مجرم ماں باپ ہیں – احسان کوہاٹی

اس نے اپنا مہنگا سیل فون جیب سے نکالا، اس کے بٹنوں سے چھیڑچھاڑ کی اور پھر اسے سیلانی کی جانب بڑھا دیا۔ سیلانی نے فون لینے سے پہلے اس کی طرف وضاحت طلب نظروں سے دیکھا کہ میں اس فون کا کیا کروں؟

’’دیکھیں تو سہی اس میں سے کوئی بھوت نہیں نکل آئے گا‘‘ اس نے بے تکلفی سے کہا اور سیلانی نے فون ہاتھ میں لے لیا جس کی اسکرین پر پکچرز گیلری کھلی ہوئی تھی، پہلی ہی تصویر 440 وولٹ کے جھٹکے والی تھی، اس میں وہ ایک حسین دوشیزہ کے ساتھ نہایت رومانٹک موڈ میں کھڑا ہوا تھا، دوسری تصویر میں وہ لڑکی اک ادا کے ساتھ فوٹو بنوا رہی تھی، تیسری تصویر سیلفی تھی جس میں نوجوان نے اس کے گرد اپنا بازو لپیٹ رکھا تھا، جبکہ دوسرے ہاتھ میں یقیناً شیطان کا وہ پسندیدہ آلہ تھا جسے ہم سیل فون کہتے ہیں، اور اسی کی مدد سے سیلفی لی گئی تھی۔ اسی طرح کی اور تصاویر بھی اس کی گیلری میں محفوظ تھیں، جن میں سے کچھ میں وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ خوشگوار موڈ میں تھا اور باقی تصاویر لڑکیوں کی تھیں۔

سیلانی نے یہ سب تصاویر دیکھنے کے بعد سیل فون اس کی جانب لوٹاتے ہوئے کہا ’’یقیناً یہ سب تمہاری گرل فرینڈز ہوں گی؟‘‘
’’جی..‘‘
’’اس وقت کتنی گرل فرینڈز ہیں؟‘‘
’’پانچ چھ ہیں.‘‘
’’صرف؟‘‘ سیلانی کے لہجے میں طنز تھا.
’’چار پانچ سے پچھلے دنوں میں ہی جان چھڑائی ہے، میں زیادہ بھیڑ جمع نہیں کرتا، ورنہ ایک وقت تھا بیس، پچیس نمبر میرے فون میں رہتے تھے.‘‘
اتنا کہہ کر اس نے ویٹر کو بروسٹ لانے کے لیے کہا اور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا،
’’آپ جو کچھ پوچھیں گے، میں سچ سچ بتاؤں گا، کیونکہ میں آیا ہی بتانے کےلیے ہوں، بس ایک درخواست ہے کہ میرا نام نہ لکھیےگا.‘‘

سیلانی اس کی درخواست پر اس کا نام نہیں لکھ رہا، لیکن ایسا نہیں ہے کہ آپ اسے جانتے نہ ہوں گے۔ آپ اسے کسی نہ کسی نام سے ضرور پہچانتے ہوں گے۔ یہ ہر محلّے، ہر بستی، ہر کی کہانی ہے، بلکہ اب تو یہ گھر گھر کی کہانی ہے۔ نام، شکل و صورت، حلیے، رنگ، زبان کا فرق ہو سکتا ہے، مگر کردار ایک ہی ہے اور ان ہی کہانیوں کا ایک کردار سیلانی کے سامنے بیٹھا ہوا اعتراف جرم کر رہا تھا۔

25 سالہ اس نوجوان سے سیلانی کی دوسری ملاقات تھی، اس سے پہلے بھی وہ سیلانی سے مل چکا تھا۔ وہ دراصل ایک بہت اچھے گھرانے کا فرد ہے۔ اس کی تربیت بھی بہتر انداز میں ہوئی ہے۔ سچی بات ہے اسے خدا خوفی بھی ہے، اور اس کا ضمیر بھی ابھی ناکارہ نہیں ہوا۔ سیلانی کا خیال ہے کہ و ہ ضمیر ہی کی لعنت ملامت پر جی کا بوجھ ہلکا کرنے آجاتا ہے۔ اس روز بھی اس کی آمد اسی حوالے سے تھی، اس نے سیلانی کو فون کیا، ملنے کی استدعا کی۔ سیلانی کے پاس وہی مسئلہ کہ وہ نہ نہیں کرسکتا، اوراس کی اچانک نازل ہوجانے والی مصروفیات اسے کہیں سے کہیں لے جاتی ہیں۔ جس کے بعد ملنے کا متمنی اسے کوسنے کے علاوہ کیا کرتا ہوگا۔ اس نے نوجوان سے صاف کہا دیکھو میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں آپ سے کہوں کل بارہ بجے آجاؤ، آپ مجھ سے ملنے کے لیے نکلیں اور مجھے گیارہ بجے کہیں جانا پڑ جائے تو آپ مجھے کوسنا شروع کر دو گے، اس نے کہا میں رسک لینے کو تیار ہوں۔ اس کے باجود سیلانی کی اس رنگین مزاج نوجوان سے ملنے میں کئی دن لگ گئے۔ خیر، ملاقات طے ہوئی اور وہ وقت پر پہنچ گیا۔ اتفاق سے سیلانی بھی فرصت سے رہا۔ دونوں صدر کے ایک ریسٹورنٹ میں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا موبائل فون واقعی خفیہ ریکارڈنگ کرتے ہیں؟

سیلانی جانتا تھا کہ وہ ضمیر کے کچوکوں سے پریشان ہے۔ اس کے اندر کے اچھے انسان نے بھی بغاوت کر رکھی ہے۔ سیلانی نے ٹھنڈے پانی کا گلاس اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا ’’کیا ہو رہا ہے آج کل؟‘‘
’’وہی جو پہلے ہو رہا تھا.‘‘
’’یعنی عیاشی؟‘‘
’’کھی ،کھی،کھی۔۔۔آپ لوگوں نے موقع دے رکھا ہے، دودھ کا برتن بھر کر صحن میں رکھا ہوا ہے تو بِلّا منہ کیوں نہیں مارے گا‘‘ اس نے صاف گوئی سے جواب دیا
’’مطلب؟‘‘
’’سیلانی بھائی مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ بےغیرت ہو گئے ہیں یا اُن کی عقل ماری گئی ہے، میں رات کے کسی بھی وقت اپنی کسی بھی دوست کو فون کر لیتا ہوں جو کسی کی بیٹی، کسی کی بہن بھی ہوتی ہے۔ پھر ایک ایک، دو دو گھنٹہ بات کرتا ہوں، اس کی ماں کو کوئی پریشانی ہوتی ہے، نہ کسی کو کوئی پروا۔ چلیں یہ تو رات کی بات ہے، میں دن میں فون کرتا ہوں، لڑکی مجھ سے بات کر رہی ہوتی ہے۔ والد صاحب، بڑے بھائی آجا رہے ہوتے ہیں بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے، والد صاحب اس سے کچھ پوچھتے ہیں اور وہ مجھے ہولڈ کا کہہ کر اپنے والد سے بات کرتی ہے، اسے جواب دیتی ہے اور پھر سوری کر کے مجھ سے شروع ہوجاتی ہے۔ کوئی کیوں نہیں پوچھتا کہ وہ کس سے بات کر رہی ہے؟‘‘

’’تمہارے خیال میں اس ساری صورتحال کے ذمہ دار والدین ہیں؟‘‘
’’بالکل ہیں ،میں تو صاف کہتا ہوں میں جو کچھ کر رہا ہوں، اس کے ذمہ دار بھی میرے والد ین ہیں۔ انہیں کیوں نہیں پتہ کہ ان کا بیٹا 25 سال کا ہو چکا ہے اس کی بھی جسمانی ضرورتیں بھی ہوں گی۔ مجھے صرف ناشتہ کھانا ہی تو نہیں چاہیے جس طرح وہ میری پیٹ کی بھوک مٹانے کا انتظام کرتے ہیں، اسی طرح انہیں میری اس بھوک کا بھی احساس ہونا چاہیے، اور اسی طرح ان لڑکیوں کے والدین بھی ان کی بے واہ روی کے ذمہ دار ہیں بلکہ مجرم ہیں.‘‘

’’واہ کرے کوئی بھرے کوئی؟‘‘
’’سیلانی بھائی! یہ انہی کا کیا دھرا ہے جو ہم بھگت رہے ہوتے ہیں۔ مجھے بتائیں یہ سستی سبزی خریدنے کے لیے پانچ کلومیٹر دور بچت بازار جا سکتی ہیں تو اپنی بچیوں بچوں کے رشتوں کے لیے آس پڑوس رشتہ داروں عزیز واقارب کی طرف کیوں نہیں جاتیں؟ میں آپ کو بتاؤں میرے دوست کی منگنی ہوئے تین برس ہوچکے ہیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کی منگیتر کی دوست اس سے سیٹ ہو چکی ہے، وہ اس کے ساتھ ڈیٹ پر بھی جا تی ہے۔۔۔‘‘

’کیا بات کر رہے ہو یار؟ کوئی لڑکی اپنی سہیلی کے منگیتر سے کیسے دوستی کر سکتی ہے، اس کو ڈر نہیں ہوگا کہ وہ لڑکا اس کی سہیلی کو بتا نہ دے.‘‘
’’سر! صر ف اتنا ہی نہیں بلکہ اس لڑکی کا خود بھی نکاح ہو چکا ہے، دو سال ہوچکے ہیں نکاح کو، ماں باپ رخصتی نہیں کر رہے، دولہے صاحب کو بھی اپنا کاروبار سیٹ کرنے کی پڑی ہے اور ادھر اس کی بیوی کسی اور سے سیٹ ہو رہی ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ لڑکی جوان ہے، اس کے ساتھ بھی نفس ہے، اسے جہاں بھی محفوظ راستہ ملا وہ اسی طرف جائے گی۔ آپ یقین کریں سیلانی بھائی! معاملات اس سے بھی زیادہ خطرناک رخ اختیار کیے ہوئے ہیں، شادی شدہ خواتین تک پھسلی ہوئی ہیں اور جب سے فیس بک سوشل میڈیا آیا تباہی آئی ہوئی ہے.‘‘

یہ بھی پڑھیں:   مُحَرَّم و صفر میں شادی کرنا - نیاز فاطمہ

’’اور اس تباہی میں تمہاری عیاشیاں لگی ہوئی ہیں.‘‘
’’جب آپ بھینسوں کے باڑے میں سانڈ کھلا چھوڑیں گے تو یہی کچھ ہوگا، میں اس معاشرے کا اکیلا 'پلے بوائے' تو نہیں ہوں، ہر محلّے میں آپ کو مجھ جیسے پلے بوائے مل جائیں گے‘‘۔

’’یار سچی بات ہے مجھے تو تمھاری باتیں کچھ گپ شپ لگتی ہیں.‘‘
سیلانی کایہ کہنا تھا کہ اس نے اپنا سیل فون جیب سے نکالا، اس کے بٹنوں سے چھیڑچھاڑ کی اور پھر اسے سیلانی کی جانب بڑھا دیا۔
سیلانی نے اس کا سیل فون لیا تو اس میں اس پلے بوائے کی رنگین مزاجی تصویروں کی صورت میں سامنے تھی۔ سیلانی جھٹلا نہیں سکتا تھا، سیل فون واپس کردیا۔
’’مجھ میں اور دوسرے پلے بوائز میں شاید تھوڑا سا فرق ہو، مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا، میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا ہے، مجھے شرم دلاتا ہے کہ میں یہ کیا کرتا پھر رہا ہوں؟ میں توبہ کرتا ہوں خود سے وعدہ کرتا ہوں کہ ایسا نہیں کروں گا لیکن جب نفس کی بھوک ستاتی ہے تو نہیں رہ پاتا اور میں اپنی بھوک مٹانے کا انتظام کرنے لگ جاتا ہوں۔ میں بہت تیز اور حاضر جواب ہوں، لاجواب کر دیتا ہوں۔ میرے لیے کسی کو بھی شیشے میں اتارنا مشکل نہیں۔ سیلانی بھائی آپ یقین نہیں کرو گے کہ مجھے پیسے کی لالچ نہیں، ورنہ اسلام آباد کی ایک خاتون تو مجھے بزنس کروا کر دینے کو تیار تھیں.‘‘

’’جب اتنے حاضر جواب ہو تو اپنے ابّا کو شیشے میں کیوں نہیں اتار لیتے؟ ان سے کہو کہ شادی کرادیں.‘‘
’’اک یہی تو نہیں کر سکتا کیونکہ وہ میرا بھی باپ ہے۔‘‘ اس نے فلک شگاف قہقہ لگایا، ریستوران میں بیٹھے لوگ سیلانی اور اس نوجوان کی طرف دیکھنے لگے، کچھ کی نظروں میں ناپسندیدگی بھی تھی۔ قہقہے کی آواز پر ویٹر بھی جلدی سے بروسٹ کابل لے آیا کہ اب اس میز سے مزید قہقہے نہ اگلنے لگ جائیں ۔

سیلانی کے پلے بوائے میزبان اور اقراری مجرم نے بل ادا کیا اور سیلانی کے ساتھ باہر نکل آیا۔ اس نے ایک بار پھر سیلانی سے درخواست کی کہ میرا نام یا ایسی کوئی نشانی مت لکھیے گا جس سے میری شناخت ظاہر ہو، میں برا ضرور ہوں لیکن اتنا برا نہیں۔ میں دل سے چاہتا ہوں کہ سیل فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے گھروں میں جوان بچوں بچیوں تک پہنچنے والے راستے بند کر دیے جائیں، لیکن اس کا سب سے اچھا طریقہ وقت پر شادی کا ہے۔ اس نے یہ کہہ کر اپنی موٹرسائیکل اسٹارٹ کی، ہیلمٹ پہنا اور سیلانی کو ہاتھ ہلاکر آگے چل دیا۔ سیلانی اس کے بارے میں سوچتا ہوا اسے جاتا دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.