نئے لکھنے والوں کا درد - عبد الباسط بلوچ

میں عام سا لکھتا ہوں، مجھے لکھاری ہونے کا نہ احساس تھا اور نہ ضرورت۔ میں نے لکھا، سوشل میڈیا کی نذر کیا، دوستوں نے پذیرائی دی، حوصلہ بڑھا، پھر سوچا، پڑھنے کی کوشش کی اور مزید لکھا، بعض اوقات پڑھنے سے زيادہ لکھا، کبھی اچھا لکھ جاتا کبھی گزارے لائق۔ کبھی داد ملی، کبھی تنقید کا سامنا ہوتا۔ پھر مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے میں ایک اچھا لکھاری بن گیا ہوں۔

اسی زعم میں میں نے اپنے علاوہ دوسروں کو پڑھنے کے بجائے خود پر انحصار شروع کردیا۔ مجھے دوسروں کا اسلوب عامیانہ سا لگنے لگا۔ میں خود پر ہی تکیہ کر بیٹھا۔ میرے لکھنے کے کچھ محرکات ہیں، پہلا پردیس، دوسرا اندر کی آواز۔ پردیس تو ختم ہو گیا لیکن اندر کی آواز اب بھی دستک دیتی ہے اور عادت سے مجبور ہوکر لکھنے کا عمل جاری رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ کوشش لفظوں کا ہجوم بن جاتی ہے، جس سے کچھ اخذ کرکے ترتیب دے دیتا ہوں۔ کبھی کوئی کام کی بات نکل آتی ہے تو کبھی اگلوں کے گلے ڈال کر لکھنے کا شوق پورا کر تے۔

اب معاملہ یہاں تک آ پہنچا ہے کہ ہم اپنے ہر لکھے کو حرف آخر سمجھ بیٹھے ہیں۔ جو ہمارے قلم نے اُگلا، وہی حقیقت ہے۔ اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ مجھے لکھنا چاہیے، لیکن پختگی کے ساتھ۔ اندر کے خود ساختہ ادیب کو یہ بات نہیں بھاتی۔ خوب لڑا ہے، احتجاج بھی کرتا ہے لیکن پھر جذبے ٹھنڈے پڑنے لگتے ہیں۔ میری تمام تر محنت کا ثمر یہ ہے کہ کہیں چھپ جائے، ایسا ہو جائے تو حوصلہ ملتا ہے، نہ چھپے تو کوفت ہوتی ہے۔ آخری تحریر کے جواب میں ای میل موصول ہوئی کہ لگتا ہے لکھ لکھ کر تھک چکے ہیں۔ لکھنے کی صلاحیت بجائے بڑھنے کے کم ہوتی جا رہی ہے۔ آئندہ ایسی کاوش کی تو ناقابل اشاعت قرار دی جائے گی۔

یہ آئینہ تھا! اس کے بعد مجھے کچھ احساس ہوا کہ لکھیں ضرور لیکن شعور اور بصیرت کے ساتھ۔ پختگی زیادہ لکھنے سے نہیں بلکہ زیادہ سوچ کر لکھنے سے آتی ہے۔ بعض دفعہ آپ دماغ سے نہیں عادت سے مجبور ہوکر لکھتے ہیں اور پھر نہ چھپے تو مایوسی ہوتی ہے۔ اس لیے لکھیں ضرور لیکن ہر لکھا چھپنے کا ذہن سے نکال دیں۔ اس لیے حالات اور احوال کو پس پشت ڈال کر اپنی منزل کی طرف سفر جاری رکھنا چاہیے۔ آپ اچھے لکھنے والے سے زیادہ اچھے پڑھنے والے بن جائیں۔