ہمارا اخلاقی زوال اور اس کے اسباب - نبیل اقبال بلوچ

ملکہ کوہسار کی قربت کی وجہ سے اسلام آباد کا موسم اکثر و بیشتر خوشگوار رہتا ہے۔ ایسے ہی خوشگوار موسم میں ایک شام کسی عزیز نے چائے پر مدعو کیا۔ وہاں کچھ اور دوست احباب بھی موجود تھے۔ گفتگو کا آغاز حسب معمول ملکی سیاست سے ہوا اور کچھ دیر تک یہ بحث جاری رہی، لیکن پھر گفتگو کا رخ بدلا اور اب ہمارا موضوع بحث معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی، بالخصو ص نوجوان نسل کا اپنی تہذیب، ثقافت اور مذہب سے دورہونا تھا۔ کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ آج سے کئی برس پہلے بھی ہمارے ہاں یہ سب برائیاں موجود تھیں، مگر ان کی تشہیر کم تھی لہٰذا اس وقت بھی ہر وہ شخص نیک سیرت سمجھا جاتا جس کے پاس گناہ کے مواقع کم تھے۔

بہرحال، میری رائے اس کے بالکل بر عکس ہے، میں سمجھتا ہوں آج سے پچیس، تیس برس پہلے ہمارے بزرگوں اور اساتذہ نے خود کو اور اپنے سے کم عمر متعلقین کو مذہبی اور معاشرتی اقدار کو مضبوطی سے جوڑے رکھا لیکن گذشتہ کئی دہائیوں سے سائنس اور ٹیکنالوجی نے دنیا بھر میں ایک انقلاب برپا کردیا اور اقوام عالم نے اس سے بے پناہ فوائد حاصل کیے لیکن ہم وہ بدنصیب قوم ہیں جس نے اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر کے نہ صرف اپنی آنے والی نسل کو تباہ کیا بلکہ اپنے مذہبی، معاشرتی اور خاندانی نظام کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا۔ رہی کسر ہمارے میڈیا نے پوری کر دی جو اغیار کے ایجنڈا پر غیر محسوس طریقے سے ہماری نوجوان نسل کی غلط کردار سازی کر رہا ہے اور اس نقصان کا ادراک صاحبان اقتدار کو تو بالکل نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے والدین اخلاقی تربیت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔

اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں کہ سب سے پہلی ذمہ داری ماں باپ کی ہے جو اپنے دینی اور اخلاقی فرض سے ایسے بے خبر ہو چکے ہیں کہ انہیں احساس تک نہیں کہ جس بچی کی کفالت پر جنت کی بشارت ہے، اس کی تربیت کے لیے ہم نے کیا سامان مہیا کیا؟ والدین بے خبر ہیں کہ ان کی جوان اولادیں دن کا بیشتر حصہ موبائل فون اور انٹر نیٹ کی خرافات میں گزار دیتے ہیں، جہاں سب سے پہلے دوستی کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے پھر حرام کاری کو محبت کا نام دے کر نوجوان ایک دوسرے کو بلیک میل کرتے ہیں اور نتائج آئے روزاخبارات میں ہماری نظروں سے گزرتے ہیں۔ بالآخر جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو والدین کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا دہے، ایمان کی ساٹھ سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ ایک دوسری جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے مرضی کرتا رہ"۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ قوموں کی زندگی میں زوال پیسے یا وسائل کی کمی سے نہیں بلکہ اخلاقی پستی کی وجہ سے آتا ہے

سبب کچھ اور ہے جس کو تو سمجھتا ہے

زوال بندۂ مومن کا بے زری سے نہیں

قرآن پاک میں ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے ‘ ‘ گھر کا سربراہ مرد ہے اسے اولادکی تعلیم و تربیت کے حوالے سے تمام بڑے فیصلے خود کرنا ہو ں گے، ہمار ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’ قرب قیامت مرد عورتوں کے غلام ہوں گے‘۔، جس معاشرے کا مرد بگڑ جائے، وہاں بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں نیلام ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے قرآن میں جہاں اللہ نے عورتوں کو اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کا حکم دیا وہاں پہلے مرد کو اپنی نگاہ نیچے رکھنے کا حکم دیا۔

جس قوم کا عمل بگڑ جائے اس کی بہتری کی گنجائش باقی رہتی ہے مگر جس قوم کا علم بگڑ جائے اس کے لیے بہتری کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔ سیرت مطہرہ کامطالعہ نہ ہونے اور مغربی معاشرے کا تسلط زیادہ ہونے کے باعث حیرت انگیز طور پر ہمارے معاشرے کا مزاج دو انتہاو ٔں کو پہنچ چکا ہے۔ مرد کی طرف سے کہیں بے جاسختی اور کہیں بے حد نرمی کا مظاہر ہ کیا جاتا ہے۔ یہاں کوئی بھی نوجوان بڑی ڈھٹائی کے ساتھ جنس مخالف کے ملبوسات سے لے کر موبائل فون تک کے تمام اخراجات پورا کر سکتا ہے لیکن وہی مرد اپنی بیوی سے حسن سلوک تو درکنار سیدھے منہ بات کر بھی لے تو اسے 'زن مرید' کا لقب دے دیا جاتا ہے، حالانکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھری محفل میں پوچھا گیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟ آپ نے فرمایا: عائشہ ؓ سے۔ایک مرتبہ صحابہ میں کسی نے آپ کو کھانے کی دعوت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاـ عائشہؓ کو بلاؤ گے تب ہی دعوت قبول کروں گا۔ یہ ہمارے نبی کے اعلیٰ اخلاق تھے جس سے ہمارے گھر جنت بن سکتے ہیں۔ حضرت مولانا یوسف ؒ لدھیانوی فرمایا کرتے اس امت کو زہریلے سانپ نے ڈس لیا، در حقیقت زہریلا سانپ جب ڈس لے تو میٹھی چیز بھی کڑوی محسوس ہونے لگتی ہے، آج نوجوان نسل کے چہروں پر داڑھی اور عورتوں کا مکمل پردے میں ہونا اجڈ، گنوار اور دقیا نوسی ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

اس مایوس کن صورت حال میں علماء اپنا انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، علماء حضرا ت معاشرے میں نکاح کو عام کرنے کی دعوت دیں اور نوجوان نسل کو درس دیں کہ ہمارے نبی کا فرمان ہے:’ دو محبت کرنے والوں میں سب سے بہترین چیز نکاح ہے‘۔ ایک دوسری حدیث کا مفہوم ہے:ایسے سات طرح کے لوگ ہیں، جنہیں اللہ قیامت کے دن عرش کے سایے میں جگہ دیں گے،جب اس کے عرش کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا،ان میں وہ نوجوان بھی ہوگا جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی میں مصروف رہا ہو‘۔مگر افسوس گنتی کے چند اکابر علماء کے سوا علمائے امت کا بہت بڑا طبقہ منبر سے اسلام کی بجائے اپنے مسلک کی تشہیر میں دن رات سرگرم عمل ہے، اور امت کو ایسے فروعی مسائل میں الجھایا جاتا ہے جن کے بارے یوم آخرت میں رب ذولجلال کی طرف سے پوچھ نہیں ہونی، اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو ہم اپنی نسل کو منہ دکھانے کے قابل رہیں گے اور نہ ہی یوم آخرت میں اس رب کائنات کو، جس کی طرف ہم سب نے لو ٹ کر جانا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */