاطر سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتی رہی ہیں. مثالیں دینے کی ضرورت نہیں کہ اس حقیقت سے تقریبا سبھی پاکستانی واقف ہیں. آئی ایس آئی بظاہر وزیراعظم کے ماتحت کام کرتی ہے، مگر فوج کا ایک ذیلی ادارہ ہونے کی حیثیت سے اس کا حقیقی باس کون ہے، یہ سب کو پتہ ہے. آئی بی بھی وزیراعظم کے احکامات کی پابند ہوتی ہے. دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں کو جو فنڈز، طاقت اور اختیارات حاصل ہوتے ہیں، ان کے ہوتے ہوئے ایجنسیوں یا ان کے اندر موجود بعض عناصر کا حکومتی پالیسی کے متوازن یا برعکس کسی ایجنڈے پر عمل کرنا بھی بعید از قیاس نہیں سمجھا جاتا. اس کی بھی دنیا بھر سے بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں، تاہم مجموعی طور پر ہماری یہ دونوں خفیہ ایجنسیاں اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرتی ہیں، اور سیاسی امور میں تبھی داخل ہوتی ہیں جب ان کے باس انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہیں.

پانامہ کیس پر عدالت کے پہلے فیصلے اور اس کے نتیجے میں قائم کردہ جے آئی ٹی کی تشکیل کے بعد سے حکومت اور اس کے حامی حلقے اس سارے عمل میں کوئی خفیہ ہاتھ بتا رہے ہیں. حکومتی زعماء کھل کر نام نہیں لے رہے مگر پورا پورا تاثر یہی دیا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پھر کوئی کھیل کھیل رہی ہے، یہ تاثر اتنا عام ہو چلا تھا کہ آرمی چیف کو باقاعدہ اپنی اور ادارے کی صفائی پیش کرنا پڑی. ان کی وضاحت کے بعد بھی کئی حلقے کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف تو جمہوریت کے حامی ہیں مگر آئی ایس آئی یا اس میں موجود بعض طاقتور عناصر سازش میں مصروف ہیں، این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں پیش آنے والے چند واقعات کے بعد بھی یہی بات دہرائی گئی. حکمران جماعت کی سوشل میڈیا ٹیم، ان کے حامی صحافی، دانشور اور جماعت کے سپورٹرز کھلم کھلا یہ الزام لگا رہے ہیں-.گوکہ سرکاری سطح پر کسی نے اس تاثر کی تصدیق یا تردید نہیں کی.

آئی بی بھی اچانک کچھ پراسرار تنازعات کا شکار ہو چکی، پہلے ادارے کے ایک جونئیر اہلکار کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک مضحکہ خیز رٹ پیٹیشن دائر کی گئی. جس کے مطابق پیٹیشنر موصوف نے جیمز بانڈ سٹائل میں تن تنہا کئی دہشت گرد گروہ بے نقاب کیے، مگر ادارے نے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی. اس پیٹیشن میں اتنے جھول ہیں کہ یہ بظاہر کسی توجہ کی حقدار نہیں تھی، مگر حیرت انگیز طور پر اس کی سماعت شروع ہو چکی. اس کے چند ہی دن بعد ایک ٹی وی چینل جو تحریک انصاف کا پرجوش حامی ہونے کی شہرت رکھتا ہے، نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم کی ہدایت پر آئی بی کے سربراہ نے 37 عوامی نمائندوں کی ایک فہرست مرتب کی تھی، جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے بتایا گیا. یہ تمام 37 افراد حکمران جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، تاثر یہ دیا گیا کہ نوازشریف آئی بی کے ذریعے دھمکا کر ان ممبران کو قابو میں رکھنا چاہتے تھے. اس سے اگلے ہی دن توقع کے عین مطابق جناب عمران خان نے بھی ایک ٹویٹ داغ دی کہ آئی بی کے سربراہ لندن نواز شریف سے کیوں ملے؟ عمران خان کے خیال میں وہ سرکاری خرچ پر وہاں صرف سابق وزیراعظم کو ملنے گئے تھے، جبکہ اطلاعات کے مطابق آئی بی چیف کا یہ دورہ تین ماہ پہلے سے شیڈول تھا. خان صاحب کو خوب یاد ہوگا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہان کب کب کن کن غیرحکومتی شخصیات اور سیاستدانوں سے ملتے رہے ہیں، مگر اس کا تذکرہ کرنا انہوں نے مناسب نہیں سمجھا. اسی شام اسی چینل کے ایک پروگرام میں اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر وہ مبینہ لسٹ اور اس کا کورنگ میمو بھی دکھا دیا گیا. حیرت انگیز بلکہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ میمو میں آئی بی کے چیف اپنے ایک ماتحت ڈائریکٹر کو اس سارے معاملے پر بریف کر رہے ہیں، مزید مضحکہ خیز بات یہ کہ اپنے جس جونیئر آفیسر کو وہ یہ میمو بھیج رہے، وہ خود انٹرنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ہیں، گویا جن صاحب نے تحقیقات کر کے وہ لسٹ مرتب کرنا تھی، انھیں خود اپنے باس سے اس کا پتہ چل رہا. آئی بی نے نہ صرف اس میمو کو جعلی قرار دیا ہے، بلکہ اس کے خلاف رپورٹ درج کروانے کا فیصلہ بھی کیا ہے.

گزشتہ دو ماہ میں میڈیا پر سپیکر ایاز صادق کی جانب سے جسٹس کھوسہ کے خلاف جعلی ریفرنس، ملتان میٹرو کے حوالے سے ایک جعلی سکینڈل اور اب آئی بی کے حوالے سے ایک بظاہر جعلی میمو چل چکا، جو ہمارے الیکٹرانک میڈیا کی غیرذمہ داری اور گھٹیا صحافت کا منہ بولتا ثبوت ہے، مگر اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ وہ کون ہے جو ایسی خبریں چلوا رہا ہے، اور اس عمل کے درپردہ مقاصد کیا ہیں؟ عدالت میں دائرکردہ پیٹیشن میں آئی بی کی تحقیقات آئی ایس آئی سے کروانے کی جو فرمائش کی گئی ہے، وہ صریحا دونوں خفیہ ایجنسیوں کو ایک دوسرے کے مدمقابل لانے کی کوشش ہے. یہ ضروری ہوگیا ہے کہ تحقیقات کی جائیں کہ پیٹیشنر ہے کون؟ اس کا سروس ریکارڈ کیا ہے؟ اتنا جونیئر آفیسر اپنے ہی ادارے کے خلاف اتنا بڑا قدم کیوں اٹھا رہا ہے؟ اسلام آباد کے جو معروف وکیل اس کی پیٹیشن کی پیروی کر رہے ہیں، ان کی فیس کیسے ادا ہو پائی؟ اب جبکہ پیٹیشن قابل سماعت قرار دی جا چکی تو دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ عدالت اس معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے کوئی فیصلہ سنائے گی.

مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دونوں کے راہنماؤں، حامیوں اور کارکنان سے درخواست ہے کہ خدارا اپنی سیاسی جنگ میں آئی ایس آئی اور آئی بی کو ہدف بنانے سے گریز کریں، یہ دونوں ایجنسیاں پہلے ہی بہت سی بیرونی طاقتوں کے نشانے پر ہیں، آپ ملک کے دشمنوں کا کام آسان مت کیجیے.

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ایک نہایت ہی محققانہ اور علم افروز تجزیہ جس کےلئےمحمد اشفاق صاحب کی کاوش قابل ستائش ہے- ضرور پڑھیے-

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */