تین منظرنامے - محمد عامر خاکوانی

پاکستانی سیاست آج کل کچھ اس طرح کی گرد آلود ہوگئی ہے کہ بعض چیزیں سامنے ہونے کے باوجود درست طور پر نظر نہیں آ رہیں۔ ایک دھند سی ہر طرف چھائی ہے، یار لوگ اپنی اپنی سمجھ بوجھ اور معلومات کے مطابق تبصرہ کر دیتے ہیں۔ سرائیکی میں ایسی صورتحال کے متعلق ایک مزے کا جملہ ہے کہ ”ہاں دے سوجھلے وچ اگوں ونجنا“ یعنی دل کی روشنی میں دیکھ کر آگے بڑھنا۔ ہاں یا ”ہانہہ“ سرائیکی میں دل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سیاسی تجزیے کے لیے بھی معلومات کے ساتھ ساتھ دل کی روشنی ضروری ہے، مسئلہ یہ کہ صحافی صاحب کشف تو ہوتے نہیں، ان کے قارئین البتہ ان سے توقعات اسی انتہا کی رکھتے ہیں۔ گزشتہ شام دو تین صحافی دوست دفتر تشریف لائے، تو زیر بحث دو تین سوال اسی نوعیت کے تھے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے، الیکشن ہوگا یا نہیں اور اگر ہوا تو کون کہاں کھڑا ہوگا، پنجاب میں ن لیگ معرکہ مارے گی یا تحریک انصاف؟ بعد میں ایڈیٹر صاحب کے کمرے میں بھی اسی موضوع پر بات ہوتی رہی۔ ان دوستوں سے اگر اجازت لی ہوتی تو ان کے نام اور تجزیے بھی لکھ دیتا۔ ابھی ویسے تیقن سے کچھ کہنا آسان نہیں کیونکہ خاصا کچھ اگر مگر (ifs and buts) میں ہے، اگر ایسا ہوجائے تو منظر یوں بنے گا، ویسا ہو جائے تو تبدیلی شدہ منظرنامہ کیا ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔

پہلا اور سادہ ترین منظر تو یہ ہوسکتا ہے کہ میاں نواز شریف اپنے چھوٹے بھائی میاں شہباز اور چودھری نثارعلی خان جیسے عملیت پسندوں کا مشورہ مان کر ”لوپروفائل“ سیاست کریں، اپنی تمام توجہ نیب مقدمات پر لگائیں، وہاں سے بری ہوں۔ صبح شام عدلیہ اور فوج کے خلاف جو لفظی گولہ باری وہ کر رہے ہیں، اس سے گریز کریں۔ مارچ میں سینیٹ الیکشن ہوں، وہاں اکثریت بنائیں اور اگلے انتخابات میں جائیں، الیکشن جیت جائیں تو مسلم لیگ ن کی نئی حکومت بنے۔ مستقبل کے حوالے سے وہ کنگ میکر کا کردار اپنائیں اور شہبازشریف صاحب کو آگے لے آئیں۔ یوں بڑے میاں صاحب باہر رہ کر پارٹی اور حکومت پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے رہیں، مگر خود مین سٹیج سے باہر رہیں۔ یہ ایسا منظرنامہ ہے جو ہر کسی کوسوٹ کرتا ہے، اسے مینجمنٹ کی اصطلاح میں وِن وِن ڈیل سمجھ لیں۔

دوسرا منظر یہ ہے یہ میاں نواز شریف ٹکراؤ کی سیاست کی طرف جائیں، ہر گزرتے روز کے ساتھ ان کا لہجہ تلخ ا ور تلخ تر ہوتا جائے، مریم نواز شریف ان کی اہم ترین صلاح کار اور مشیر ہوں، مسلم لیگ کی سیاست پر ان کے نقوش گہرے ہوتے جائیں، بڑے میاں صاحب مسلم لیگ ن کے عقابوں کے گھیرے میں آ جائیں۔ جناب پرویز رشید، دانیال عزیز، طارق فاطمی، طلال چودھری وغیرہ جیسے لوگ فرنٹ پر آ جائیں اور یوں حکمران جماعت اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کے لیے کمر کس لے۔ تب منظرنامہ بدلتا جائے گا۔ جب مسلم لیگ ن قیادت ایک بڑے ٹکراؤ کی تیاری کرے گی تواس پارٹی میں جو لوگ اس ٹکراؤ کے حامی نہیں ہیں، جو اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کو خطرناک اور پارٹی کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں، وہ بتدریج الگ ہوتے جائیں گے۔ یوں مسلم لیگ ن اگر ٹوٹی نہ تب بھی اس کے دھڑے بن جائیں گے، یا کم از کم کچھ الیکٹ ایبلز انتخابات سے قبل تحریک انصاف کی طرف جا سکتے ہیں۔ جنوبی پنجاب سے ن لیگ کے بعض الیکٹ ایبلز کی فہرست سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی، جن کے حوالے سے مبینہ طور پر یہ کہا گیا کہ وہ تحریک انصاف سے رابطے میں ہیں، ٹکراؤ کی صورت میں یہ فہرست حقیقت میں بدل سکتی ہے۔ دراصل میاں نواز شریف آج کل اس ذہنی کیفیت میں ہیں ،جس میں 1980ء کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں محترمہ بےنظیر بھٹو اور پیپلزپارٹی تھیں۔ ایک بڑا فرق مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی میں ہے کہ پی پی پی کا ورکر اور ووٹر ذہنی طور پر مختلف تھا۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد پارٹی کے جیالے میں اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے سخت تلخی آ چکی تھی اور وہ ضیا باقیات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ مسلم لیگ ن کا ووٹر، سپورٹر اور الیکٹ ایبل کی ذہنی ساخت اور سوچ نہایت مختلف ہے۔ ن لیگ کا کارکن اور ووٹر پنجاب کا ہے، جہاں فوج کے بارے میں احساسات دوسرے صوبوں سے مختلف ہیں۔ مسلم لیگی الیکٹ ایبلز کا یہ حال ہے کہ یہاں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونا نرا گھاٹے کا سودا اور خطرناک بات سمجھی جاتی ہے۔ مئی تیرہ کے انتخابات میں میاں نواز شریف کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے مختلف اہم طبقات کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ وہ آ رہے ہیں اور ان کے بغیر کام بھی چل نہیں سکتا، ان کے پاس مطلوبہ تجربہ اور ٹیم موجود ہے جبکہ عمران خان ناتجربہ کار ہے اور اس کے پاس ٹیم بھی موجود نہیں۔ یہ تاثر ن لیگ کے حق میں گیا۔ اس بار تو تاثر الٹ دیا جا رہا ہے۔ میاں صاحب جتنا اونچا بولیں گے کہ مجھے عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ نے نکالا، اتنا ہی یہ تاثر قائم ہوگا کہ جنہوں نے نکالا ہے، وہ اب انہیں واپس کیسے آ نے دیں گے؟ یہ تاثر میاں نواز شریف اور ن لیگ کے لیے خطرناک ہے۔ شہباز شریف صاحب اور پارٹی کے دیگر متعدد رہنما اسی لیے مختلف بیانیہ دینے کی بات کر رہے ہیں۔اگر نواز شریف صاحب نے اس زمینی حقیقت کا ادراک کرنے میں تاخیر کی تو امکان موجود ہے کہ معاملات ان کے کنٹرول میں زیادہ دیر نہیں رہ پائیں گے۔ پنجاب میں اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ والی سیاست آج تک تو نہیں چلی، میاں نواز شریف اگر نیا سیاسی معجزہ برپا کر دیں تو وہ الگ بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شکست یتیم ہوتی ہے، کامیابی کے ہزار باب پیداہو جاتے ہیں - حسین اصغر

اس دوسرے ممکنہ منظرنامے سے جڑا تیسرا منظر بھی ہے، وہ مسلم لیگ ن کی ممکنہ تقسیم ہے۔ شریف خاندان میں باہمی چپقلش بھی بڑھتی جا رہی ہے اور امکان ہے کہ حمزہ شہباز شریف کی جگہ مریم نواز صاحبہ کو آگے لانے اور اپنا سیاسی جانشین بنانے پر شہباز شریف فیملی ناراض ہوسکتی ہے۔ اسے کوئی افواہ یا سازشی تھیوری نہ سمجھا جائے، ممکن ہے ایسا نہ ہوپائے، مگر اس کا امکان بہرحال موجود ہے۔ مسلم لیگ ن کی تقسیم ایک طرح سے المیہ ہوگا کہ ن لیگ ایک وفاقی جماعت ہے اور اسے متحد رہنا چاہیے۔ ن لیگ کو قریب سے جاننے والے بعض صحافیوں کا البتہ دعویٰ ہے کہ شہباز شریف کبھی اپنے بڑے بھائی سے الگ نہیں ہوسکتے کہ انہیں معلوم ہے کہ وہ ایسا کرنے پر زیرو ہوجائیں گے۔ یہ بات ویسے درست ہے۔ مسلم لیگ ن کا ایک ہی لیڈر ہے اور وہ میاں نواز شریف ہیں۔ شہباز شریف صاحب اپنے بڑے بھائی کی سرپرستی میں تو کام کر سکتے ہیں، ورنہ پارٹی چلانا اور کارکنوں کو ساتھ لے کر چلنا ان کے لیے آسان نہیں۔ یہ تو ن لیگ کی ممکنہ آپشنز ہیں، تحریک انصاف کے لیے الگ سے تجزیہ کرنا چاہیے، ان کے اپنے مسائل، امکانات اور آپشنز ہیں۔ وہ بحث کسی اور نشست کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔

پس تحریر: دو دن پہلے ترک سکولوں کے سابق ڈائریکٹر اور رومی فورم کے سربراہ میسوت (مسعود) اور ان کی اہلیہ کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ انہیں حکومت کے کہنے پر پولیس نے اٹھایا۔ بی بی سی نے اس حوالے سے گزشتہ روز رپورٹ شائع کی، جس کے مطابق عینی شاہد اور میسوت کاچماز کے ساتھی ٹیچر فاتِح اوج کا کہنا ہے کہ مسٹر مسعود کی فیملی کو پولیس نے اٹھایا اور مقصد انہیں ترکی ڈی پورٹ کرنا ہے۔ فاتح اوج کے مطابق میسوت نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ہناہ گزین 'یو این ایچ سی آر' کے پاکستان آفس سے ایک سال کی میعاد کا پناہ گزین سرٹیفیکٹ حاصل کیا تھا جس کی تجدید نومبر میں ہونی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہمارے پاس لیگل سٹیٹس ہے پاکستان میں رہنے کا، تو ہمارا ساتھ یہ کیوں ہوا؟

یہ بھی پڑھیں:   شہباز ٹیم ان، بزدارٹیم آؤٹ - شہزاد سلیم عباسی

مسٹر مسعود ایک متحرک اور خوش خلق شخص ہیں ۔ رومی فورم کی سرگرمیوں کے حوالے سے ان سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ پچھلے رمضان میںچند صحافیوں کو انہوں نے اپنے گھر افطار کے لئے بلایا۔ روایتی مذہبی فیملی اور نہایت سادہ طرز زندگی تھا۔ مغرب کی نماز ہم نے ان کی امامت میں پڑھی ۔ مسٹر مسعود کا جرم یہ ہے کہ وہ ترک اپوزیشن گروپ الحزمت فاﺅنڈیشن سے تعلق رکھتے ہیں ، امریکہ میں مقیم ترک سکالر فتح اللہ گولن ان کے فکری قائد ہیں۔ ترک حکومت نے گولن موومنٹ کے لوگوں کے لئے بہت زیادہ مشکلات پیدا کر رکھی ہیں، انسانی حقوق کے حوالے سے وہاں نہایت ابتر صورتحال ہے، بدقسمتی سے ہمارے دینی حلقے اس پر خاموش ہیں۔ جماعت اسلامی جیسی جماعت جو مصرمیں جنرل سیسی کی ظالمانہ حکومت کے اخوان المسلمون پر کیے گئے مظالم کو خوب ہائی لائٹ کرتی ہے، ترکی میں گولن موومنٹ والوں پر اسی طرح کے حکومتی ظلم پر وہ خاموش ہے۔ جناب طیب اردوان کا شخصی سحر کسی کو زبان نہیں کھولنے دیتا۔ ظلم مگر ظلم ہے، اس کی حمایت کرنا بھی ظلم کے مترادف ہے۔ ترک سکولوں کے حوالے سے ہم نے ترکی کی حکومت کے مطالبات مانے، سفارتی نزاکتوں کی وجہ سے میرے جیسے لوگ بھی اس کے حامی تھے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم انتہائی ظالمانہ اور وحشیانہ طریقے سے ترک ٹیچرز اور رومی فورم کے دانشوروں کو پکڑ کر ترکی بھیج دیں۔ ترک عوام میں پاکستان کا بہت احترام ہے، ان کی حکومت کو خوش کرنے کی خاطر اس طرح کی کارروائیوں سے ہم ترک عوام کی نظروں میں گر جائیں گے۔ ترکی ہمارا دوست ملک ہے، تر ک حکومت کو نظرانداز کرنا ہمارے لیے آسان نہیں، مگر ہمیں اپنا قومی وقار ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی خلاف ورزی کرنا کسی بھی صورت مناسب نہیں، یوں آدھی رات کو گھر سے اغوا کر کے ڈی پورٹ کرنا انتہائی درجے کا ظلم ہے ۔اس کی غیر مشروط مذمت کرنی چاہیے۔ دینی حلقوں پر اس کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.