اتحاد بین المسلمین، اسباب اور رکاوٹیں - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 09 -محرم الحرام- 1438  کا خطبہ جمعہ  مسجد نبوی میں بعنوان "اتحاد بین المسلمین،،، اسباب اور رکاوٹیں" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ شریعت مطہرہ مسلمانوں کو باہمی اتفاق اور اتحاد  کی دعوت دیتے ہوئے کسی بھی ایسی سرگرمی سے روکتی ہے جو مسلمانوں میں پھوٹ، منافرت، بغض اور لڑائی جھگڑے کا باعث بنے، اسی لیے شریعت تمام مسلمانوں کو ملت اسلامیہ کے ساتھ وابستگی، حکمران کی اطاعت، اخوت، بھائی چارے اور باہمی تعاون پر زور دیتی ہے، دوسری طرف ظلم ، تذلیل، تحقیر، چوری، ڈاکہ، خیانت اور بدعت سے روکتی ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ دنیا داری کو اپنا ہدف بنانے سے مسلمانوں کے باہمی تعلقات کمزور پڑتے ہی، ہر مسلمان کو معاشرے کا مفید فرد بن کر رہنا چاہیے تا کہ آخرت کی زندگی سنور سکے، پھر انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ باہمی تعلقات مضبوط کرنے کیلیے  سب سے پہلے دنیا کی محبت دل سے نکالیں اس کیلیے اللہ اور اس کے رسول کے ہاں دنیا کی قدر معلوم کریں، صحابہ کرام  کی سوانح پڑھیں تو زہد  پیدا ہو جائے گا اور زہد یہ ہے کہ آپ حرام سے بے رغبت ہو جائیں اور اللہ کی دَین پر قناعت کریں، اسی دنیا کی وجہ سے لوگ دِین بیزار بن چکے ہیں، اسلام میں سب سے پہلا فتنہ بھی اسی دنیاوی طمع کی وجہ سے رونما ہوا تھا،  حکمران کو نصیحت کرنے کیلیے سلف صالحین کا طریقہ اپنائیں، آخر میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ فتنے کے وقت زبان  کے اثرات تیر و سنان سے بھی زیادہ گہرے  بن جاتے ہیں اس لیے اپنی تقریر یا تحریر کو فتنوں  کا باعث مت بنائیں،  پھر انہوں نے سب کیلیے جامع دعا فرمائی۔

خطبہ کی عربی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:

تمام  تعریفیں اللہ  کیلیے ہیں  وہ بہت بڑا اور بلند و بالا ہے، وہ عظمت ،کبریا  اور صاحب جلال ہے، میں بے پناہ نعمتوں پر اسی کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں  ، ان نعمتوں کو اس کے علاوہ کوئی شمار بھی نہیں کر سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں، وہی فضل اور نوازشیں کرنے والا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد   اللہ کے بندے اور اس کے رسول  ہیں، اللہ تعالی نے آپ کو خصوصی فضائل، خوبیوں اور صفات کے ساتھ  ممتاز بنایا، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول  محمد  -ﷺ-، انکی آل اور نیکیوں کیلیے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی اختیار کرو اور اس کیلیے اللہ کے پسندیدہ اور رضا کے موجب عمل کرو، نیز  ناپسند کاموں سے اجتناب کرو۔ تقوی اس زندگی میں ہر چیز کو سنوار سکتا ہے اور مرنے کے بعد تقوی کے ذریعے بلند درجات حاصل کئے جا سکتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا} اور جو تقوی الہی اختیار کرے تو اللہ اس کے معاملات آسان فرما دیتا ہے۔ [الطلاق: 4] اسی طرح فرمایا: {تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا} یہ جنت ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بناتے ہیں جو متقی ہو۔[مريم: 63]

مسلمانو!

شریعت مطہرہ نے اتحاد اور اتفاق کا حکم دیا ہے، نیز اختلاف اور گروہ بندی سے روکا ہے؛ تا کہ دین اسلام کو تحفظ ملے۔ اسلام کے بغیر زندگی ممکن ہی نہیں، نیز جنت بھی اسلام پر عمل کر کے ہی ملے گی،  شریعت نے اتحاد کا حکم اس لیے دیا کہ معاشرہ کٹنے پھٹنے سے محفوظ ہو، بے چینی ، تنازعات، بغاوت اور دنگے فساد بپا نہ ہوں۔ باہمی تصادم، جملے بازی، بغض، عناد سے  تحفظ ملے۔ انفرادی اور اجتماعی حقوق محفوظ ہو جائیں اور ضائع ہونے سے بچیں۔ امن، عدل اور استحکام  قائم ہو، ان سب مقاصد کے حصول کیلیے اللہ تعالی نے باہمی اتحاد کا حکم دیا اور اختلاف سے روکا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ} اور اللہ کی  رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اللہ نے تم پر اس وقت کی جب تم  ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی تو تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے کہ اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اللہ تعالی اسی انداز سے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ راست کو پاسکو  [آل عمران: 103]

ایسے ہی فرمایا: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} نیکی اور تقوی  کے کاموں میں باہمی تعاون کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون مت کرو۔[المائدة: 2]

ایک اور مقام پر فرمایا: {وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ} مومن مرد اور مومن خواتین سب ایک دوسرے کے  مدد گار ہیں۔[التوبة: 71]، اسی طرح فرمایا: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ} بیشک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔[الحجرات: 10]

نیز اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے: {فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ} پس نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور اللہ کو مضبوطی سے تھام لو، وہی مالک ہے، وہ بہترین مالک اور بہترین مدد گار ہے۔ [الحج: 78]

فرمان نبوی ﷺ : (ایک مؤمن دوسرے مومن کیلیے ایسی عمارت کی مانند ہے جس کا ہر حصہ دوسرے کو مضبوط بناتا ہے، پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو پیوست  کر کے دکھایا)

اسی طرح فرمایا: {وَمَنْ يَعْتَصِمْ بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} جو بھی اللہ تعالی کو مضبوطی سے تھام لے  تو اس کی صراط مستقیم کی جانب رہنمائی کر دی گئی۔[آل عمران: 101]

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (ایک مؤمن دوسرے مومن کیلیے ایسی عمارت کی مانند ہے جس کا ہر حصہ دوسرے کو مضبوط بناتا ہے، پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو پیوست  کر کے دکھایا) بخاری، مسلم

اسی طرح  نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ : (مسلمانوں کی باہمی محبت ،شفقت  اور الفت کی مثال ایک جسم جیسی ہے کہ جسم کا ایک عضو بھی تکلیف میں ہو تو سارا جسم بے خوابی اور بخار کی سی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے) بخاری ، مسلم

ایسے ہی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (تم اللہ کے بندے   اور بھائی بھائی بن جاؤ) اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔

باہمی اتحاد، اتفاق، یگانگت، یکجہتی، ایک دوسرے کا خیال رکھنا اور شفقت کرنا، حق بات پر باہمی مدد کرنا، اختلافات اور لڑائی جھگڑے بھلا کر  یک جان ہو جانے سے ایک ایسا قلعہ وجود میں آتا ہے کہ پورا معاشرہ اس میں محفوظ ہو جاتا ہے، لوگ اسے جائے پناہ بناتے ہیں، سب لوگوں کیلیے یہ پر امن ثابت ہوتا ہے، دین کیلیے قوت اور دنیاوی مفادات  کے تحفظ کا ذریعہ بنتا ہے، گمراہ کن فتنوں سے بچاؤ کا سبب بنتا ہے، بلکہ دشمنوں کی چالوں  اور مکاریوں سے سلامت رہنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

نیز اللہ تعالی نے بھی معاشرے میں مضبوط تعلق اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے ۔جبکہ قطع تعلقی، منافرت، لڑائی جھگڑوں، اختلافات،  انتشار اور شر کے دروازے کھولنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا: {وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ}  نیز تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں  بٹ گئے اور روشن دلائل آ جانے کے بعد آپس میں اختلاف کرنے لگے۔ یہی لوگ ہیں جن کیلیے عظیم عذاب ہوگا [آل عمران: 105]

ایسے ہی فرمایا: {وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ} تنازعات میں مت پڑو تو ناکام ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا تک اکھڑ جائے گی۔[الأنفال: 46]

فرمان نبوی ﷺ : (مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے، وہ اپنے بھائی پر ظلم نہیں کرتا، اسے رسوا نہیں کرتا، اسے جھٹلاتا نہیں ہے اور اسے حقیر بھی نہیں سمجھتا تمام مسلمانوں پر دیگر مسلمانوں کی جان، مال اور عزت آبرو حرام ہے )

اسی طرح فرمایا: {وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (31) مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ} اور مشرکین میں سے مت بنو؛ جنہوں نے اپنے دین الگ الگ کر لیے اور خود گروہوں میں بٹ گئے، اب ہر گروہ اپنے پونجی پر خوش ہے۔[الروم: 31، 32]

اسی طرح نبی ﷺ کا فرمان ہے: (مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے، وہ اپنے بھائی پر ظلم نہیں کرتا، اسے رسوا نہیں کرتا، اسے جھٹلاتا نہیں ہے اور اسے حقیر بھی نہیں سمجھتا تمام مسلمانوں پر دیگر مسلمانوں کی جان، مال اور عزت آبرو حرام ہے ) مسلم نے اسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت  کیا ہے۔

اسی طرح آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے: (مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے وہ اپنے بھائی پر ظلم نہیں کرتا اور نہ ہی اسے دوسروں کے سپرد کرتا ہے) بخاری، مسلم نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔

ایک روایت میں آپ ﷺ کا فرمان ہے: (مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے وہ اپنے بھائی کی خیانت نہیں کرتا، اسے جھٹلاتا نہیں ہے اور نہ ہی اسے رسوا کرتا ہے) اسے ترمذی نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

یہ تمام ممنوعہ چیزیں  اس مقصد سے منع کی گئی ہیں کہ حقوق ضائع نہ ہوں،مسلمانوں میں پھوٹ نہ  پڑے، اور مسلمان ضائع نہ ہو جائیں۔

باہمی اتفاق، اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط بنانے والی نبی ﷺ کی مزید مفید نصیحتیں بھی ہیں جو کہ گروہ بندی، اختلاف اور بدعات سے روکتی ہیں  اور ان سے دین و دنیا کا فائدہ ہوتا ہے، ان نصیحتوں میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا: (میں تمہیں تقوی الہی اور حکمران کی اطاعت کی تاکیدی نصیحت کرتا ہوں چاہے تم پر کوئی غلام ہی حاکم بن جائے۔ بیشک تم میں سے جو بھی زندگی پائے گا وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھے گا، تم میری  اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو  اور اسے اپنی ڈاڑھوں سے نوچ لو اور اپنے آپ کو [دین میں]نت نئے امور سے بچاؤ؛ کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے) ابو داود اور ترمذی نے اسے عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

یہ اللہ تعالی کی مسلمانوں پر رحمت ہے کہ  اللہ تعالی نے مسلمانوں کو عمومی قسم کے فتنوں سے آگاہ کیا اور فرمایا: {وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}  اور اس فتنے سے بچ جاؤ جو صرف انہی لوگوں کے لئے مخصوص  نہ ہوگا جو تم میں سے ظالم ہوں۔ اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے [الأنفال: 25] مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ: یعنی ایسے کسی بھی فتنے کے اسباب سے بھی بچو جو تمہیں اللہ کے عذاب  کا مستحق بنا دے۔

تو جس طرح شریعت مطہرہ نے عمومی فتنوں سے منع کیا اور ان کے نقصانات  کی وجہ سے خبردار کیا بالکل اسی طرح خاص فتنوں سے بھی خبردار کیا جس  سے کسی خاص فرد کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور عوام الناس بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں؛ لہذا شریعت نے ہر فرد کو ملت سے دوری اختیار کرنے سے منع فرمایا، چنانچہ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص ملت سے ایک بالشت کے برابر بھی دوری اختیار کرے تو وہ اسلام کا  پٹہ اپنے گلے سے  اتار دیتا ہے) ابو داود

ایسے ہی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (میری امت کبھی بھی گمراہی پر متحد نہیں ہو گی، اس لیے تم ملت  کے ساتھ رہو؛ کیونکہ اللہ تعالی کا ہاتھ [یعنی تعاون]ملت کے ساتھ ہے) طبرانی

معاویہ رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (جو شخص اس حالت میں مرے کہ اس کی گردن پہ کسی کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا) طبرانی نے اسے معجم الکبیر میں بیان کیا ہے۔

ایک بار"ابو ذر رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ  کی [حج کے دوران]منی میں چار رکعات نماز پر اعتراض کیا اور پھر  اٹھ کر چار رکعت [ان کے پیچھے ] پڑھ لیں، تو ان سے کہا گیا: پہلے امیر المومنین پر آپ اعتراض کرتے ہو پھر وہی عمل خود بھی کرتے ہو!، تو ابو ذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: [امیر کی ] مخالفت سنگین  جرم ہے، اختلاف شر ہے۔ "اسے احمد نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح اسلام نے دنیا کے فتنے میں پڑ کر  آخرت کو بھول جانے سے بھی خبردار کیا ہے ۔ کامیابی اور کامرانی  یہ ہے کہ انسان آخرت کیلیے عمل کرے؛ کیونکہ آخرت کی زندگی ہی دائمی ہے، انسان دنیا سنوارنے اور اس کی آبادکاری کیلیے مفید اور سود مند کوشش کرے جس سے دین کا فائدہ ہو، مسلمانوں کی ضروریات پوری ہوں، مسلمان کو بھکارت والا ہاتھ نہ پھیلانا پڑے، نیز رفاہ عامہ کے کاموں میں ہاتھ بڑھا کر خرچ کرے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ} اے لوگو! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے، اس لیے تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ ہی اللہ کے بارے میں تمہیں دھوکے باز [شیطان] تمہیں دھوکا دے پائے۔ [فاطر: 5]

ایسے ہی فرمایا: {وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ} یہ دنیا کی زندگی ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں ۔ اصل زندگی تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش ! وہ یہ جانتے ہوتے۔ [العنكبوت: 64]

حلال اور حرام ہر طرح سے دنیا کمانے کیلیے لگے رہنا  انسان کیلیے تباہ کن ہے اور اس کے معاشرے پر بھی انتہائی منفی اثرات پڑتے ہیں۔

ایک اور مقام پر فرمایا: {كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ}  ہر نفس نے موت کا مزا چکھنا ہے اور قیامت کے دن تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ پھر جو شخص دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہو گیا اور یہ دنیا کی زندگی تو محض  دھوکے کا سامان ہے [آل عمران: 185]

حلال اور حرام ہر طرح سے دنیا کمانے کیلیے لگے رہنا  انسان کیلیے تباہ کن ہے اور اس کے معاشرے پر بھی انتہائی منفی اثرات پڑتے ہیں۔ ایسے ہی کسی کا حق غصب کر کے دنیا کمانا، ان کے حقوق غصب کرنا، ان کا مال لوٹنا ان سب کاموں سے  مسلمانوں کی یکجہتی میں رخنے پڑتے ہیں باہمی تعلقات کمزور ہوتے ہیں۔

دنیا داری کیلیے لالچ اور طمع  کرتے ہوئے ٹوٹ پڑنے سے دلوں میں بغض ، نفرت، عداوت پیدا ہوتی ہے، چنانچہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : "رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے احد کے شہدا  کی نماز جنازہ پڑھی  اور پھر منبر پر ایسے چڑھے کہ آپ زندہ اور مردہ سب لوگوں کو الوداع کہنے کیلیے چڑھ رہے ہیں، پھر آپ نے فرمایا: (میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، اور حوض کی چوڑائی ایلہ سے جحفہ تک فاصلے جتنی ہے۔ مجھے تمہارے بارے میں یہ خدشہ نہیں ہے کہ میرے بعد تم شرک کرنے لگو! البتہ مجھے تمہارے بارے میں دنیا داری کا خدشہ ہے کہ  تم اس کے حصول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن جاؤ پھر دنیا تمہیں ایسے ہی ہلاک کر دے جیسے تم سے پہلے لوگوں کو  ہلاک کیا)عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "اور یہ میری آپ ﷺ پر آخری نظر تھی" بخاری ، مسلم نے اسے روایت کیا ہے اور یہ لفظ مسلم کے ہیں۔

ایسے ہی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (دنیا بڑی سر سبز اور میٹھی ہے، اور اللہ تعالی تمہیں دنیا میں حکمران بنا کر دیکھے گا کہ تم کیسی کارکردگی دکھاتے ہو؟ خبردار! دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو) مسلم

دنیا داری نے ہی بہت سے لوگوں کو اللہ کے دین سے روک رکھا ہے؛ کہ دنیا نے اپنی چکا چوند رنگ برنگی لذتوں اور شہوتوں ، اور مال و دولت کے ذریعے دین سے دور کر دیا، فرمان باری تعالی ہے: {وَوَيْلٌ لِلْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيدٍ (2) الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا أُولَئِكَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ} اور کافروں کے لئے تباہی ہے سخت عذاب سے  [2] جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند  کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں ٹیڑھ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہی لوگ گمراہی میں دور تک نکل گئے ہیں [ابراہیم: 2، 3]

بلکہ امت میں سب سے پہلا اختلاف جو کہ منافقوں کی خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت  کی صورت میں تھا  اس کا محرک بھی دنیا داری تھی، جیسے کہ یہ بات تاریخ کی کتابوں میں درج اور نقش ہے، وہ دنیاوی منصب چاہتے تھے؛ لیکن انہیں اس بغاوت کے بدلے میں ذلت اور رسوائی ہی ملی ، محرومیت اور نفرت کا شکار رہے، وہ ایک ایک کر کے بدترین موت مرے، اللہ تعالی ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِمْ مِنْ قَبْلُ}  ان کی چاہتوں اور ان کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا  جیسے کہ اس سے پہلے بھی ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا [سبأ: 54]

دنیا بہت سے لوگوں کیلیے فتنہ بن چکی ہے، لوگ اسی کے پیچھے لگ کر جھگڑ رہے ہیں، باہمی رابطے اور اخوت کا قیام بھی دنیاوی مفادات  کیلیے ہے، دنیا کیلیے سب اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ دشمنی، قطع تعلقی اور نفرت بھی دنیا کی وجہ سے ہوتی ہے، لوگوں کو قدر منزلت بھی دنیا داری کے اعتبار سے دی جاتی ہے

عہد نبوت سے دور آج کے زمانے میں دنیا بہت سے لوگوں کیلیے فتنہ بن چکی ہے، لوگ اسی کے پیچھے لگ کر جھگڑ رہے ہیں، باہمی رابطے اور اخوت کا قیام بھی دنیاوی مفادات  کیلیے ہے، دنیا کیلیے سب اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ دشمنی، قطع تعلقی اور نفرت بھی دنیا کی وجہ سے ہوتی ہے، لوگوں کو قدر منزلت بھی دنیا داری کے اعتبار سے دی جاتی ہے، ان کے ہاں دنیا ہوس سے بڑھ کر کچھ نہیں  اسی لیے اللہ کیلیے محبت کم ہی لوگ کرتے ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "اکثر لوگوں کے تعلقات  آج دنیا پر مبنی ہیں، اور اس کا لوگوں کو کو ئی فائدہ نہیں ہو گا" اسے ابن جریر نے روایت کیا ہے۔

دنیا کے فتنے سے بچاؤ کیلیے مسلمان پروردگار کے ہاں دنیا کی قدر و منزلت پہچانے؛ کیونکہ اللہ تعالی سے زیادہ دنیا کی حقیقت کوئی نہیں جانتا، پھر یہ بھی دیکھے کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں اس دنیا کی قدر کتنی تھی؟ جیسے کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (اگر اللہ تعالی کے ہاں دنیا کی قدر و قیمت مکھی کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالی کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا) اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح کہا ہے۔

اسی طرح مہاجرین اہل صفہ کے حالات یاد کریں ان کا زہد دیکھیں، جیسے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "میں نے ستر ایسے اہل صفہ دیکھے جن میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کے پاس چُغا بھی ہو، یا تو   صرف تہہ بند یا پھر چادر کہ جسے انہوں نے گردن سے  باندھ رکھا ہوتا تھا، کچھ کی چادریں نصف پنڈلی تک ہوتی تھیں  اور کچھ کی ٹخنوں تک ، تو وہ اپنے ہاتھوں سے چادر پکڑ لیتا تا کہ کہیں کسی کی شرمگاہ پر نظر نہ پڑ جائے" بخاری

ایسے ہی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "میں غریب مہاجر صحابہ کرام  کی ایک ٹولی میں بیٹھ گیا، تو کچھ مہاجرین  برہنہ ہونے سے بچنے کیلیے دوسروں کے پیچھے چھپنے لگے، اسی دوران میں نبی ﷺ آ گئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: (غریب مہاجرین! روزِ قیامت مکمل روشنی  پانے پر خوش ہو جاؤ، تم جنت میں مالدار لوگوں سے آدھا دن پہلے  چلے جاؤ گے اور اس کی مقدار پانچ  سو سال ہو گی)" اسے ترمذی اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور یہ لفظ ابو داود کے ہیں۔

مسلمانو!

تم پر  انہی مہاجرین کے جہاد کی وجہ سے دنیا کھول دی گئی ہے، اس لیے اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرو، اسی کی عبادت کرو ، اس کی نافرمانی مت کرو۔

دنیا سے بے رغبتی   اور زہد لڑائی جھگڑوں اور تنازعات سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے

دنیا سے بے رغبتی   اور زہد لڑائی جھگڑوں اور تنازعات سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ  تو اللہ تم سے محبت کرے گا، اور لوگوں کے پاس  ہے جو بھی ہے اس سے بے رغبت ہو جاؤ تو لوگ بھی تم سے محبت کریں گے) ابن ماجہ نے اسے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اور نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔

زہد یہ ہے کہ آپ حرام سے بے رغبت ہو جائیں اور اللہ کی دَین پر قناعت کریں

تو زہد یہ ہے کہ آپ حرام  سے بے رغبت ہو جائیں اور اسے ترک کر دیں، اللہ تعالی نے آپ کو جتنا دیا ہے اس پر قناعت کریں، اور آخرت کیلیے کام کریں، دنیا کی جانب مائل مت ہوں اور دنیا سے دل مت لگائیں، لوگوں  کی املاک پر نظر رکھنے سے اپنے آپ کو روکیں، اور اللہ تعالی نے لوگوں کو جو کچھ عطا کیا ہے اس پر حسد مت کریں۔

مسلمانو!

اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ معاشرہ محفوظ ہو، ان میں باہمی اتحاد اور طلاطم خیز فتنوں کے سامنے قوی اور ثابت قدم ہو،  ہمارا معاشرہ دشمنوں  کی چالبازیوں کو ملیامیٹ  کرے، ہر شریر کی خرابیوں کو ختم کرے، تو حکمرانوں کی سلف صالحین کے طریقے کے مطابق  خیر خواہی کرے انہیں نصیحت کرے؛ تا کہ ہمیشگی کے ساتھ اللہ تعالی کے فرمان پر عمل ہو: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى} اور نیکی کے کاموں میں باہمی تعاون کرو۔ [المائدة: 2]

اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے: (بیشک اللہ تعالی تمہارے لیے تین چیزیں پسند فرماتا ہے : 1)تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ،  2)اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ واریت میں مت پڑو، 3) جسے اللہ تعالی تمہارا حکمران بنا دے اس کی خیر خواہی کرو) مسلم نے اسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

اللہ تعالی کا فرمان : {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا}  اے ایمان والو ! اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکمرانوں کی۔ پھر اگر کسی بات پر تمہارے درمیان جھگڑا پیدا ہو جائے تو اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اس معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھیر دو ۔  یہی طریق کار بہتر اور انجام کے لحاظ سے اچھا ہے [النساء: 59]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین  ﷺ کی سیرت  اور ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے،  میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں  اللہ کیلیے ہیں   جو غالب، حکمت ، حلم اور نہایت رحم کرنے والا ہے، میں اپنے رب کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں جنہیں وہی شمار کر سکتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ بلند و بالا اور عظمت والا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سربراہ اور نبی جناب محمد اس کے  بندے  اور رسول ہیں، اللہ تعالی نے آپ کے ذریعے صراط مستقیم  کی جانب رہنمائی فرمائی، یا اللہ !اپنے بندے اور رسول محمد ، انکی  آل ، اور آپ کے ٹھوس منہج پر چلنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمت  ،سلامتی  اور برکتیں نازل فرما ۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

خلوت اور جلوت میں اللہ سے ڈرو؛ کیونکہ تقوی الہی موجودہ نعمتوں کیلیے تحفظ ہے اور غیر موصول نعمتوں کے حصول کا ضامن ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور بات صاف سیدھی کیا کرو  [70] اللہ تعالی تمہارے کام سنوار دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ اور جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کا کہا مان لیا اس نے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ [الأحزاب: 70، 71]

مسلمانو!

فرمان نبوی: فتنوں میں زبان کی کاٹ تلوار سے بھی زیادہ ہوتی ہے

اسلام نے جن چیزوں سے منع کیا ہے ان میں زبان کی تباہ کاریاں بھی شامل ہیں؛ کیونکہ غلط بات اور غلط تحریر بھی  بسا اوقات صفوں میں انتشار اور اتحاد  کو تار تار کر سکتی ہے، ان سے منافرت پیدا ہو سکتی ہے، ہوس پرستی میں انسان مبتلا ہو سکتا ہے، اور حق بات سے گمراہ  کر سکتی ہے، ان سے اختلافات وسعت پکڑتے ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے تو وہ اچھی بات کرے یا خاموش ہو جائے ۔) اسے بخاری اور مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

جس وقت نبی ﷺ نے فتنوں سے خبردار کیا تو کئی بار واضح کیا کہ باطل باتیں کرنے میں تباہی ہی تباہی ہے، آپ کا فرمان ہے: (فتنوں میں زبان کی کاٹ تلوار سے زیادہ ہوتی ہے) ترمذی  اور ابو داود نے اسے عبداللہ بن عمرو سے روایت کیا ہے۔

نیز آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ: (زبان کو فتنے میں دھکیلنا تلواریں چلنے کی مانند ہے) اسے ابو داود نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ یہ آپ ﷺ کی امت پر شفقت تھی  کہ فتنے کو بجھانے کا طریقہ بتلا دیا۔

اللہ کے بندو!

امن ،استحکام  اور خوشحالی کی نعمت کو دائمی بناؤ اس کیلیے اللہ تعالی کی خوب بندگی کرو اور حرام کاموں سے بچو، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ (3) الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ} اس گھر کے پروردگار کی عبادت کریں [3] جس نے انہیں بھوک میں کھلایا اور دہشت سے امن عطا کیا۔[قريش: 3، 4]

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} یقیناً اللہ اور اسکے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]

آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے) اس لیے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود  و سلام پڑھو:

اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، وسلم تسليما كثيراً۔

یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان ، علی ، تمام صحابہ کرام  اور روزِ قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والے لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت ، سخاوت اور کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما،  یا اللہ! کفر اور کافروں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما،   یا اللہ! مسلمانوں کے دلوں میں الفت ڈال دے یا رب العالمین!  یا اللہ! جن کی آپس میں ناچاقیاں ہیں ان کے مابین صلح فرما دے، انہیں سلامتی والے راستوں کی جانب گامزن فرما، یا ذو الجلال والاکرام!

یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہم سب مسلمانوں کو تیرے دین کی سمجھ عطا فرما، بیشک تو ہی ہمارا معبود حقیقی ، جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ یا اللہ! کفر اور کافروں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! کفر اور کافروں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! تیرے اور تیرے دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما، یا اللہ! ملحدین اور کافروں کو تباہ و برباد فرما، بیشک تو ہر چیز پہ قادر ہے۔

یا اللہ! اسلام دشمن قوتوں کی منصوبہ بندیاں غارت فرما، یا رب العالمین!۔ یا اللہ! اسلام دشمن قوتوں کی منصوبہ بندیاں غارت فرما، یا رب العالمین!۔ یا اللہ! اسلام دشمن قوتوں کی تیرے دین کے خلاف کی ہوئی مکاریاں تباہ فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! تمام مومن مرد و زن کے معاملات خود سنبھال لے، یا اللہ! تمام مومن مرد و زن کے معاملات خود سنبھال لے۔

یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان اور شیطانی چیلوں ،شیطانی لشکروں  اور شیطان کے یاروں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ،  یا اللہ! ہمیں ہمارے نفسوں اور برے اعمال کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں ہر شریر کے شر سے محفوظ فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ ہر قسم کے فتنے ختم فرما دے، یا اللہ! مسلمانوں میں موجود ہر قسم کے فتنے ختم فرما دے، یا اللہ! ناقابل برداشت ناگہانی آزمائشوں کا خاتمہ فرما دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ملک شام میں مسلمانوں پر رحم فرما، یا اللہ! ان پر آن پڑنے والی مصیبتوں کا خاتمہ فرما دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ برما میں مسلمانوں پر آن پڑنے والی مصیبتوں کا خاتمہ فرما دے، یا اللہ! یا ذو الجلال و الاکرام! پوری دنیا میں تیرے دین کی وجہ سے مسلمانوں پر آن پڑنے والی سختیاں اور تکالیف ختم فرما دے، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! مسلمانوں کو حق بات پر متحد فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے،  یا رب العالمین! یا اللہ! امت محمدیہ پر رحم فرما،  یا اللہ! ہمارے ملک کو ہر قسم کے شر اور منفی سرگرمی سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمارے ملک کی جارحین کی جارحیت سے حفاظت فرما، ظالموں کے شر سے حفاظت فرما، ظالموں کی چالبازیوں سے حفاظت فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں صحیح سلامت واپس لوٹا، یا رب العالمین! یا اللہ! انہیں درست سمت عطا فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا ذو الجلال والاکرام!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور جنت کے قریب کر دینے والے اعمال کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہم جہنم اور جہنم کے قریب کرنے والے اعمال سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

یا اللہ! یا ذو الجلال والاکرام! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ  ہمیں ہمہ قسم کی خیر عطا فرما، چاہے وہ جلد ملنے والی ہے یا تاخیر سے،  ہم اسے جانتے ہیں یا نہیں،  اسی طرح ہم ہمہ قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں چاہے وہ جلد آنے والا ہے یا تاخیر سے، ہم اس شر کو جانتے ہیں یا نہیں۔

یا اللہ! ہمارے تمام معاملات کا انجام  اچھا فرما،  اور ہمیں دنیاوی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ! ان کی تیری مرضی کے مطابق  رہنمائی  فرما، یا اللہ! انہیں صحت و عافیت سے نواز، یا اللہ! انہیں  ہر اچھے اور نیکی کے کام کی انہیں توفیق دے،  بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔  یا اللہ! ان کے موقف کو صحیح سمت عطا فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ!  ولی عہد کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ!  انہیں تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما،  ان کی تمام تر کاوشیں اپنی رضا کیلیے قبول فرما، یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ انہیں  ہر اچھے اور نیکی کے کام کی توفیق عطا فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ یا اللہ! ان کے موقف کو تیری پسندیدہ جہت  عطا فرما،  بیشک تو اس پر قادر ہے، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہم ہمہ قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں چاہے وہ جلد آنے والا ہے یا تاخیر سے ۔

ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90، 91]

عظمت و جلال والے اللہ کا کثرت سے ذکر کرو، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے سب کاموں سے با خبر ہے۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی ایس حدیث کے بعد ایم ایس تفسیر مکمل کر چکے ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.