آؤ سیاسی جماعت بنائیں - فیاض راجہ

ویسے اس ایک بات پر الیکشن کمیشن کو مبارکباد تو بنتی ہے کہ ملک میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد 350 ہوگئی ہے۔ درپیش مگر ایک مشکل یہ ہے کہ قومی اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد 342 ہے جن میں سے براہ راست انتخابات 272 نشستوں پر ہوں گے اور یوں ان نشستوں کو اگر 350 سیاسی جماعتوں میں تقسیم کرنے کی اپنی سی کوشش بھی کر لی جائے تو ہر ایک جماعت کے حصے میں ایک نشست بھی نہ آئے گی۔

یہ ہمارے ملک میں سیاسی جماعتوں کا کھمبیوں کی مانند اگنے کا سلسلہ محبوب کی زلف دراز کی مانند طویل سے طویل تر کیوں ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ان سیاسی جماعتوں کی جڑیں زمین میں ہیں یا ان کی ڈوریں آسمان پر۔ یا پھر یہ فقط وہ پر پرزے ہیں جو صرف کاغذوں پر ہی نکالے جاتے ہیں۔

کیا جمہوریت کا پودا ہمارے ملک میں اتنا مظبوط ہوگیا ہے کہ اب اس کی شاخیں، ٹہنیاں اور پتے ادھر ادھر منہ مارنے لگے ہیں، یا پھر ہم اتنے جمہوری ہوگئے ہیں کہ ایک دوسرے سے اختلاف رائے برداشت کرنے کوتیار نہیں، اور جونہی کسی کا اپنے کسی پارٹی رہنما سے ذرا سا اختلاف ہوا، جھٹ سے ایک عرضی لکھ ڈالی کورے کاغذ پر محبوب کے نام اور بنا ڈالی اپنی ایک علیحدہ سیاسی جماعت۔

ویسے الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کا محبوب بلکہ دل پھینک محبوب کہنا کچھ ایسا غلط بھی نہیں۔ بھلا کاہے کو اور کون نامراد محبوب یہ چاہے گا کہ اس کے دل کی سلطنت پر ایک صرف ایک محبوبہ حکمرانی کرے، بلکہ اس کی تو خواہش ہوگی کہ ہر روز، روز عید ہو اور ہر شب، شب برات کے مصداق، آئے روز نئی نویلی محبوبہ، دل کے نہاں خانوں پہ دستک دے۔

الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ 350 سیاسی جماعتوں کا مطلب تو یہ نکلتا ہے کہ بہر کیف ان کے 350 صدور، چیئرمین، سربراہ یا رہنما بھی ضرو رہے ہوں گے اور بہر حال ہر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کی سیاست کی معراج تو یہی ہے کہ وہ ملک کے پارلیمانی نظام سیاست کا اہم ترین عہدہ یعنی وزیراعظم پاکستان کا منصب حاصل کرے۔

یوں ایک ایسے ملک میں جس کا کوئی بھی وزیراعظم اپنی مقررہ آئینی مدت پوری نہ کرسکا ہو، وہاں 350 سیاسی جماعتوں اور اتنے ہی امیدوران برائے وزرائے اعظم کی موجودگی کسی طور دلچسبی سے خالی نہیں۔

لاہور میں گزشتہ دنوں این اے 120 کے ضمنی انتخابات کے دوران جن دو سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن اور ان کے امیدواروں کی جانب سے انتخاب لڑنے کا غلغلہ بلند ہوا، وہ ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک پاکستان کے نام سے سامنے آئی ہیں۔

ملی مسلم لیگ کی الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کے آڑے آئی اس کی حافظ سعید سے وابستگی اور لشکرطیبہ اور جماعت الدعوہ جیسی کالعدم تنظیموں سے اس کا تعلق۔ دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان سے متعلق بعد از انتخابات یہ معلوم ہوا کہ اسے دو ماہ پہلے ہی مولانا خادم حسین رضوی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن میں رجسٹر کروا لیا گیا تھا۔ مولانا خادم حسین رضوی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد گزشتہ برس مارچ میں ڈی چوک میں دھرنا دیا۔

ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک پاکستان سے وابستہ امیدواروں نے الیکشن کمیشن سے پارٹی نشان نہ ملنے کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا، مگر اپنی انتخابی مہم کے دوران دونوں نے نہ صرف اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کا نام استعمال کیا بلکہ اپنے اشتہاری پوسٹرز میں حافظ سعید اور ممتاز قادری کی تصویروں کا بھی ڈٹ کر استعمال کیا مگر الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کے کمزور قوانین اور اختیارات نہ ہونے کے باعث کچھ نہ کرسکا۔

ماضی میں بھی فورتھ شیڈول میں شامل کالعدم تنظیموں کے حمایت یافتہ امیدواروں نے انتخابات میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ کامیابی بھی حاصل کی۔ دسمبر 2016ء میں جھنگ میں ہونے والے پی پی 78 کے ضمنی انتخابات میں آزاد امیدوار مولانا مسرور نواز جھنگوی نے کالعدم جماعتوں اہل سنت والمجماعت اور سپاہ صحابہ پاکستان کی حمایت سے کامیابی حاصل کی۔

الیکشن کمیشن میں بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن کے لیے موجود قانون کہتا ہے کہ کھلے عام یا چھپے ملک کے آئین کی خلاف ورزی کا پرچار کرتی جماعتیں، فرقہ واریت، صوبائییت، علاقہ پرستی کی بنیاد پر قائم اور ان کو فروغ دیتی جماعتیں الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہیں ہوسکتیں۔ مگر اے بسائے آرزو کے خاک شدہ کے مصداق الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ 350 سیاسی جماعتوں میں سے ایک قابل ذکر تعداد مذہبی فرقہ پرستی پر مبنی، کالعدم تنظیموں کی حمایت یافتہ، نسلی اور لسانی ایجنڈوں کی حامل، صوبائیت اور علاقہ پرستی فروغ دیتی سیاسی جماعتوں کی ہے۔

مملکت خداداد پاکستان میں رجسٹرڈ 350 سیاسی جماعتوں میں سے 184 سیاسی جماعتوں کو ماضی میں انتخابی شنان الاٹ ہوچکے ہیں جبکہ اس وقت صرف 52 سیاسی جماعتیں انتخابی نشان حاصل کرنے کی بنیادی شرائط پر پورا اترتی ہیں یعنی 300 کے قریب سیاسی جماعتیں انتخابی نشان ہی حاصل کرنے کی اہل نہیں۔ پارلیمانی سیاست میں 20 کے قریب سیاسی جماعتیں سرگرم ہیں جبکہ صرف 16 سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔

رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے ناموں پر نظر ڈالی جائے تو ان میں سے 250 سے زائد جماعتیں انتہائی غیر معروف اور صرف کاغذوں پر قائم ہیں۔ درجنوں نام تو ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں شاید ہی کسی نے کچھ سنا ہو، تاہم کچھ نام اپنے اندر اچھی خاصی موسیقی لیے ہو ئے ہیں۔

عام، عوام اور آپ جناب کی گردان کرتی سیاسی جماعتوں میں عام آدمی جسٹس پارٹی، عام آدمی پارٹی آف پاکستان، عام آدمی تحریک پاکستان، عام انسان موومنٹ، عام لوگ اتحاد، عام لوگ پارٹی پاکستان، عام پاکستانی اتحاد، عام پاکستانی پارٹی، عام آدمی پارٹی اور آپ جانب سرکار پارٹی شامل ہیں۔

پاکستان کے غریبوں اور بے روزگاروں کی نمائندگی کے لیے آل پاکستان بے روزگار پارٹی، آل پاکستان غربا لیگ، غریب پارٹی، غریب عوام پارٹی، لوئر مڈل پارٹی اور پاکستا ن غربا پارٹی دستیاب ہیں۔

پاکستان میں اسلام کو نافذ کرنے کے لیے اسلامی انقلاب پارٹی، اسلامی نظریاتی تحریک پاکستان، اسلامی پیپلز پارٹی، اسلامی سیاسی تحریک، اسلامی تحریک پاکستان، اسلامک لا پاکستان پارٹی، مسلم موومنٹ پاکستان، عظمت اسلام موومنٹ، پاک مسلم الائنس، اللہ اکبر تحریک اور اسلامی ری پبلکن پارٹی بھی موجود ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ جماعتوں سے متاثر اور ملتے جلتے ناموں والی جماعتوں میں ڈیموکریٹ، ری پبلکن، لیبر، کانگریس، ورکرز پارٹی، سوشل ڈیموکریٹک، پرگریسیو، سوشل جسٹس، کنزرویٹو، اور کمیونسٹ ناموں والی جماعتیں بھی ملیں گی۔

صوبائی شناخت اور نام کی حامل سیاسی جماعتوں میں بلوچستان نیشنل کانگریس، بلوچستان نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل موومنٹ، سندھ ڈیموکریٹک الائنس، سندھ نیشنل فرنٹ، سندھ یونائٹیڈ پارٹی، سندھ ترقی پسند پارٹی، سندھ اربن رورل الائنس اور سندھ دوست اتحاد قابل ذکر ہیں۔

نسلی اور لسانی بنیادوں پر قائم سیاسی جماعتوں میں ہزارہ قومی محاذ، اتحاد ملی ہزارہ، جاموٹ قومی موومنٹ، مہاجر قومی موومنٹ، مہاجر اتحاد تحریک، مہاجر کشمیر موومنٹ، بروہی پارٹی، سرائیکی پارٹی، سرائیکی صوبہ موومنٹ، پشتون قومی تحریک، ہزارہ ڈیموکریٹ پارٹی اور ہزارہ عوامی اتحاد کا نام ملتا ہے۔

اقلیتی جماعتوں کی بات کر لی جائے تو الیکشن کمیشن کی فہرست میں کرسچن پروگریسیو موومنٹ، مسیح عوامی پارٹی، ینگ بلڈ کرسچن لیگ، آل پاکستان مائنارٹیز الائنس اور آل پاکستان کرسچن لیگ کے نام بھی نظر آتے ہیں۔

ملک کی محبت اور جمہوریت کے دام الفت میں گرفتار سیاسی جماعتوں کو تیزی سے ختم ہوتے ناموں نے ایک نئی مشکل سے بھی دوچار کردیا ہے۔ یوں تو ملک کی تقریبا سبھی بڑی سیاسی جماعتوں کے مخلتف ناموں سے دھڑے بھی وجود میں آچکے ہیں، تاہم اس میں مسلم لیگ ابھی تک واضح برتری لیے ہو ئے ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی کارکردگی بھی قابل ذکر ہے۔

الیکشن کمیشن اگر محبت اور جنگ کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی سب جائز کے سنہرے قول پر عملدرآمد رہا تو آئندہ عام انتخابات سے قبل رجسٹر سیاسی جماعتوں کی تعداد 350 سے بڑھ کر 420 تک جا پہنچے گی، اور قرین قیاس ہے کہ جمہوری پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی (مسلم لیگ گروپ) اور پاکستان مسلم لیگ (پیپلز پارٹی گروپ) کے نام سے بھی سیاسی جماعتیں وجود میں آجائیں۔

Comments

فیاض راجہ

فیاض راجہ

محمد فیاض راجہ ڈان نیوز کے نمائندہ خصوصی ہیں۔ 16 برس سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نوائےوقت، جیو نیوز، سما ٹی وی اور 92 نیوز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.