مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تری رہبری کا سوال ہے - محمد عبد اللہ

وطن سے محبت بھی کتنا عظیم عمل ہے اور اگر وطن بھی ایسا ہو جو دنیا میں لاالہ الا اللہ کی حکمرانی کے لیے معرض وجود میں آیا ہو، جس کی بنیادوں میں ہمارے 16 لاکھ آباو اجداد کا لہو شامل ہو۔ ایسے وطن سے محبت کرنا اور اس کی بقا اور سالمیت کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگا دینا یقیناً عین اسلام ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس پاک مٹی کے بیٹے اس وطن کی نگہبانی اور حفاظت کی خاطر مسلسل جانوں کے نذرانے پیش کرتے چلے جا رہے ہیں۔ وہ مائیں کتنی عظیم ہوتی ہیں جو اپنے شیر بیٹوں کو دودھ کی دھاروں کے ساتھ درس شہادت بھی پلاتی ہیں اور پھر بیٹے بھی درسگاہ اول کے سبق کی لاج رکھتے ہوئے جان کو ہتھیلی پر لیے موت کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔

رواں ہفتے وادی راجگال میں وطن کی سرحدوں کا پہرہ دیتے ہوئے سرحد پار سے آنے والی گولیوں سے جام شہادت نوش کرنے والا نوجوان لیفٹینینٹ ارسلان ستی اور اس کاخاندان یقیناً مبارکباد کا مستحق ہے کہ ارسلان کامیاب ہوگیا ہے۔ میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ارسلان ستی شہید کی گفتگو پڑھ رہا تھا تو دل میں فیض کا وہ شعر گونج رہا تھا

جس دھج سے کوئی مقتل گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی تو کوئی بات نہیں

ارسلان شہید لکھتا ہے کہ "شہید ہونے کے لیے آئے ہیں، گولی کا انتظار ہے " پھر وہ گولی آتی ہے اور دفاع وطن کے لیے دھرتی کا ایک عظیم بیٹا ارسلان ستی شہید ہوجاتا ہے۔ انہی شہداء کی قربانیوں کے باعث آج ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ انکل سام کے جانشین ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کو دی گئی دھمکیوں اور 'ڈو مور' کے مطالبے پر افواج پاکستان کے سپہ سالار کھڑے ہوتے ہیں اور قوم کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو شکست دی ہے۔ دنیا ہماری قربانیوں کا احترام کرے، ہمیں دنیا سے مدد نہیں بلکہ احترام کی ضرورت ہے۔ اب دنیا کو ہمارے 'ڈو مور' کے مطالبے کو ماننا ہوگا۔ یعنی دوسرے لفظوں میں انکل سام کو صاف الفاظ میں ٹھینگا دکھایا جاتا ہے۔ یہ ہمت و جرات شہداء کی قربانیوں کی بدولت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیری بہنیں پاک فوج کی منتظر - صائمہ عبدالواحد

ان شہیدوں کی انمٹ قربانیوں کی بدولت آج ہم اپنے بچوں کے قاتلوں، پاکستان کو آگ اور خون میں نہلا دینے والوں، پاکستان کی عبادت گاہوں، بازاروں، درسگاہوں میں خون کی ہولیاں کھیلنے والوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ میرانشاہ جو کہ ماضی میں دہشت گردوں کی مضبوط پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا وہاں پر پاک فوج کی طرف سے امن کپ کا اہتمام اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ساری دنیا دہشت گردی سے ہار رہی تھی تو پاکستان نے بحمدللہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ جیتی ہے۔ افواج پاکستان نے دہشت گردوں کو ان کے افغانستان میں موجود ٹھکانوں تک ان کا پیچھا کیا ہے اور ان انسانیت کے دشمنوں کو اپنے بلو ں میں چھپ جانے پر مجبور کیا ہے۔

یہاں تک توسب ٹھیک تھا، وطن کے پہرے دار تو اپنی ذمہ داری بخوبی پوری کررہے ہیں مگر حسب سابق ہم میدانوں میں تو ساری جنگیں جیت جاتے ہیں مگر سفارت کاری کی میز پر ہم اپنی عزت بھی ہار جاتے ہیں۔ ایک طرف ہمارے سپہ سالار اقوام عالم کو ببانگ دہل یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے دہشت گردی پر قابو پایا ہے، ہم نے دہشت گردی کو شکست دے کر اپنے گھر کو اس کچرے سے صاف کیا ہے مگر عین اسی وقت ہمارے عزت مآب وزیر خارجہ خواجہ آصف کھڑے ہوتے ہیں اور پتا نہیں کن کی ہدایت کاری پر ایک نیا شوشہ چھوڑتے ہیں کہ ہمیں اپنے گھر کو صاف کرنا چاہیے۔ یعنی دوسرے لفظوں میں اندرون خانہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہوتا کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے۔ چوہدری نثار کے الفاظ میں خواجہ آصف کے اس بیان کو لے کرہمارے ازلی دشمن بھارت میں چراغاں کا سا سماں ہوتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ وہ جو الزامات پاکستان پر لگاتے آئے تھے آج پاکستان کا ایک بڑا ذمہ دار کود اپنے منہ سے اعتراف کر رہا ہے۔ عین اسی موقع پر جنیوا میں 'فری بلوچستان' کے بینر آویزاں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ پاکستان پر بلوچوں کے ساتھ نام نہاد الزامات کی پوچھاڑ شروع کردی جاتی ہے۔ اس موقع پر مجھے ساغر صدیقی یاد آتے ہیں جنہوں کیا خوب کہا تھا

وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کیوں کسی سے پیچھے رہیں؟ وہ بھی بیان داغ دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ کابل میں حملہ کرنے والے پاکستان سے گئے ہوں۔ وزیر داخلہ احسن اقبال بھی گھر کی صفائی کا رونا شروع کردیتے ہیں۔قوم حیران و ششدر ہے کہ آیا یہ ہمارے ہی نمائندے ہیں، یہ ہمارے ملک کا چہرہ ہیں یا کہ دشمن ملک کے سفارت کار جو بجائے پاکستان کا دفاع کرنے کے خود پاکستان پر ہی الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ ہم دست بستہ ان رہنماؤں سے گزارش کرتے ہیں کہ حضرات یہ ملک پچھلے چار سال سے تمہارے ہی رحم و کرم پر تھا۔ یہ تمہاری ہی نوازشیں ہیں کہ آج ہم اس حال کو پہنچے ہیں۔ ملک خزانے پر ہاتھ صاف کرکے پاناموں اور اقاموں کی بجائے اگر ملک کی درست خارجہ پالیسی پر دھیان دیا ہوتا یہ نوبت نہ آتی کہ پاکستان کے وزیراعظم کو ملنے سے وہ دو ٹکے کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انکار کردے۔ تمہارے چار سالوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے سیاست میں نئے چہرے ابھرے ہیں تو تمہیں اپنی سیاسی ناؤ کے ڈوب جانے کے امکانات نظر آنا شروع ہوئے ہیں تو تم بجائے اپنے آپ کو درست کرنے کہ پاکستان پر ہی الزامات عائد کرنے پر تل گئے ہو؟ قوم نے مینڈیٹ آپ کو دیا تھا گھر کی صفائی اور حفاظت کا مینڈیٹ ناکہ بھارت نوازی کا مینڈیٹ

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تری رہبری کا سوال ہے