یہ ادارے اپنے ہیں - حفصہ عبدالغفار

آج کا دن اپنی مادرعلمی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد میں انتہائی خوشگوار گزرا۔ ایڈمن بلاک میں بری خبر مسکراتے چہرے اور مطمئن دل کے ساتھ وصول کی۔ چند طالبات کو ان کے ڈاکومنٹس میں مسائل کے حوالے سے مشورے دینے پر 'لیگل ایڈوائزر' بننے کی آفر وصول ہوئی۔

اپنے ڈیپارٹمنٹ کی سینیئر پروفیسر سے ملاقات کی اور ان سے پیار بھری عزت (مطلب وہی ای۔۔۔ ) ہوئی۔ ان کے لہجے کی شفقت چار سال قبل بھی ایسی ہی تھی اور آج بھی۔ طالبات کے لیے بلاشبہ شجر سایہ دار ہیں وہ۔ اللہ تعالی ان کو عافیت سے رکھے۔ میری مراد ڈاکٹر عفاف ابراہیم ہیں۔ کیمسٹری والو! ان کی عزت کرنا 🙂

اگلی ملاقات لیب میں رمضان چاچا اینڈ کمپنی سے ہوئی۔ ٹریٹ کے بدلے رمضان چاچا نے سائن کرنے کی حامی بھری۔ اے دور وی آنا سی۔ اور سنو! وہ اپنی میز کے نیچے ہلکا ہلکا چھپا کر ٹچ موبائل بھی استعمال کر رہے تھے۔ پھر کہنے لگے فووو ایسے ہی اتنا مہنگا لے لیا، چلانا آیا نہیں مجھے فووو۔ میں نے کہا پھر تو آپ خوش قسمت ہیں۔ پھر اس موضوع پر بات ہوئی کہ ٹچ موبائل کے بغیر زندگی کتنی خوبصورت ہے۔ اور انہوں نے اپنی تسبیحات کا بتایا اور میں نے فائلز، لیب کوٹس، اپریٹس ٹوٹنے پر استثنائی سلوک اور دیگر تمام امداد (آہم) کا شکریہ ادا کیا اور فووو پہ ان سے ملاقات کا اختتام ہوا۔

پھر صدر ذی وقار آف زاویہ ڈیبیٹنگ جنابہ اقراء تفسیر سے ملاقات ہوئی۔ ان کے ساتھ مل کر جونیئرز کی کلاسز میں گئے اور وہاں سے قریبا چھ ڈیبیٹرز دریافت کیے اور دو ایجاد بھی کیے۔

راہ چلتے محبت کے ماروں کا بھی علاج کیا۔ کہانی میں قابل ذکر بات یہ کہ عاشق کو محبوبہ کی آواز کی بھی پہچان نہیں تھی۔ اتنی کم عمری میں کن کاموں میں پڑگئے ہیں یہ بچے، ابھی تک یہی سوچ رہی ہوں۔ اور یہ بھی کہ جامعہ میں اس چیز کی روک تھام کےلیے جو کیا جا رہا ہے وہ فائدہ مند ہے یا الٹا نقصان دہ۔۔۔؟ اللہ خیر کرنا۔

زوالوجی کی چیئر پرسن محترمہ غزالہ صاحبہ سے چند منٹ کی ملاقات ہوئی۔ ہمیشہ کی طرح اندر تک سرشار کر دینے والے چند لمحات۔ میرے آئندہ کیرئر کے حوالے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے استخارہ کی نصیحت بھی کی اور مفید مشوروں سے بھی نوازا۔ اور ہماری نئی صدر محترمہ کی صحت پہ اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔ اللہ ان کو بھی ہمارے لئے سلامت رکھے۔

یہ بھی پڑھیں:   راوی کے کنارے سے صدا آئی ہے - سید مصعب غزنوی

اگلی ملاقات ریاضی ڈیپارٹمنٹ کی چیئر پرسن سے ہوئی۔ اس میں بھی اقراء تفسیر ہمراہ تھیں۔ ڈیبیٹنگ سوسائٹی کے حوالے بات چیت ہوئی۔ اور اپنی تعریف بھی کروائی، دل تو کر رہا ہے لکھنے کو، چلیں چھوڑیں۔ یہ بھی جامعہ کی انتہائی شفیق اور حوصلہ افزائی کرنے والی پروفیسرز میں سے ہیں۔ اللہ ان کو خوش اور مسکراتا رکھے ۔ آمین۔
پھر سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی سابقہ چیئر پرسن محترمہ ڈاکٹر فردوس صاحبہ سے مین سٹاف روم میں نشست ہوئی۔ انہوں نے ریسنٹلی چیئر پرسن کے عہدے سے استعفی دے کر فراغت اور تنہائی کے لمحات سے لطف لینا شروع کیا ہے۔

یہ اپنے مزاج کی خاتون ہیں۔ ان خواتین میں سے جن میں مجھے بصیرت نظر آتی ہے۔ پھر عشق محبت کے مسئلے پہ گفتگو ہوئی اور ان کی رائے میں یہ سب فیملی سسٹم تباہ ہونے کی وجہ سے ہے اور گھر میں پیار نہیں ملتا۔ ان کے ہاتھ میں ہمیشہ چھوٹا سا فون دیکھا۔ لیکن آج انہوں نے اپنے پرس میں سے اینڈرائڈ فون بھی نکال کر دکھایا۔ کہ میرے پاس بھی ہے۔ مگر استعمال شاذ و نادر ہی کرتی ہوں اور سم سادہ موبائل میں ڈالی ہے۔ تو یوتھ کو اس بارے میں خود سنجیدگی سے فیصلہ کرنا ہے کہ کس چیز کو کتنا اور کیسے استعمال کرنا ہے۔ جامعہ کی طالبات کو ان سے ضرور ملاقات کرنی چاہیئے اور کسی موضوع پہ ڈسکشن بھی کرنی چاہیے۔ اپنے ساتھ کمپیریزن کرکے شاگرد کی تعریف اور حوصلہ افزائی کرنے کا وصف جن چنیدہ اساتذہ میں میں نے پایا ہے، ان میں ایک یہ بھی ہیں۔ پھر چند ڈیبیٹرز کو تقریر کی پریکٹس کروائی اور معلوم ہوا کہ پھپھڑے کافی کمزور پڑ گئے ہیں بالخصوص ڈیکلیمیشن کے لیے۔

وائس پریزڈنٹ زی۔ڈی۔ایس درخشاں مہوش آئیں اور کہا کہ کچھ کھلا دوں۔ باقیوں سے چھپ چھپا کر جب نکلنے کی مہم میں کامیاب ہوئے تو قسمت میں آج کھانا نہیں تھا۔
اگلی ملاقات ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز محترمہ اسما زبیر صاحبہ سے ہوئی۔ اللہ ان کی مصروفیات کو کم کرے۔ خیر، ان کے ساتھ کہیں جانا طے پایا لیکن پھر وہ مجھے بھول کر ہی چلی گئیں۔ ہا ہائے۔

یہ بھی پڑھیں:   راوی کے کنارے سے صدا آئی ہے - سید مصعب غزنوی

اس دوران احساس ہوا کہ والٹ کہیں بھول چکی ہوں۔ مین سٹاف روم کی آپا جی سے پوچھا تو وہ کہتیں ادھر تو نہیں تھا۔ ڈھونڈے بغیر ہار مان لی۔ اور ڈسپنسری جا بیٹھی۔ کچھ وقت کے بعد آپا جی کو ترس آ گیا اور 'جرمانہ' ختم کرکے سمجھاتے ہوئے واپس کر دیا۔ پھر تین آپا جی کے ساتھ چائے پی اور ان کی نصیحتیں اور دعائیں لیں۔ بزرگ خاتون کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کو سمجھاو نوکری چھوڑیں اور شادی کر لیں۔ سوچنے والوں کے لیے یہ کافی اہم نصیحت ہے۔ پھر وی۔سی آفس کی ایک بہت ہی خوش اخلاق خاتون سے ملاقات نے گویا آج کے دن کی خوبصورت ملاقاتوں کو مکمل کر دیا۔

درمیان میں وقفے وقفے سے دل کی تلاش جاری رہی۔ میری مراد ون اینڈ آنلی محترمہ رخسانہ بلوچ صاحبہ۔ کو۔کریکلر سوسائٹیز کے سٹوڈنٹس کے لئے نعمت۔ ادارے کا نام بلند کرنے کی خواہاں۔ان کو سٹیج نظر آجائے تو ان کی ایک ہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح مجھے وہاں چڑھا دیں۔ بلاشبہ میرے ڈیبیٹنگ کیرئیر کا کریڈٹ جتنا مجھے جاتا ہے اتنا ہی ان کو جاتا ہے۔ آجکل یہ مجھے زور سے ایک (بد) دعا دے رہی ہیں۔ ان کے بارے میں مزید لکھنے کا دل ہے، لیکن وہ ناراض ہیں، مکھن نا سمجھ لیں۔ 🙂

اللہ تعالی اس ادارے کو تابندہ رکھے۔ ہمارے اداروں کی عزت ہماری عزت ہے۔ ہم سب کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر ایک ڈیپارٹمنٹ سے یا ایک دفتر سے مسئلہ ہو تو پوری یونیورسٹی کو مت رگیدا کریں۔ خامیوں کا ذکر کرنا ہو تو پبلک میں مت کریں، وہاں کریں جہاں حل نکلنے کی امید ہو۔

Comments

حفصہ عبدالغفار

حفصہ عبدالغفار

حفصہ عبدالغفار ایم فل کیمسٹری کی طالبہ اور موٹیویشنل سپیکر ہیں۔ زاویہ ڈیبیٹنگ سوسائٹی کی صدر رہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.